لاہور (وقائع نگار) روزنامہ خبریں نے دین، اسلام اور قوم کی خدمت کا کام باحسن خوبی سرانجام دیاجو اللہ اور نبی اللہ کی نگاہ کرم کا حقدار ہو گا۔ ”خبریں“ اور اس کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے حسب روایت محب دین اورحب الوطنی کا کردار ادا کیا اس جذبہ ایمانی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ جھوٹی نبوت کے دعویدار اکثر لوگ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا اور شیزوفینیا کے مریض ہوتے ہیں ورنہ اسلام اس معاملہ میں” میجر پینلٹی “کا حکم جاری کرتا ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی نے راست اقدام کیا جس پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار علماءکرام نے خبریں سے نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور گستاخانہ پیجز پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جمعیت اہلحدیث کے امیر سنیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ہم اس فیصلے کی تائید کرتے ہیں اور جسٹس شوکت صدیقی کا یہ اقدام خوش آئند ہے۔ اس حوالے سے حکومتی اداروں کو فعال ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ مقدس شخصیات اور مقامات کو بے توقیر کرنے کی پاکستان میں کسی طور اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روزنامہ خبریں اور چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے حسب روایت اپنی حب الوطنی اور جذبہ ایمانی کا ثبوت دیا جب بھی کبھی اسلام یا پاکستان کی سلامتی کو مشکلات درپیش ہوئیں تو خبریں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی اور ضیا شاہد سچے عاشق رسول ہیں جنہوں نے اس اہم مسئلہ پر ایکشن اور آواز بلند کی ورنہ ہمارے حکمران تو اس حوالے سے نیند میں مبتلا تھے اور ہمارے وزیرداخلہ چوہدری نثار تو ایف آئی آر درج ہونے پر ناراض تھے مگر جب پوری قوم کا دباﺅ پڑا تو یہ کام ہوا۔ ملی یکجہتی کونسل نے اس حوالے سے اپنی آواز بلند کی اور جسٹس شوکت صدیقی کے تاریخی اقدمات کے بعد حکومت بھی جاگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب سے بڑی دہشت گردی ہے آپریشن ردالفساد میں اس حوالے سے بھی کارروائیاں ہونی چاہئیں۔ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ روزنامہ خبریں نے دین اسلام اور قوم کی ہمیشہ رہنمائی کی ہے اور اس بار بھی ان جیسے افراد کو بے نقاب کرنے پر ضیا شاہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اس حوالے اٹھایا جانے والا ہر قدم اللہ اور رسول کی نگاہ کرم میں مقبول ٹھہرے گا۔ معروف سکال اور جامعہ نعیمیہ کے مہتمم علامہ راغب نعیمی نے کہا جسٹس شوکت صدیقی نے درست اقدامات کیے جو کہ ہر مسلم کے دل کی آواز ہے کچھ بھی کرنے سے قبل اس شخص کا ذہنی معائنہ کروانا ضروری ہے کیونکہ اس قسم کی گھناﺅنی حرکات کرنے والے اکثر افراد کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا پائے جاتے ہیں یا فاتر العقل ہوتے ہیں کیونکہ کوئی باشعور آدمی ایسی حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے اور اگر وہ صحت مند ہے تو اس کے خلاف پاکستانی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جو کہ ”میجر پینلٹی“ ہے۔ نبوت کے جھوٹے دعویدار ناصر سلطانی کو بے نقاب کرنے پر پاکستانیوں کا چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین۔ خبریں نے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت میں ہمیشہ تاریخی کردار ادا کیا۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے خاتم النبین کا امتی ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ گزشتہ روز شائع ہونے والی شہ سرخی کے بعد ملک بھر سے آنے والی فون کالز نے خبریں ایکسچینج کو جام کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والے معلون اور نبوت کے جھوٹے دعویدار ناصر احمد سلطانی جو خودساختہ ہومیو ڈاکٹر بھی ہے آج کل اسلام آباد میں نامعلوم مقام پر رہائش پذیر ہے کی جانب سے مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کے لیے فیس بک ٹوئٹر اور ویب سائٹ کا سہارا لیا جارہا ہے جبکہ اس وقت بھی مختلف ناموں سے تین اکاﺅنٹ فیس بک پر ہرزہ سرائی میں مشغول ہیں اسی طرح یہ معلون ایک بین الاقوامی آن لائن ہومیو ہسپتال بھی چلا رہا ہے جس کے لیے پاکستان اور دنیا بھر سے چندہ بھی جمع کر رہا ہے جس سے اپنی ناپاک حرکات کے لیے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ روز نبوت کے جھوٹے دعویدار ملعون ناصر احمد سلطانی کو بے نقاب کرنے پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر سے پاکستانی روزنامہ خبریں کے صدر دفتر میں کالز کرتے رہے کالز اس قدر تعداد میں کی گئیں کہ جس کی وجہ سے کئی بار ایکسچینج جام ہو گئی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ روزنامہ خبریں نے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور اس قسم کے بدکردار لوگوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے مین اپنا تاریخی کردار ادا کیا ہے جس پر جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ ایبٹ آباد سے نوید مختار کا کہنا تھا کہ چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے ہمیشہ رسول کریم کے امتی ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ ملتان سے کال کرنے والے سہیل سندھیلہ نے بتایا کہ وہ بذات خود لاہور آکر ضیا شاہد کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنے عاشق رسول ہونے کی مثال قائم کی ہے۔
