(4 مئی 2026): سماجی رابطوں کے لیے سب سے مشہور ایپ واٹس ایپ کا آنے والا ڈیزائن سب کو حیران کر دے گا۔
سوشل میڈیا کی دنیا میں واٹس ایپ سماجی رابطوں کے لیے اپنے آسان استعمال کے باعث سب سے مقبول ایپ مانی جاتی ہے۔ اب اس ایپ کو نئے ڈیزائن میں دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایپل کمپنی نے اپنے حالیہ iOS کے ساتھ مائع گلاس ڈیزائن کی زبان میں اس کا استعمال شروع کیا ہے اور صارفین کو مرکزی چیٹ اسکرین کے ساتھ ساتھ چھوٹے UI عناصر کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی اطلاع دینا شروع کر دی ہے۔
تاہم، WABetaInfo کی ایک نئی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ واٹس ایپ ایک نئے ڈیزائن کردہ ان چیٹ انٹرفیس کو جاری کرنے کے لیے تقریباً تیار ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں بیٹا صارفین کے لیے بھی دستیاب نہیں ہیں، لیکن WABetaInfo نئے انٹرفیس کو چالو کرنے میں کامیاب ہوگیا جس میں اب ایک فلوٹنگ چیٹ بار اور ایک شفاف نیویگیشن بار شامل ہے۔
اگرچہ، ایسا لگتا ہے کہ میٹا نئے ڈیزائن کی ریلیز کے لیے بہت پر سکون انداز اختیار کر رہا ہے۔ بہت سے صارفین کو ابھی تک دوبارہ ڈیزائن کردہ UI عناصر موصول نہیں ہوئے ہیں، لہذا غالب امکان ہے کہ اس ڈیزائن کو دیکھنے میں اور بھی زیادہ وقت لگے گا۔
واضح رہے کہ سال 2025 کے آخری ایام میں میٹا نے واٹس ایپ کے بیٹا ورژن میں مستقبل میں آنے والے ڈیزائن میں تبدیلی کا اشارہ دیا تھا۔
اسلام آباد : حکومت نے روزگار کیلئے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کے تحفظ اور قانونی معاملات کی پیچیدگیوں سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کو محتاط رہنے اور مکمل قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بیرونِ ملک روزگار کے حصول کیلئے صرف لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسی سے رجوع کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ملازمت کی مکمل تصدیق بھی لازمی ہے۔
بیورو (بی ای او ای) کے مطابق بیرونِ ملک جانے والے افراد کیلئے پروٹیکٹر آف امیگرنٹس کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن نمبر ’پی ٹی این‘ حاصل کرنا لازمی ہے۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی این کے بغیر کسی بھی شخص کو قانونی طور پر ملازمت شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ روانگی سے قبل بیورو کی سرکاری ویب سائٹ (www.beoe.gov.pk) پر جا کر اپنی ملازمت کی تفصیلات، تنخواہ، معاہدہ اور دیگر شرائط کی تصدیق ضرور کریں۔ اس مقصد کیلئے آن لائن پورٹل پر پی ٹی این درج کرکے معلومات کی جانچ کی جا سکتی ہے۔
بیورو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملازمت کی تصدیق نہ ہوسکے تو فوری طور پر متعلقہ ریکروٹنگ ایجنسی کے خلاف شکایت درج کرائی جائے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے شہری دھوکہ دہی اور غیرقانونی سرگرمیوں سے خود کو محفوظ بناسکتے ہیں۔
کراچی: انجمن اساتذہ جامعہ کراچی سمسٹر امتحانات کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے۔
انجمن اساتذہ نے جامعہ کراچی میں 5 مئی سے شروع ہونے والے سمسٹر امتحانات بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔
انجمن اساتذہ نے مطالبات کی منظوری تک ہزاروں طلبا کے سمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی گئی ہے۔
انجمن اساتذہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ بینوویلیٹ فنڈ کی مد میں اس وقت 3 کروڑ 83 لاکھ روپے موجود ہیں۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ کی جنرل باڈی کا اجلاس 7 مئی صبح 10 بجے طلب کیا گیا ہے، اس کے علاوہ جامعہ کی صورتحال پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر مالیاتی احتساب کی درخواست کی جائے گی۔
دوسری جانب طلبہ تنظیموں نے انجمن اساتذہ کے مؤقف کی حمایت کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔
یاد رہے کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی ماضی میں بھی اس نوعیت کے اقدامات کرچکی ہے۔
اسلام آباد : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بجٹ کے بعد شناختی کارڈز اور بچوں کے بے فارم کی اضافی فیس اور جرمانے کا امکان ظاہر کردیا۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے زائد المیعاد قومی شناختی کارڈز کی تجدید اور بچوں کے بی فارم کے اندراج کا عمل 30 جون 2026 تک مکمل کر لیں۔
اتھارٹی نے اشارہ دیا ہے کہ نئے مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد ان سروسز پر اضافی فیسیں یا جرمانے عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
نادرا کی شہریوں کو ہدایاتنادرا کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی مالی بوجھ سے بچنے کے لیے بروقت نادرا دفاتر سے رجوع کریں۔
بیان میں خاص طور پر والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ:جن بچوں کے ابھی تک بی فارم نہیں بنے، ان کی رجسٹریشن فوری کرائی جائے۔جن بچوں کی عمر اسمارٹ آئی ڈی کارڈ کے لیے ہو چکی ہے، ان کے بی فارم کو بروقت کارڈ میں تبدیل کروایا جائے۔
