واشنگٹن: امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی کے محققین نے منفرد ڈیزائن اور خودکار صلاحیتوں کے ساتھ مکڑی کی طرز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والا روبوٹ متعارف کرایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ روبوٹ روایتی مشینوں سے مختلف ہے، کیونکہ اسے ماڈیولر ساخت پر تیار کیا گیا ہے، جس میں ہر یونٹ خود مختار حیثیت رکھتا ہے اور اپنے اندر توانائی، پروسیسنگ اور حرکت کے لیے ضروری اجزاء شامل کرتا ہے۔
ان ماڈیولز کو آپس میں جوڑ کر مختلف ساختیں تشکیل دی جا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں روبوٹ اپنی شکل اور حرکت کو ماحول کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ نظام نہ صرف خود کو مختلف ترتیبوں میں ڈھال سکتا ہے بلکہ پیچیدہ اور غیر ہموار سطحوں پر بھی مؤثر انداز میں حرکت کرنے کے قابل ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اگر کسی ایک حصے کو نقصان پہنچ جائے تو باقی نظام فعال رہتا ہے، جس سے مجموعی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی۔

تحقیق کے مطابق یہ روبوٹ ریت، گھاس اور دشوار گزار خطوں سمیت مختلف اقسام کے ماحول میں توازن برقرار رکھتے ہوئے حرکت کر سکتا ہے۔ اس کی خودکار ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت اسے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوری طور پر خود کو ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے روبوٹس مستقبل میں مختلف شعبوں، خصوصاً ریسکیو آپریشنز، خطرناک ماحول میں کام اور انسانی معاونت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی خودمختار ساخت اور نقصانات کے باوجود فعال رہنے کی صلاحیت انہیں اگلی نسل کی روبوٹک ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم قدم بناتی ہے۔


















