سرگودھا (محمد کامران ملک سے ) لکی کمیٹی کی آڑ میں نوسر بازوں نے مردوخواتین کے لاکھوں روپے ڈکار لئے شہریوں کو سہانے خواب اور کروڑ پتی بننے کے لالی پاپ دے کر کچھ عرصہ بعد ہی راتوں رات غائب ،آفس بند عملہ فرار ،متاثرہ مردوخواتین اپنے اپنے لواحقین کو سمجھانے میں ناکام ،معاشرتی مسائل کا شکار ،فراڈیوں کیخلاف تھانہ اربن ایریا میں اندراج مقدمہ کیلئے درخواست ،2ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہ آسکی ،متاثرہ مردوخواتین انصاف کیلئے خبریں ہیلپ لائن پہنچ گئے ۔تفصیلات کے مطابق نیو کوٹفرید صدیق آباد کے رہائشی محمد ایوب کے ہمراہ محمد نعیم ،نذیر احمد ، محمد یوسف ،رابعہ پروین ،نور ،آصف قریشی ،افتخار ،ہارون ،شکیل احمد ،انجم ،مبین ،شیخ عمران ،شمشیر ملک ،ثمینہ الیاس ،تہمینہ ،حاجی اقبال ،فضل عباس ،علی رضا ،بلال ،عبدالرزاق ،سمیرا ،خالدہ ،یعقوب ،عزیز اکبر ،ایوب ،فرمان علی ،ناصر علی ،محمد یونس ،عابد علی ،امان اللہ ،شہباز ،عمران ،روشان ،جاوید اسلام ،حافض ارشد ،زینب ،شالیم خان ،ثائمہ ،شاہد ،میمونہ ،اسد مغل ،نوید ڈوگر و دیگر نے خبریں ہیلپ لائن میں ظلم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ملزمان ،محمد اکرم اعوان اور قاسم جسٹر سکنہ چک 110سلانوالی روڈ نے کوٹفرید میں الیکٹرونکس کی اقساط والی دوکان بنا رکھی تھی اور لکی کمیٹی کا بورڈ لگا کر لوگوں کو بیوقوف بنا کر لوٹنے کے مقاصد اور راتوں رات کچھ عرصہ میں ہی کروڑ پتی بننے کے منصوبے بنا کر عملی جامہ پہنانے کیلئے دلفریب جملوں پر مشتمل لٹریچر بھی چھپوا رکھا تھا ۔لٹریچر کے مطابق لکی کمیٹی 30ماہ پر مشتمل تھی اور ہر ممبر نے 1300روپے ماہانہ اداکرنے تھے ۔اور جس کا لکی ڈرا نکلنا تھا اس کو موقع پر ہی 40ہزار روپے ادا کئے جانے تھے جبکہ جتنے زیادہ ممبران بنتے اسی حساب سے ڈرا کی رقم نکال کر باقی رقم کو کاروبار میں مشترکہ طور پر لگایا جاناتھا ۔جس پر ہمارے سمیت دیگر مردوخواتین نے 1300روپے ہر ماہ جمع کروانا شروع کر دیئے ملزمان نے ہمیں یہ کہہ رکھا تھا کہ اگر مقررہ معیاد تک لکی ڈرا نہ نکلے تو مذکورہ متاثرین اپنی رقم یااس کے بدلہ میں کوئی بھی چیز کسی بھی وقت لے سکتے ہیں اور لکی ڈرا والے کو موقعہ پر ہی 40ہزار روپے ادا کئے جائیں گے اور ڈرا کے طور پر دی جانیوالی رقم کے علاوہ زائد جمع ہونیوالی رقم بطور پارٹنر سب میں برابر تقسیم کی جائے گی ،ہم متاثرین کی ٹوٹل رقم 16لاکھ 80ہزارروپے جمع تھی جو کہ ہر ایک کا 40ہزار روپے بنتا ہے ہم متاثرین نے مذکورہ ملزمان سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے اور یہ بھی کہا کہ آج یا کل میں ہی آپ کو رقم ادا کر دی جائے گی لیکن کچھ دنوں بعد ہی ملزمان راتوں رات ہی غائب ہوگئے دوکانوں کو تالے لگ گئے۔عملہ بھی غائب تھا جبکہ ملزمان کے گھروں پر بھی رابطے کرنے پر ہمیں ہماری رقم واپس نہ مل سکی اس سلسلہ میں جب ہم متاثرین نے مذکورہ فراڈ کی بابت تھانہ اربن ایریا میں درخواست گزاری لیکن دوماہ کا عرتصہ گزرنے جانے کے باوجود نہ تو ہماری شنوائی ہو سکی اور نہ ہی مقدمہ درج کیا گیا ۔ہماری خبریں ہیلپ لائن کے توسط سے ڈی پی او سرگودھا سے دردمندانہ فریاد ہے کہ وہ اس لوٹمار کا نوٹس لیتے ہوئے ہمیں ہماری رقم واپس لیکر دیں اور ملزمان کیخلاف فوری طور پر سخت کارروائی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔
