All posts by Khabrain News

انمول عرف پنکی کیس میں ایس ایس پی سٹی علی حسن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

انمول عرف پنکی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایس ایس پی سٹی علی حسن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات اور انتظامی معاملات میں پیش رفت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

غزہ جنگ نے اسرائیلی فوج کو تھکا دیا، ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

اسرائیلی فوج شدید افرادی قوت اور نفسیاتی بحران کا شکار: فوجی سروس چھوڑنے والوں میں ریکارڈ اضافہ

یروشلم: اسرائیلی فوج کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، فوجی ملازمت کو خیرباد کہنے والے اہلکاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فوج چھوڑنے والے تقریباً 80 فیصد اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں، جس کے باعث وہ خدمات جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

فوجی حکام کی سنگین وارننگ: اسرائیلی میڈیا کے مطابق، عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے مستقل اور ریزرو (اضافی) فوجیوں پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس بحران کا کوئی فوری اور عملی حل نہ نکالا گیا، تو فوج مستقبل میں جنگی محاذوں اور معمول کی سکیورٹی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہو جائے گی۔

ڈیوٹی کے دنوں میں کئی گنا اضافہ: رپورٹ کے مطابق، موجودہ جنگ سے قبل ریزرو فوجیوں کو تین سال کے عرصے میں صرف 25 دن کی خدمات انجام دینا پڑتی تھیں، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک متعدد اہلکار 170 دن سے بھی زائد کی ڈیوٹی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے سال 2026 میں ریزرو ڈیوٹی کو 80 سے 100 دن تک محدود کرنے کا ہدف طے کیا تھا، تاہم ایران اور لبنان کے محاذوں پر اضافی عسکری مشنز کے باعث کئی یونٹس پہلے ہی اس حد کو پار کر چکے ہیں۔

مسلسل لڑائی اور شدید تھکن: طویل جنگ کے نتیجے میں جہاں ہزاروں فوجی زخمی ہوئے، وہاں ایک بڑی تعداد نے عسکری سروس ہی چھوڑ دی ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ مہینوں سے جاری مسلسل لڑائی نے اہلکاروں کو شدید جسمانی تھکن اور اعصابی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مستقل فوجیوں کو بغیر کسی وقفے کے فرائض انجام دینا پڑ رہے ہیں، اور انہیں آرام یا مناسب تربیت کے لیے وقت نہیں مل پا رہا۔ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ عسکری نظام جنگی اہلکاروں کو مختصر آرام دینے میں بھی ناکام ثابت ہو رہا ہے، جس سے فوج کی مجموعی کارکردگی اور جنگی تیاری شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

الٹرا آرتھوڈوکس یہودی اور بھرتی کا تنازع: فوجی اندازوں کے مطابق، اس وقت تقریباً 80 ہزار اسرائیلی شہری قانون کے باوجود عسکری بھرتی سے بچ رہے ہیں، جن میں سے 75 فیصد کا تعلق الٹرا آرتھوڈوکس (کٹر مذہبی) یہودی طبقے سے ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت کی جانب سے لازمی فوجی سروس اور ریزرو ڈیوٹی سے متعلق فوری قانون سازی کو الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو استثنیٰ دینے والے متنازع بل کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور فوج میں افرادی قوت کا بحران سنگین ہو رہا ہے۔

قوانین میں تاخیر اور آپریشنل خطرات: اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس استثنیٰ بل، لازمی فوجی سروس کی مدت میں اضافے کے بل اور ریزرو ڈیوٹی میں توسیع کے بل کو الگ الگ منظور کیا جانا چاہیے۔ ان تمام قوانین کو ایک ساتھ جوڑنے کی وجہ سے وہ دو اہم ترین قوانین تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں جن کی فوج کو افرادی قلت دور کرنے کے لیے فوری ضرورت ہے۔

فوج کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ لازمی فوجی سروس کو موجودہ 32 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کیا جائے۔ فوج نے جنوری 2024 میں پہلی بار اس کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سیاسی تنازعات کے باعث اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ عسکری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس تاخیر کے آپریشنل اثرات انتہائی سنگین ہوں گے کیونکہ ہزاروں جنگی فوجی جنوری میں ریٹائر ہونے والے ہیں، جبکہ نئے رنگروٹوں کی تربیت اب تک مکمل نہیں ہو سکی۔

