All posts by Khabrain News

بوفے کے بچے ہوئے کھانے کا کیا کِیا جاتا ہے؟

باہر کھانے کا تجربہ اکثر خوشی اور آسائش کا احساس دیتا ہے، خاص طور پر جب بات بوفے کی ہو جہاں رنگا رنگ کھانے اور بے شمار انتخاب انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مگر اس چمک دمک کے پیچھے ایک سوال خاموشی سے ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی اتنا ہی تازہ ہوتا ہے جتنا نظر آتا ہے؟

اسی سوال پر معروف شیف سنجیو کپور نے حال ہی میں ایک گفتگو میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے پوڈکاسٹ میں اس عام تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی کہ ہوٹلوں میں بوفے کا بچا ہوا کھانا اگلے دن پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت اس سے کچھ مختلف اور شاید زیادہ سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوٹلوں میں بھی بچا ہوا کھانا اسی طرح سنبھالا جاتا ہے جیسے ایک عام گھر میں ہوتا ہے۔

ان کا مؤقف یہ تھا کہ فرق صرف تربیت اور طریقہ کار کا ہے۔ ہوٹلوں میں اس کام کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور بہتر نظام موجود ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ کھانے کو کیسے محفوظ رکھنا ہے اور کب اسے استعمال کے قابل نہیں سمجھنا اور کتنی مقدار میں بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل غیر ضروری طور پر زیادہ کھانا تیار نہیں کرتے، جبکہ گھروں میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پک جاتا ہے اور پھر ضائع ہو جاتا ہے۔

شیف نے واضح کیا کہ جو کھانا غیر محفوظ یا استعمال کے قابل نہیں رہتا، اسے گھروں کی طرح ہوٹلوں میں بھی ضائع کر دیا جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ کچن فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے پابند ہوتے ہیں۔

یہ بات سننے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم نظر آئی۔ کچھ لوگوں نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا صارفین کو ہر بات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کیا واقعی معیار ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اچھے ہوٹل اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خطرہ مول نہیں لیتے اور معیار کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے جدید طریقوں کی طرف بھی اشارہ کیا، جیسے فروزن فوڈز کا استعمال، جس سے بچا ہوا کھانا کم ضائع ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ تجربات ایسے بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ بڑے ہوٹلوں میں خاصی مقدار میں کھانا ضائع ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جاتا۔

شیف سنجیو کپور کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہوٹل انڈسٹری میں کھانے کے انتظام کے لیے بہتر تکنیکی مہارت استعمال کی جاتی ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہاں ہمیشہ باسی یا غیر معیاری کھانا دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ: میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل

لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ  میشا شفیع کی اپیل پر  50 لاکھ ہرجانے  کی رقم گلوکار  علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے  50 لاکھ ہرجانے کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے  ہرجانے کی رقم علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ہرجانے کی آدھی نقد رقم میشا شفیع کو  عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت جاری کی۔

عدالت کی جانب سے ہرجانے کی باقی آدھی رقم کی شورٹی عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

 

عدالت نےمیشا شفیع کی اپیل پرعلی ظفر کو نوٹس جاری کرکے جواب  بھی طلب کرلیا ۔

دوسری جانب عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی ٹرائل کورٹ کا مکمل فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد  کردی۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کودوبارہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے سے روکا ہے، ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو معطل نہیں کرسکتے ،کسی کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ۔

یاد رہے کہ سیشن کورٹ لاہور نےگلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے  گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانےکا حکم دیا تھا۔

علی ظفر نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے پر میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانےکا دعویٰ دائر کیا تھا۔

فٹبال ورلڈکپ 2026 جیتنے والی ٹیم کو کتنی انعامی رقم دی جائے گی؟

فٹبال ورلڈکپ دنیا میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اور تمام براعظموں سے تعلق رکھنے والے ممالک اس کا حصہ بننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

11 جون 2026 سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور ارجنٹینا کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔

یعنی ٹیموں کے لحاظ سے یہ اب تک کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، اس سے قبل 2022 میں 32 ٹیموں نے شرکت کی تھی۔

