All posts by Khabrain News

پنجاب میں تعلیمی ادارے کل سے 31 مارچ تک بند رہیں گے

امتحانات شیڈول کےمطابق ہوں گے ،تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گے
لاہور:پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک وزرا کے لئے سرکاری فیول بند
سرکاری افسران کے پیٹرول ،ڈیزل الاؤنس میں 50 فیصد فوری کمی
وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران کی پروٹوکول گاڑیوں پربھی پابندی
ناگزیر سیکیورٹی کیلئے صرف ایک گاڑی ساتھ ہوگی
سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا فیصلہ، صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئےگا
بلوچستان بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان
بلوچستان کے تعلیمی ادارے 23 مارچ تک بند رہیں گے، نوٹیفکیشن
حالیہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا
ڈیجیٹل مردم شماری، داخلہ مہم، شیڈول امتحانات جاری رہیں گے، نوٹیفکیشن
افسران کو تعلیمی سرگرمیاں ہدایات کے مطابق جاری رکھنے کی ہدایت

ایران جنگ، اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور اسرائیل دفاعی صنعت کے لیے جنگ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار بنتی جا رہی ہے۔

ایران جنگ کے دوران اسلحہ بنانے والی بڑی امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں کے منافع اور شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکا پہلے ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کر چکا ہے جس کے باعث دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نارتھروپ گرومن کے شیئرز تقریباً 5 فیصد بڑھ گئے۔

اسی طرح آر ٹی ایکس کارپوریشن (سابقہ ریتھیون) کے حصص میں بھی 4.5 فیصد اضافہ ہوا جب کہ لوک ہیڈ مرٹن کے شیئرز بھی تقریباً 3 فیصد اوپر چلے گئے۔

ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران میزائل دفاعی نظام، لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جدید گائیڈڈ ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ ان کمپنیوں کے لیے بڑے پیمانے پر منافع کا سبب بن رہا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دفاعی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکی دفاعی صنعت انتہائی جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں چار گنا تک اضافہ کرے گی۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی ضروری ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی صنعت بھی جنگ کے باعث فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اسرائیلی کمپنیوں کے جدید ہتھیار، ڈرونز، میزائل دفاعی نظام اور سائبر ٹیکنالوجی کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم سمیت کئی اداروں کو نئے بین الاقوامی آرڈرز مل رہے ہیں۔

ان کمپنیوں کی ٹیکنالوجی، خصوصاً میزائل دفاعی نظام اور ڈرونز، جنگی حالات میں آزمودہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں زیادہ مقبول ہو رہی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ نے عالمی اسلحہ تجارت کو مزید تیز کر دیا ہے۔ بہت سے ممالک اپنے دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں اور جدید ہتھیار خریدنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔

بلوچستان میں تعلیمی ادارے 23 مارچ تک بند

خطے میں موجودہ حالات کے پیش نظر بلوچستان میں تمام اسکول اور جامعات کل سے 23 مارچ تک بند کردیے گئے۔

نوٹیفیکشن کے مطابق تمام اسکول خطے میں موجودہ حالات کے پیش نظر بند کیے گئے ہیں۔

سیکرٹری کالجز کے مطابق بلوچستان کے تمام کالجز اور یونیورسٹیز بھی23 مارچ تک بند رہیں گی۔ محکمہ تعلیم نے بتایاکہ اسکول انرولمنٹ مہم اور ڈیجیٹل اسکول مردم شماری مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہےگی۔

امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپیہ تگڑاہوگیا

کراچی:
کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی قیمت میں 3 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث انٹربینک میں ڈالر 279 روپے 37 پیسے پر بند ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 279 روپے 40 پیسے پر بند ہوا تھا۔

حکومت سے بورڈ آف پیس سے فوری نکلے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کوواپس لے:اپوزیشن اتحاد

اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ، بابر اعوان علامہ راجہ ناصر عباس نےپریس کانفرنس کی۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس وقت خلیجی ممالک میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، خطے پر بربریت مسلط کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے ہر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اداروں اور عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جا رہا ہے، ملک میں جھوٹ کے ذریعے انتشار برپا کیا گیا اور عوام پر ایک جعلی جھوٹی حکومت مسلط کر دی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ املاک کا نقصان نہ عرب ممالک میں ہونا چاہیے نہ دیگر ملکوں میں، اب سب کو اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہے، سب کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں ماضی میں جو غلطی کی گئی وہ نہ دہرائی جائے، ایک دن قبل لوگوں کو غیر موجودگی میں سزائیں سنائی گئی، مجموعی طور پر سنائی جانے والی سزائیں 50 50 سال تک پہنچ گئیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 55 روپے فی لیٹر پٹرول میں اضافہ عندیہ ہے کہ ہمارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے، خطے میں کسی اور ملک میں اتنی قیمت نہیں بڑھی جبکہ ہمارے ہاں اشرافیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی شاہ خرچی کم کرنے کے بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ اشرافیہ اپنی شاہ خرچی اور عیاشیوں کیلیے مہنگے جہاز خرید رہی ہے جن پر ماہانہ کروڑوں روپے کے اخراجات آئیں گے، ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا، یہ وقت ہے جب ماضی پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دنیا کے تمام قوانین کو پاوں تلے روند دیا، وینزویلا میں جو ہوا سب کے سامنے ہے، اس وقت گریٹر اسرائیل کے موضوع پر کام ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف ایران پر حملہ نہیں پوری امہ پر ہے، عرب ممالک میں جو اڈے بنے آج سب کے سامنے وجوہات آگئیں، عرب میں اڈے انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے بنائے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کو فوری معطل کر دے، انڈونیشیا نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ روک دیا ہے، نیتن یاہو عالمی سطح پر ڈکلئیرڈ مجرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 47 لوگوں کو ان کی عدم موجودگی میں سزائیں سنائی گئیں، اکثر ایسے لوگ شامل ہیں جن میں کسی پر پتھر اٹھانے کا بھی الزام نہیں تھا، ان مقدمات میں سنائے گئے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ جنہوں نے پریس کانفنرس کی ان کے گناہ معاف ہو گئے، قوم کو بتایا گیا کہ یہ مذاق ہو رہا ہے، ایک آرڈیننس کے تحت ایک سرکاری ملازم کو 3 سال کی توسیع دی گئی، آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ پر تالا لگا دیا گیا، وفاقی عدالت کو قائم کر کے کہا گیا یہ آئینی مقدمات سنے گی، اب وہی عدالت پہلا فوجداری مقدمہ بھی سنے گی۔

بابر اعوان نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت ہے، ہم دیکھیں گے کل کیسے انصاف ہوتا ہے ، انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب بہت ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت کو بھیجا جائے یا پھر شفاف الیکشن کروائے جائیں، ایسا کوئی فارمولا نہیں بنا کہ عمران خان کے بغیر معاملات ٹھیک ہو سکیں، فوری طور پر عمران خان کو رہا کر کے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔

ہمیں دو اسلامی ممالک کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیے، اگر حکومت کو صدر ٹرمپ کو امن انعام دینا ہے یا بورڈ آف پیس میں جانا ہے تو ریفرنڈم کروا لیں۔

اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت سے بورڈ آف پیس سے فوری نکلنے، ایران جنگ میں فریق نہ بننے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھولنے کی وجہ کیا؟

سیڑھیاں چڑھنے سے سانس کیوں پھول جاتی ہے؟
زمین پر بھاگنے کے مقابلے میں سیڑھیاں چڑھنے کے دوران ہمارا جسم مختلف انداز سے کام کرتا ہے اور یہ بنیادی طور پر مسلز کی وجہ سے ہوتا ہے۔

کیا سیڑھیاں چڑھنے کے بعد آپ کی سانس پھول جاتی ہے یا ایسا لگتا ہے کہ سانس لینا مشکل ہورہا ہے؟

اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ تنہا نہیں، درحقیقت میراتھن مقابلوں کا حصہ بننے والے ایتھلیٹس کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔

یعنی سیڑھیاں چڑھ کر چند منزل اوپر جانے سے ان کا سانس بھی پھول جاتا ہے، جیسے 4 ٹائم ورلڈ چیمپئن شپ جیتنے والی ایتھلیٹ ایمیلیا بونی نے ایک ٹوئٹ میں ایسا بتایا۔

تو آخر سیڑھیاں چڑھنا ہمارے پھیپھڑوں کے لیے سانس لینا مشکل کیوں بنا دیتا ہے؟

مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی جے مائیکل کے مطابق ہمارے جسم کے ہر پٹھے کے انفرادی مسل فائبرز ہوتے ہیں جن کی 2 اقسام ہوتی ہیں، ایک سست روی سے متحرک ہونے والے اور دوسرے تیزی سے متحرک ہونے والے۔

یہ سست روی سے کام کرنے والے مسل فائبر تھکاوٹ کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور طویل فاصلے کی دوڑ یا ایسی سرگرمیوں کے دوران آپ کے جسم کی کارکردگی کو مستحکم رکھتے ہیں۔

تیزی سے متحرک ہونے والے مسل فائبر اس وقت کام کرتے ہیں جب جسم کو فوری طور طاقتور کام جیسے چھلانگ لگانا یا سیڑھیاں چڑھنا وغیرہ کرنا ہوتے ہیں۔

پروفیسر ٹموتھی جے مائیکل نے بتایا کہ سیڑھیاں چڑھنا جسم کے لیے ایک مشکل سرگرمی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے لیے اسے زیادہ مضبوطی اور طاقت کی ضرورت ہے، تو اس مقصد کے لیے تیزی سے متحرک ہونے والے مسل فائبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

