اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور سپریم کورٹ کے جج کی مبینہ آڈیو لیک ہونے پر پاکستان بھر کی بار کونسلز نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین حسن رضا پاشا نےکہا کہ اجلاس میں تمام صوبائی بار کونسلز، اسلام آباد بار کے چیئرمین اور ممبران جوڈیشل کونسل کو مدعو کیا گیا اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں آڈیو لیک کا معاملہ اٹھایا گیا، چیف جسٹس سے آڈیو لیکس کی فارنزک کا مطالبہ کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے بار کونسلز کے مطالبے پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کیخلاف تمام بارکونسلزعلیحدہ علیحدہ ریفرنس فائل کریں گی، آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنسز آئندہ ہفتے دائرکیا جائے گا
حسن رضا پاشا کا کہنا تھاکہ چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا آڈیو جھوٹی ہے یا سچی، ذمہ داران کو سزادیں جن ججز کو نظر انداز کر کے جونیئر جج تعینات کیے جاتے ہیں وہ جذبے سے کام نہیں کرتے، جو جج سپریم کورٹ تعیناتی کے قابل نہیں وہ ہائیکورٹ میں رہنے کے بھی قابل نہیں۔
حسن رضا پاشا نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو فوری واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا
آڈیو لیکس کے معاملے پر تمام بار کونسل کا جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان
