امریکہ نے ایران میں نظام بدل دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں "نظام کی تبدیلی” (regime change) حاصل کر لی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق خطے میں امریکی پالیسیوں اور دباؤ کے نتیجے میں ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی اقدامات، پابندیوں اور سفارتی دباؤ نے ایران کی حکومت کو کمزور کیا ہے اور ملک میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا ہے۔
ردعمل
اس بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ بیان سیاسی نوعیت کا ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایران میں اصل نظامِ حکومت اب بھی برقرار ہے اور کسی بھی “باضابطہ تبدیلی” کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پس منظر
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں جوہری پروگرام، پابندیاں اور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اہم عوامل رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال
ابھی تک نہ تو امریکی حکومت اور نہ ہی بین الاقوامی اداروں نے ایران میں کسی باقاعدہ "ریجیم چینج” کی سرکاری تصدیق کی ہے۔
