Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • 3. پاکستانی اوپنر معاذ صداقت کی انٹرنیشنل لیگ سیزن 5 کیلئے رجسٹریشن
    • اے آئی سے مدد لینا مہنگا پڑگیا، کراچی کا شہری زیرِحراست
    • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک
    • OGDCنےخواتین مینجمنٹ ٹرینی افسران کے دوسرے بیچ کا آغاز کر دیا
    • چکلالہ کینٹ بورڈ مختلیف علاقوں میں غیر معیاری خوراک کی کلھے عام فروخت جاری
    • تحصیل ٹیکسلا میں نائب تحصیلدار تعینات نہ ہونے سے سائلین در بدر
    • مری میں اسکول وین سڑک سے نیچے جا گری آگ لگنے سے 10 بچے جھلس گئے
    • بارش کے دوران اور بعد میں نکاسی آب آپریشن تیزی سے مکمل
    • جوبلی لائف انشورنس اور اولاڈوک کے درمیان اہم شراکت کا آغاز
    • اٹک، نویں جماعت کی طالبہ نے امتحان میں ناکامی پرزہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا
    • ڈی ایچ او راولپنڈی اور الائیڈ ڈیپارٹمنٹس کا انسداد ڈینگی اقدامات جاری
    • راولپنڈی ہولی فیملی اسپتال میں جدید کیرو ابلیشن مشین کے ذریعے کینسر کے علاج کا آغاز
    • مقدمہ قتل میں نامزد ماں بیٹے پر فرد جرم عائد،سماعت 3اکتوبر تک ملتوی
    • مشہور سدرہ عرب قتل کیس ، نامزد 9 ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ
    • چکلالہ پولیس کی فوری کارروائی،ڈینگی ٹیم کو حراساں اور مزاحمت کرنیوالا شخص گرفتار
    • راولپنڈی، 3 منشیات سپلائر گرفتار 4 کلو سے زائد چرس برآمد
    • ستھرا پنجاب ایجنسی راولپنڈی کی فیلڈ ٹیمیں موسلادھار بارش کے پیش نظر متحرک
    • ڈکیتی اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث 3 رکنی گینگ گرفتار
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں 5 افراد کو حراست میں لے کر شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • شہری پانی کوترس گئے، وارڈ 19 کا نیا ٹیوب ویل بھی فعال نہ ہو سکا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

    By Khabrain Newsنومبر 15, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    پاکستان میں صحتِ عامہ کی سنگین ہنگامی صورتحال، لاکھوں افراد متاثر

