All posts by Khabrain News

پنجاب سے گندم کی دوسرے صوبوں میں ترسیل پر رکاوٹ، کے پی کے میں آٹا مہنگا ہو گیا

پنجاب سے خیبر پختونخوا (KP) کو گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کی مکمل اور مستند تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • پابندی کا نفاذ: پنجاب حکومت نے ایک بار پھر بین الصوبائی سرحدوں پر گندم اور آٹے کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس پابندی کا مقصد پنجاب میں گندم کے اسٹاک کو محفوظ بنانا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا بتایا گیا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات پڑوسی صوبوں پر پڑ رہے ہیں۔

  • کے پی کے میں بحران: خیبر پختونخوا اپنی گندم کی 70 فیصد سے زائد ضروریات کے لیے پنجاب پر انحصار کرتا ہے۔ سپلائی بند ہونے کی وجہ سے پشاور، ہری پور، سوات اور دیگر اضلاع میں آٹے کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

  • قیمتوں میں اضافہ: حالیہ رپورٹس کے مطابق، کے پی کے میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2,700 روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ فی کلو آٹا 150 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

اہم قانونی اور سیاسی نکات

  • آئینی خلاف ورزی: فلور ملز ایسوسی ایشن اور کے پی کے حکومت نے اس پابندی کو آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جو پورے ملک میں آزادانہ تجارت اور اشیاء کی نقل و حمل کی ضمانت دیتا ہے۔

  • فلور ملز کی ہڑتال کی دھمکی: پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (کے پی چیپٹر) کے چیئرمین نعیم بٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب نے گندم کی ترسیل فوری طور پر بحال نہ کی تو صوبے کی تمام فلور ملز غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیں گی، جس سے بیروزگاری اور خوراک کا بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

کشیدگی کے باوجود جنگ بندی برقرا:رٹرمپ

آبنائے ہرمز میں حالیہ فوجی جھڑپوں اور میزائل حملوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی (Ceasefire) اب بھی برقرار ہے۔

آج (8 مئی 2026) کی تازہ ترین مستند تفصیلات درج ذیل ہیں:

 صدر ٹرمپ کا بیان: “سیز فائر اب بھی قائم ہے”

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا (Truth Social) پر اپنے پیغامات میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ:

  • حملوں کو “معمولی” قرار دیا: ٹرمپ نے حالیہ ایرانی حملوں کو “Trifle” (معمولی بات) قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کے نزدیک جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

  • “لو ٹیپ” (Love Tap): امریکی صدر نے ایرانی ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کو محض ایک “لو ٹیپ” قرار دیا، جس کا مقصد ایران کو وارننگ دینا تھا نہ کہ مکمل جنگ کا آغاز۔

  • مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور وہ کسی بھی وقت کسی بڑے معاہدے (Deal) کی توقع کر رہے ہیں۔

 حالیہ فوجی کشیدگی کی تفصیل

اگرچہ صدر ٹرمپ اسے معمولی قرار دے رہے ہیں، لیکن زمین پر صورتحال کافی کشیدہ رہی:

  • امریکی تباہ کن جہازوں پر حملہ: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین امریکی بحری جہازوں (USS Truxtun, USS Mason, USS Rafael Peralta) پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔

  • امریکی دفاع: پینٹاگون کے مطابق تمام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور امریکی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

  • جوابی کارروائی: امریکی سینٹ کام (CENTCOM) نے جوابی کارروائی میں ان ایرانی مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ میزائل داغے گئے تھے۔

 ٹرمپ کی سخت وارننگ

جنگ بندی برقرار رکھنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی بھی دی:

“اگر یہ سیز فائر ختم ہوا تو آپ کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، آپ کو صرف ایران کی طرف سے اٹھتا ہوا ایک بہت بڑا شعلہ (Glow) نظر آئے گا۔”

سندھ حکومت کا کراچی کیلئے مزید نئی ای وی اور ڈبل ڈیکر بسیں لانے کا اعلان

کراچی: وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل میمن نے کراچی کے لیے مزید  ای وی اور ڈبل ڈیکر بسیں لانے کا اعلان کردیا۔

