All posts by Khabrain News

امریکا ایران مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں :چینی صدر

چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس کے دوران چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خصوصاً امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے اہم ترین بیانات دیے ہیں۔

  • مذاکرات کی اہمیت: چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ “امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت خصوصی اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں”۔

  • جنگ بندی پر زور: انہوں نے زور دیا کہ خطے میں جاری لڑائی اور جنگ کو ہر صورت روکنا ہوگا، کیونکہ مزید کشیدگی بڑھانا کسی بھی طور دانشمندی نہیں ہے۔

  • عالمی توانائی کا استحکام: چینی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام سے ہی عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی  کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔

  1. امریکی صدر کا دعویٰ: صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ چین، ایران کو کسی قسم کا فوجی سامان یا ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ تاہم، چینی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔

  2.  دونوں عالمی رہنماؤں (امریکا اور چین) نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عالمی معیشت کو بچانے کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور وہاں سے تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔

  3. مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن: صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران پر مزید حملوں کا ارادہ رکھتے تھے لیکن فی الحال انہوں نے اسے مؤخر کیا ہے اور ایران کو مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے چند دنوں کا وقت دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ کی26 سے 28 مئی تک تعطیلات کا اعلان کردیا

وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ 2026 کے موقع پر سرکاری تعطیلات کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اس حوالے سے کابینہ ڈویژن (Cabinet Division) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی مکمل اور مستند تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • تعطیلات کے دن اور تاریخیں: حکومت نے 26، 27 اور 28 مئی 2026 (بروز منگل، بدھ اور جمعرات) تین دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

  • وزیر اعظم کی منظوری: یہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم شہباز شریف کی باقاعدہ منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

  • اطلاق: ان چھٹیوں کا اطلاق ملک بھر کے تمام وفاقی سرکاری دفاتر، خود مختار اداروں اور محکموں پر ہوگا۔

ہمیں کسی سے کوئی بدلہ لینا ہے نا انتقام

“ہمارا مقصد نہ تو کسی سے بیر رکھنا ہے اور نہ ہی انتقام لینا ہے۔ لگ بھگ پانچ دہائیوں پر محیط سیاسی سفر میں، طلبہ سیاست سے لے کر قومی سیاست تک، ان گنت سیاسی حریف سامنے آئے۔ ہزاروں شناسا اس بات کے گواہ ہیں کہ شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود کسی سے میرے تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے، بلکہ ہمیشہ باہمی احترام کا رشتہ قائم رہا۔

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں دائر کردہ مقدمہ محض میرا ذاتی معاملہ نہیں، بلکہ یہ بلا تفریقِ جماعت ہر اس شہری کا مقدمہ ہے جسے بدنیتی اور سازش کے تحت میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کردار کشی کے اس سلسلے کو اب کہیں نہ کہیں تھمنا ہوگا۔

میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے نام، میرے اہل خانہ یا میرے کسی مینیجر کے نام پر ‘کونسٹی ٹیوشن ون اپارٹمنٹس’ میں سرمایہ کاری یا ملکیت کا کوئی ایک ثبوت پیش کریں، اپنی پوزیشن واضح کریں، ورنہ قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

زہر آلود اور جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عمل جاری رہے گا۔ بہتان تراشی میں ملوث متعدد اکاؤنٹس کی شناخت ہو چکی ہے اور بہت جلد ان کے نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ان اکاؤنٹس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کوئی نادانستہ غلطی نہیں، بلکہ یہ عناصر عادی مجرم ہیں۔ محض چند ویوز، پیسوں اور اپنے آقاؤں کے ایما پر معزز شخصیات کی پگڑیاں اچھالنا ان کا باقاعدہ دھندہ بن چکا ہے۔

یہ کوئی تنقید یا اختلافِ رائے نہیں، بلکہ کردار کشی اور دشنام طرازی پر مبنی ایک منظم اور بیہودہ مہم ہے۔ بہت جلد ان عناصر کے خلاف، ان شا اللہ، ‘پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ’ کے تحت بھی سخت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔”

