اسلام آباد(حبہ عباسی) اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو کی ڈھوک جیلانی میں چھ سالہ بچے سےمبینہ جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ ایف آئی آر کے مطابق بچے کے والد نے الزام عائد کیا کہ پڑوس میں رہنے والے ایک لڑکے نے پتنگ دینے کے بہانے ان کے بیٹے کو اپنی چھت پر بلایا اور مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ درخواست موصول ہونے کے بعد تھانہ بھارہ کہو پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376(iii) کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ بچے کا پولی کلینک اسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ڈی این اے سواب سمیت دیگر نمونے محفوظ کیے گئے۔ مقدمے کی مزید تفتیش متعلقہ تفتیشی افسر کے سپرد کردی گئی ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔اسلام آبادچھ سالہ بچے سے مبینہ زیادتی کا واقعہ، بچوں کے تحفظ اور انسانی حقوق پر سوالات اٹھنے لگے.اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو کی ڈھوک جیلانی میں چھ سالہ بچے سے مبینہ جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے پر تھانہ بھارہ کہو پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق بچے کے والد نے الزام عائد کیا کہ پڑوس میں رہنے والے ایک لڑکے نے پتنگ دینے کے بہانے بچے کو اپنی چھت پر بلایا اور مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔پولیس نے تعزیرات پاکستان ک دفعہ 376(iii) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ متاثرہ بچے کا پولی کلینک اسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ڈی این اے سمیت دیگر ضروری نمونے محفوظ کرلیے گئے۔یہ واقعہ بچوں کے تحفظ، ان کے بنیادی انسانی حقوق اور محفوظ ماحول کی فراہمی سے متعلق اہم سوالات کو اجاگر کرتا ہے۔ بچوں کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھنا ریاست، معاشرے اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انسانی حقوق کے تناظر میں ضروری ہے کہ متاثرہ بچے کو طبی، نفسیاتی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے، اس کی شناخت اور نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش متعلقہ تفتیشی افسر کے سپرد کردی گئی ہے اور واقعے کے تمام پہلوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
