Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایمباپے کا نائیکی سے 20 سالہ تعلق ختم ’آن‘ برانڈ سے نیا معاہدہ
    • ایشین گیمز کبڈی: پاکستان نے ملائیشیا کو 65-22 سے شکست دے دی
    • منیشہ علی کا شاندار کارنامہ، ایم ایم اے ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے گولڈ جیت لیا
    • اسلام آباد کے 24 اسکول کل سے بند، عمارتیں پولیس کے حوالے
    • لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اربوں کی سرمایہ کاری پر سنڈیکیٹ سے منظوری نہ لینے کا انکشاف
    • پی ٹی آئی کسان ونگ کا پاکستان کسان اتحاد کے25 ستمبرکے احتجاج کی بھرپور حمایت
    • PIA نے انٹرنیشنل ایوی ایشن سیفٹی معیار پر عملدرآمد کا سنگ میل عبور کرلیا
    • نیویارک’صرف 30ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ لاکھوں ڈالر کی نکلی
    • یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکین ِ وطن کے خلاف نئے سخت قوانین و قواعد منظور کرلئے
    • صبا قمر کا ماضی میں ساتھی اداکار کی محبت میں گرفتار ہونے کا انکشاف
    • پاکستان کی بھارت کے خلاف شاندار فتح 5-0 شکست دے دی
    • بدعنوانی پر دفترخارجہ کے 6افسران سمیت 22افراد کیخلاف مقدمہ
    • چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
    • افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی
    • آسٹریلیا سے امریکا بھیجے گئے ایف35لڑاکا طیاروںکے حساس پرزے ہانگ کانگ پہنچ گئے، تحقیقات شروع
    • قبضوں کی نشاندہی کریں، کارروائی ہوگی: ناصر حسین شاہ
    • پنجاب بار کونسل کا وکلاء ،خاندانوںکو مالی تحفظ فراہم کرنیکا اعلان
    • PTIحکومت اور کے درمیان رابطے بے نتیجہ حالات مزید خراب سخت ہونے کا امکان
    • سمارٹ لاک ڈاؤن پولیس ضلعی انتظامیہ کیلئے کمائی کا ذریعہ
    • محسن نقوی کی ہنگو میںشہید ہونیوالے کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    عہدہ ختم تو اہمیت ختم

    By Khabrain Newsجون 11, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    جب کوئی بڑے عہدے پر بیٹھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ دنیا اس کی مٹھی میں ہے۔ دروازے پر قطاریں لگتی ہیں، فون بند نہیں ہوتا، ہر طرف سے سلام اور تعریف کی بارش ہوتی ہے۔

    لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کا عہدہ ختم ہوا ،کوئی اقتدار سے ہٹا، اس کے گرد جمع ہجوم چیونٹیوں کی طرح اس روٹی کی طرف بڑھ گیا، جہاں نئی طاقت تھی۔

    ابن خلدون نے صدیوں پہلے کہا تھا کہ عصبیت یعنی گروہی وفاداری اقتدار کے گرد گھومتی ہے، انسان کے گرد نہیں۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ اقتدار کا وہ نچوڑ ہے جو ہر گلی، ہر دفتر، ہر دربار میں دہرایا جاتا ہے، لیکن سمجھا کبھی نہیں جاتا۔

    ہر چند سال بعد ایک نیا چہرہ آتا ہے۔ نیا نعرہ، نئی امید، نئے وعدے۔

    عوام ایک بار پھر یقین کر لیتے ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوا۔ یہ اتفاق نہیں، یہ نظام ہے۔

    ابتک جو تیرے پیچھے ہجوم تھے، آج وہ چیونٹیوں کی طرح اس روٹی کے پاس جمع ہوں گے جو انہوں نے کھانی ہے۔

    لیکن یہ لوگوں کی بے وفائی نہیں۔ یہ اس نظام کا نتیجہ ہے جس نے سکھایا کہ طاقتور کے ساتھ رہو تو زندہ رہو گے، کمزور کے ساتھ رہو تو مٹ جاؤ گے۔ جب نظام یہ سبق دے تو پوری قوم چیونٹی بن جاتی ہے، روٹی ڈھونڈتی ہے، وفا نہیں۔

    یہاں عہدے کی قدر ہے، انسان کی نہیں۔

    تاریخ کا سب سے تکلیف دہ سبق یہی ہے۔ جو شخص کل اقتدار میں تھا، عہدہ جانے کے بعد اس کی کوئی نہیں سنتا۔ جو کل جج تھا، آج خود کٹہرے میں ہے۔ جو کل فیصلے کرتا تھا، آج فیصلوں کا انتظار کرتا ہے۔

    عہدہ تھا تو فون بند نہیں ہوتا تھا، اب گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں کوئی نہیں اٹھاتا۔

    دروازے پر قطاریں تھیں، اب دروازہ خاموش ہے۔ تعریفیں تھیں، اب تنقیدیں ہیں۔ لیکن انسان وہی ہے۔ صرف کرسی بدلی اور کرسی کے بدلتے ہی پوری دنیا بدل گئی۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔

    کبھی جو ان کرسیوں میں بیٹھے تھے، آج جیلوں میں پڑے ہیں۔ یہ اقتدار کا وہ چکر ہے جو نہیں ٹوٹتا۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب کوئی جیل گیا تو وہی ہجوم جو کل تک جان دیں گے کی قسمیں کھاتا تھا، آج نئی روٹی کے پاس بیٹھا نظر ائے گا۔

    جیل کی سلاخوں نے ہر بار یہی سچ دکھایا: اقتدار میں جتنے یار تھے، تنہائی میں اتنے ہی کم نکلے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہر حکمران نے سچائی کا سامنا کیا تنہائی میں، خاموشی میں، جیل میں یا جلاوطنی میں۔

    کرسی چار دن کی چاندنی ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن جب یہ چاندنی ملتی ہے تو یہ سچ بھول جاتے ہیں۔ اور پھر اندھیری رات آتی ہے۔ ساتھ لاتی ہے وہ تنہائی جو اقتدار کے نشے میں کبھی نظر نہیں آئی تھی۔

    اگر آج آپ کے دروازے پر بھیڑ ہے تو ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں: کیا یہ لوگ میرے لیے آئے ہیں یا میری کرسی کے لیے؟ اگر یہ سوال آپ کو بے چین کرے تو سمجھیں کہ ابھی ہوش باقی ہے۔

    اقتدار کا نشہ سب سے خطرناک نشہ ہے کیونکہ یہ آہستہ آہستہ چڑھتا ہے، اور جب اترتا ہے تو سب کچھ لے کر جاتا ہے۔ اسی لیے ہر کوئی اس طاقت کو پکڑے رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے تاکہ حیثیت بنی رہے، اثر رسوخ قائم رہے، اہمیت زندہ رہے۔

    لیکن تاریخ ہر بار ایک ہی سبق دیتی ہے: جو طاقت کے لیے سب کچھ داؤ پر لگاتا ہے، وہ آخر میں طاقت کے ساتھ سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      گلگت بلتستان کے عام انتخابات

      تازہ ترین

      پاکستانی فائٹر شہزیب رند کی دھوم میامی ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں فتح

      ‏عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا

      آئی پی پیز سے بجلی کی پیداوار ڈیموں کے مقابلے میں 12 گنا مہنگی

      کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، 15 اہلکاروں سمیت 21 شہید، 81 زخمی

      سنگاپور ایئرلائنز 2026 کی بہترین ایئرلائن بن گئی

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.