فیصلہ علیمہ خان نے کرنا ہے کہ دھرنا جاری رکھنا ہے یا ختم کرنا ہے: سہیل آفریدی

حالیہ صورتحال کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی قیادت اور بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اسلام آباد کے چونگی نمبر 26 پر جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ :

  • واقعہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کی قیادت میں ایک قافلہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں داخلے سے روک دیا۔

  • دھرنا: راستے روکے جانے پر مظاہرین نے سرینگر ہائی وے اور جی ٹی روڈ کے سنگم پر واقع چونگی نمبر 26 پر دھرنا دے دیا۔

  • تصادم: دھرنے کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ پی ٹی آئی قیادت کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا اور ربڑ کی گولیاں برسائیں، جس سے متعدد کارکن زخمی ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گاڑی کی چھت پر چڑھ کر کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

  • دھرنے کا خاتمہ: بدھ کی علی الصبح پی ٹی آئی نے چونگی نمبر 26 پر جاری اپنا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے بعد راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے۔

  • اعلانِ قیادت: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شافی جان نے تصدیق کی کہ دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور علیمہ خان بدھ کے روز دوپہر 2 بجے کے پی ہاؤس (KP House) میں ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں دھرنے کے خاتمے کی وجوہات، پولیس تشدد اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں باضابطہ تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھی جائیں گی۔

انمول عرف پنکی کیس میں ایس ایس پی سٹی علی حسن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

انمول عرف پنکی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایس ایس پی سٹی علی حسن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات اور انتظامی معاملات میں پیش رفت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

غزہ جنگ نے اسرائیلی فوج کو تھکا دیا، ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

اسرائیلی فوج شدید افرادی قوت اور نفسیاتی بحران کا شکار: فوجی سروس چھوڑنے والوں میں ریکارڈ اضافہ

یروشلم: اسرائیلی فوج کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، فوجی ملازمت کو خیرباد کہنے والے اہلکاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فوج چھوڑنے والے تقریباً 80 فیصد اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں، جس کے باعث وہ خدمات جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

فوجی حکام کی سنگین وارننگ: اسرائیلی میڈیا کے مطابق، عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے مستقل اور ریزرو (اضافی) فوجیوں پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس بحران کا کوئی فوری اور عملی حل نہ نکالا گیا، تو فوج مستقبل میں جنگی محاذوں اور معمول کی سکیورٹی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہو جائے گی۔

ڈیوٹی کے دنوں میں کئی گنا اضافہ: رپورٹ کے مطابق، موجودہ جنگ سے قبل ریزرو فوجیوں کو تین سال کے عرصے میں صرف 25 دن کی خدمات انجام دینا پڑتی تھیں، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک متعدد اہلکار 170 دن سے بھی زائد کی ڈیوٹی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے سال 2026 میں ریزرو ڈیوٹی کو 80 سے 100 دن تک محدود کرنے کا ہدف طے کیا تھا، تاہم ایران اور لبنان کے محاذوں پر اضافی عسکری مشنز کے باعث کئی یونٹس پہلے ہی اس حد کو پار کر چکے ہیں۔

مسلسل لڑائی اور شدید تھکن: طویل جنگ کے نتیجے میں جہاں ہزاروں فوجی زخمی ہوئے، وہاں ایک بڑی تعداد نے عسکری سروس ہی چھوڑ دی ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ مہینوں سے جاری مسلسل لڑائی نے اہلکاروں کو شدید جسمانی تھکن اور اعصابی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مستقل فوجیوں کو بغیر کسی وقفے کے فرائض انجام دینا پڑ رہے ہیں، اور انہیں آرام یا مناسب تربیت کے لیے وقت نہیں مل پا رہا۔ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ عسکری نظام جنگی اہلکاروں کو مختصر آرام دینے میں بھی ناکام ثابت ہو رہا ہے، جس سے فوج کی مجموعی کارکردگی اور جنگی تیاری شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