ہزاروں فوجیوں کی فوری کمی: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی فوج کو اس وقت تقریباً 12 ہزار لازمی فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جن میں 6 سے 7 ہزار تک فرنٹ لائن پر لڑنے والے جنگی اہلکار شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوجی سروس کی موجودہ مدت میں کمی کی گئی، تو مزید 4 ہزار فوجیوں کی فوری قلت پیدا ہو جائے گی، جو طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

4,500 کلومیٹر سائیکل پر طے کر کے بیلجین نوجوان حج کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

بیلجیم سے تعلق رکھنے والے نوجوان انس الرزقی کا سائیکل پر حج کا تاریخی سفر: عزم و استقلال کی نئی مثال قائم

بروکسل / مکہ مکرمہ: ایمان کا جذبہ سچا ہو تو منزل جتنی بھی کٹھن ہو، راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے بیلجیم سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ مسلم نوجوان انس الرزقی نے، جنہوں نے سال 2025 کے متبادل اور یادگار ترین حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سائیکل پر ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے عزم، ہمت اور عقیدت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ انس الرزقی نے محض اپنے شوق اور ایمانی جذبے کے بل بوتے پر بیلجیم سے مکہ مکرمہ تک کا 4,500 کلومیٹر طویل اور صبر آزما سفر سائیکل پر مکمل کیا۔

رمضان المبارک میں سفر کا آغاز اور کٹھن مراحل: انس الرزقی نے اپنے اس مقدس اور تاریخی سفر کا آغاز ماہِ رمضان کے مبارک مہینے میں کیا۔ شدید موسمی تبدیلیوں اور روزے کی حالت کے باوجود، ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ وہ روزے کی حالت میں روزانہ تقریباً 100 کلومیٹر تک سائیکل چلاتے تھے، جو کہ بذاتِ خود ایک جسمانی اور ذہنی امتحان تھا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد، وہ رات کے قیام کے لیے کسی بھی قریبی علاقے کی مسجد کا رخ کرتے، جہاں وہ نہ صرف آرام کرتے بلکہ اگلی صبح کے سفر کے لیے خود کو روحانی طور پر تیار بھی کرتے۔

13 ممالک کا سفر اور تنہا مہم جوئی: تین ماہ سے زائد عرصے پر محیط اس کٹھن اور تنہا مہم کے دوران انس الرزقی نے جغرافیائی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے جرمنی، آسٹریا، اٹلی، اور بوسنیا و ہرزیگووینا سمیت یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے 13 مختلف ممالک کا سفر کیا۔ ان کا یہ سفر صرف ایک جسمانی سفر نہیں تھا، بلکہ مختلف ثقافتوں اور لوگوں سے جڑنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی بنا۔

سعودی سرحد پر فقید المثال استقبال: مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے انس الرزقی بالاخر اردن کے راستے سعودی عرب کی ‘حالتِ عمار’ نامی سرحدی چوکی پر پہنچے۔ سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی وہاں کے حکام، سیکورٹی اہلکاروں اور مقامی شہریوں نے ان کا انتہائی پُرتپاک اور فقید المثال استقبال کیا۔ انس الرزقی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور روایتی عربی قہوے اور کھجوروں سے ان کی تواضع کی گئی۔

سعودی حکام نے نوجوان کے اس بے مثال جذبے کی پذیریائی کرتے ہوئے ان کے مکہ مکرمہ کے سفر اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے تمام تر ضروری اور وی آئی پی  سہولیات فوری طور پر فراہم کیں، تاکہ وہ اپنے زندگی کے سب سے بڑے خواب کو سکون اور اطمینان کے ساتھ پورا کر سکیں۔ انس الرزقی کا یہ سفر دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے کہ سچی لگن ہو تو کوئی بھی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا دورہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے استقبال کیا

وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے کوئٹہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا دورہ کیا جہاں Asim Munir نے ان کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو پیشہ ورانہ تربیت، قومی سلامتی اور دفاعی امور سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ ملکی سلامتی اور عسکری تیاریوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

سبینا فاروق نے انمول پنکی سے متعلق کیا کہا؟

اداکارہ سبینا فاروق نے انمول پنکی کیس کے مزاحیہ تبصرہ کیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اسٹوری میں اداکارہ سبینا فاروق نے اپنی تصویر شیئر کی جس میں وہ گاڑی میں موجود ہیں اور چائے کُلچے کھا رہی ہیں۔

