Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • معتدل مقدار میں کافی کا استعمال گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرنے میں مددگار، ماہرین
    • امریکا نے ایرانی فٹ بال ٹیم کو ویزے جاری کردیے
    • پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی گئی
    • تاپسی پنو کی 1 سال بعد سوشل میڈیا پر واپسی، بریک کی وجہ بھی بتادی
    • پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج ہو گا
    • ایران کے خلاف کام کرنے والے امریکی اڈوں کی خطے میں سخت نگرانی ہدف کو نشانہ بنائیں گے اراقچی
    • موبائل سمز کی ملکیت ایک سال تک محدود؟ پی ٹی اے کا اہم بیان آ گیا
    • اے آئی صرف نوکری ہی نہیں، اور بھی بہت کچھ چھین سکتی ہے
    • فرینچ فرائز مسلسل کھانا ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتا ہے: تحقیق میں انکشاف
    • ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبور
    • نادیہ خان کی حمایت میں عتیقہ اوڈھو سامنے آ گئیں
    • اڈیالہ جیل سے علاج کیلئے لایا گیا قیدی اسپتال سے فرار
    • آن لائن پروپیگنڈا اور جذباتی استحصال،کالعدم بلوچ تنظیمیں نوجوانوں کو کیسے ورغلا رہی ہیں؟
    • آرڈر کی رفتار کئی گنا بڑھانے کی تیاری، ایمیزون کا نیا AI روبوٹ توجہ کا مرکز بن گیا
    • کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا بھارت واپسی پر نئی دہلی میں احتجاج کا اعلان
    • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی
    • عالمی منڈی سونے کی قیمت میں کمی پیٹرولیم مصنوعات ڈالر سستا ہو گیا
    • 961 دن کا طویل انتظار ختم، پاکستان نے فٹبال میں فتح اپنے نام کر لی
    • کشمیر میں سیاسی ہلچل عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے
    • غزہ میں جھڑپوں کے دوران جنرل سیکورٹی سروس کے کئی سینئر ارکان ہلاک اسرائیلی فوج کا دعوی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نجکاری، ہائی کورٹس کا اختیار سماعت ختم کرنے کا فیصلہ

    By Khabrain Newsدسمبر 11, 2023
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: نگران حکومت نے سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیزکرنے کیلیے ہائی کورٹس کا اختیار سماعت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    نگران حکومت نے سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیزکرنے کیلیے صدارتی آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نجکاری کے تمام کیسوں کی سماعت کیلیے خصوصی ٹریبونل قائم کیا جائے گا اور اس ضمن میں آئینی طور پر ہائیکورٹس کا دائرہ سماعت ختم کردیا جائے گا۔

    خصوصی ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف 60 دنوں کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکے گی۔نگران حکومت نے یہ اہم فیصلہ پی آئی اے کی نجکاری کا کیس لاہورہائیکورٹ میں سماعت کیلیے مقررکیے جانے کے ایک ماہ بعد اٹھایا ہے۔

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے اس معاملے میں آبزرویشن دی تھی کہ یہ معاملہ عوامی مفاد کا جو آئینی دائرہ اختیارسے متعلق ہے۔ اس کیس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیارکیا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری نگران حکومت کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتی۔ نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائیکورٹس کے دائرہ اختیارکوختم نہیں کیا جاسکتا۔

    اب نگران وفاقی کابینہ نے اس حوالے سے پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس2023ء کے ڈرافٹ کی منظوری دیدی ہے، صدرکسی وقت بھی یہ آرڈیننس جاری کرسکتے ہیں۔لیکن ایسے معاملات میں یہ سوالات بھی سر اٹھاسکتے ہیں کہ نگران حکومت جس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں آئینی طور پر ہائیکورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود بھی کرسکتی ہے یا نہیں۔خاص طور پر ایسے معاملے میں جب کوئی پرائیویٹائزیشن ٹرانزیکشن کسی عالمی معاہدے کے ساتھ منسلک بھی نہیں۔

