محرم الحرام سیکیورٹی پلان: ایک لاکھ سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات
لاہور / پنجاب: پنجاب پولیس اور لاہور پولیس نے عشرہ محرم الحرام (یکم سے 10 محرم) کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان فائنل کر لیا ہے۔ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور (سٹی پولیس چیف) بلال صدیق کمیانہ کے مطابق، محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے 1 لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔
-
اہلکاروں کی تقسیم: مجموعی نفری میں سے 73 ہزار 400 سے زائد اہلکار عزاداری جلوسوں کی سیکیورٹی پر، جبکہ 41 ہزار 200 سے زائد افسران و اہلکار مجالس کی سیکیورٹی کے لیے تعینات ہوں گے۔
-
لاہور کے لیے خصوصی انتظامات: سٹی پولیس چیف لاہور کے مطابق لاہور کے 5 بڑے اور حساس جلوسوں (بشمول نثار حویلی، پانڈو اسٹریٹ، شادمان، ماڈل ٹاؤن اور ٹھوکر نیاز بیگ) پر غیر معمولی سیکیورٹی نافذ ہوگی۔ جلوسوں کے داخلی و خارجی راستوں پر چار حصار (4-layer) پر مشتمل سیکیورٹی سسٹم قائم کیا جائے گا۔
-
فوج اور رینجرز کی خدمات: لاہور پولیس کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور رینجرز کے دستے بھی حساس مقامات اور بڑے جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے الرٹ رہیں گے۔
-
فضائی اور ڈیجیٹل نگرانی: حساس مقامات اور جلوسوں کے روٹس کی نگرانی کے لیے سیف سٹی کے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کا استعمال کیا جائے گا، جبکہ ڈرون کیمروں کی مدد سے فضائی مانیٹرنگ بھی مسلسل جاری رہے گی۔ بلند عمارتوں کی چھتوں پر اسنائپرز (Snipers) تعینات ہوں گے۔
-
پابندیاں اور ایس او پیز (SOs): * 9 اور 10 محرم الحرام کو صوبے بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔
-
لاؤڈ اسپیکر ایکٹ اور دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
-
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، وال چاکنگ اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
-
سٹی پولیس چیف (CCPO) کا پیغام: > "لاہور پولیس محرم الحرام میں قیام امن کو یقینی بنائے گی۔ مجالس اور جلوسوں کے روٹس اور اوقاتِ کار پر من و عن عملدرآمد کرایا جائے گا اور کسی بھی جگہ طے شدہ روٹس کے علاوہ جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔”