اس سال کے ورلڈ کپ میں اردن، ازبکستان، کیپ وردے اور Curacao کی ٹیمیں اس ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار شرکت کر رہی ہیں۔

ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟

ٹیموں کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ انعامی رقم کے لحاظ سے بھی یہ اب تک کا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔

اس بار ایونٹ کے لیے فیفا نے 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کی رقم مختص کی ہے جو کہ گزشتہ ایونٹ کے مقابلے میں لگ بھگ دوگنی زیادہ ہے۔

ایونٹ کی تیاری کے لیے ہر ٹیم کو 25 لاکھ جبکہ کوالیفائی کرنے پر ایک کروڑ ڈالرز ملیں گے، 2022 میں تیاریوں کے لیے 15 لاکھ اور کوالیفائی کرنے پر 90 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے۔

یعنی محض کوالیفائی کرنے پر ہی ہر ٹیم کو ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم مل جائے گی جبکہ مزید رقم ان کی کارکردگی کے مطابق دی جائے گی۔

اس ایونٹ کے فاتح کو 5 کروڑ 35 لاکھ ڈالرز دیے جائیں گے جبکہ 2022 کی فاتح ٹیم ارجنٹینا کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے جبکہ 2026 کی رنراپ ٹیم 3 65 لاکھ کروڑ ڈالرز کی حقدار ہوگی جبکہ 2022 میں رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ ڈالرز دیے گئے تھے۔

تیسری پوزیشن پر رہنے والی ٹیم کے حصے میں 3 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز آئیں گے جبکہ چوتھے نمبر کی ٹیم 3 کروڑ 5 لاکھ ڈالرز جیت لے گی۔

5 سے 8 ویں پوزیشن پر رہنے والی ہر ٹیم کو 2 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز دیے جائیں گے۔

9 سے 16 ویں نمبر پر رہنے والی ہر ٹیم کے حصے میں ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالرز آئیں گے۔

17 سے 32 ویں پوزیشن پر رہنے والی ہر ٹیم کو ایک کروڑ 45 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔

33 سے 48 ویں نمبر پر رہنے والی ہر ٹیم ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالرز کی حقدار ہوگی جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔

اس ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جبکہ 2022 کے ایونٹ میں 64 میچز ہوئے تھے۔

میٹ گالا کی نحوست: یہ کیا ہے اور ہالی ووڈ ستارے اس سے ڈرتے کیوں ہیں؟

جیسے جیسے ’میٹ گالا 2026‘ کی گھڑیاں قریب آ رہی ہیں، فیشن کی دنیا میں ملبوسات کے ساتھ ساتھ ایک پرانی اور پراسرار بحث نے دوبارہ جنم لے لیا ہے، جسے انٹرنیٹ کی زبان میں ’میٹ گالا کرس‘ یعنی میٹ گالا کی نحوست کہا جاتا ہے۔

اگرچہ بظاہر یہ محض ایک وہم معلوم ہوتا ہے، لیکن ماضی کے کئی واقعات اس لوک داستان کو تقویت دیتے نظر آتے ہیں۔

فیشن کی دنیا کے سب سے بڑے اور باوقار ایونٹ ”میٹ گالا“ کے بارے میں یہ تصور کوئی نیا نہیں، مگر ہر سال ایونٹ کے قریب آتے ہی اس پر گفتگو تیز ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ان مشہور جوڑوں کے حوالے سے جو اس ریڈ کارپٹ پر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

اس مبینہ ”کرس“ کے مطابق، اگر کوئی مشہور جوڑا میٹ گالا میں ایک ساتھ ڈیبیو کرے یا ریڈ کارپٹ پر اپنی محبت کا اظہار کرے، تو اکثر ان کا رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر کسی کی ملاقات بھی اسی تقریب یا اس کے بعد ہونے والی پارٹی میں ہو، تو وہ تعلق بھی زیادہ دیر نہیں چلتا۔

اگرچہ اس نظریے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں، لیکن کئی ہائی پروفائل بریک اپس نے اس کہانی کو مزید تقویت دی ہے۔