الٹرا آرتھوڈوکس یہودی اور بھرتی کا تنازع: فوجی اندازوں کے مطابق، اس وقت تقریباً 80 ہزار اسرائیلی شہری قانون کے باوجود عسکری بھرتی سے بچ رہے ہیں، جن میں سے 75 فیصد کا تعلق الٹرا آرتھوڈوکس (کٹر مذہبی) یہودی طبقے سے ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت کی جانب سے لازمی فوجی سروس اور ریزرو ڈیوٹی سے متعلق فوری قانون سازی کو الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو استثنیٰ دینے والے متنازع بل کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور فوج میں افرادی قوت کا بحران سنگین ہو رہا ہے۔

قوانین میں تاخیر اور آپریشنل خطرات: اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس استثنیٰ بل، لازمی فوجی سروس کی مدت میں اضافے کے بل اور ریزرو ڈیوٹی میں توسیع کے بل کو الگ الگ منظور کیا جانا چاہیے۔ ان تمام قوانین کو ایک ساتھ جوڑنے کی وجہ سے وہ دو اہم ترین قوانین تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں جن کی فوج کو افرادی قلت دور کرنے کے لیے فوری ضرورت ہے۔

فوج کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ لازمی فوجی سروس کو موجودہ 32 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کیا جائے۔ فوج نے جنوری 2024 میں پہلی بار اس کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سیاسی تنازعات کے باعث اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ عسکری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس تاخیر کے آپریشنل اثرات انتہائی سنگین ہوں گے کیونکہ ہزاروں جنگی فوجی جنوری میں ریٹائر ہونے والے ہیں، جبکہ نئے رنگروٹوں کی تربیت اب تک مکمل نہیں ہو سکی۔

ہزاروں فوجیوں کی فوری کمی: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی فوج کو اس وقت تقریباً 12 ہزار لازمی فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جن میں 6 سے 7 ہزار تک فرنٹ لائن پر لڑنے والے جنگی اہلکار شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوجی سروس کی موجودہ مدت میں کمی کی گئی، تو مزید 4 ہزار فوجیوں کی فوری قلت پیدا ہو جائے گی، جو طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

4,500 کلومیٹر سائیکل پر طے کر کے بیلجین نوجوان حج کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

بیلجیم سے تعلق رکھنے والے نوجوان انس الرزقی کا سائیکل پر حج کا تاریخی سفر: عزم و استقلال کی نئی مثال قائم

بروکسل / مکہ مکرمہ: ایمان کا جذبہ سچا ہو تو منزل جتنی بھی کٹھن ہو، راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے بیلجیم سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ مسلم نوجوان انس الرزقی نے، جنہوں نے سال 2025 کے متبادل اور یادگار ترین حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سائیکل پر ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے عزم، ہمت اور عقیدت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ انس الرزقی نے محض اپنے شوق اور ایمانی جذبے کے بل بوتے پر بیلجیم سے مکہ مکرمہ تک کا 4,500 کلومیٹر طویل اور صبر آزما سفر سائیکل پر مکمل کیا۔

رمضان المبارک میں سفر کا آغاز اور کٹھن مراحل: انس الرزقی نے اپنے اس مقدس اور تاریخی سفر کا آغاز ماہِ رمضان کے مبارک مہینے میں کیا۔ شدید موسمی تبدیلیوں اور روزے کی حالت کے باوجود، ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ وہ روزے کی حالت میں روزانہ تقریباً 100 کلومیٹر تک سائیکل چلاتے تھے، جو کہ بذاتِ خود ایک جسمانی اور ذہنی امتحان تھا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد، وہ رات کے قیام کے لیے کسی بھی قریبی علاقے کی مسجد کا رخ کرتے، جہاں وہ نہ صرف آرام کرتے بلکہ اگلی صبح کے سفر کے لیے خود کو روحانی طور پر تیار بھی کرتے۔