مڈ ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی کے فزیولوجسٹ اور پروفیسر فرینک وائٹ نے بتایا کہ سیڑھیاں چڑھنے کے دوران جسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن کے حوالے سے حساسیت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آپ جتنی حرکت کرتے ہیں، تھکاوٹ اتنی جلدی طاری ہوجاتی ہے۔

آسان الفاظ میں ایسے حالات میں جسم بہت کم جسمانی سرگرمیوں پر بھی سانس لینے میں مشکل محسوس کرنے لگتا ہے۔

مگر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پسینہ بہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ جسمانی طور پر فٹ نہیں، درحقیقت فٹ افراد کا پسینہ جلد خارج ہوتا ہے تاکہ جسم کو ٹھنڈا رکھنا ممکن ہوسکے۔

ویسے سیڑھیاں چڑھنے پر سانس پھولنے کی چند اور وجوہات بھی ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔

کشش ثقل کے خلاف جدوجہد
ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر ہمارا جسم سطح پر چلنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے تو جب آپ سیڑھیاں چڑھتے ہیں تو ایک طرح سے کشش ثقل کے خلاف کام کررہے ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آپ اوپر کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں اور اپنے جسمانی وزن کو بھی اوپر اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے سیڑھیاں چڑھنے کے لیے زیادہ مسلز کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ آپ کشش ثقل کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنے گھٹنوں کو اوپر کی جانب بار بار اٹھاتے ہیں۔

کوئی تیاری نہ ہونا
کسی ریس کے دوران لوگ مختلف ورزشوں سے اپنے جسم کو تیار کرتے ہیں، درحقیقت ورزش سے قبل وارم اپ ضروری ہوتا ہے تاکہ جسم کو کام کرنے کے لیے تیار کرسکیں جبکہ آکسیجن کا بہا بڑھ جائے۔

اس کے برعکس جب روزمرہ کی زندگی میں سیڑھیاں چڑھتے ہیں تو اس کے لیے کسی قسم کی تیاری نہیں کرتے، جب آپ کے مسلز تیسری یا 5 ویں منزل پر سیڑھیاں چڑھنے کے لیے تیار نہ ہوں تو یہ کام کرنے کی صورت میں جسم میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور سانس لینے میں عارضی طورپر مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔

ان مسلز کا استعمال جو عام طور پر استعمال نہیں کرتے
اگر آپ دوڑ کے مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں تو اس کے لیے پنڈلیوں وغیرہ کے مسلز کی متحرک ہوتے ہیں، مگر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ مسلز حرکت میں آتے ہیں جو عام طور پر جسم استعمال نہیں کرتا۔

اس وجہ سے بھی سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوتا ہے اور پھیپھڑوں کے لیے بھاری ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آپ طویل فاصلے تک دوڑ تو سکتے ہیں مگر اپنے جسم کے وزن اٹھا کر چند سیڑھیاں چڑھنا بہت مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

آکسیجن کی کمی
ویسے یہ کہنا مشکل ہے کہ کوئی فرد کتنی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد سانس پھولنے کی شکایت کرسکتا ہے، کچھ افراد 4 منزلوں تک بغیر کسی مشکل کے چڑھ جاتے ہیں، کچھ 2 منزلوں کے بعد ہی تھک جاتے ہیں۔

درحقیقت جب جسم کو لگتا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ آکسیجن خرچ کررہا ہے تو اس کے نتیجے میں وہ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور سانس بھی پھول جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون کی قیمت2 ہزار ڈالرز سے زیادہ ہوگی

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ستمبر 2026 میں متعارف ہوسکتاہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کی ممکنہ قیمت اور نام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس فون کو آئی فون الٹرا کا نام دیے جانے کا امکان ہے جبکہ اس کی قیمت 2 ہزار ڈالرز سے زیادہ ہوگی۔

فولڈ ایبل آئی فون کے لیے الٹرا نام کا انتخاب ایپل واچ الٹرا کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔

ایپل اسمارٹ واچز میں ایپل واچ الٹرا سب سے مہنگا ماڈل ہے اور فولڈ ایبل آئی فون بھی ایپل کا سب سے مہنگا آئی فون ہوگا۔

اس سے قبل مختلف لیکس میں بتایا گیا تھا کہ فولڈ ایبل آئی فون اس وقت دستیاب دیگر فولڈ ایبل اسمارٹ فونز سے مختلف ہوگا۔

آئی فون فولڈ کو جب ان فولڈ کیا جائے گا تو وہ 7.8 انچ ڈسپلے سے لیس ہوگا جبکہ بند ہونے پر 5.5 اسکرین نظر آئے گی۔

