لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق انسپکٹر عابد باکسر نے کہا ہے کہ میری شہبازشریف سے کوئی دشمنی نہیں ہے ، شہبازشریف نے مجھ پر جھوٹے مقدمات بنوائے ، مقابلے میں مارنے کی کوشش کی، چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ میرے لئے بھی جے آئی ٹی بنائی جائے تاکہ اپنی بیگناہی ثابت کرسکوں، نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں عابد باکسر نے کہا کہ شہباز شریف باغ بچہ میں میرے ماموں کی زمین ہر قیمت پر لینا چاہتے تھے، ماموں بیرون ملک چلے گئے تو مجھے پکڑ لیا گیا، اس وقت کے تمام بڑے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں، شہبازشریف اگر سچے ہیں تو ان اخبارات کو نوٹس کیوں نہ جاری کئے، ن لیگ کی حکومت ختم نہ ہوتی تو مجھے مقابلہ میں پار کرنے کا منصوبہ بن چکا تھا، حکومت ختم ہوئی تو عدالت نے میری نظر بندی ختم کردی، محمد ایملش کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے تمام مقدمات میں مجھے مجرم ڈکلیئر کیا، میں محمد ایملش کیلئے 25لاکھ روپے انعام کا اعلان کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ پر بنائی گئی رپورٹ کو سچ ثابت کردیں، 2008می شہبازشریف حکومت میں آئے تو مجھے بتایاگیا کہ شہبازشریف کو مجھ پر سخت غصہ ہے، اس الیکشن میں ایک امیدوار تین ساتھیوں سمیت قتل ہوا، اس کیس میں مجھے نامزد کردیاگیا اور دہشتگردی عدالت سے وارنٹ جاری کرادیئے گئے، میں بیرون ملک نکل گیا، اس واقعہ کے اصل مجرم پکڑے گئے تو انہیں مجھے بیگناہ لکھنا پڑا، شہبازحکومت نے مجھ پر بے شمار جھوٹے مقدمات درج کرائے، سر کی قیمت مقرر کردی ، تین بار ریڈ وارنٹ جاری کرائے، چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سب کیلئے جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو میرے لئے کیوں نہیں بن سکتی، میں بھی خود کو بیگناہ ثابت کرنا چاہتا ہوں۔