Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امریکی آمادگی کے باوجودایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں : روبیو
    • فرانس میں یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی
    • ملک گیر ہرتال کی کال پر پٹرولیم ڈیلرز میں اختلاف
    • پاکستان کا زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی سہولت کی درخواست
    • پنجاب میں گندم کی فی من قیمت 4,500 سے 4,800 روپے ہے، جبکہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں فی من قیمت 5,000 روپے ہے
    • بھارت میں احتجاج شدت اختیار کرگیا اپوزیشن رہنما راہول گاندھی گرفتار
    • 22 جولائی سے ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان
    • میسی کا ارجنٹائن کی ورلڈ کپ شکست پر جذباتی پیغام
    • گوجرانوالہ میں 220 ملی میٹر بارش، 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
    • لاہور کے اسپتال میں پنجاب کی پہلی روبوٹک سرجری کامیاب
    • امریکا کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا، ایران اب بھی مضبوط عسکری صلاحیت رکھتا ہے
    • ایران کا اسپین کو فلسطینی حمایت پر خراجِ تحسین
    • حکومت کا ڈیزل درآمد پر PSO کو خصوصی اختیار، دیگر کمپنیوں پر پابندی
    • نئی اے آئی چپس سے گوگل جیمنی کی کارکردگی میں 10 گنا بہتری
    • ورڈپریس خامیوں سے ہیکرز کا حملہ، لاکھوں ویب سائٹس خطرے میں
    • راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں اربن فلڈنگ الرٹ جاری
    • لینڈ سلائیڈنگ کے بعد جھیل سیف الملوک روڈ سیاحوں کے لیے بند
    • پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
    • گیانا کشتی حادثہ: 27 لاشیں برآمد، عملے کی غفلت پر تحقیقات شروع
    • پاکستان نے قومی جیم اسٹون پالیسی منظور کر لی، 2030 تک 50 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

    By Khabrain Newsنومبر 15, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    پاکستان میں صحتِ عامہ کی سنگین ہنگامی صورتحال، لاکھوں افراد متاثر

    پاکستان آج ایک ایسی صحت عامہ کی ہنگامی حالت کا سامنا کر رہا ہے جو ملک بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ عالمی ذیابیطس دن کے موقع پر جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار انتہائی پریشان کن ہیں پاکستان میں ہر چار میں سے ایک بالغ فرد ذیابیطس کا شکار ہے یا اس کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد ذیابطیس کے مریض ہیں، جو کہ ملک کی بالغ آبادی کا تقریباً 26 فیصد بنتے ہیں۔ یہ شرح دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مریض ہونے کے باوجود آدھے سے زیادہ افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔ذیابیطس کو "خاموش قاتل” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مرض برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے انسانی جسم کو اندر ہی اندر تباہ کرتا رہتا ہے۔ذیابیطس کے باعث ہر سال ہزاروں افراد دل کے دورے، فالج، گردوں کی ناکامی، بینائی کے ضیاع اور پیروں کے اعضا کٹنے جیسی مہلک پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ لاہور کے ڈائبیٹک انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود کے مطابق: "پاکستان میں گردے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ذیابیطس ہے، جبکہ نابینا پن کی بھی یہ ایک اہم وجہ بن چکی ہے۔”پاکستان میں روایتی متوازن غذا جو دالوں، سبزیوں اور سادہ کھانوں پر مشتمل تھی، اس کی جگہ اب فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور پروسیسڈ غذاؤں نے لے لی ہے۔شہری علاقوں میں تو ہر گلی میں کوئی نہ کوئی فاسٹ فوڈ کی دکان کھل گئی ہے۔ لوگ اب گھر کے کھانے کی بجائے باہر کے کھانے ترجیح دیتے ہیں جو چکنائی اور شکر سے بھرپور ہوتے ہیں۔”شہروں میں گاڑیوں کے بڑھتے استعمال، دفتروں میں بیٹھے رہنے والی نوکریوں اور جسمانی مشقت میں عمومی کمی نے بھی اس مرض کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی شہریوں کی روزانہ کی اوسط چہل قدمی 15 سال قبل کے مقابلے میں 60 فیصد کم ہو چکی ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے مریض جو باقاعدہ ورزش اور صحت مند خوراک اپناتے ہیں ان میں پیچیدگیوں کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
    ماہر امراض شوگر، معدہ و جگر ڈاکٹر سید جعفر حسین کے مطابق ذیابیطس کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ مریض کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ بیمار ہے۔ جب تک علامات ظاہر ہوتی ہیں تب تک جسم کے اہم اعضاء کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔جنوبی ایشیائی لوگوں میں ذیابیطس کا خطرہ قدرے زیادہ ہوتا ہے۔ کسی بھی بیماری کا علاج تب تک ممکن نہیں ہے جب تک تمام سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے۔ جب ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ آنکھوں، نیورو سرجری، ناک، کان، گلے کے انفیکشن، دل کے مسائل، ہڈیوں و جوڑوں کے مسائل اور خاص طور پر ذہنی عوامل سے بھی دوچار ہوتا ہے لہٰذا اِس مرض کے عوامل کو پہچانیں اور خود کو جتنا بچا سکتے ہیں بچائیں۔ اس کے علاوہ ہمیشہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں، کھانے میں احتیاط کریں اور ادویات کے استعمال کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی کو بھی تبدیل کریں۔
    دیہی علاقوں میں تو اکثر لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں۔ شہروں میں بھی باقاعدہ چیک اپ کا رجحان بہت کم ہے۔ ملک بھر میں ذیابیطس کے علاج کی سہولیات کا جال بھی ناکافی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ذیابیطس نہ صرف انفرادی سطح پر تباہی پھیلا رہی ہے بلکہ قومی معیشت پر بھی اس کا بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے باعث سالانہ 2 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہوتا ہے جس میں علاج پر اخراجات اور کام کے دن ضائع ہونے کی لاگت شامل ہے۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں مختلف سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ذیابیطس کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنائے۔ذیابیطس کی ادویہ اور علاج کو ہر شہری کی پہنچ میں لانا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ عوامی مقامات پر پارکس اور واک وے بنائے جائیں تاکہ لوگوں کو ورزش کی سہولت میسر آ سکے۔ میٹھے مشروبات اور غیر صحت مند غذاؤں پر خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے ۔سکولوں اور کالجوں میں صحت مند غذاؤں کو فروغ دیا جائے۔ پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کو ذیابیطس کی سکریننگ کی سہولیات سے لیس کیا جائے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو ذیابیطس کے جدید علاج کی تربیت دی جائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت یا سستی سکریننگ کی سہولیات مہیا کی جائے ۔حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر فرد کی اپنی صحت کے حوالے سے ذمہ داری بنتی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ وہ متوازن خوراک اپنائیں: تازہ پھلوں، سبزیوں، سارے اناج اور lean proteins کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔روزانہ کم از کم 30 منٹ کی جسمانی ورزش کو معمول بنائیں۔اپنے وزن کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز کریں۔ سال میں ایک بار باقاعدہ طبی چیک اپ ضرور کروائیں۔ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے یوگا، مراقبہ یا دیگر طریقے اپنائیں۔صحت ہزار نعمت ہے، اور اس کا خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ذیابیطس کوئی ایسا مرض نہیں جسے روکا نہ جا سکے۔ صحت مند طرز زندگی اپنا کر ہم نہ صرف اس مرض سے بچ سکتے ہیں بلکہ اسے قابو میں بھی رکھ سکتے ہیں۔عالمی ذیابیطس دن کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کی صحت کے حوالے سے بھی ذمہ دار بنیں گے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.