All posts by Khabrain News

سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے یو اے ای کے تمام اسکول بند، آن لائن کلاسز شروع

متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرکے آن لائن کلاسز شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امارات کی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں نرسریز، سرکاری اور نجی اسکولوں کو 5 مئی سے 8 مئی 2026 تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے جاری رکھی جائیں گی۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا، جب ملک میں ایمرجنسی الرٹ سسٹم متعدد بار فعال ہوا۔ طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھروں سے آن لائن کلاسز میں شرکت کریں۔

 

وزارت تعلیم اور اسکول انتظامیہ کے مطابق تدریسی عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا، تاہم طریقہ کار کو عارضی طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادارے والدین اور طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی تبدیلی سے فوری آگاہ کیا جا سکے۔

تعلیمی حکام نے بتایا کہ اسکولوں کو پہلے ہی ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی گئی تھیں، اسی پالیسی کے تحت فوری طور پر آن لائن تعلیم کا نظام فعال کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق 8 مئی کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آن لائن کلاسز جاری رکھی جائیں یا تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں۔

سندھ حکومت نے ماہی گیر برادری کے لیے بڑے فیول سبسڈی پیکیج کی منظوری دے دی

سندھ حکومت نے ماہی گیر برادری کے لیے 515 ملین روپے کے فیول سبسڈی پیکیج کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا۔ فیصلے سے کراچی، ٹھٹو، سجاول اور بدین کے ماہی گیر مستفید ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ماہی گیروں کو فوری مالی سہارا فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے دو ماہ کے فیول اخراجات کے لیے ایک وقتی ادائیگی کا اعلان بھی کیا۔

کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ڈیزل قیمتوں میں اضافے سے مچھلی کے شکار میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے، کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بچانا ہماری ترجیح ہے۔

 

اسکیم کے تحت 9ہزار 634 رجسٹرڈ کشتیوں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا، 20 ہارس پاور انجن والی 2ہزار 331 چھوٹی ساحلی کشتیوں کو فی کشتی 2 لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔

 

چھوٹی ساحلی کشتیوں کے لیے مجموعی طور پر 466.2 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، 10 ہارس پاور انجن والی 488 کشتیوں کے لیے ایک لاکھ روپے فی کشتی سبسڈی منظور کی گئی۔ چھوٹی کشتیوں کے لیے مجموعی طور پر 28.8 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

سندھ کابینہ نے سبسڈی کی ادائیگی ڈیجیٹل طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آن لائن رجسٹریشن کے بعد ماہی گیروں کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔

کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ماہی گیروں کو ڈی جی میرین یا کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی، تصدیق کے بعد رقم براہِ راست کشتی مالکان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔

ماہی گیری سبسڈی عمل کی نگرانی لائیو اسٹاک اور فشریز ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ مینجمنٹ کمیٹی کرے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شفاف نظام کے تحت رقم براہِ راست اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے۔ انہوں ںے حکومتی نگرانی میں سبسڈی کی تقسیم اور شفافیت یقینی بنانے کا عزم کا اظہار کیا۔

بھارت نے اماراتی شہر پر حملے کو ناقابل قبول قرار دے دیا

بھارت نے متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں ایرانی حملے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں فجیرہ میں ڈرون حملے کی مذمت کی جس میں 3 بھارتی شہری زخمی ہوئے تھے۔

ترجمان نے حملے میں 3 بھارتی شہریوں کے زخمی ہونے پر فوری طورپر بے گناہ شہریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت مسائل کے پرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بلاروک ٹوک رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

بھارت کی توانائی ضروریات کا انحصار تیل کی درآمد پر ہوتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث بھارت کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

اس سے قبل 4 اپریل کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں میزائل حملے کے بعد آگ لگ گئی تھی جس سے 3 بھارتی شہری زخمی ہوئے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ایران کی جانب سےکیےگئے میزائل اور ڈرون حملوں کو دھوکا دہی قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی ہے۔

اماراتی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ متحدہ عرب امارات ان حملوں کے جواب میں کارروائی کرنے کا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان میں ایرانی حملوں کو سخت اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہےکہ یہ حملے ملک کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

دوسری جانب امریکی سفارتخانے کی متحدہ عرب امارات میں اپنے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

امریکی سفارتخانے نے کہا کہ غیر ضروری امریکی عملہ منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ابوظبی اور دبئی سے ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گر گئی

بین الاقوامی منڈیوں میں آج خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ ہوئی۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد برینٹ خام تیل 1.30 فیصد کمی سے 112.94 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل 2.18 فیصد کمی سے 104.08 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