2016 میں ماڈل بیلا حدید اور گلوکار ایبل ٹیسفائے (دی ویکنڈ) نے میٹ گالا میں ایک ساتھ شرکت کی، جس کے کچھ عرصے بعد ہی ان کا بریک اپ ہوگیا۔ بعد ازاں ان کا تعلق آن اینڈ آف رہا اور بالآخر 2019 میں ختم ہوگیا۔

اسی کے اگلے سال دی ویکنڈ نے سیلینا گومز کے ساتھ میٹ گالا میں شرکت کی۔ اس جوڑے کی کیمسٹری نے مداحوں کو خوب محظوظ کیا، مگر یہ رشتہ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

2018 میں ہیلی بیبر اور شان مینڈیز نے میٹ گالا میں ایک ساتھ واک کیا، اگرچہ ان کے تعلق کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی تھی، لیکن کچھ ہی عرصے بعد دونوں الگ ہوگئے۔

اسی سال ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور گلوکارہ گریمز نے بھی میٹ گالا میں ایک ساتھ ڈیبیو کیا۔ ان کا تعلق کئی سال تک اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، مگر تین بچوں کی پیدائش اور طویل رفاقت کے بعد 2021-22 کے دوران ان کے راستے جدا ہوگئے۔

2022 میں کم کارڈیشین اور پیٹ ڈیوڈسن بطور جوڑا میٹ گالا میں شریک ہوئے، لیکن چند ہی ماہ بعد ان کا رشتہ ختم ہوگیا۔

حالیہ مثالوں میں 2024 کا جوڑا سبرینا کارپینٹر اور بیری کیوگھن بھی شامل ہیں، جنہوں نے اسی ایونٹ میں اپنے تعلق کو عوامی بنایا، مگر جلد ہی علیحدگی اختیار کرلی۔

اسی طرح ٹیلر سوئفٹ اور ٹام ہڈلسٹن کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی ملاقات میٹ گالا پارٹی میں ہوئی تھی، اور ان کا تعلق بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔

کیا واقعی یہ “کرس” حقیقت ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصور کی تردید بھی موجود ہے۔ کئی طاقتور اور کامیاب جوڑے جیسے پریانکا چوپڑا اور نک جونس، اور ریحانہ اور اے ایس اے پی راکی اس ’کرس‘ کو غلط ثابت کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کے تعلقات مضبوطی سے قائم ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ میٹ گالا کرس محض ایک دلچسپ قیاس آرائی ہے، جسے سوشل میڈیا صارفین اور مداح ہر سال شوق سے زیر بحث لاتے ہیں۔

میٹ گالا 2026 کی تیاریاں عروج پر

اب جبکہ میٹ گالا 2026 میں صرف چند گھنٹے باقی ہیں، فیشن کی دنیا میں جوش و خروش اپنے عروج پر ہے۔ اس سال کا ڈریس کوڈ ”فیشن از آرٹ“ رکھا گیا ہے، جس نے شائقین کے تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے کہ کون سا اسٹار کیا پہن کر جلوہ گر ہوگا۔

تقریب سے قبل ووگ کی پری میٹ گالا پارٹی میں ایشا امبانی کی شرکت بھی خاصی توجہ حاصل کرچکی ہے، جہاں انہوں نے بھارتی ثقافت کی جھلک پیش کی۔

اب نظریں میٹ گالا کے ریڈ کارپٹ پر مرکعز ہیں، جہاں یہ تجسس اپنے عروج پر ہے کہ ستارے اس سال فیشن کے اس بڑے میلے میں کس انداز اور لباس کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے۔

موت کے بعد انسانی جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ سائنس دانوں کے حیران کن انکشافات

انسانی موت کو عموماً ایک اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس ہمیں ایک بالکل مختلف اور حیرت انگیز زاویہ فراہم کرتی ہے۔ مشہور ماہرِ فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق، موت کے بعد انسانی جسم حقیقت میں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنی حالت تبدیل کر کے کائنات کے لامتناہی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ محض ایک حیاتیاتی انجام نہیں، بلکہ توانائی کی منتقلی کا ایک عظیم الشان عمل ہے۔