    پاکستان آج ایک ایسی صحت عامہ کی ہنگامی حالت کا سامنا کر رہا ہے جو ملک بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ عالمی ذیابیطس دن کے موقع پر جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار انتہائی پریشان کن ہیں پاکستان میں ہر چار میں سے ایک بالغ فرد ذیابیطس کا شکار ہے یا اس کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد ذیابطیس کے مریض ہیں، جو کہ ملک کی بالغ آبادی کا تقریباً 26 فیصد بنتے ہیں۔ یہ شرح دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مریض ہونے کے باوجود آدھے سے زیادہ افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔ذیابیطس کو "خاموش قاتل” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مرض برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے انسانی جسم کو اندر ہی اندر تباہ کرتا رہتا ہے۔ذیابیطس کے باعث ہر سال ہزاروں افراد دل کے دورے، فالج، گردوں کی ناکامی، بینائی کے ضیاع اور پیروں کے اعضا کٹنے جیسی مہلک پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ لاہور کے ڈائبیٹک انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود کے مطابق: "پاکستان میں گردے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ذیابیطس ہے، جبکہ نابینا پن کی بھی یہ ایک اہم وجہ بن چکی ہے۔”پاکستان میں روایتی متوازن غذا جو دالوں، سبزیوں اور سادہ کھانوں پر مشتمل تھی، اس کی جگہ اب فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور پروسیسڈ غذاؤں نے لے لی ہے۔شہری علاقوں میں تو ہر گلی میں کوئی نہ کوئی فاسٹ فوڈ کی دکان کھل گئی ہے۔ لوگ اب گھر کے کھانے کی بجائے باہر کے کھانے ترجیح دیتے ہیں جو چکنائی اور شکر سے بھرپور ہوتے ہیں۔”شہروں میں گاڑیوں کے بڑھتے استعمال، دفتروں میں بیٹھے رہنے والی نوکریوں اور جسمانی مشقت میں عمومی کمی نے بھی اس مرض کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی شہریوں کی روزانہ کی اوسط چہل قدمی 15 سال قبل کے مقابلے میں 60 فیصد کم ہو چکی ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے مریض جو باقاعدہ ورزش اور صحت مند خوراک اپناتے ہیں ان میں پیچیدگیوں کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
    ماہر امراض شوگر، معدہ و جگر ڈاکٹر سید جعفر حسین کے مطابق ذیابیطس کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ مریض کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ بیمار ہے۔ جب تک علامات ظاہر ہوتی ہیں تب تک جسم کے اہم اعضاء کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔جنوبی ایشیائی لوگوں میں ذیابیطس کا خطرہ قدرے زیادہ ہوتا ہے۔ کسی بھی بیماری کا علاج تب تک ممکن نہیں ہے جب تک تمام سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے۔ جب ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ آنکھوں، نیورو سرجری، ناک، کان، گلے کے انفیکشن، دل کے مسائل، ہڈیوں و جوڑوں کے مسائل اور خاص طور پر ذہنی عوامل سے بھی دوچار ہوتا ہے لہٰذا اِس مرض کے عوامل کو پہچانیں اور خود کو جتنا بچا سکتے ہیں بچائیں۔ اس کے علاوہ ہمیشہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں، کھانے میں احتیاط کریں اور ادویات کے استعمال کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی کو بھی تبدیل کریں۔
    دیہی علاقوں میں تو اکثر لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں۔ شہروں میں بھی باقاعدہ چیک اپ کا رجحان بہت کم ہے۔ ملک بھر میں ذیابیطس کے علاج کی سہولیات کا جال بھی ناکافی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ذیابیطس نہ صرف انفرادی سطح پر تباہی پھیلا رہی ہے بلکہ قومی معیشت پر بھی اس کا بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے باعث سالانہ 2 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہوتا ہے جس میں علاج پر اخراجات اور کام کے دن ضائع ہونے کی لاگت شامل ہے۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں مختلف سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ذیابیطس کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنائے۔ذیابیطس کی ادویہ اور علاج کو ہر شہری کی پہنچ میں لانا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ عوامی مقامات پر پارکس اور واک وے بنائے جائیں تاکہ لوگوں کو ورزش کی سہولت میسر آ سکے۔ میٹھے مشروبات اور غیر صحت مند غذاؤں پر خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے ۔سکولوں اور کالجوں میں صحت مند غذاؤں کو فروغ دیا جائے۔ پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کو ذیابیطس کی سکریننگ کی سہولیات سے لیس کیا جائے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو ذیابیطس کے جدید علاج کی تربیت دی جائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت یا سستی سکریننگ کی سہولیات مہیا کی جائے ۔حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر فرد کی اپنی صحت کے حوالے سے ذمہ داری بنتی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ وہ متوازن خوراک اپنائیں: تازہ پھلوں، سبزیوں، سارے اناج اور lean proteins کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔روزانہ کم از کم 30 منٹ کی جسمانی ورزش کو معمول بنائیں۔اپنے وزن کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز کریں۔ سال میں ایک بار باقاعدہ طبی چیک اپ ضرور کروائیں۔ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے یوگا، مراقبہ یا دیگر طریقے اپنائیں۔صحت ہزار نعمت ہے، اور اس کا خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ذیابیطس کوئی ایسا مرض نہیں جسے روکا نہ جا سکے۔ صحت مند طرز زندگی اپنا کر ہم نہ صرف اس مرض سے بچ سکتے ہیں بلکہ اسے قابو میں بھی رکھ سکتے ہیں۔عالمی ذیابیطس دن کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کی صحت کے حوالے سے بھی ذمہ دار بنیں گے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      اے آئی سے مدد لینا مہنگا پڑگیا، کراچی کا شہری زیرِحراست

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.