All posts by Khabrain News

رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

پنجاب کے مختلف اضلاع میں فلور ملز، بنیادی مراکزِ صحت، اور دیہی علاقوں کے گھروں کے دوروں کے بعد ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آئی کہ ہماری روزمرہ کی سب سے بنیادی غذا، یعنی آٹا، اپنی غذائی افادیت کے اعتبار سے ادھورا ہے اور اسی ادھورے پن کی قیمت ہزاروں بچے اپنی زندگی یا صحت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک خاموش بحران ہے جو ہر سال نئے خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس (NTDs) جیسے اسپائنا بائیفِڈا اور اینینسیفلی ایسے پیدائشی نقائص ہیں جو بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما کے دوران ابتدائی ہفتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب اکثر خواتین کو اپنے حمل کا علم بھی نہیں ہوتا۔ اسی لیے فولک ایسڈ کی مناسب مقدار حمل سے پہلے اور ابتدائی ایام میں نہایت اہم ہوتی ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف فولک ایسڈ سپلیمنٹس کا استعمال کم ہے بلکہ روزمرہ غذا میں بھی اس کی کمی پائی جاتی ہے۔
لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں ایک نوجوان ماں سے بات ہوئی جس کا بچہ پیدائش کے فوراً بعد ٹیچنگ ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچے کو نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔ ماں کو نہ تو اس اصطلاح کا علم تھا اور نہ ہی اس بات کا کہ حمل سے پہلے اور ابتدائی مہینوں میں فولک ایسڈ کی کمی اس کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ یہی کہانی شیخوپورہ، قصور، فیصل آباد اور راجن پور سمیت پنجاب کے کئی گھروں میں مختلف شکلوں میں دہرائی جا رہی ہے۔
سابق میڈیکل سپرنٹینڈنٹ پرنسپل میڈیکل آفیسر (ر) ڈاکٹر منیر احمد ملک کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں برسوں کی سروس کے دوران انہوں نے مسلسل ایسے کیسز دیکھے جہاں بچے نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس کے ساتھ پیدا ہوتے تھے حالانکہ مناسب فولک ایسڈ کے استعمال سے ان میں سے بڑی تعداد کو روکا جا سکتا تھا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مکمل طور پر قابلِ بچاؤ ہونے کے باوجود بدستور موجود ہے۔زیادہ تر خواتین کو حمل کے ابتدائی ہفتوں میں فولک ایسڈ کی اہمیت کا علم ہی نہیں ہوتا اسی لیے صرف سپلیمنٹس پر انحصار کافی نہیں بلکہ خوراک کی سطح پر مداخلت ناگزیر ہے۔ان کی رائے میں آٹے کی فورٹیفکیشن فولک ایسڈ کی کمی پر قابو پانے کا سب سے مؤثر اور پائیدار حل ہے کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں ہر طبقہ روزانہ آٹا استعمال کرتا ہے۔
لاہور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں نیوروسرجن سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ درجنوں ایسے کیسز آتے ہیں جنہیں اگر بروقت غذائی احتیاط سے روکا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق “یہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی بھی ہے۔” ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ دنیا کے کئی ممالک نے آٹے کی فورٹیفکیشن یعنی اس میں فولک ایسڈ، آئرن اور دیگر مائیکرونیوٹرینٹس شامل کرنے کو لازمی قرار دے رکھا ہے جبکہ پنجاب میں یہ عمل اب بھی زیادہ تر رضاکارانہ سطح تک محدود ہے۔
نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان اور پنجاب میں تقریباً آدھی خواتین فولک ایسڈ کی کمی کا شکار ہیں۔جو ان پیدائشی نقائص کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر شبینہ رضا کا اس حوالے کہنا ہے کہ پاکستان میں تولیدی عمر کی تقریباً آدھی خواتین فولک ایسڈ کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ کمی صرف غذائی قلت کا نتیجہ نہیں بلکہ خوراک کے معیار، آگاہی کی کمی اور صحت کے نظام کی کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ دیہی علاقوں میں تو صورتحال مزید سنگین ہے جہاں خواتین کی بڑی تعداد نہ تو باقاعدہ طبی معائنہ کروا پاتی ہے اور نہ ہی انہیں غذائی رہنمائی میسر ہوتی ہے۔جدید سائنسی تحقیق اس بات پر متفق ہے کہ آٹے کی فورٹیفکیشن دنیا بھر میں مائیکرونیوٹرینٹ کی کمی سے نمٹنے کا سب سے مؤثر اور کم لاگت طریقہ ہے۔ عالمی سطح پر شائع ہونے والی متعدد اسٹڈیز سے ثابت ہوا ہے کہ فولک ایسڈ سے بھرپور آٹے کے استعمال سے نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس میں 30 سے 50 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ اسی طرح آئرن کی شمولیت سے خون کی کمی (انیمیا) میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو پاکستان میں خواتین اور بچوں دونوں میں عام ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کی جانب سے فیلڈ میں کام کرنے والے لیڈی ہیلتھ ورکرز طیبہ شریف نے بھی اس مسئلے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو فولک ایسڈ کے بارے میں بنیادی معلومات تک حاصل نہیں۔ اکثر کیسز میں حمل کی تصدیق کے بعد سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں، جبکہ اس وقت تک نیورل ٹیوب کی نشوونما کا اہم مرحلہ گزر چکا ہوتا ہے۔ اگر آٹا خود ہی فولک ایسڈ سے بھرپور ہو تو یہ خلا بڑی حد تک پُر کیا جا سکتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں زیادہ تر آبادی اپنی کیلوریز کا بڑا حصہ گندم سے حاصل کرتی ہے، وہاں آٹے کی فورٹیفکیشن ایک انتہائی مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ یہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ امیر و غریب سب تک یکساں پہنچتی ہے، جس سے صحت میں عدم مساوات کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