نادرا نے اشارہ دیا ہے کہ نئے مالیاتی بجٹ کے بعد فیسوں کے ڈھانچے پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بروقت رجسٹریشن نہ کرانے والے شہریوں پر ممکنہ جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، لہٰذا، کسی بھی قسم کی اضافی فیس یا قانونی پیچیدگی سے بچنے کے لیے شہری جون کے اختتام سے پہلے اپنی اور اپنے بچوں کی دستاویزات مکمل کر لیں۔
پاکستان بزنس فورم نے وزارت خزانہ کو 2026-2027 کے لیے بجٹ تجاویز بھجوا دیں جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں گروتھ کی طرف کا سمت تعین کیا جائے۔
صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب کا کہنا ہے کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، بجٹ میں سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے، سپرٹیکس عارضی طور پر لگایا گیا تھا لیکن اسے مستقل حصہ بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کیے جائیں، کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے تاکہ بزنس کمیونٹی کو ریلیف مل سکے۔
صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار روپے فکس ٹیکس مقرر کیا جائے، فکس ٹیکس دینے کے بعد تاجر سے پھر کوئی سوال نہ پوچھا جائے، فکس ٹیکس کو بجلی بل میں شامل کیا جائے تاکہ حکومت اور تاجروں دونوں کو آسانی ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لیےمقامی کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، کچھ سال سےسیلز ٹیکس لگنے سےمقامی کپاس کی پیداوار 40سال کی کم سطح پر آگئی۔
خواجہ محبوب کا کہنا تھا پاکستان بزنس فورم مطالبہ کرتی ہے کہ گرین پاکستان انیشیٹیوکے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے 7 سال ٹیکس چھوٹ دی جائے، تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری واپس لانے کے لیے سیکشن 7 ایکو ختم کیا جائے، اسی طرح سیکش 8 اور 8 بی میں بھی ترمیم کی جائے۔۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بجٹ میں ریوینیو جنریشن سوچ کو مسترد کیا جائے گا، نان فائلرز کو تین سے زیادہ گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ ہو، انڈر انوائسنگ کو روکنے کے لیے بجٹ میں اقدامات ناگزیر ہیں، رہائشی سوسائٹیز کمپنیوں کو پبلک لمیٹڈ منتقلی پر لایا جائے تاکہ عوام کی سرمایہ کاری محفوظ رہ سکے۔
متحدہ عرب امارات کے مشرقی حصے امارتِ فجیرہ میں واقع ایک اہم پیٹرولیم صنعتی سائٹ پر ڈرون حملے کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے، جس کی تصدیق مقامی میڈیا آفس اور حکام کی جانب سے کی گئی ہے۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں جب کہ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ صورتِ حال کے پیشِ نظر یو اے ای نے اپنی فضائی حدود بھی عارضی طور پر بند کر دی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے امارت فجیرہ میں واقع پیٹرولیم صنعتی سائٹ پر ایک بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے واقعے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بارے میں مقامی میڈیا آفس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے کے بعد پیش آیا۔
فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق صنعتی علاقے میں اچانک بڑی آگ بھڑک اٹھی، جس پر ایمرجنسی سروسز فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب کچھ ہی دیر قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائلوں میں سے تین کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا اور ایک سمندر میں جا گرا تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں تین بھارتی شہری بھی زخمی ہوئے جنھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ صورتِ حال کی سنگینی کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تاکہ فضائی آپریشنز کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
’سی این این‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بیان میں ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی تہران پر ہی ہوگی۔
قبل ازیں، الجزیرہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی ایک نیا میزائل الرٹ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل خطرے کا جواب دے رہا ہے۔
امارتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال حساس ہے اور مزید معلومات ملنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا، جب کہ سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں واقعات کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی طور پر انہیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ادھر، یو اے ای کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کا فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل حملوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازیں دراصل بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کے دوران پیدا ہو رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی کوریا کی کارگو کمپنی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمزمیں جنوبی کوریا کے کارگو بحری جہاز میں آگ لگ گئی، متعلقہ بحری جہاز اماراتی شہر شارجہ سے تقریباً 70 کلو میٹر شمال مغرب میں لنگر انداز ہے، آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فجیرہ، جو آبنائے ہرمز کے قریب ایک اہم توانائی اور آئل ٹرانزٹ مرکز ہے، اس نوعیت کے واقعات سے عالمی توانائی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کراچی: آٹے کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے نے عوام کی چیخیں نکلوا دی. ایک ہفتے کے دوران مختلف شہروں میں 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 200 روپے تک اضافہ ریکارڈ ہوا۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف شہروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ لاہور، حیدرآباد اور لاڑکانہ میں آٹے کی قیمت میں سب سے زیادہ یعنی 200 روپے تک کا اضافہ ہوا۔
