سندھ حکومت کے نئے مالی سال 2026-27 کے لیے 3,500 ارب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ آج پیش کیا جا رہا ہے، جس میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں صوبائی ترقیاتی بجٹ میں 298 ارب روپے کی بڑی کٹوتی جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ میں 418 ارب روپے کے نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ غیر ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 2,142 ارب روپے سے 2,560 ارب روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر جاری اخراجات پر مشتمل ہوگا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ضلعی ترقیاتی بجٹ کو 55 ارب روپے سے کم کرکے 15 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی پروگرام کو 520 ارب روپے سے کم کرکے 385 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 3715 ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، تاہم ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود مختلف شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بلدیات اور کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 99 ارب 76 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 7 ارب 94 کروڑ روپے، صحت کے لیے 17 ارب 43 کروڑ روپے اور تعلیم کے مختلف منصوبوں کے لیے 25 ارب 86 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
آبپاشی کے لیے 30 ارب 80 کروڑ روپے، ورکس اینڈ سروسز کے لیے 31 ارب 59 کروڑ روپے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40 ارب 86 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
تعلیمی شعبے میں اسکول ایجوکیشن کے 404 منصوبوں کے لیے 13 ارب 95 کروڑ روپے، کالج ایجوکیشن کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور جامعات و تعلیمی بورڈز کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں کچے کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے جبکہ خصوصی افراد کے محکمے کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ایس ڈی جی میگا اسکیموں کے لیے تقریباً 29 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 8 فیصد اضافے جبکہ کم از کم اجرت میں 20 فیصد اضافہ بھی زیر غور ہے۔
سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 5 روز تک جاری رہے گی، جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بجٹ تقریر میں رواں مالی سال کی کارکردگی اور حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے۔
