Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امریکی قونصل خانوں نے کراچی اور لاہور میں خدمات دوبارہ شروع کر دیں
    • فلپائن میں طوفان سے ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک
    • کراچی میں پانی چوری کی روک تھام کے لیے خصوصی پولیس اسٹیشن قائم
    • مون سون کے نئے سلسلے کی پیش گوئی
    • بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی میں واپسی کا امکان
    • پنجاب میں درجہ حرارت 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے: مریم نواز
    • گلگت بلتستان میں چینی سیاحوں کے لیے ویزا فری داخلے کی تجویز پیش
    • پنجاب حکومت نے شہریوں کے لیے جرائم کی اطلاع دینے پر انعامی اسکیم کا آغاز کر دیا
    • فرانس نے مراکش کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
    • ایران کا دعویٰ: امام خامنہ ای کے جنازے میں 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی
    • پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب 20 عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لی
    • 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے والے باؤلرز جلد سامنے آئیں گے: عاقب جاوید
    • 11.4 ارب روپے مالیت کے اسلام آباد اسٹیڈیم منصوبے پر کام میں تیزی آ گئی
    • اہم شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا
    • لاہور میں ٹیوشن سینٹر سے بچی کی لاش ملنے کا واقعہ، والد کا تہلکہ خیز انکشاف
    • "خلیج کو ایران کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہیے، اماراتی سفارت کار
    • "’ٹوٹل ایکلپس آف دی ہارٹ‘ کی مشہور آواز، بونی ٹائلر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں”
    • کویت کے فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں اور ڈرون حملے کو ناکام بنانا دیا
    • شاہد آفریدی کا مرحوم افغان کرکٹر شاپور زدران کو جذباتی خراجِ عقیدت
    • عدالت نے معروف نیوز اینکر کے قاتل کو دو بار سزائے موت سنا دی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    خواجہ سراءبھوکے …. بد اخلاقی پر مجبور کرنیوالے کون …. اہم انکشاف

