لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان اور شہباز شریف کے ووٹوں میں فرق بہت ہے اس لئے ان کی باتوں میں وہ وزن نظر نہیں آیا۔ حالانکہ پیپلزپارٹی نے عمران خان کو ووٹ نہیں دیا صرف انہوں نے کہا کہ شہباز کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ہر آدمی کو حق حاصل ہے کہ وہ بات کرے۔ اب تو قومی اسمبلی کو مبارک ہو ارانا ثناءاللہ قومی اسمبلی میں آ گئے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے جیالے رہے ہیں۔ پرویز رشید، مشاہد حسین ہوں یا رانا ثناءاللہ ہوں ان کے اندر سے پیپلزپارٹی کبھی نہیں نکلی، ان سارے لوگوں کی کوشش رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیڈر کو بھی خواہ جی چاہے یا نہ چاہے گھیر گھار کر ذوالفقار علی بھٹو کے انجام کو پہنچانا ہے۔ پیپلزپارٹی کا رویہ بڑا معقول ہے کہ پاکستان کے چار صوبوں میں سے ایک صوبے کی حکمران پارٹی ہے آج مراد شاہ ان کے دوبارہ وزیراعلیٰ بن گئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اگر انہیں اپنے صوبے کو چلانا ہے تو مرکز میں جو بھی صوبہ اپنی حکومت چلانا چاہتا ہے اس کو اچھے ورکنگ ریلیشن شپ کی ضرورت ہے اور کراچی جیسا شہر ہے وہ رہ نہیں کہ وہ وفاقی صوبے کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بنائے۔ پیپلزپارٹیی کے رویے نے داغ بیل ڈال دی ہے چاہے اعلان نہ ہوا ہو لیکن میں سمجھتا ہوں پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ استوار کر لی ہے۔ اعلانات کی ضرورت نہیں کام کی ضرورت ہے مجھے یقین ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کا رویہ جو ہے بڑا مثبت ہے مثال کے طور پر انہوں نے سارے نعرے لگانے والوں کے جواب میں یہ کہا ہے کہ جس کو کوئی شبہ ہے وہ اپنے مرضی کا جو حلقہ ہے وہ کھلوا لے۔ یہ وہ بات ہے جو پانچ سال میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے پی ٹی آئی کے کہنے پر 4 چھوڑ ایک حلقہ بھی نہیں کھولا۔ آپ نے آج سپیکر کا رویہ بھی دیکھا ہو گا مجھے تو نئے سپیکر کا طرز عمل بہت ہی جمہوری لگا ہے۔ انہوں نے ہر قسم کی تنقیدی تقاریر کو اکاموڈیٹ کیا ہے اور ساری جماعتوں کو موقع دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ پوری کوشش کرے گی کہ اعلان وہ کر چکی ہے کہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔ یہ بڑی بات ہے پچھلی حکومتوں کو دیکھیں جو پارٹی حکومت میں ہوتی ہے وہ اپنی مخالف پارٹی کو رگڑتی ہے ان پر ناجائز مقدمات، ان پر جھوڈی ایف آئی آر بنواتی ہے خود عمران خان پر ایک دن مجھے ان کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا اور پریس کانفرنس میں بھی یہ بات کہہ رہے تھے کہ ان پر 80 ایف آئی آر کٹی ہوئی تھیں پچھلی حکومت کی طرف سے، آپ دیکھیں عمران ایک سیاسی لیڈر ہے۔ آپ ان سے اتفاق کریں یا احتلاف کریں لیکن کیا وہ آپ کو مجرم نظر آتا ہے کیا اس نے چوری کی ہو گی۔ کیا اس نے کسی کی مارپیٹ کی ہو گی۔ کوئی غیر قانونی کام کیا ہو گا۔ میں ایک بات یقینی طور پر جانتا ہوں کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اس ملک کو اس حال تک پہنچانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو گی اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ شہباز شریف مختلف دیہاتوں میں اور مختلف شہروں میں جعلی ایف آئی آر کٹوا دی جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو الزامات ہیں کھل کر ان کو پورا موقع دیا جائے جو لوگ اپوزیشن میں جو کل تک حکومت میں تھے ان کی وجہ سے ملک و قوم کا نقصان ہوا ہے تو کیوں نہ اس کو سامنے لایا جائے البتہ یہ معاملات کھلی عدالتوں میں ہونے چاہئیں۔ انتقامی کارروائیاں نہیں ہونی چاہئے۔ ضیا شاہد نے کہا عمران خان جو کہا ہے کہ کسی ڈاکو سے این آر او نہیں ہو گا۔ ان کا اشارہ پچھلے دونوں ادوار کی روشنی میں تھا۔ کیا جتنے الزامات جو نوازشریف پر ہوئے تھے اور جس سلسلے میں ان کو جیل بھیجا گیا تھا کیا آپ کے سامنے یہ بات موجود نہیں ہے کہ سعودی عرب انہیں صاف بچا کر لے گیا تھا۔ کیا وہ این آر او نہیں تھا کیا ان کے الزامات تھے ان کی چھان پھٹک ہوئی تھی۔ اور دوسری مرتبہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ابوظہبی کے شاہی محل میں جو ملاقات ہوئی تھی پرویز مشرف سے جس میں محمد علی درانی بھی باہر والے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ہی مجھے اس کی پوری روداد سنائی تھی یہ حقیقت نہیں ہے صرف ان کو بچانے کے لئے پیپلزپارٹی کو بچانے کے لئے بہت سے لوگ جو گنہگار تھے وہ رہا کرنا پڑے کیونکہ وہ ایسا زبردست این آر او تھا وہ صرف ایک شخص کے حق میں نہیں تھا بلکہ ایک دور کے بارے میں تھا کہ فلاں تاریخ سے لے کر فلاں سال تک اتنے سالوں میں جو بھی کسی کے خلاف مقدمہ ہوا ہے وہ واپس وہ ختم۔ کیا یہ ایک کھلی دھاندلی نہیں تھی این آر او سے تو خود این آر او کرنے والوں نے معافی مانگی اور کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو ااخری این آر او تھا اس پر لعنت بھیجتے ہوئے اس کو غیر منظور کیا اور اس کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی اجازت نہیں دیتے۔ چنانچہ آپ کو پتہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان آرڈر دے چکی ہے کہ جن لوگوں کے خلاف این آر تھا اس کے خلاف الزامات کو کورٹس میں لایا جائے۔ ہمارا دوست سعودی عرب جس نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے اس بات کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ جو پاکستان میں لوٹ مار کرے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ سب سے پہلے ضیا دور میں جب بھٹو پنڈی جیل میں تھے، سعودی عرب نے آفر کرائی کہ اگر بھٹو تیار ہیں تو ان کو بیماری کے بہانے ملک سے باہر لے آتے ہیں لیکن پھر ان کو 10 سال تک پاکستانی سیاست میں موقع نہیں دیا جائے گا، یہ بنا بنایا ایک ہی منصوبہ ہے جسے پہلے بھٹو پر لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بھٹو کے منع کرنے پر این آر او نہیں ہو سکا تھا، اس بارے میں میں نے اس زمانے میں بھی لکھا تھا۔ سعودی عرب نے وطیرہ پکڑ رکھا ہے کہ جو بھی پاکستان میں مجرم ہو اس کو پناہ دیتے ہیں اور حکومت کو مدد کرنے کی یقین دہانی کرا دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں سننے میں آیا تھا کہ سعودی عرب اور امریکہ کسی این آر او کی کوشش کر رہے ہیں، بھارت و اسرائیل بھی کوشش کر رہے ہیں۔ پوری کوشش ہو رہی ہے کہ نوازشریف کو 5 سال کے لئے ملک سے باہر نکال لیا جائے۔ اگر کوئی این آر او ہوتا ہے تو مریم سب سے پہلے اپنی جان چھڑائیں گی۔ بے شک نوازشریف کہہ چکے ہیں کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہا لیکن ان کی بات پر کیسے یقین کیا جائے۔ کیا یہ درست نہیں کہ جب نوازشریف اٹک جیل سے خاندان سمیت سعودی عرب چلے گئے تھے تو کہا گیا تھا کہ 10 سال کا معاہدہ ہوا ہے لیکن نوازشریف آج تک اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔ میڈیا گواہ ہے سعودی عرب کے ذریعے ہی نوازشریف و مشرف کو دستخط شدہ دستاویزات سامنے آ گئی تھیں۔ اگر اس دفعہ نواز کو پیش کش ہوئی بھی تو دوسری طرف عمران خان کہہ چکے ہیں کہ این آر او جیسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز و مریم مختلف شہروں میں بڑے بڑے جلسے کرتے رہے اس وقت کلثوم نواز کی صحت کا خیال نہیں آیا جب پھنسنے لگے تو وینٹی لیٹر کے بہانے لندن میں رہے۔ یہ وینٹی لیٹر سیاسی ضرورتوں کے تحت کھلتا اور بند ہوتا ہے، جب کلثوم نواز کی صحت بارے کوئی خبر ہی نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اقتدار میں آنے سے قبل دعوے کرتی ہے لیکن اگر عمران خان نے اپنے دعوﺅں کو ثابت کرنا ہے تو انہیں ہرگز وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہنا چاہئے۔ گورنر ہاﺅس سمیت تمام سرکاری رہائش گاہیں ختم کر کے افسران کو سادہ زندگی بسر کرنے کا عادی بنانا چاہئے۔ عمران خان اب فوری اپنے 11 نکات پر عملدرآمد شروع کریں تا کہ محسوس ہو کہ دعوے ووٹ کیلئے نہیں کام کرنے کے لئے کئے تھے۔ اگر عمران خان اپنے دعوﺅں پر 50 فیصد بھی عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے اور واقعی پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنا دیا تو پھر شاید یہ جانا بھی چاہیں تو عوام ان کو جانے نہیں دیں گے۔ شہباز شریف کو قومی اسمبلی اجلاس میں یہ بتانا چاہئے تھا کہ 10 سال پہلے جب اقتدار میں آئے تھے تو ملکی قرضہ کتنا تھا اب کیا صورتحال ہے۔ لوگوں کو اورنج ٹرین نہیں، روزگار چاہئے۔ نمائشی ترقی عوام کو نہیں چاہئے۔ لوگ غربت کے باعث خودکشیاں کر رہے ہیں۔ عمران خان نے بالکل درست ترجیحات فکس کی ہیں، 10 فیصد بھی عملدرآمد ہو گیا تو عوام اسمبلی کی تقریروں پر توجہ نہیں دیں گے۔ لوگ میرٹ کا نظام چاہتے ہیں۔ یہاں نوکریاں بھی حمزہ شہباز و بلاول ہاﺅس سے ملتی ہیں، سفارش کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ میرا پہلا مطالبہ ہے عمران خان اس ملک میں میرٹ لاﺅ، لوگ انصاف کو ترس رہے ہیں۔ 20 سال ہو گئے کبھی اخبار میں سرکاری نوکری کا اشتہار نہیں دیکھا۔ حکمران نوکریاں تقسیم کرتے ہیں، ایک خاندان کا مراعات یافتہ طبقہ ہے جس نے لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کو سادہ اکثریت مل گئی ہے، صدارتی الیکشن میں پتہ چل جائے گا کہ نون لیگ کے ساتھ کوئی کھڑا ہے یا نہیں۔ اگر صدارتی امیدوار اتفاق رائے سے نہ آیا تو زبردست مقابلہ ہو گا، اپوزیشن متحد ہو گئی تو بڑی حد تک اپنا صدر لانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ شائد کمبائنڈ اپوزیشن اسمبلیوں میں موجود نہ ہو۔ شہباز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں خود ساختہ اپوزیشن لیڈر بنے ہوئے تھے پتہ نہیں ان کو یہ اعزاز ملتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری وہی ہیں جن کے بارے میں شہباز شریف نے حبیب جالب کے اشعار پڑھے، بھاٹی گیٹ جلسے میں کہا تھاکہ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے، پیٹپھاڑکر نکال لیں گے، یہ سب کرنے کی ضرورت ان کو اس لئے نہیں پڑی کیونکہ پی ٹی آئی کے خلاف ہمیشہ ضرورت پڑنے پر نوازشریف پی پی کے قدموں میں جھک گئے، زرداری کو خود گاڑی چلا کر ہیلی پیڈ تک چھوڑ کر آئے۔ شریف برادران پہلے فیصلہ کر لیں کہ پیپلزپارٹی سے لڑائی کرنی ہے یا مل کر چلنا ہے، کبھی لڑائی کبھی صلح ان سارے معاملات سے ہمیشہ خورشید شاہ فائدہ اٹھاتا ہے۔