یہاں ایک اہم پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ حکومتی قیادت کا کردار ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اس وقت صوبے میں صحت کے شعبے، خصوصاً ماؤں اور بچوں کی فلاح کے لیے متعدد قابلِ ستائش اقدامات کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں یہ گزارش نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ وہ آٹے کی فورٹیفکیشن اور فولک ایسڈ کی کمی جیسے سنجیدہ عوامی صحت کے مسئلے پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبہ بھر میں ایک جامع آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ خواتین کو حمل سے پہلے اور دورانِ حمل فولک ایسڈ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی فلور ملز مالکان کے ساتھ مل کر آٹے کی لازمی فورٹیفکیشن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اگر یہ معاملہ وزیراعلیٰ کی براہِ راست ترجیح میں شامل ہو جائے تو اس کے نتائج نہ صرف فوری بلکہ آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
فیلڈ وزٹ کے دوران ایک فلور مل کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فورٹیفکیشن مشینری اور مائیکرونیوٹرینٹ پری مکس کی دستیابی ممکن ہے مگر چونکہ قانون موجود نہیں اس لیے زیادہ تر ملز اضافی لاگت سے بچتی ہیں۔ ان کے مطابق “اگر حکومت واضح قانون اور مانیٹرنگ سسٹم لے آئے تو سب اس پر عمل کریں گے کیونکہ مقابلہ برابر ہو جائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ فی کلو آٹے پر لاگت تقریباً ایک روپے کے قریب آتی ہے، جو صارفین پر معمولی بوجھ ہے مگر اس کے فوائد بہت بڑے ہیں۔
بنگلہ دیش، نیپال اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں آٹے یا دیگر بنیادی غذاؤں کی فورٹیفکیشن کو قانون کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ نتیجتاً نہ صرف پیدائشی نقائص میں کمی آئی بلکہ مجموعی صحت کے اشاریے بھی بہتر ہوئے۔ ان ممالک میں حکومت نے صرف قانون سازی ہی نہیں کی بلکہ مانیٹرنگ، کوالٹی کنٹرول اور عوامی آگاہی مہمات پر بھی بھرپور توجہ دی۔پنجاب میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں فوڈ فورٹیفکیشن کے حوالے سے کوئی جامع اور لازمی قانون موجود نہیں۔ کچھ بڑی فلور ملز رضاکارانہ طور پر یہ عمل کر رہی ہیں، مگر یہ کوششیں محدود ہیں اور آبادی کے ایک چھوٹے حصے تک ہی پہنچتی ہیں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں دستیاب آٹا عموماً بغیر کسی غذائی اضافے کے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہی کمی اگلی نسل تک منتقل ہو رہی ہے۔
حکومتی سطح پر عزم کا اظہار ضرور کیا گیا ہے اور پاکستان نے 2025 کے نیوٹریشن فار گروتھ سمٹ میں 2030 تک فوڈ فورٹیفکیشن قوانین نافذ کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس سمت میں پیش رفت سست ہے۔ متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی، فنڈنگ، اور صنعتی شعبے کے ساتھ شراکت داری جیسے مسائل اس عمل کو تاخیر کا شکار بنا رہے ہیں۔
معاشی ماہرین اس معاملے کو صرف صحت کا نہیں بلکہ معیشت کا مسئلہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی تجزیے کے مطابق مائیکرونیوٹرینٹ فورٹیفکیشن پر خرچ کیے گئے ہر ایک ڈالر کے بدلے تقریباً 27 ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس میں صحت کے اخراجات میں کمی، بچوں کی بہتر ذہنی و جسمانی نشوونما، تعلیمی کارکردگی میں بہتری، اور مستقبل میں زیادہ پیداواری افرادی قوت شامل ہے۔ اس کے برعکس اگر اس مسئلے کو نظرانداز کیا جائے تو معذوری، بیماری اور کمزور انسانی سرمایہ معیشت پر بوجھ بنتا رہتا ہے۔
قانون سازی کی اہمیت یہاں دوچند ہو جاتی ہے۔ جب تک فورٹیفکیشن کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا تب تک اس کا نفاذ مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ سخت مانیٹرنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ، اور خلاف ورزی پر جرمانے جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ معیار برقرار رکھا جا سکے۔ صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد اور نگرانی ہی اصل چیلنج ہے۔
عوامی آگاہی بھی اس عمل کا اہم حصہ ہے۔ اگر صارفین کو معلوم ہو کہ فورٹیفائیڈ آٹا ان کی اور ان کے بچوں کی صحت کے لیے بہتر ہے تو وہ خود بھی اس کا مطالبہ کریں گے۔ اس کے لیے میڈیا، تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
میرے مطابق آٹے کی فورٹیفکیشن کوئی پیچیدہ یا ناقابلِ عمل حل نہیں بلکہ ایک سادہ، سستا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ اقدام ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات اور پالیسی کے فقدان کا ہے۔ جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا ہر سال ہزاروں بچے ایسے نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے رہیں گے جنہیں بآسانی روکا جا سکتا تھا۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی کہانیاں ہیں ایسے خاندانوں کی کہانیاں جو عمر بھر کے لیے ایک بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرے اور ریاست کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس قابلِ بچاؤ بحران کو مزید نظرانداز نہ کریں۔ آٹے کی فورٹیفکیشن محض ایک صحت پالیسی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست جمع