    By Daily Khabrainجنوری 13, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(خصوصی رپورٹ) پاکستان 69 سال گزر جانے کے باوجود خواجہ سراﺅں کو ایک الگ پہچان اور برابری کے حقوق کے لئے کوئی قانون سازی نہ کر سکا، سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں کوٹا سسٹم نہ ہونے کے باعث خواجہ سراءمعاشی تنگدستی کا شکار ہو کر جسم فروشی کی طرف راغب ، امریکہ خواجہ سراں کو بنیادی انسانی حقوق دینے میں پہلے نمبر پر ، جرمنی ،نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا میں آئینی طور پر خواجہ سراﺅں کے حقوق تسلیم کر لئے گئے جبکہ ارجنٹائن ،مالٹا ،ڈنمارک ،کولمیبا،آئرلینڈ اور ویت نام میں بھی آئینی طور پر خواجہ سراﺅں کے حقوق کے لئے کام جاری ہے۔ کوئی خواجہ سرا شوق سے جسم فروشی یا بھیک نہیں مانگتا ،ہمیں حکومت نوکریاں دے تو ہم بھی ایک باعزت زندگی گزار سکتے ہیں ،خواجہ سراءعلیشا، فردوس قریشی،ریشما اور ریما کی گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق مرد اور عورت کے بعد اللہ تعالی کی جانب سے ایک تیسری جنس بھی اس دنیا میں موجود ہے جس کو عرف عام میں خواجہ سرا کہا جا تا ہے ،خواجہ سرا کا نام جہاں بھی لیا جاتا ہے توذہن میں قدرتی طور پر ایک ایسی مخلوق کا خاکہ ظاہر ہوتا ہے جس کا کام ناچ گانا اور مردوں کو انٹرٹین کرنا ہے بہت سے ممالک جن میں جرمنی ،نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا میں آئینی طور پر خواجہ سراں کو حقوق دیئے گئے ہیں جبکہ ارجنٹائن ،مالٹا ،ڈنمارک ،کولمیبا،آئرلینڈ اور ویت نام میں بھی آئینی طور پر خواجہ سراﺅں کے حقوق کے لئے کام جاری ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ممالک آہستہ آہستہ خواجہ سراﺅں کو حقوق دینے کے متعلق کام کر رہے ہیں ،پاکستا ن میں خواجہ سراﺅں سے زیادتی اور تشدد کی شکایات دنیا کے سب ممالک سے زیادہ ہیں ۔امریکہ دنیا میں واحد ملک ہے جس میں خواجہ سراﺅں کے سب سے زیادہ حقوق حاصل ہیں ،امریکہ میں خواجہ سراﺅں کے لئے علیحدہ واش رومز بنائے گئے ہیں جنہیں (آل گینڈر) کا نام دیا گیا ہے۔یہ اس لئے کیا گیا کہ خواجہ سراﺅں کو واش روم استعمال کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو ۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا کہ واش روم وہ واحد جگہ جہاں خواجہ سراﺅں کو گالیاں دی جاتی ہیں ،لیکن ایشیائی ممالک جن میں پاکستان اور انڈیا قابل ذکر ہیں آج بھی خواجہ سراﺅں کو انتہائی حقارت اور گندی نظروں سے دیکھا جاتا ہے جن کے ساتھ گندی اور فحش باتیں کرنے کے علاوہ گالی دینا لوگ اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں اس پاکستانی معاشرہ میں خواجہ سراﺅں کو اپنی پہچان کروانے اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے بہت مشکلات کا سامنا ہے ،پاکستان اور انڈیا کی سوسائٹیاں آج بھی خواجہ سراں کی موجودگی کو برداشت نہ کر پائی ہے اور ان کے ساتھ انتہائی برے طریقے سے پیش آیا جاتا ہے اس معاملے میں انڈیا ایک قدم آگے نکل گیا اور اس نے 2012ءمیں خواجہ سراﺅں کو تیسری جنس کا درجہ دے دیا ہے، جس کے مطابق اب ان خواجہ سراﺅں کے حقوق بھی دوسروں کے برابر ہوں گے ،ان کو تمام قانونی تحفظ کے علاوہ ووٹ دینے کا حق بھی حاصل ہے لیکن پاکستان میں تاحال خواجہ سراﺅں کے لئے کوئی مربوط قانون سازی نہ کی گئی ہے اور آج بھی خواجہ سراﺅں سے برطانوی دور کے قانون مجریہ 1860کے مطابق ٹریٹ کیا جاتاہے جس کو آج قیام پاکستان کے بعد پاکستان پینل کوڈ کا نام دیا جاتا ہے لیکن اس قانون میں خواجہ سراﺅں کے حقوق کے متعلق کوئی تبدیلی نہ کی گئی ہے خواجہ سراﺅں کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر درخواست کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر 2009میں حکومت کو شناختی کارڈ میں خواجہ سراﺅں کی تیسری جنس درج کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں اس کے علاوہ پاکستان میں اس حوالے کوئی قانون سازی نہ کی گئی ہے۔دوران سروے خواجہ سرا فردوس قریشی کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا ہونے کے ناطے پیدائش سے لے کر آج تک ہماری زندگی انتہائی مشکل ہے،جب میں 7سات سال کی تھی میرے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس وقت سے آج تک لاتعداد لوگ اپنی جنسی ضروریات پورا کر چکے ہیں ،میں ایک بیٹے کو بھی لے پالک کے طور پر ایک ماں بن کر پال رہی ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ میرا بیٹا جوان ہو جائے گا اور اسے یہ معلوم ہوگا کہ میں ایک خواجہ سرا ہوں تو میرا پتہ نہیں کہ اس بڑھاپے میں میرے ساتھ کیا ہو گا۔ فردوس کی خواہش ہے کہ جو غریبی اور احساس محرومی اس نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے وہ اپنے لے پالک بیٹے کو اعلی تعلیم دلوا کر اس غریبی اور احساس محرومی سے نکالے گی۔ خواجہ سرا چنبیلی رانا، علیشا، ریشما اور ریما کا کا کہنا تھا کہ خواجہ سراﺅں کو پیدائش سے انتہائی حقارت سے دیکھا جاتا ہے، سوسائٹی میں کسی جانور جیسا سلوک کیا جا تا ہے ہمیں ایک کھلونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے جب چاہا دل بہلا لیا اور جب چاہا چھوڑ دیا ،اس وقت لمحہ فکریہ یہ ہے ،خواجہ سراﺅں کا مزید کہنا تھا کہ پہلے لوگ ہم نجی پارٹیوں اور فنگشنز پر بلا لیتے تھے جس سے ہمارا روزگار چلتا رہتا تھا لیکن اب لوگوں کا رجحان ٹی وی ،ریڈیو اور فوک گلوکاروں کو بلا لیا جاتاہے جس کے باعث ہم پر معاشی طور پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے ،اس لئے ہم نے اب سڑکوں پر نکل کر بھیک مانگنا شروع کر دی ہے ،یہ بھی ہم کوئی شوق سے نہ کرتے ہیں صرف مجبوری اور اپنا پیٹ پالنے کے لئے ، حکومتی ملازمتوں میں ہمارے لئے کوئی کوٹہ نہ ہے اور نہ کوئی شخص ہمیں ملازمت دینے کو تیار ہوتا ہے ،اپنی زندگی کو چلانے کے لئے ہمارے پاس صرف جسم فروشی کا راستہ رہ جاتا ہے ہم یہ کام کوئی شوق سے نہ کرتے ہیں ہمیں بھی اندازہ ہے کہ اس قبیح فعل سے معاشرے میں گناہ کے علاوہ بہت سے مہلک بیماریاں بھی پھیلتی ہیں، اگر تعلیمی اداروں میں کوٹہ کے علاوہ ہمیں نوکریاں دی جائیں تو ہم یہ کام کیوں کریں گے ،ہم صرف معاشی اور پیٹ کی بھوک کی وجہ سے ناجائز کاموں کی طرف جاتے ہیں ،پاکستان کے نصاب میں خواجہ سراﺅں کے حقوق کے متعلق آج تک نہیں لکھا گیا جس کی وجہ سے سب ہمیں حقارت سے دیکھتے ہیں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      امریکی قونصل خانوں نے کراچی اور لاہور میں خدمات دوبارہ شروع کر دیں

      کراچی میں پانی چوری کی روک تھام کے لیے خصوصی پولیس اسٹیشن قائم

      مون سون کے نئے سلسلے کی پیش گوئی

      تازہ ترین

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے

      آئرلینڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن بھارت کو 2-0 سے وائٹ واش کر دیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.