مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے حوالے سے سیکیورٹی کے شدید خطرات اور فائرنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ (17th Street اور Pennsylvania Avenue) پر ایک 21 سالہ مسلح شخص، جس کی شناخت ناسیر بیسٹ (Nasire Best) کے نام سے ہوئی، نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ یو ایس سیکرٹ سروس (US Secret Service) کے اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود تھے، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران صدر ٹرمپ کے اردگرد فائرنگ کا یہ تیسرا بڑا سیکیورٹی واقعہ ہے۔
اس واقعے سے تقریباً 20 دن پہلے، 4 مئی 2026 کو وائٹ ہاؤس کے قریب واشنگٹن مونیومنٹ کے پاس فائرنگ کا ایک اور سنگین واقعہ پیش آیا تھا۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والا ایک مسلح شخص، مائیکل مارکس ، اس راستے پر پیدل چل رہا تھا جہاں سے نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ گزر رہا تھا۔ جب سیکرٹ سروس کے اہلکار اس مشکوک شخص کے پاس پہنچے تو اس نے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کیا گیا اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اعلیٰ حکام کی سیکیورٹی کے لیے سخت ترین احکامات جاری کیے گئے۔
اس کے علاوہ اپریل 2026 کے آخر میں وائٹ ہاؤس کراسپونڈنٹس ڈنر کے دوران بھی فائرنگ کا ایک واقعہ ہوا تھا جس میں ٹرمپ اور وینس کو وہاں سے بحفاظت نکالنا پڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان 30 دنوں کے دوران وائٹ ہاؤس کے اردگرد سیکیورٹی الرٹ انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔

















