راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر میں گندم کی کاشت کے فروغ کے لئے خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے، جبکہ رواں سیزن کے دوران صوبہ پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف
ایک کروڑ 65 لاکھ ایکڑ مقرر کیا گیا ہے فیلڈ فارمیشنز کو مقررہ اہداف سے بھی زائد رقبے پر گندم کی کاشت یقینی بنانے کے لئے خصوصی ٹاسک سونپ دیئے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سیکریٹری زراعت پنجاب شکیل احمد میاں کے ہمراہ راولپنڈی کے دورے کے موقع پر کمشنر آفس راولپنڈی میں گندم کی کاشت کے فروغ اور مقررہ اہداف کے حصول کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کیا اجلاس میں ایم پی اے و پارلیمانی سیکریٹری برائے زکو و عشر ملک افتخار احمد، ایم پی اے ملک اعتبار خان، راولپنڈی ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز، محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرلز، متعلقہ افسران، کاشتکاروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں وزیر زراعت نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے، جبکہ رواں سیزن کے دوران صوبہ پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف ایک کروڑ 65 لاکھ ایکڑ مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح راولپنڈی ڈویژن کے لیے 16 لاکھ ایکڑ پر گندم کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز کو مقررہ اہداف سے بھی زائد رقبے پر گندم کی کاشت یقینی بنانے کے لئے خصوصی ٹاسک سونپ دیئے گئے ہیں۔ وزیر زراعت نے کہا کہ گندم ملکی غذائی تحفظ کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور موجودہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں گندم کی کاشت کاشتکاروں کے لئے ایک منافع بخش عمل بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصدیق شدہ بیج کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے 32 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کا تصدیق شدہ بیج 800 روپے فی بیگ سبسڈی کے بعد 7 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 50 لاکھ ایکڑ رقبے کے لیے ڈی اے پی کھاد کی خریداری پر 17 ارب روپے کا اضافی بلاسود قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 3500 روپے اضافی بلاسود قرض کی سہولت بھی دی جا رہی ہے، جس سے تقریبا 10 لاکھ کاشتکار مستفید ہوں گے۔ سیکریٹری زراعت شکیل احمد میاں نے اجلاس کو بتایا کہ خطہ پوٹھوہار میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان پر عمل درآمد جاری ہے۔ فیلڈ فارمیشنز کے ذریعے گندم کی کاشت کے لئے جاری مہم کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی کاشت کے مقررہ اہداف کے حصول کے لئے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کا فعال اور عملی تعاون ناگزیر ہے۔