    اس ضمن میں وفاقی وزیرنجکاری فواد حسن فواد سے رابطہ کرنے پر انھوں نے ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ اس آرڈیننس کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے جومختلف فورمز پرکی جائے والی قانونی کارروائیوں سے گھبراتے ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔نئے قانون کے تحت نجکاری کے معاملات نمٹانے کیلیے صرف ایک ہی قانونی فورم ہوگااوراس کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں دائر کی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری فواد حسن فواد کی اوّلین ترجیح ہے اور نگران حکومت نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاسوں کی صدارت کے اختیارات بھی وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر سے لے کر فواد حسن فواد کے سپرد کردیے ہیں۔پی آئی اے کے معاملے میں حکومت نے فنانشل ایڈوائزرکی خدمات حاصل کرنے کیلیے بولی کے انٹرنیشنل پراسیس کی بھی پروا نہیں کی۔

    یہ بھی پڑھیں: روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیلیے مالیاتی مشیر کی تقرری کی منظوری

    نگران وفاقی کابنیہ نے پرائیویٹائزیشن آرڈیننس 2000 کے سیکشن 28 میں ترمیم کردی ہے جس کے تحت ہائیکورٹس پرائیویٹائزیشن ٹرانزیکشن سے متعلقہ سول اور فوجداری کیسوں کی سماعت کرسکتی تھیں ۔اب نئے ایڈہاک قانون کے تحت پرائیویٹائزیشن ایپلٹ ٹریبونل کے سوا کوئی عدالت ایسے کیسوں کی سماعت نہیں کرسکے گی۔اس آرڈیننس کی مدت 120دن ہوگی اور قومی اسمبلی اس میں مزید 120 دن کی توسیع کرسکے گی۔

    نئے قانون کے حوالے سے آئینی ماہر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد ہائیکورٹس سے کہا جائے گا کہ وہ ایسے کیسوں کو نہ سنیں کیونکہ ان کیلیے متبادل فورم موجود ہے۔

    وفاقی وزیرنجکاری فوادحسن فواد کا کہنا ہے کہ پرائیویٹائزیشن ایپلٹ ٹریبونل تین ارکان پر مشتمل ہوگاجس کا سربراہ ایسا شخص ہوگا جو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا جج رہ چکا ہو،باقی ارکان میں ایک جوڈیشل اورایک ٹیکنیکل ممبر ہوگا۔اس ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف 60دنوں کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوسکے گی۔

    مزید پڑھیں: ایس آئی ایف سی اپیکس کمیٹی، نجکاری کا عمل تیز کرنیکی ہدایت

    فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ 30 برسوں سے نجکاری کے بعض کیس لٹکے ہوئے ہیں جن میں کہیں سرمایہ کار نے پوری ادائیگی تو کردی ہے لیکن اسے مالکانہ حقوق نہیں دیے جا رہے، بعض معاملات میں خریدار کو مالکانہ حقوق تو دیدیئے گئے ہیں لیکن وہ کمیشن کو مطلوبہ ادائیگیاں نہیں کررہے۔نئے ٹریبونل کے قیام سے ایسے معاملات جوعشروں سے زیرالتوا ہیں تیزی کے ساتھ نمٹائے جاسکیں گے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت 2000 سے موثرقوانین کے معاملے میں ایڈہاک قانون سازی کررہی ہے ،ان معاملات کے مؤثر باماضی ہونے کی بنیاد پر حکومت کو قانونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    وفاقی وزیرنجکاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کی سیکشن 230 کے تحت نگران حکومت کو دوطرفہ یا کثیرجہتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس 2000ء کے تحت پہلے سے شروع کیے گئے معاملات پر فیصلوں کا اختیارحاصل ہے۔

    ٹریبونل کو کسی بھی شخص کو سمن جاری کرنے، حاضری یقینی بنانے، مطلوب دستاویزات کے حصول، بیانات حلفی لینے اور دستیاب ڈاکومنٹس کی تحقیقات کیلیے کمیشن مقررکرنے کے اختیارات ہونگے۔جونہی نیا قانون آئیگا ہائیکورٹ میں زیرسماعت ایسے کیس ٹریبونل کو منتقل ہوجائیں گے۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی گئی

    پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج ہو گا

    موبائل سمز کی ملکیت ایک سال تک محدود؟ پی ٹی اے کا اہم بیان آ گیا

    تازہ ترین

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی گئی

    پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج ہو گا

    اے آئی صرف نوکری ہی نہیں، اور بھی بہت کچھ چھین سکتی ہے

    اڈیالہ جیل سے علاج کیلئے لایا گیا قیدی اسپتال سے فرار

    آن لائن پروپیگنڈا اور جذباتی استحصال،کالعدم بلوچ تنظیمیں نوجوانوں کو کیسے ورغلا رہی ہیں؟

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.