  شرجیل میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سلیم اللہ اوڈھو سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پیپلز بس سروس کے نئے روٹس، پنک ای وی اسکوٹیز کی تقسیم، ای وی ٹیکسی سروس اور ماس ٹرانزٹ کے جاری و مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

 

اس موقع پر شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کے لیے مزید ایک ہزار  پنک ای وی اسکوٹیز خریدے گی جب کہ کراچی کیلئے نئی ای وی اور ڈبل ڈیکر بسیں لارہے ہیں۔

سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں ماس ٹرانزٹ نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے انٹر سٹی پیپلز بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت خیرپور تا روہڑی اور خیرپور تا رانی پور نئے روٹس آئندہ ہفتے شروع کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  بہت جلد لاڑکانہ، دادو،سیہون، حیدرآباد اور سانگھڑ سمیت مختلف اضلاع میں انٹر سٹی بس سروس بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔

ممبئی میں بریانی کے بعد تربوز کھانے سے پورے خاندان کی موت ، فرانزک رپورٹ میں اہم انکشاف

بھارت میں بریانی کے بعد تربوز کھانے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی موت کی اصل وجہ سامنے آ گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ ممبئی میں عبداللہ عبدالقادر ، اس کی بیوی نسرین، بیٹی عائشہ اور زینب نے رشتے داروں کے ہمراہ بریانی کھائی۔ بعد ازاں رات ایک بجے تربوز کھایا جس کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کی طبیعت بگڑ گئی۔

صبح 5 کے قریب ان لوگوں کو شدید قے شروع ہو گئی، انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں چاروں دوران علاج چل بسے۔

 

ابتدائی طور پر اسے موت کی وجہ فوڈ پوائزننگ قرار دیا جا رہا تھا تاہم فرانزک رپورٹ سے تصدیق ہوئی ہے کہ ایک خاندان کے 4 افراد کی موت تربوز کھانے سے ہونے والی فوڈ پوائزننگ کے باعث نہیں بلکہ چوہوں کو مارنے والے زہر سے ہوئی۔

فرانزک رپورٹ میں لاشوں اور اس تربوز کے نمونوں میں ایک زہریلا مادہ ملا ہے جو چوہے مارنے کیلیے استعمال ہوتا ہے۔

 

کیس میں یہ انکشاف ان کے پوسٹ مارٹم کے چند دن بعد سامنے آیا، جن میں اندرونی اعضاء میں سبز رنگت پائی گئی تھی، جو زہر خورانی کی علامت ہوتی ہے۔

تفتیش کار اب اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا یہ زہریلا مادہ حادثاتی طور پر تربوز میں شامل ہوا تھا یا اسے جان بوجھ کر ڈالا کیا گیا تھا۔

پنجاب سے گندمی کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی ، خیبر پختونخوا میں آٹا مزید مہنگا ہو گیا

پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹا ایک بار پھر مہنگا ہو گیا۔

ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2200 روپے سے بڑھ کر 2400 روپے ہو گئی ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب سے آٹے اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے سے ملز کو مہنگے داموں گندم خریدنا پڑ رہی ہے جس سے مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے ہو رہا ہے۔

 

خیبر پختونخوا کی فلور ملز انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار پنجاب سے آنیوالی گندم پر ہے، صوبے میں سالانہ 12 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہوتی ہے جبکہ مجموعی ضرورت 52 لاکھ ٹن ہے، 40 لاکھ ٹن کا شارٹ فال پنجاب سے گندم اور آٹا خرید کر پورا کیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق اور پنجاب حکومت کو خطوط لکھ کر پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قطر سے سستی گیس ملنے کی امید، پاکستان نے ایل این جی کی سب سے کم عالمی بولیاں مسترد کردیں

اسلام آباد: قطر سے سستی گیس ملنے کی امید  پر پاکستان نے ایل این جی کی سب سے کم عالمی بولیاں مسترد کر دیں۔