اسی تناظر میں، مشہور امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ’ کی ایک حالیہ رپورٹ نے موت کے بعد انسانی وجود کے حوالے سے ایک نئی سائنسی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹائسن کا ماننا ہے کہ موت درحقیقت کسی ’غائب‘ ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مادے کی وہ تبدیلی ہے جو کائنات کے مستقل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے اس نظریے نے لاکھوں قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارا وجود اس کائنات میں کتنا گہرا اور غیر فانی ہے، جہاں ہم فنا ہونے کے بجائے صرف اپنی شکل بدل کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتے ہیں

انسانی وجود کے اس سفر کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی بھر جس جسم کی آبیاری کی، وہ موت کے بعد بھی بیکار نہیں جاتا۔ نیل ڈی گراس ٹائسن کی وضاحت کے مطابق، جب کسی جسم کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس میں موجود توانائی ضائع ہونے کے بجائے ’ری سائیکلنگ‘ کے عمل سے گزرتی ہے۔
جسم کے مالیکیولز مٹی میں موجود خرد بینی اجسام اور پودوں کے لیے خوراک بن جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہماری حیاتیاتی توانائی زمین کی ہریالی اور نئے جانداروں کی صورت میں دوبارہ زندہ ہو اٹھتی ہے۔

دوسری جانب، احتراق یا جسم کو جلانے کا عمل اس توانائی کو ایک کائناتی وسعت عطا کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران جسم کی ذخیرہ شدہ توانائی حرارت میں تبدیل ہو کر انفراریڈ لہروں کی صورت میں کائنات کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے۔

ٹائسن اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو محض چار سال قبل جلایا گیا ہو، تو اس کے وجود کی لہریں اب تک زمین کے قریب ترین ستارے ’الفا سنٹوری‘ تک پہنچ چکی ہوں گی۔ یہ تصور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد بھی ستاروں کی روشنی اور خلا کی خاموشی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہ سارا عمل دراصل ”تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون“ کی عملی تفسیر ہے، جس کی رو سے مادہ یا توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی، بلکہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے۔

اس تصور میں ایک گہری فکر بھی پوشیدہ ہے۔ ہمارے جسم کے ایٹمز مٹی میں مل کر دوبارہ پودوں کا حصہ بنتے ہیں اور بالآخر خوراک کے ذریعے دوسرے جانداروں کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم مر کر بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کائنات کا مستقل حصہ رہتے ہیں۔

ہماری ہستی مٹتی نہیں، بلکہ وہ زندگی کے ایک لامتناہی اور خوبصورت چکر میں شامل ہو کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتی ہے، یعنی سائنس کے مطابق موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے، جس میں انسان کسی نہ کسی صورت میں کائنات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

میں کبھی بال بوائے تھا، چیمپئن بننے پر بابر اعظم کا جذباتی بیان

پشاور زلمی کے چیمپئن بننے پر بابر اعظم کا جذباتی بیان سامنے آ گیا۔

پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے چیمپئن بننے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا،الحمدللہ، چیمپئنز۔

بابر اعظم نے کہا کہ انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے اور ہر مشکل صورتحال میں پوری ٹیم ایک ساتھ کھڑی رہی۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا،میں کبھی ایک بال بوائے تھا، باؤنڈری پر کھڑا ہو کر خواب دیکھا کرتا تھا۔

انہوں نے نوجوانوں کیلئے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج کوئی بال بوائے یقین کے ساتھ بیٹ اٹھائے تو یہ فتح اس کیلئے معنی رکھتی ہے کیونکہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔

بابر اعظم نے اپنی کامیابی کو فیملی، زلمی مینجمنٹ اور دوستوں کی سپورٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا۔

 

اس سے قبل پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بھرپور محنت کی اور غلطیوں پر قابو پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں قریبی دوستوں، فیملی اور کوچز نے بھرپور ساتھ دیا جس سے انہیں دوبارہ فارم حاصل کرنے میں مدد ملی۔