فون کے اندر اے 20 پرو چپ دی جائے گی جبکہ 5500 ایم اے ایچ بیٹری دیے جانے کا امکان ہے۔

اس کا کیمرا ڈیزائن آئی فون ائیر سے ملتا جلتا ہوگا مگر وہ مکمل بلیک ہوگا اور وہاں 2 کیمرے ، ایک مائیکرو فون اور فلیش دیے جانے کا امکان ہے، تاکہ یہ فولڈ ایبل آئی فون دیکھنے میں آئی پیڈ پرو جیسا نظر آئے۔

فولڈ ایبل آئی فون ستمبر 2026 میں آئی فون 18 پرو ماڈلز کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا۔

وفاقی کابینہ کا 2 ماہ تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری کیلئے اجلاس ہوا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کفایت شعاری پالیسی پر بریفنگ دی، شرکا کو عالمی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی بچت، سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف دینے کی تجاویز پر غور کیا گیا، شہباز شریف نے صوبوں کی مشاورت سے قومی کفایت شعاری پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

جبکہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت وفاقی کابینہ نے 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہمارا جسم ہر 2 گھنٹے میں سانس لینے والے نتھنے کے تبدیل کر دیتا ہے

اگر آپ بیمار نہیں اور ناک کھلی ہے تو ایک گہری سانس لیں اور پھر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ایک نتھنا ہی سانس کو کھینچتا ہے۔

اس سے پہلے آپ پریشان ہو جائیں یا سوچیں کہ یہ کوئی بیماری تو نہیں، تو جان لیں کہ یہ ہمارے جسم کا معمول کا عمل ہے۔

ایسا دن بھر میں متعدد بار ہوتا ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

ہمارے نتھنے قدرتی طور پر ہوا کے بہاؤ کے لیے کسی ایک میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اسے Nasal سائیکل کہا جاتا ہے، جو ناک کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو ہمارا جسم ہر 2 گھنٹے میں سانس لینے والے نتھنے کے تبدیل کر دیتا ہے۔

البتہ نیند کے دوران ایسا کم ہوتا ہے کیونکہ سانس لینے کی رفتار گھٹ جاتی ہے۔

اس عمل کے دوران ایک نتھنے سے ہوا کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے جبکہ مخالف نتھنا کھل جاتا ہے اور زیادہ ہوا وہاں سے گزرنے لگتی ہے۔

اس عمل کے دوران چونکہ وقت کے ساتھ ہوا خشک ہونے لگتی ہے اور جراثیم ناک کے خلیات سے رابطے میں آسکتے ہیں تو کچھ وقت کے بعد سانس لینے والا نتھنا بدل جاتا ہے۔

یہ پورا عمل خودکار ہوتا ہے اور ہمارا دماغ اسے کنٹرول کرتا ہے۔

تحقیقی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ جب دایاں نتھنا سانس لے رہا ہوتا ہے تو جسم زیادہ الرٹ یا تناؤ کی حالت میں ہوتا ہے مگر جب بایاں نتھنا اس کی جگہ سنبھالتا ہے تو جسم زیادہ پرسکون ہو جاتا ہے۔

یہ قدرتی عمل کئی وجوہات کے باعث بہت اہم ہے۔

پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس سے ناک اور نظام تنفس کے نظام کو تحفظ ملتا ہے۔

ہمارے جسم سے روزانہ کم از کم 12 ہزار لیٹر ہوا گزرتی ہے اور یہ قدرتی عمل جراثیموں کے خلاف دفاعی کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح اس عمل سے ناک کو آرام اور مرمت کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ ناک کی شریانوں میں خون کا بہاؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اس سے نتھنوں کی نمی برقرار رہتی ہے اور مرمت کا عمل تیزی سے مکمل ہوتا ہے۔

انڈونیشیا: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگ گئی

انڈونیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد لگ گئی۔

جبکہ آسٹریلیا نے 2025 کے آخر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔

6 مارچ کو انڈونیشیا کی ڈیجیٹل افیئرز کی وزیر Meutya Hafid نے 16 سال سے کم عمر سوشل میڈیا صارفین پر پابندی کے نفاذ کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا آغاز 28 مارچ سے ہوگا۔

انڈونیشین وزیر کا کہنا تھا کہ آن لائن بد زبانی، نامناسب مواد، آن لائن فراڈ اور سوشل میڈیا کی لت وغیرہ سے بچوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

28 مارچ سے ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب، فیس بک، انسٹا گرام، تھریڈز اور دیگر زیادہ خطرات والے پلیٹ فارمز میں بچوں کے اکانٹس کو ڈی ایکٹیویٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

البتہ انڈونیشین حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ابھی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں کہ اس پابندی کا اطلاق کیسے ممکن ہوگا۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا سے ہٹ کر دیگر متعدد ممالک کی جانب سے بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو ختم یا محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