Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • OGDCنےخواتین مینجمنٹ ٹرینی افسران کے دوسرے بیچ کا آغاز کر دیا
    • چکلالہ کینٹ بورڈ مختلیف علاقوں میں غیر معیاری خوراک کی کلھے عام فروخت جاری
    • تحصیل ٹیکسلا میں نائب تحصیلدار تعینات نہ ہونے سے سائلین در بدر
    • مری میں اسکول وین سڑک سے نیچے جا گری آگ لگنے سے 10 بچے جھلس گئے
    • بارش کے دوران اور بعد میں نکاسی آب آپریشن تیزی سے مکمل
    • جوبلی لائف انشورنس اور اولاڈوک کے درمیان اہم شراکت کا آغاز
    • اٹک، نویں جماعت کی طالبہ نے امتحان میں ناکامی پرزہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا
    • ڈی ایچ او راولپنڈی اور الائیڈ ڈیپارٹمنٹس کا انسداد ڈینگی اقدامات جاری
    • راولپنڈی ہولی فیملی اسپتال میں جدید کیرو ابلیشن مشین کے ذریعے کینسر کے علاج کا آغاز
    • مقدمہ قتل میں نامزد ماں بیٹے پر فرد جرم عائد،سماعت 3اکتوبر تک ملتوی
    • مشہور سدرہ عرب قتل کیس ، نامزد 9 ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ
    • چکلالہ پولیس کی فوری کارروائی،ڈینگی ٹیم کو حراساں اور مزاحمت کرنیوالا شخص گرفتار
    • راولپنڈی، 3 منشیات سپلائر گرفتار 4 کلو سے زائد چرس برآمد
    • ستھرا پنجاب ایجنسی راولپنڈی کی فیلڈ ٹیمیں موسلادھار بارش کے پیش نظر متحرک
    • ڈکیتی اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث 3 رکنی گینگ گرفتار
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں 5 افراد کو حراست میں لے کر شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • شہری پانی کوترس گئے، وارڈ 19 کا نیا ٹیوب ویل بھی فعال نہ ہو سکا
    • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، بھارتی اسٹاک مارکیٹ 6 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
    • ارکان اسمبلی کاریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد میںدفعہ370 اور 35 اے شامل کرنے کا مطالبہ
    • اسلام آباد میں ڈینگی سے بچا اور ویکٹر کنٹرول آپریشنز میں تیزی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    صرف چار گھنٹے کی نیند اور صحتمند زندگی کی وجہ جینیاتی قرار

    By Daily Khabrainاگست 31, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    کیلیفورنیا: ایک صحتمند مردوعورت کے لیے روزانہ 8 گھنٹے کی نیند بہت ضروری ہوتی ہے جبکہ بعض افراد صرف چار گھنٹے ہی سوتے ہیں اور بھرپور صحتمند زندگی گزارتےہیں۔ ماہرین نے اب اس فرق کی وجہ بعض جینیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا ہے۔بعض لیڈر مثلاً برطانوی وزیرِ اعظم ، مارگریٹ تھیچر کی چار گھنٹے کی نیند بہت مشہور تھی۔ اس کی وجہ یونیورسٹی ا?ف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے پروفیسر ینگ ہوئی فو اور ان کےساتھیوں نے دریافت کرلی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے خاندان پر تحقیق کی جس کے 12 افراد روزانہ صرف ساڑھے چار گھنٹے ہی سوتے ہیں۔ ان تمام افراد کے جین اے ڈی ا?ر بی ون میں تبدیلیاں نوٹ کی گءہیں۔اس کےبعد ماہرین نے چوہوں کو لیا اور ان کے اسی جین میں ویسی ہی تبدیلیاں کی گئیں اور دھیرے دھیرے ان کی نیند کم ہونا شروع ہوئی۔ اندازے کے مطابق تمام چوہوں کی نیند میں 55 منٹ کمی واقع ہوئی۔ چوہوں کےدماغ کے ایک حصے ڈورسل پونس میں نیند سرگرمی نوٹ کی گئی جو نیند کو کنٹرول کرتا ہے۔عام اور صحتمند چوہوں کے ڈورسل پون کے خلیات میں اے ڈی ا?ر بی ون نیند کے پورے عمل میں غیرسرگرم رہا ہے لیکن جیسے ہی چوہے جاگتے ہیں جینیاتی سرگرمی شروع ہوجاتی ہے۔ جبکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہوں کے اعصابی خلیات مزید سرگرم تھے۔سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اے ڈی ا?ر بی ون دماغی خلیات کو جگائے رکھتا ہے اور طویل عرصے تک جگائے رکھنے یا پھر نیند کی تکمیل کی وجہ بھی بنتا ہے۔ اس سے قبل سائنسدانوں کی یہی ٹیم دریافت کرچکی ہے کہ ایک اور جین ڈی ای سی ٹو بھی نیند کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی کم نیند لینے والے افراد پر کسی قسم کے منفی اثرات نہیں پڑتے اور وہ مکمل طور پر صحتمند زندگی گزارتےہیں۔ ایسے لوگ اپنے اضافی وقت کو کسی اچھے کام میں لگا کر کامیابیاں بھی سمیٹتے ہیں۔ لیکن اب تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ ا?خر اتنی کم ا?بادی میں یہ جینیاتی تبدیلیاں کیونکر واقع ہوتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح جینیاتی امراض پیدا ہوتے ہیں اسی طرح لوگوں میں مثبت جینیاتی تبدیلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، کراچی کے ہسپتال کے خلاف کارروائی کا حکم

      ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.