لاہور میں 20 کلو تھیلے کی قیمت 1810 روپے سے بڑھ کر 2 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ جبکہ سرگودھا میں آٹے کا تھیلا 190 روپے اور سکھر میں 160 روپے تک مہنگا ہوا۔
بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں 80 سے 90 روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی میں آٹے کا تھیلا سب سے مہنگا یعنی 2500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں قیمت 2 ہزار 373 روپے ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ پشاور میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2 ہزار 350 روپے تک پہنچ گئی۔
آٹے کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں ایک ہی ہفتے کے دوران اتنا بڑا اضافہ حکومتی کنٹرول اور پرائس چیکنگ میکانزم پر سوالیہ نشان ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے پیر کو کہا کہ امریکی بحریہ کا کوئی بحری جہاز نشانہ نہیں بنا۔ قبل ازیں ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی جنگی جہاز کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا۔
ایران کی بحریہ نے کہا کہ اس نے “تیز اور فیصلہ کن انتباہ” جاری کرتے ہوئے “امریکی صیہونی” جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز کے علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ آبنائے کے جنوبی داخلی راستے پر جاسک بندرگاہ کے قریب جنگی بحری جہاز پر دو میزائل گرے جہاں ایرانی بحریہ کا فوجی مرکز ہے لیکن ایک سینیئر امریکی اہلکار نے فوراً اس اطلاع کی تردید کی، میڈیا ادارے ایکزیاس کے بارک راوید نے کہا۔
رائٹرز آزادانہ طور پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث خلیج میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی “رہنمائی” کرے گا۔ اس کے بعد ایران نے پیر کے روز امریکی افواج کو تزویری اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ کی تھی۔
ٹرمپ نے بحری جہازوں اور ان کے عملے کی مدد کرنے کے منصوبے کی بعض تفصیلات بتائیں جو اہم آبی گذرگاہ تک محدود ہیں اور تنازعہ کے دو ماہ سے زیادہ عرصے سے خوراک اور دیگر سامان کی قلت کا شکار ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو اپنی ٹروتھ سوشل سائٹ پر ایک پوسٹ میں کہا، “ہم نے ان ممالک کو بتا دیا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو ان محدود آبی گذرگاہوں سے بحفاظت نکلنے کے لیے رہنمائی کریں گے تاکہ وہ آزادانہ طور پر سفر اور کام جاری رکھ سکیں۔”
اس کے جواب میں ایران کی متحد کمان نے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز سے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کریں جس کے بارے میں ایران کی فوج سے ہم آہنگی نہ ہو۔
“ہم نے بارہا کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت ہمارے ہاتھ میں ہے اور بحری جہازوں کے محفوظ راستے کو مسلح افواج کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے،” فورسز کی متحدہ کمان کے سربراہ علی عبداللٰہی نے بیان میں کہا۔
نیز کہا، “ہم خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی غیر ملکی مسلح افواج خاص طور پر جارح امریکی فوج اگر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔”
امریکی مرکزی کمان جو تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، نے کہا کہ وہ 15,000 فوجی اہلکاروں اور 100 سے زیادہ برّی اور بحری طیاروں کے علاوہ جنگی جہازوں اور ڈرونز کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مدد کرے گی۔
سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا، “علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے اس دفاعی مشن میں ہماری حمایت ضروری ہے کیونکہ ہم بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔”
اسلام آباد، انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد روپے کی قدر میں جزوی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیزایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق کاروباری دن کے دوران ڈالر 2 پیسے سستا ہو گیا، ڈالر اس وقت 278 روپے 75 پیسے کی سطح پرٹریڈ ہو رہا ہے جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہرکرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں یہ کمی عارضی نوعیت کی ہو سکتی ہے اور اس کا دارومدار ملکی معاشی صورتحال، زرمبادلہ کے ذخائراوردرآمدی دباؤ پر ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سرمایہ کار اور تاجر ڈالرکی آئندہ سمت کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ماہرین کے مطابق اگر معاشی اشاریے بہتر ہوتے ہیں تو روپے کو مزید استحکام مل سکتا ہے۔