خان بیلہ (سپیشل رپورٹر)ایک درجن کے لگ بھگ مسلح افراد کا کراچی میں کنٹریکٹر کا کام کرنے والے شخص کے گھر گھس کر گن پوائنٹ پر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار ،موبائل فون ،نقدی ،زیورات لوٹنے کے بعد مبینہ طور پر گھر میں موجود چوتھی جماعت کے طالب علم سمیت تین لڑکوں کو گھر سے باہر فصل میں لے جا کر اجتماعی بدفعلی،مبینہ طور پر وڈیو بھی بنالی۔ علاقے کے بااثر زمینداروں نے وقوعہ دبانے اور مدعیہ کو دبانے کی خاطر لڑکی کا الزام لگا کر زبردستی لوٹا گیا موبائل فون و پندرہ ہزار دیکر اسٹامپ پیپر پر معافی نامہ تحریر کرالیا۔خاتون و زیادتی کا شکار بچوں سمیت دیگر نے زبردست احتجاج کرتے وہئے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ موضع بیٹ دیوان کی رہائشی خاتون زیتون بی بی اپنے خاوند غلام فرید ،مبینہ زیادتی کے شکار بچے محمد (س)، (س) کے علاوہ محمد طیب ،محمد زاہد و دیگر کے ہمراہ انکشاف کیا کہ اس کا خاوند غلام فرید کراچی میں ٹھیکیدارہے 25مئی کو وہ اپنے گھر بچوں کے ہمراہ سوئی ہوئی تھی کہ اچانک اس کی کنپٹی پر کسی نے پسٹل رکھ کر اٹھایا تو دیکھا کہ محمد امجد ولد دین محمد ،محمد سجاد ولد محمد اقبال ،ایک نامعلوم جس کا علم بعد میں زبیر احمد ولد محمد اجمل ہوا گھر میں مسلح کھڑے تھے جنہوں نے تمام اہلخانہ کویرغمال بنا کر دولاکھ نقد،زیورات ،پارچات لوٹے پھر ان میں سے سجاد احمد گھر میں سب کو یرغمال بنا کر کھڑا رہا اور زبیر احمد اور محمد امجد میرے چوتھی جماعت کے طالب علم بچے (س) اور اسکے بڑے بھائی کے علاوہ کزن (م س) کو گن پوائنٹ پر باہر فصلوں میں لے گئے جہاں پرگلی میں کھڑے ان کے دیگر ساتھی ظہور احمد ،محمد جاوید ،محمد احمد ،خورشید احمد ،محمد طارق ،محمد عامر،فیاض احمد وغیرہ بھی آگئے اور انہوں نے تینوں بچوں کو اجتماعی بدفعلی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ویڈیو بھی بنائی ،اس وقوعہ پر علاقے کے بااثر زمینداران نے ہم پر دباﺅ ڈالا اور ایک لڑکی کا الزام لگاکر چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے یکم جون کو مجھ سے زبردستی ایک اسٹام پیپر پر معافی نامے پر انگوٹھا لگواتے ہوئے مبلغ پندرہ ہزار اور لوٹا گیا موبائل فون تھمادیا۔ زیتون بی بی نے ایس ایچ او تھانہ شیدانی ،ڈی ایس پی لیاقت پور ،ڈی پی او رحیم یارخان و آرپی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور وقوعہ کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرتے ہوئے لوٹی گئی رقم‘ زیورات و پارچہ جات برآمد کیے جائیں۔
لوٹ مار