انہوں نے پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ’پنکی کے پاس ہوں گے مہنگے نشے لیکن اصل نشہ تو چائے کلچے میں ہی ہے۔

واضح رہے کہ انمول پنکی کو کوکین کیس میں 12 مئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور 22 مئی تک انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

 

گرفتار ملزمہ نے دوران تفتیش کئی اہم انکشافات کیے ہیں اور کئی بڑے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

گوگل نے اپنے نئے ایپ آئیکونز متعارف کرا دیے

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے نئے، ری ڈیزائن کیے گئے اور کچھ حد تک منفرد نظر آنے والے ایپ آئیکونز تمام صارفین کے لیے متعارف کرانے شروع کر دیے ہیں۔ یہ نئے آئیکونز گزشتہ ماہ پہلی بار سامنے آئے تھے اور تب سے ان پر سوشل میڈیا پر خوب بحث جاری ہے۔

 

نئے ڈیزائن میں گوگل نے اپنی پرانی روایت توڑ دی ہے۔ اب ہر ایپ آئیکون میں لازمی طور پر گوگل کے چاروں مشہور رنگ استعمال نہیں کیے جا رہے۔ کئی نئے آئیکونز میں کم رنگ، زیادہ گریڈیئنٹس اور پہلے سے زیادہ شوخ اور وائبرنٹ انداز اپنایا گیا ہے۔

 

صارفین کی رائے ان نئے آئیکونز پر منقسم نظر آ رہی ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ تبدیلی پسند نہیں آئی، جبکہ کئی صارفین خوش ہیں کہ گوگل اب پرانے ڈیزائن سے نکل کر جدید اسٹائل کو اپنا رہا ہے۔

گوگل کی جانب سے اپ ڈیٹ کا عمل جاری ہے اور اس کے مکمل اجرا میں ممکنہ طور پر وقت لگ سکتا ہے۔

امریکا میں مسجد پر حملہ، برطانوی وزیراعظم کا اہم بیان

لندن: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سان ڈیاگو میں مسجد پر حملے کی مذمت کرتا ہوں ہماری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔

کیئر اسٹارمر نے بیان میں کہا کہ اندازہ ہے کہ برطانوی مسلمان اس واقعے سے تشویش میں مبتلا ہوں گے واقعے نے مسلمانوں کو مسجد جاتے ہوئے بھی حفاظتی حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تشدد اور اس طرح کے واقعات اچانک پیدا نہیں ہوتے، نفرت، تقسیم، اسلام مخالف رویوں کو معمول بنانے سے ایسے واقعات ہوتے ہیں یہ ناقابلِ برداشت ہے ہمیں سب کو مل کر اس کےخلاف کھڑا ہونا ہو گا۔

 

امریکی صدر ٹرمپ نے سان ڈیاگو میں اسلامک سینٹر پر فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس نہ ائیر فورس ہے نہ ہی نیوی، ایران کی قیادت کو ختم کردیا اب تیسرے درجے کی قیادت موجود ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں نیوکلیئر ہتھیار ایران کے پاس نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار کسی صورت نہیں ہونے چاہئیں۔

کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر شدید مظاہرے ، 4 افراد ہلاک ، درجنوں زخمی

نیروبی : کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر شدید مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور ملک گیر ٹرانسپورٹ ہڑتال کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

کینیا کے وزیرِ داخلہ کپچمبا مرکو مین کے مطابق، ہڑتال اور احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے الزام میں اب تک 348 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی سمیت ملک کے تمام بڑے تجارتی شہروں اور جنوبی شہر مومباسا میں پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے، بس آپریٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے لاکھوں ملازمین اور اسکول جانے والے بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور لوگ میلوں پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

نیروبی کے مرکزی کاروباری علاقوں کی طرف جانے والی سڑکیں بالکل سنسان نظر آئیں، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر راستے بلاک کر دیے۔

ٹرانسپورٹ یونینز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ بے پناہ اضافہ فوری طور پر واپس لے۔

یاد رہے کہ کینیا میں پچھلے مہینے ایندھن کی قیمتوں میں 24.2 فیصد اضافے کے بعد، گزشتہ ہفتے مزید 23.5 فیصد کا تاریخی اضافہ کیا گیا ہے، ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ملک میں خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس نے پہلے سے معاشی بدحالی کا شکار کینیا کی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