 

امریکی ویسٹ ٹیکساس تیل 3.59 ڈالر مہنگا ہو کر 105.53 ڈالر ، برینٹ خام تیل 5.88 ڈالر مہنگا ہو کر 114.05 ڈالر جبکہ عالمی بینچ مارک ابوظہبی مربان کروڈ 2.74 ڈالر مہنگا ہو کر 106.50 ڈالر فی بیرل ہو گیا تھا۔

ملکی قرضوں کی ادائیگیوں سے 5.5 کروڑ خواتین بیروزگار ہونے کا خطرہ

(قرضوں کی ادائیگی پر بڑھتے اخراجات کے باعث آئندہ برسوں میں خواتین کی 5 کروڑ 50 لاکھ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں اور ان کی فی کس آمدنی میں 17 فیصد کمی آنے کا خدشہ ہے۔

ادارے نے 85 ترقی پذیر ممالک سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی اپنی رپورٹ بعنوان ‘کون قیمت چکاتا ہے: صنفی عدم مساوات اور سرکاری قرضے’ میں بتایا ہے کہ ملازمتوں کے خاتمے، آمدنی میں کمی اور بلا معاوضہ نگہداشت کی ذمہ داریوں میں اضافے کا بوجھ خواتین پر غیر متناسب طور سے اثرانداز ہوتا ہے جبکہ مردوں کی آمدنی بڑی حد تک برقرار رہتی ہے۔

 

اس طرح صنفی بنیاد پر آمدنی کا فرق بھی مزید بڑھ جاتا ہے۔

 

 

‘یو این ڈی پی’ کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو نے کہا ہے کہ کسی ملک کے ذمے قرضہ محض حساب کتاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہوتا ہے۔

 

جب نگہداشت کی سہولیات میں کمی کی جاتی ہے تو اس کا بوجھ واپس خاندانوں پر آ جاتا ہے اور خواتین اس کا سب سے بھاری خمیازہ بھگتتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے لیے معاشی مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

 

زچگی کی اموات میں اضافے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ دوران زچگی اموات کی شرح میں 32.5 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جو ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر مزید 67 اموات کے برابر ہے۔

 

اس کے ساتھ خواتین اور مرد دونوں کی متوقع عمر میں کمی واقع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

 

اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ تمام اثرات مجموعی طور پر ترقی کے لیے ہونے والی پیش رفت کو زائل کر سکتے ہیں اور موجودہ عسکری تنازعات اور ان سے جڑے بحرانوں کی موجودگی میں یہ رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے۔

روزگار، انسانی ترقی اور صنفی مساوات

‘یو این ڈی پی’ میں صنفی مساوات کے شعبے کی عالمی ڈائریکٹر راکیل لاگوناس نے کہا ہے کہ پالیسی سازی میں صنفی اثرات کے جائزے کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

 

سماجی ڈھانچے اور نگہداشت کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری کو محفوظ رکھا جائے اور بجٹ سازی کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جن کے ذریعے یہ جانچا جا سکے کہ قرضوں کی ادائیگی مختلف طبقات کی معاشی حالت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

 

رپورٹ میں حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قرضوں کی پائیداری سے متعلق حکمت عملی میں روزگار، انسانی ترقی اور صنفی مساوات کو ترجیح دیں اور ایسے کفایتی اقدامات سے گریز کریں جنہیں لاگو کرنے سے عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

چینی سائنس دانوں نے کوئلے سے چلنے والی ماحول دوست بیٹری بنالی

چینی سائنس دانوں نے ایک ایسا انوکھا کوئلے سے چلنے والا فیول سیل تیار کیا ہے جو ممکنہ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً ختم کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں تھرمل پاور پلانٹس کے ڈیزائن کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

روایتی طریقوں سے کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے میں کاربن اخراج بہت زیادہ ہوتا ہے، جس سے فضائی آلودگی بھی بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہے۔

پچھلے دس برسوں میں پیرس موسمیاتی معاہدہ ایک عالمی اتفاق رائے بن چکا ہے جو کاربن نیوٹرلٹی کو لازمی قرار دیتا ہے، اسی وجہ سے ترقی پذیر ممالک صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے ایسے ذرائع تلاش کر رہے ہیں جن میں کاربن کا اخراج نہ ہو۔

 

اب شینزن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے وہ زیرو کاربن ایمیشن کول فیول سیل (ZC-DCFC) کہتے ہیں۔

 

