عرب میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، اقوامِ متحدہ (UN) کی جانب سے اسرائیل کو بلیک لسٹ کرنے کے حوالے سے حالیہ سالوں میں دو انتہائی اہم اور مستند ترین رپورٹس سامنے آئی ہیں،
1۔ مسلح تنازعات میں بچوں کو نقصان پہنچانے پر بلیک لسٹ (جون 2024)
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جون 2024 میں باقاعدہ طور پر اسرائیلی فوج (IDF) کو ان ممالک اور گروہوں کی "بلیک لسٹ” میں شامل کیا جو مسلح تنازعات کے دوران بچوں کے خلاف سنگین جرائم (جیسے قتل، معذور کرنا اور امداد روکنا) کے مرتکب ہوتے ہیں۔
-
عرب میڈیا کی رپورٹنگ: الجزیرہ اور دیگر عرب خبر رساں اداروں نے اس خبر کو نمایاں طور پر نشر کیا کہ غزہ میں ہزاروں بچوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے بعد اقوامِ متحدہ نے تاریخ میں پہلی بار اسرائیل کو اس فہرست میں شامل کیا ہے۔
2۔ جنسی تشدد کے الزامات پر بلیک لسٹ (مئی 2026)
حالیہ ترین اطلاعات کے مطابق، مئی 2026 میں اقوامِ متحدہ اسرائیل کو تنازعات والے علاقوں میں جنسی تشدد (Sexual Violence) کرنے والے ممالک اور اداروں کی بلیک لسٹ میں شامل کر رہا ہے۔
-
تفصیلات: اس فہرست میں خاص طور پر اسرائیلی جیل خانہ جات (Israeli Prison Service) اور دیگر حکام کو شامل کیا جا رہا ہے، کیونکہ غزہ اور مغربی اردن سے گرفتار کیے گئے فلسطینی قیدیوں پر دورانِ حراست شدید تشدد اور جنسی زیادتی کے مستند شواہد اور گواہیاں سامنے آئی ہیں۔
نسل کشی (Genocide) کے حوالے سے قانونی حیثیت
جہاں تک لفظ "نسل کشی” (Genocide) کا تعلق ہے، اس معاملے کو اقوامِ متحدہ کی دو اہم ترین باڈیز دیکھ رہی ہیں:
-
عالمی عدالتِ انصاف (ICJ): جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ کیس میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) نے اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی کے اقدامات کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔
-
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین (UN Experts): ستمبر 2025 اور مئی 2026 کی حالیہ رپورٹس میں یو این کے کمیشن اور انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
خلاصہ: عرب میڈیا اور عالمی ذرائع کی یہ خبریں بالکل سچی اور مستند ہیں، تاہم تکنیکی طور پر اقوامِ متحدہ کی یہ بلیک لسٹنگ "بچوں کے حقوق کی پامالی” اور "دورانِ جنگ جنسی تشدد” کے مخصوص زمروں کے تحت کی گئی ہے، جبکہ نسل کشی کا معاملہ عالمی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