بابر اعظم نے کہا کہ فارم میں واپسی پر خوشی ہے اور وہ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بطور کپتان وہ ہمیشہ مد مقابل ٹیم کو دیکھ کر حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔

انہوں نے سابق عظیم کرکٹر ظہیر عباس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل دور میں جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے حوصلہ افزائی کی۔

بابر اعظم نے گراؤنڈ اسٹاف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اچھی پچز کی تیاری میں ان کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے والدین اور مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ ان کی حمایت کی۔

میچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی چار وکٹیں گرنے کے بعد دباؤ بڑھ گیا تھا، تاہم ہارڈی اور عبدالصمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو کامیابی دلائی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اس پی ایس ایل میں انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنا نیچرل کھیل کھیلیں گے اور کوچز کی جانب سے ملنے والے فری ہینڈ پر عمل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ تینوں فارمیٹس پر ہے اور ہر کھلاڑی کو ہر فارمیٹ کیلئے تیار رہنا چاہیے۔

آئی ٹی میدان میں بڑی کامیابی، پاکستان نے 70 سے زائد ممالک کو پیچھے چھوڑ کر عالمی برتری حاصل کر لی

پاکستان نے آئی ٹی کے شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 70 سے زائد ممالک کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔

یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقا کی 500 سے زائد بین الاقوامی اکیڈمیز کے درمیان پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا۔

ایس سی او سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میرپور اور سیسکو اکیڈمی نے دنیامیں پاکستان کا نام روشن کر دیا، کامیابی میں ان کا اہم کردار رہا،انہوں نے نے نوجوانوں کو عالمی معیار کی آئی ٹی مہارت فراہم کی۔

رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قائم 100 سے زائد آئی ٹی سیٹ اپس نے اس عالمی برتری میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دنیا بھر میں بلند ہوا۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا ثبوت ہے بلکہ نوجوانوں کیلئے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ایس سی او اور سیسکو اکیڈمی کی مشترکہ کاوشوں نے ملک میں آئی ٹی کے شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی جبکہ گہرائی 128 کلومیٹر اور مرکز تاجکستان سنکیانگ بارڈر تھا۔

 

زلزلے کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے تاہم کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکا کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے امریکا کے لیے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کانتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سست سفارتی کوششوں کا ذمہ دار امریکا ہے، امریکی جارحیت سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی میری ٹائم نیوی گیشن کے لیے محفوظ گزرگاہ تھی، ریاستیں، شپنگ کمپنیاں آبنائےہرمز سےگزرنے کے لیے ایران سے رابطے کی ضرورت سے آگاہ ہیں، آبنائے ہرمز میں اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت لیے گئے ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا امریکا نے آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی پانیوں میں بھی سکیورٹی کے فقدان کو جنم دیا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں سلامتی اور سکون کا محافظ ہے، عمان اور ایران آبنائے ہرمزکے ساحلی ممالک ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہازرانی کے لیے ہمیں پروٹوکول، مکینزم بنانا چاہیے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا آبنائے ہرمز سے امریکی جنگی جہازوں کے داخلے کے امکان پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا ایران کی مسلح افواج امریکی خطروں کا جواب دینا جانتی ہیں، ہم جنگ کے خاتمے کے علاوہ کسی معاملے پر بات نہیں کر رہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جھوٹے دعوے دہرانا جاری رکھے ہوئے ہے، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی کے پروٹوکول پر عمان سے مذاکرات جاری ہیں۔

پیپلز پارٹی میں شمولیت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں ، پرویز الہیٰ

سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں کی تردید کر دی۔

لاہور میں شادی کی تقریب میں کی گئی غیر رسمی گفتگو میں صحافی نے پرویز الہٰی سے پی ٹی آئی چھوڑنے سے متعلق سوال کیا جس پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں شمولیت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔

 

پرویز الہٰی نے مزید کہا کہ میں پارٹی کا صدر ہوں، پی ٹی آئی کا حصہ ہی رہوں گا، پیپلز پارٹی میں شمولیت سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