13 ممالک کا سفر اور تنہا مہم جوئی: تین ماہ سے زائد عرصے پر محیط اس کٹھن اور تنہا مہم کے دوران انس الرزقی نے جغرافیائی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے جرمنی، آسٹریا، اٹلی، اور بوسنیا و ہرزیگووینا سمیت یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے 13 مختلف ممالک کا سفر کیا۔ ان کا یہ سفر صرف ایک جسمانی سفر نہیں تھا، بلکہ مختلف ثقافتوں اور لوگوں سے جڑنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی بنا۔

سعودی سرحد پر فقید المثال استقبال: مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے انس الرزقی بالاخر اردن کے راستے سعودی عرب کی ‘حالتِ عمار’ نامی سرحدی چوکی پر پہنچے۔ سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی وہاں کے حکام، سیکورٹی اہلکاروں اور مقامی شہریوں نے ان کا انتہائی پُرتپاک اور فقید المثال استقبال کیا۔ انس الرزقی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور روایتی عربی قہوے اور کھجوروں سے ان کی تواضع کی گئی۔

سعودی حکام نے نوجوان کے اس بے مثال جذبے کی پذیریائی کرتے ہوئے ان کے مکہ مکرمہ کے سفر اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے تمام تر ضروری اور وی آئی پی  سہولیات فوری طور پر فراہم کیں، تاکہ وہ اپنے زندگی کے سب سے بڑے خواب کو سکون اور اطمینان کے ساتھ پورا کر سکیں۔ انس الرزقی کا یہ سفر دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے کہ سچی لگن ہو تو کوئی بھی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا دورہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے استقبال کیا

وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے کوئٹہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا دورہ کیا جہاں Asim Munir نے ان کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو پیشہ ورانہ تربیت، قومی سلامتی اور دفاعی امور سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ ملکی سلامتی اور عسکری تیاریوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

سبینا فاروق نے انمول پنکی سے متعلق کیا کہا؟

اداکارہ سبینا فاروق نے انمول پنکی کیس کے مزاحیہ تبصرہ کیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اسٹوری میں اداکارہ سبینا فاروق نے اپنی تصویر شیئر کی جس میں وہ گاڑی میں موجود ہیں اور چائے کُلچے کھا رہی ہیں۔

انہوں نے پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ’پنکی کے پاس ہوں گے مہنگے نشے لیکن اصل نشہ تو چائے کلچے میں ہی ہے۔

واضح رہے کہ انمول پنکی کو کوکین کیس میں 12 مئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور 22 مئی تک انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

 

گرفتار ملزمہ نے دوران تفتیش کئی اہم انکشافات کیے ہیں اور کئی بڑے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

گوگل نے اپنے نئے ایپ آئیکونز متعارف کرا دیے

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے نئے، ری ڈیزائن کیے گئے اور کچھ حد تک منفرد نظر آنے والے ایپ آئیکونز تمام صارفین کے لیے متعارف کرانے شروع کر دیے ہیں۔ یہ نئے آئیکونز گزشتہ ماہ پہلی بار سامنے آئے تھے اور تب سے ان پر سوشل میڈیا پر خوب بحث جاری ہے۔

 

نئے ڈیزائن میں گوگل نے اپنی پرانی روایت توڑ دی ہے۔ اب ہر ایپ آئیکون میں لازمی طور پر گوگل کے چاروں مشہور رنگ استعمال نہیں کیے جا رہے۔ کئی نئے آئیکونز میں کم رنگ، زیادہ گریڈیئنٹس اور پہلے سے زیادہ شوخ اور وائبرنٹ انداز اپنایا گیا ہے۔

 

صارفین کی رائے ان نئے آئیکونز پر منقسم نظر آ رہی ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ تبدیلی پسند نہیں آئی، جبکہ کئی صارفین خوش ہیں کہ گوگل اب پرانے ڈیزائن سے نکل کر جدید اسٹائل کو اپنا رہا ہے۔

گوگل کی جانب سے اپ ڈیٹ کا عمل جاری ہے اور اس کے مکمل اجرا میں ممکنہ طور پر وقت لگ سکتا ہے۔