پیر (25 مئی 2026) کو برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جب جنوب مغربی لندن کے علاقے “کیو گارڈنز” (Kew Gardens) میں پارہ 34.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ برطانوی محکمہ موسمیات (Met Office) کے مطابق مئی کے مہینے میں یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔
ایک صدی پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا: اس سے قبل مئی کے مہینے میں سب سے زیادہ گرمی کا ریکارڈ 32.8 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جو ایک صدی قبل یعنی 1922 اور پھر 1944 میں قائم ہوا تھا۔ موجودہ درجہ حرارت نے پچھلے ریکارڈ کو پورے 2 ڈگری سینٹی گریڈ کے واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو کہ موسمیاتی ریکارڈز میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔
بینک ہالیڈے کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا: پیر کا دن برطانیہ میں پبلک ہالیڈے (Bank Holiday) کا تھا اور یہ 1884 میں یوکے وائڈ ریکارڈز کے آغاز کے بعد سے اب تک کا گرم ترین بینک ہالیڈے بھی ثابت ہوا ہے۔ اس سے قبل اگست 2019 میں گرم ترین بینک ہالیڈے کا ریکارڈ 33.3 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔
راتیں بھی گرم ترین (“ٹراپیکل نائٹ”): شدید گرمی کی لہر کے باعث لندن میں پیر اور منگل کی درمیانی رات بھی مئی کی تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 21.3 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں گرا۔ برطانوی محکمہ موسمیات نے اسے “ٹراپیکل نائٹ” (Tropical Night) قرار دیا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کی تشویش: محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں اس طرح کی گرمی انتہائی غیر معمولی ہے، جو عام طور پر برطانیہ میں جولائی یا اگست کے وسط (گرمیوں کے عروج) میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “گلوبل وارمنگ” اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے اب ایسے شدید موسمی تغیرات کے امکانات تین گنا زیادہ بڑھ چکے ہیں اور گرمی کی لہریں ماضی کے مقابلے میں بہت تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہیں۔
عوام کی صورتحال اور الرٹ: لندن اور گردونواح کے علاقوں کے لیے شدید گرمی کا ‘یلو ہیلتھ الرٹ’ (Yellow Health Alert) جاری کیا گیا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے شہری بڑی تعداد میں پارکوں، فواروں اور ساحلوں کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ نے کمزور افراد اور بزرگوں کو احتیاط برتنے اور ہائیڈریشن برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔






