اس ڈیزائن میں کوئلہ جلانے کے بجائے اسے باریک پیس کر اور خشک کر کے ایک خاص پری ٹریٹمنٹ دیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے فیول سیل کے اینوڈ چیمبر میں ڈالا جاتا ہے۔

دوسری طرف کیتھوڈ میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے، جس سے اینوڈ میں موجود کوئلہ ایک آکسائیڈ ممبرین کے ذریعے الیکٹرو کیمیکل آکسیڈیشن کے عمل سے گزرتا ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو اسی سسٹم کے اندر پکڑ لیا جاتا ہے اور اسے مزید مفید کیمیکلز جیسے سینگاس (syngas) میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ فیول سیل تقریباً 40 فی صد تک افادیت کے ساتھ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاک بھارت تباہ کن جنگ کا خدشہ برقرار، معمولی چنگاری بھی وجہ ہوسکتی ہے: امریکی محقق

کراچی  : امریکا میں قائم بین الاقوامی سلامتی سے متعلق تھنک ٹینک اسٹمسن کی سینئر محقق اور جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر الزبتھ تھرلکلڈ  نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور تباہ کن جنگ کا خدشہ ظاہر کردیا۔

الزبتھ تھرلکلڈ نے امریکی جریدےفارن افیئرمیں اپنے تفصیلی مضمون میں کہا ہےکہ پاکستان اور بھارت میں ایک اور تباہ کن جنگ کا خدشہ ہے،معمولی چنگاری بھی بڑے تصادم کی وجہ بن سکتی ہے،نئی عسکری حکمت عملی، جدید ہتھیار اور بڑھتا اعتماد خطے کو خطرناک تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں اس صورتحال میں چین اور امریکا کی ممکنہ شمولیت دوسری جانب سوشل میڈیا اور غلط معلومات جنگ کو تیزی سے پھیلا سکتی ہیں جس کے نتیجے میں سفارتکاری محدود ہوسکتی ہے حتیٰ کہ اسے واشنگٹن کیلئے بھی روکنا مشکل ہوگا۔

 

 

 الزبتھ نے اپنے مضمون میں لکھا کہ مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والا 4  روزہ شدید عسکری تصادم محض ایک وقتی بحران نہیں تھا بلکہ اس نے جنوبی ایشیا کے سکیورٹی ڈھانچے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کردیا ہے جہاں دونوں ایٹمی طاقتیں نہ صرف روایتی جنگ کو ایٹمی حد سے نیچے رکھتے ہوئے وسعت دینے پر متفق دکھائی دیتی ہیں بلکہ مستقبل کی کسی بھی جنگ میں زیادہ تیز، زیادہ گہرے اور زیادہ تباہ کن حملوں کی تیاری بھی کررہی ہیں۔

الزبتھ تھرلکلڈ نے  لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں کردار کے دعوؤں، بھارت کے دوطرفہ مؤقف، پاکستان کے سخت ردعمل اور چین سمیت بڑی طاقتوں کی ممکنہ شمولیت کے تناظر میں ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آئندہ پاک بھارت بحران نہ صرف زیادہ شدید اور غیر متوقع ہوگا بلکہ واشنگٹن کے لیے اسے کنٹرول کرنا بھی کہیں زیادہ مشکل ہوجائے گا۔

مضمون میں مزید درج ہے کہ نئی جنگی ٹیکنالوجیز، ڈرونز، میزائلز، سائبر و بحری محاذ، غلط معلومات کی یلغار اور پانی جیسے حساس ہتھیار کے استعمال کے امکانات اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں جب کہ دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی خوداعتمادی اور خطرہ مول لینے کی پالیسی کسی بھی محدود تصادم کو تیزی سے وسیع جنگ میں بدل سکتی ہے، ایسی جنگ جو اگرچہ روایتی سطح پر لڑی جائے، مگر غلط اندازوں اور تیز رفتار فیصلوں کے باعث غیر ارادی طور پر ایٹمی تصادم کی دہلیز تک پہنچ سکتی ہے۔

ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی ایران کی نیم س

ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ ملک کی جنوبی بندرگاہ دیر کے ایک ڈاک میں موجود متعدد تجارتی بحری جہازوں میں آگ لگ گئی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔

دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے۔

مہر نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں مزید واضح کیا کہ اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

نظامِ شمسی کے آخری کناروں پر موجود فلکیاتی جسم پر زمین جیسا ماحول دریافت برفانی دنیا میں ایک حیران کن دریافت نے ماہرینِ فلک