اسلام آباد: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست جمع کرادی۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی 27  پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے جو مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے جب کہ درخواست پر 28 اپریل کو سماعت کی جائےگی۔

سی پی پی اے کے مطابق مارچ میں 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، ڈسکوز کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی اور مارچ کے لیے فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 7 روپے99 پیسے مقرر تھا۔

درخواست کے مطابق مارچ میں فی یونٹ فیول لاگت 8 روپے 26 پیسے رہی، پانی سے 23.55 اور مقامی کوئلے سے 16.76 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

سی پی پی اے کی درخواست میں کہا گیا ہےکہ درآمدی کوئلے سے 13.80، درآمدی ایل این جی سے 5.64 فیصد بجلی پیدا کی گئی، فرنس آئل سے 1.02فیصد، مقامی گیس سے 11.34 فیصد بجلی پیدا کی گئی جب کہ مارچ میں جوہری ایندھن سے21.95 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

سی پی پی اے کے مطابق ہوا سے3.46 فیصد اور سولر سے 1.18 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

فضا علی کا حق مہر کتنا تھا اور ان کی کیا عمر ہے؟ اداکارہ نے پردہ اٹھادیا

معروف پاکستانی اداکارہ و میزبان فضا علی نے اپنی عمر اور حق مہر سے پردہ اٹھادیا۔

ایک پروگرام میں فضا علی نے بتایا کہ میں 1984 میں پیدا ہوئی اور صرف 15 سال کی عمر میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہمیشہ محبت اور ساتھ کی تلاش رہی، شکر خدا کا اب مجھے یہ سب حاصل ہو چکا ہے، میں اس وقت 41 برس کی ہوں اور اس عمر میں محبت و جذبات کے اظہار پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اداکارہ نے اپنی شادی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے عیدالفطر 2026 میں اعجاز خان سے نکاح کیا جو میری تیسری شادی ہے، میرے شوہر کا تعلق برطانیہ سے ہے اور شادی کے بعد وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔

فضا علی کا حق مہر:

حق مہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فضا علی نے کہا کہ میں سادہ نکاح کی خواہش رکھتی تھی اور میں نے شرعی حق مہر 5 سے 7 ہزار روپے تجویز کیا تھا تاہم میرے شوہر اعجاز خان نے ایک یا 2 کروڑ روپے اور جائیداد کی پیشکش کی جسے میں نے قبول نہیں کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میرے شوہر کے اصرار پر نکاح نامے میں 10 لاکھ روپے حق مہر درج کیا گیا، حالانکہ میں اس کے حق میں نہیں تھی، میرے لیے اور میرے خاندان کے لیے شوہر کی موجودگی ہی سب کچھ ہے اور مالی معاملات میرے لیے اہم نہیں۔

فضا علی کے مطابق نکاح کی تقریب نہایت سادہ تھی جس میں صرف سونے کی 2 انگوٹھیاں بطور تحفہ دی گئیں جب کہ مہنگے زیورات یا دیگر اشیاء کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔

گوگل نے جیمنائی پرسنل انٹیلی جنس میں نانو بنانا امیج جنریشن ٹول کا اضافہ کر دیا

گوگل نے جیمنائی کے پرسنل انٹیلی جنس فیچر میں نانو بنانا پر مبنی تصاویر بنانے والے ٹول کا اضافہ کیا ہے۔

اس طرح صارفین پرسنل انٹیلی جنس میں اپنی ذاتی تناظر میں تصاویر تیار کروا سکیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) تصاویر آپ کی پسندیدگی اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جیمنائی کی جانب سے تیار کی جائیں گی جبکہ آپ کو مخصوص پروموٹ بھی تحریر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

جیمنائی پہلے ہی صارفین کے بارے میں کافی کچھ جانتا ہے کیونکہ گوگل اکاؤنٹ اس سے منسلک ہوتا ہے اور آپ کے تمام ڈیٹا تک اس اے آئی اسسٹنٹ کو رسائی حاصل ہوتی ہے۔

تو آپ کو یہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ میرے خوابوں کے گھر کی تصویر تیار کرو، بس یہ لکھنا کافی ہوتا ہے کہ ڈیزائن مائی ڈریم ہاؤس۔

اسی طرح نانو بنانا پر مبنی یہ کنکشن گوگل فوٹوز کے لیبلز کو بھی استعمال کرکے خاندان کے ناموں اور الفاظ کو سمجھ سکے گا۔

تو آپ کو بس یہ کہنا ہوگا کہ میرے خاندان کی ایک تصویر تیار کر دو جس میں ہم سب پکنک منا رہے ہوں۔

کمپنی نے بتایا کہ سورس بٹن میں بتایا جائے گا کہ کس طرح جیمنائی نے اس تصویر کو تیار کیا۔

گوگل نے بتایا کہ دیگر کنکشنز کی طرح جیمنائی کا تناظر بھی غلط ہوسکتا ہے تو آپ اس حوالے سے فیڈ بیک فراہم کرسکتے ہیں۔

یہ امیج جنریشن فیچر جیمنائی پلس، پرو اور الٹرا صارفین کو دستیاب ہوگا اور اسے سب سے پہلے امریکا میں متعارف کرایا جائے گا۔

گوگل کی جانب سے اس جیمنائی فیچر کو کروم ڈیسک ٹاپ اور دیگر ممالک میں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

امریکی ناکہ بندی: پاکستانی جھنڈے والے آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کرلی

پاکستانی جھنڈے والے آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کرلی۔

امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکی ناکہ بندی کےبعدخام مال کےساتھ آبنائے ہرمز سے نکلنے والا یہ پہلاجہاز ہے۔

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  پاکستانی جھنڈے والے آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبورکرلی ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستانی جھنڈے والا ٹینکر گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی خلیج فارس میں داخل ہوا تھا۔

فیفا سیریز اختتام پذیر، پاکستانی خواتین فٹبال ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی

آئیوری کوسٹ میں پاکستان کی خواتین فٹبال ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ فیفا سیریز میں پاکستانی ٹیم نے اختتامی میچ میں میزبان ٹیم کو دو صفر سے ہرا کر تیسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔

قومی خواتین کھلاڑیوں نے مضبوط حریف کا بھرپور مقابلہ کیا۔ گول کیپر زیانا جیو راج نے کئی یقینی گول بچائے۔ میچ میں پاکستان کی کھلاڑی انمول ہیرا کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔

سیریز میں پاکستان نے ترک اینڈ کیکوس کو 8 صفر سے شکست دی تھی اور موریطانیہ کے خلاف میچ میں ایک صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔

آئیوری کوسٹ کے خلاف میچ کے بعد ہیڈ کوچ عدیل رزکی نے کہا کھلاڑیوں نے میدان میں بہترین ڈسپلن اور اسٹرکچر کا مظاہرہ کیا۔ مشکل مقابلے ہمارے لیے سیکھنے کا بہترین موقع ہیں، جتنا زیادہ مضبوط ٹیموں کے خلاف کھیلیں گے، کھیل میں اتنی بہتری آئے گی۔

افغانستان جنگ میں 18 سال لگے، ایران جنگ 2 ماہ میں ختم ہورہی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ویتنام اور افغانستان جنگ میں 18 سال لگے، ایران جنگ 2 ماہ میں ختم ہورہی ہے۔

لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے۔ اسی وجہ سے ایران میں جو چاہا حاصل کیا۔ ایران مضبوط ملک اور اچھے فائٹرہیں مگرانکی نیوی ختم کردی، 158 جہازڈبو دیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران جنگ میں ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں، صورتحال کنٹرول میں ہے۔ جنگ اب ختم ہونی چاہئے۔ ایران میں ہم نے ایک مختصر کارروائی کی، یہ ہمیں مجبوراَ کرنی پڑی ورنہ بہت برے نتائج ہو سکتے تھے، ہم نے ایسے اقدامات کیے جن کے حیران کن نتائج سامنے آئیں گے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد پاکستان آنے کا اعلان کردیا ۔ کہا ایران سے ڈیل ہوگئی تو پاکستان جا سکتا ہوں، معاہدے پر اسلام آباد میں دستخط ہوئے تو شرکت کر سکتا ہوں۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی، کہا دونوں زبردست شخصیات ہیں ۔ ایران کے بارے میں کہا وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضا مند ہے۔ دعویٰ کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، انہوں نے ایٹمی مواد ہمیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔

تھرل، ایکشن اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتی فلم “سائیکو” کا ٹریلر ریلیز

تھرل، ایکشن اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتی فلم “سائیکو” کا ٹریلر ریلیز کردیا گیا۔ فلم کی کہانی ذہنی چیلنجز کےگرد گھومتی ہے۔

فلم اسٹار میرا نے سما نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اِنہیں کردار سے نکلنےمیں طویل وقت لگا اور وہ کچھ عرصہ اسپتال میں بھی زیرِ علاج رہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ان کا کردار ناظرین کوپسند آئے گا۔

تھرل، ایکشن اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتی ہوئی فلم ’سائیکو‘ کا ٹریلر ریلیز کرنے کی تقریب لاہور کے مقامی ہوٹل میں سجائی گئی جس میں فلم کی کاسٹ نے بھی شرکت کی۔ فلم اسٹار شان شاہد نے فلم ’سائیکو‘ میں اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے جوہر بھی دکھائے ہیں۔

اوپن اے آئی کا لائف سائنسز ریسرچ کیلیے نیا اے آئی ماڈل متعارف

اوپن اے آئی نے لائف سائنسز کے شعبے میں مہارت کو وسعت دیتے ہوئے بائیالوجی سے متعلق علم اور سائنٹفک تحقیق کے فروغ کے لیے آرٹیفشل انٹیلیجینس (اے آئی) کا ایک نیا ماڈل جی پی ٹی-روزالینڈ متعارف کرادیا۔

رپورٹ کے مطابق جی پی ٹی-روزالینڈ (GPT-Rosalind) بیسویں صدی کی برطانوی سائنس دان روزالینڈ فرینکلن کے نام پر رکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ ماڈل بائیو کیمسٹری، ادویات کی دریافت اور بیماریوں کی تشخیص اور بہتر علاج کے شعبوں میں تحقیق کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ادویات کی دریافت اور تحقیق کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اے آئی سے چلنے والے ٹولز کی طلب فارماسیوٹیکل کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور بائیوٹیک فرموں میں بڑھ گئی ہے۔

 