 پاکستان دو کارگوز  ’’ٹرم کنٹریکٹ‘‘ کی شرح پر حاصل کر سکتا ہے جو برینٹ خام تیل کی قیمتوں کے 13.37 فیصد کے برابر ہے۔

پاکستان نے جمعرات کے روز ایل این جی کے 2 اسپاٹ کارگوز کے لیے موصول ہونے والی سب سے کم بولیوں کو منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، باوجود اس کے کہ بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے کافی مسابقتی پیشکشیں موصول ہوئی تھیں۔

 

 

 اس فیصلے کے پیچھے یہ اشارے ملے ہیں کہ پاکستان  ان کے بجائے قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت نمایاں طور پر کم قیمتوں پر ایل این جی کی فراہمی حاصل کر سکتا ہے۔

 اس سلسلے میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے سب سے کم بولی دینے والے 2 اداروں یعنی بی پی سنگاپور اور ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ کو مطلع کردیا ہے کہ ان کی پیشکشیں قبول نہیں کی گئیں۔

اس پیش رفت سے واقف حکام کے مطابق یہ فیصلہ قطر کی جانب سے ملنے والے ان مثبت اشاروں سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے جن میں ایل این جی کے 2کارگوز کی دستیابی کا بتایا گیا ہے، جنہیں آبنائے ہرمز کے راستے لایا جا سکتا ہے۔

قطر کی خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف

قطر کے وزیر اعظم نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

وزیراعظم شہبازشریف اور قطری وزیر اعظم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام امیرقطرکے جلد دورہ پاکستان کے منتظرہیں۔

دوسری جانب قطری وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ قطر مشرق وسطیٰ میں امن سلامتی اور استحکام کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

نظام شمسی کے اختتام پر موجود فلکیاتی جسم کا زمین جیسا ماحول دریافت

نظامِ شمسی کے انتہائی سرد اور پراسرار بیرونی حصے میں ایک غیرمعمولی دریافت نے فلکیات کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے نیپچون سے بھی آگے موجود ایک برفانی جسم پر ایسی فضا کے شواہد دریافت کیے ہیں جو اب تک صرف پلوٹو جیسے بڑے اجسام تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ اس حیران کن انکشاف نے نظامِ شمسی کے آخری کناروں سے متعلق کئی پرانے تصورات بدل دیے ہیں۔

سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع تحقیق کے مطابق (612533) 2002 XV93 نامی یہ خلائی جسم کوائپر بیلٹ میں واقع ہے اور اسے ٹرانس نیپچونین آبجیکٹ قرار دیا جاتا ہے۔ تقریباً 500 کلومیٹر قطر رکھنے والا یہ جسم حجم میں پلوٹو سے کہیں چھوٹا ہے، مگر اس کے گرد موجود نہایت باریک فضا نے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق اتنے چھوٹے اور شدید سرد ماحول والے جسم پر فضا کا برقرار رہنا غیر متوقع ہے، کیونکہ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ایسی خصوصیت صرف نسبتاً بڑے اجسام میں ممکن ہے۔ ماہر فلکیات کواریماٹسو کے مطابق یہ دریافت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی نظامِ شمسی کے برفانی اجسام پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

 

سائنسدانوں نے اس فضا کی ممکنہ وجوہات میں دو امکانات پیش کیے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ جسم کے اندرونی حصے سے گیسوں کا اخراج ہو رہا ہے، ممکنہ طور پر برفانی آتش فشانی عمل کے ذریعے، جبکہ دوسرا امکان کسی خلائی تصادم کے نتیجے میں عارضی گیسوں کے اخراج کا ہے۔ اگر فضا مستقل رہی تو یہ اندرونی سرگرمی کا مضبوط ثبوت ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے جاپانی زمینی دوربینوں کی مدد سے ایک خاص تکنیک استعمال کی گئی، جس میں اس جسم کو ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ستارے کی روشنی میں تبدیلیوں کے ذریعے اس کے گرد موجود ماحول کا اندازہ لگایا گیا۔

یہ برفانی دنیا سورج سے تقریباً 5.5 ارب کلومیٹر دور واقع ہے اور ایک مدار مکمل کرنے میں اسے 247 سال لگتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جسم نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل کے دور کا باقی ماندہ حصہ ہے، جس کی ساخت میں برف، چٹانیں اور نامیاتی مادے شامل ہو سکتے ہیں۔