کینیا کی وزارتِ توانائی اور پیٹرولیم نے قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ اور ایران کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی بین الاقوامی صورتحال کے پیشِ نظر مجبوری میں کیا گیا ہے۔

کپچمبا مرکو مین نے ٹیلی ویژن پر پریس کانفرنس کے دوران ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں لاء اینڈ آرڈر کو ہر صورت برقرار رکھے گی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے کینیا میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے حکومت کے لیے شدید دردِ سر بنے ہوئے ہیں، اور پولیس کے وحشیانہ کریک ڈاؤن اور درجنوں ہلاکتوں کے باوجود عوامی غصہ کم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

ایکس (ٹوئٹر) میں ماہانہ فیس ادا نہ کرنیوالے صارفین اب روزانہ صرف 50 پوسٹس کرسکیں گے

اگر آپ ایکس (ٹوئٹر) پر روزانہ کافی زیادہ پوسٹس کرتے ہیں اور اب تک ماہانہ فیس ادا کرنے والے سبسکرائبر نہیں بنے، تو ایک بری خبر کے لیے تیار ہو جائیں۔

ایکس کی جانب سے ایک نئی پابندی کا اطلاق مفت صارفین پر کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اس پلیٹ فارم میں ماہانہ فیس ادا کرنے والے سبسکرائبر بننے کا فیصلہ کرسکیں۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایکس کی جانب سے خاموشی سے صارفین پر روزانہ پوسٹس کی حد کے حوالے سے پابندی عائد کی گئی ہے۔

اگر آپ کے اکاؤنٹ میں بلیو ٹِک موجود نہیں تو اس نئی پابندی کا سامنا ہوگا۔

ایکس ہیلپ سینٹر پیج میں بتایا گیا کہ مفت صارفین روزانہ 50 پوسٹس اور 200 ریپلائیز سے زیادہ نہیں کرسکیں گے۔

اس سے قبل مفت صارفین روزانہ 2400 پوسٹس کرسکتے تھے۔

اب اگر کوئی مفت صارف 50 سے زیادہ پوسٹس کرے گا تو اس کے سامنے ایک ایرر میسج آئے گا۔

اس نئی پابندی کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایکس میں اسپام پوسٹ اور بوٹس سرگرمیوں میں کمی لائی جائے۔

مگر زیادہ بڑا مقصد یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ماہانہ فیس ادا کریں۔

’کیا واقعی کوئی ساتھ رہنا نہیں چاہتا؟‘، تنہا رہنے کے بیان پر سلمان خان کی وضاحت

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اپنے تنہائی سے متعلق وائرل ہونے والے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں لیا گیا اور وہ دراصل اپنی ذات کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے وضاحتی پیغام میں سلمان خان نے لکھا کہ وہ اکیلے کیسے ہو سکتے ہیں جب ان کے پاس ایک بڑی فیملی اور دوست موجود ہیں، اور وہ تنہا بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے مداح ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق لوگوں کی دعائیں اور محبت ہی ان کا اصل سہارا ہیں، اور وہ اپنے آپ کو کبھی ناشکرا نہیں سمجھ سکتے۔

 

اداکار نے مزید مزاحیہ انداز میں لکھا کہ کبھی کبھی وہ لوگوں کے ساتھ رہ کر تھک جاتے ہیں، اسی لیے بعض اوقات خاموشی اختیار کرتے ہیں، لیکن ان کے بیان کو ’’بریکنگ نیوز‘‘ بنا دیا گیا۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ ان کی والدہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ آخر ہوا کیا ہے، اس لیے سب کو پرسکون رہنا چاہیے۔

 

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب اس سے قبل سلمان خان نے ایک تصویر کے ساتھ تنہائی سے متعلق مبہم پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے اکیلے اور تنہا رہنے کے فرق پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اکیلا رہنا ایک انتخاب ہے جبکہ تنہائی وہ کیفیت ہے جب کوئی ساتھ نہ ہو۔

اس پوسٹ کے بعد مداحوں میں تشویش اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جہاں کچھ صارفین نے اسے جذباتی کیفیت سے تعبیر کیا جبکہ دیگر نے ان کی فٹنس اور شخصیت کو سراہا تھا۔