اوپن اے آئی نے بلاگ میں بتایا کہ یہ ماڈل شواہد کے تجزیے، مفروضوں کی تشکیل، تجرباتی منصوبہ بندی اور دیگر مرحلہ وار تحقیقاتی کاموں میں معاونت فراہم کر کے تحقیق کاروں کو دریافت کے ابتدائی مراحل میں تیزی لانے میں مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

بلاگ کے مطابق اس ماڈل کو استعمال کرنے والے محققین ڈیٹا بیسز سے معلومات حاصل کر سکیں گے، جدید سائنسی مقالے پڑھ سکیں گے ، دیگر سائنسی ٹولز کے استعمال کے ساتھ ساتھ نئے تجربوں کے لیے تجاویز دے سکیں گے کیونکہ یہ ماڈل اوپن اے آئی کے جدید ترین اندرونی ماڈلز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

 

جی پی ٹی روزالینڈ کو چیٹ جی پی ٹی، کوڈیکس اور اے پی آئی میں مستند صارفین کے لیے ریسرچ پری ویو کے طور پر اوپن اے آئی کے قابل اعتبار رسائی کے ڈھانچے کے ذریعے دستیاب ہے جبکہ کمپنی کوڈیکس کے لیے ایک مفت لائف سائنسز ریسرچ پلگ ان بھی متعارف کرا رہی ہے جو سائنس دانوں کو 50 سے زائد سائنسی ٹولز اور ڈیٹا سورسز سے منسلک کر رہا ہے۔

اوپن اے آئی نے بتایا کہ کہ وہ ایمگین، موڈیرنا، تھیرمو فشر سائنٹفک اور دیگر صارفین کے ساتھ مل کر جی پی ٹی روزالینڈ مختلف تحقیقی کاموں میں استعمال کرنے پر کام کر رہی ہے۔

چیٹ جی پی ٹی متعارف کرانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے بتایا کہ یہ اس کے جدید ترین فلیگ شپ ماڈل کا ایک ایسا ورژن ہے جس سے خاص طور پر دفاعی سائبر سیکیورٹی کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک کی جانب سے جدید اے آئی ماڈل میتھوز (Mythos ) کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد اوپن اے آئی کا نیا ماڈل سامنے لایا گیا ہے۔

رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے

حالیہ سائنسی تحقیق نے رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کے لیے تشویشناک انکشافات کیے ہیں، جن کے مطابق ایسے افراد میں ذیابیطس، دل کے امراض، کولیسٹرول کے مسائل اور ہارمونز کے بگاڑ کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق رات کے اوقات میں کام کرنے سے جسم کا قدرتی نظام، جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے، متاثر ہوتا ہے۔ یہی نظام ہمارے سونے جاگنے، ہارمونز اور دیگر جسمانی افعال کو منظم رکھتا ہے، اور اس میں خلل آنے سے صحت کے مختلف مسائل جنم لیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے تقریباً 77 فیصد افراد میں انسولین مزاحمت پائی گئی، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے، جبکہ دن میں کام کرنے والوں میں یہ شرح نسبتاً کم یعنی 62 فیصد رہی۔

 

اسی طرح کولیسٹرول کے حوالے سے بھی واضح فرق دیکھا گیا۔ رات کو کام کرنے والوں میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح زیادہ جبکہ مفید کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کم پایا گیا، جو دل کی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں ہارمونز کے عدم توازن کا پہلو بھی نمایاں رہا۔ مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون اور دیگر اہم ہارمونز کی سطح کم دیکھی گئی، جبکہ خواتین میں ایسٹروجن کی مقدار معمول سے زیادہ پائی گئی، جو جسمانی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

 

مزید یہ کہ رات کی شفٹ کرنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کمی بھی زیادہ نوٹ کی گئی، جس کی بڑی وجہ دھوپ سے کم واسطہ ہونا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں اور مدافعتی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کو جاگنے سے کورٹیسول اور انسولین جیسے اہم ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس کے باعث جسم چکنائی اور شکر کو درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر رات کی شفٹ ناگزیر ہو تو افراد کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ مکمل نیند، متوازن غذا، پانی کا مناسب استعمال، باقاعدہ ورزش اور ذہنی دباؤ میں کمی کے لیے مراقبہ جیسی عادات اپنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے طبی معائنہ بھی کرانا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ مسئلے کی بروقت تشخیص ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ان خطرات کو کسی حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے، مگر رات کی ڈیوٹی کو معمول بنانا طویل المدتی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