اس نئی دریافت نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کائنات کے دور افتادہ گوشوں میں کتنے ایسے راز پوشیدہ ہیں جو ہماری موجودہ سائنسی سمجھ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ خاموش برفانی دنیا میں فضا کی یہ موجودگی دراصل فلکیات کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

سرکاری محکمے میں بھرتیوں کا آغاز، تنخواہ ڈیڑھ لاکھ اور پرکشش مراعات

(8 مئی 2026): بجلی تقسیم کار کمپنی میں جونیئرز انجینئر کی بھرتیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے تنخواہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ اور پرکشش مراعات ملیں گی۔

بجلی تقسیم کار کمپنی پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) میں جونیئر انجینئرز کی کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جو کی اوپن کوٹے پر بھرتیاں کی جائیں گی۔

اس حوالے سے پیسکو کے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ جونیئر انجینئرز کو ماہانہ ایک لاکھ 48 ہزار 371 روپے پیکیج دیا جائے گا۔ تقرری کا ابتدائی دورانیہ ایک سال تاہم کارکردگی کی بنیاد پر توسیع ممکن ہے۔

ملازمت حاصل کرنے والوں کے لیے پیسکو میں کم از کم دو سال سروس انجام دینے کی شرط عائد ہو گی۔ جونیئر انجینئرز سے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کو پنشن کی سہولت نہیں ملے گی، اہم وہ گریجویٹی اور پیسکو پالیسی کے مطابق مراعات کے حق دار ہوں گے۔

جونیئر انجینئرز کو سالانہ 25 دن چھٹی کی سہولت ہو گی، انہیں ٹریولنگ الاؤنس پیسکو قواعد کے مطابق دیا جائے گا۔ انہیں ادارے کی ضرورت کے مابق کسی جگہ بھی تعینات کیا جا سکے گا، تاہم کنٹریکٹ ملازمین کو سنیارٹی لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن میں بد عنوانی یا غفلت کی صورت میں فوری برطرفی کی شق بھی شامل ہے، جب کہ ایک ماہ کے نوٹس یا تنخواہ کے عوض کنٹریکٹ کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان بڑی تجارتی پیشرفت؛ اربوں ڈالر کے معاہدے متوقع

پاکستان اور چین کے درمیان بڑی تجارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالرز مالیت کے معاہدے متوقع ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سی پیک کی کامیابی کے لیے چین کا 52 رکنی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پہلی بار پاکستان پہنچ گیا ہے۔ یہ ہائی پروفائل چینی وفد 8 سے 14 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا۔

 

تجارتی چینی وفد اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے دوروں کے دوران بی ٹو بی معاہدے کرے گا۔ پاک چائنا بزنس کونسل کے مطابق چینی وفد ای کامرس، ٹیلی کام، سولر اور انرجی سیکٹر میں اہم معاہدے کرے گا۔

علاوہ ازیں آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکنامی پروگرام کے ذریعے وفد انجینئرنگ، کیمیکل، ٹیکسٹائل اور بلڈنگ مٹیریل کے اہم معاہدے بھی کرے گا۔ اسی طرح کراچی میں اعلیٰ سطحی چینی وفد سے الیکٹرک وہیکل، میڈیکل اور صنعتی آلات کے اہم معاہدے بھی ہوں گے۔

 

اس دورے کے دوران پاک چین سی پیک منصوبوں کے تحت مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت  کے معاہدے متوقع ہیں۔

وفد کے دورے کے دوران فیڈریشن چیمبر آف کامرس سمیت کراچی، لاہور اور اسلام آباد چیمبرز کی ملاقاتیں طے پا گئی ہیں۔ کراچی میں چینی وفد سے اہم ملاقات کے دوران جی ٹو جی معاہدے بھی متوقع ہیں۔

اس سلسلے میں دونوں ممالک نے تجارت، ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی اشتراک کے لیے مشترکہ اکنامی ہیڈکوارٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