نظامِ شمسی کے انتہائی دور دراز حصے، جہاں سردی اور خاموشی کا راج ہے، وہاں ایک نئی سائنسی دریافت نے ماہرینِ فلکیات کو چونکا دیا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان دور افتادہ برفانی اجسام میں صرف پلوٹو ہی ایسا ہے جس کے گرد فضا موجود ہے، لیکن اب ایک نئے دریافت ہونے والے جسم نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔

فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ خبر خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ کائنات کا ایک نیا باب کھولتی ہے۔ نیچر اسٹرونومی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی جسم، جسے (612533) 2002 XV93 کا نام دیا گیا ہے، نیپچون سیارے سے بھی آگے واقع ہے اور ان اجسام میں شامل ہے جنہیں ٹرانس نیپچونین آبجیکٹس کہا جاتا ہے۔

اس کا قطر تقریباً 500 کلومیٹر ہے، جو پلوٹو اور ایریس جیسے بڑے اجسام کے مقابلے میں کافی چھوٹا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی فضا نہایت پتلی ہے، جو زمین کی فضا کے مقابلے میں لاکھوں گنا کمزور اور پلوٹو کی فضا سے بھی کئی گنا ہلکی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس دریافت نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اتنے چھوٹے اور سرد اجسام پر فضا قائم نہیں رہ سکتی۔

رائٹرز کے مطابق ماہر فلکیات کواریماٹسو کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ نظام شمسی کے بیرونی حصے میں موجود یہ چھوٹے برفیلے اجسام اتنے ساکت نہیں جتنے پہلے سمجھے جاتے تھے۔ ان کے مطابق ان میں ایسے عمل جاری ہو سکتے ہیں جن کا ہمیں پہلے اندازہ نہیں تھا۔

سائنسدانوں نے اس فضا کی موجودگی کی دو ممکنہ وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس جسم کے اندر سے گیسیں خارج ہو رہی ہیں، جیسے کہ برفانی آتش فشاں کے ذریعے، جس سے فضا برقرار رہتی ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کسی چھوٹے خلائی جسم کے ٹکرانے سے عارضی طور پر گیسیں خارج ہوئیں، جنہوں نے فضا بنا دی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فضا عارضی ہے تو آنے والے برسوں یا دہائیوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ برقرار رہتی ہے یا موسم کے ساتھ بدلتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اندرونی طور پر گیسوں کی فراہمی جاری ہے۔

اس تحقیق کے لیے جاپان میں موجود زمینی دوربینوں کا استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ایک خاص طریقہ اپنایا جس میں اس جسم کو ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دوران ستارے کی روشنی میں آنے والی تبدیلیوں سے اس جسم کی خصوصیات کا اندازہ لگایا گیا۔

یہ خلائی جسم کوائپر بیلٹ نامی علاقے میں واقع ہے، جو نیپچون سے آگے پھیلا ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 4.5 ارب سال پرانا ہے اور نظام شمسی کی ابتدا کے زمانے کا حصہ ہے۔ یہ سورج کے گرد ایک بیضوی مدار میں گردش کرتا ہے اور ایک چکر مکمل کرنے میں اسے 247 سال لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی ساخت میں برف، چٹانیں اور نامیاتی مادے شامل ہو سکتے ہیں۔ دریافت کے وقت یہ سورج سے تقریباً 5.5 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، جو زمین اور سورج کے فاصلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اگرچہ اس کا موجودہ نام کچھ زیادہ متاثرکُن نہیں، لیکن ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں اسے کوئی بامعنی نام دیا جائے گا۔ اس دریافت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کائنات میں کتنے ایسے راز ابھی باقی ہیں، جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، مگر خاموشی سے اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔

1394 نئی نوکریاں! پاکستانی نوجوانوں کے لیے شاندار موقع

اسلام آباد : 1394 نوکریاں کا اشتہار جاری کرتے ہوئے امیدوار کو 11 مئی 2026 تک درخواستیں جمع کرانے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے جاری بھرتی مہم کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی۔

وزارت داخلہ پاکستان کے تحت جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب امیدوار 4 مئی کے بجائے 11 مئی 2026 تک درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

یہ بھرتی ملک بھر میں 1394 آسامیوں کے لیے کی جا رہی ہے، جس کا اشتہار 19 اپریل کو جاری کیا گیا تھا۔

 

ادارے نے واضح کیا ہے کہ پہلے سے طے شدہ تمام شرائط و ضوابط برقرار رہیں گے، جن میں عمر، تعلیمی قابلیت اور تجربے کی کٹ آف تاریخ 4 مئی 2026 ہی رہے گی۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ امیدواروں کی سہولت اور زیادہ سے زیادہ افراد کو موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ درخواستیں صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے قبول کی جائیں گی، اور دستی درخواستیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