All posts by Khabrain News

وائٹ ہاؤس میں محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آتا، ٹرمپ کا ردعمل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سرکاری ڈنر کے موقع فائرنگ کے واقعے پر ردعمل میں کہا ہے کہ اگر وہاں ایک بڑا محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا جبکہ بال روم کی تعمیر کے خلاف ایسا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ رات جو واقعہ پیش آیا اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہماری عظیم فوج، سیکرٹ سروس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مختلف وجوہات کی بنا پر گزشتہ 150 برس کے دوران ہر صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک بڑا، محفوظ اور سیکیور بال روم تعمیر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں اس وقت زیرتعمیر ملیٹری ٹاپ سیکرٹ بال روم موجود ہوتا تو یہ واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اس کی تعمیر جتنی جلدی ہو سکے مکمل ہونی چاہیے، اگرچہ یہ خوبصورت ہے لیکن اس میں اعلیٰ ترین سطح کی تمام سیکیورٹی خصوصیات موجود ہیں اور اس کے اوپر کوئی ایسے کمرے نہیں ہیں جہاں غیر محفوظ افراد جمع ہو سکیں، یہ دنیا کی سب سے محفوظ عمارت وائٹ ہاؤس کے دروازے کے اندر واقع ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ محفوظ بال روم کی تعمیر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ مضحکہ خیز ہے، جو ایک خاتون نے اپنے کتے کو ٹلاتے ہوئے دائر کیا ہے، جن کو ایسا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے اور اس مقدمے کو فوری ختم کردینا چاہیے۔

لاہور: ریسٹورنٹ رائیڈر سے مبینہ ڈکیتی کا ڈراپ سین، ڈرامہ بے نقاب

لاہور کے علاقے سندر میں ریسٹورنٹ رائیڈر سے مبینہ ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین ہو گیا، پولیس نے تحقیقات کے بعد واقعے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مرکزی ملزم کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے تھانہ سندر میں ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر ڈکیتی کی اطلاع دی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نامعلوم ملزمان نے گن پوائنٹ پر 3 لاکھ 46 ہزار روپے نقدی، موبائل فون اور پرس چھین لیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔

 

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش اور شواہد کے جائزے میں ڈکیتی کا واقعہ بے بنیاد ثابت ہوا۔ ملزم احسان، جو ایک ریسٹورنٹ رائیڈر ہے، کمپنی کی رقم بینک میں جمع کرانے کے لیے نکلا تھا، تاہم رقم خردبرد کرنے کے لیے اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا۔

 

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم احسان کو اس کے دو ساتھیوں احمد اعجاز اور حسنین سمیت گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 1312/26 درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایمرجنسی نمبر 15 پر جھوٹی کال کرنا قانوناً جرم ہے، لہٰذا صرف حقیقی ہنگامی صورتحال میں ہی اس نمبر کا استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت متحرک ہے۔

کاٹن ایکس چینج کی عمارت 4 ماہ سے سربمہر، پاکستان عالمی کاٹن مارکیٹس میں نمائندگی سے محروم

امریکا ایران کشیدگی کے باعث پاکستانی روئی کی درآمدات اور کاٹن پراڈکٹس کی برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ 4 ماہ سے کاٹن ایکس چینج کی عمارت سربمہر ہونے سے کے سی اے اسپاٹ ریٹ بھی بدستور معطل ہیں۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کے عدم اجراء کے سبب گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے ایک بڑا پروڈیوسر ہونے کے باوجود پاکستان عالمی کاٹن مارکیٹس میں نمائندگی سے محروم ہے، اسپاٹ ریٹ کے عدم اجراء سے مقامی بینکنگ انڈسٹری کو بھی ٹیکسٹائل ملوں اور جننگ فیکٹریوں کو اسپاٹ ریٹ کی بنیاد پر  قرضوں کے اجرا میں دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ انشورنس کمپنیوں کو بھی کاٹن فائر کلیمز کے تصفیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

 

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ 12دسمبر 2025 کو ملکیتی تنازع کی بنیاد پر کے سی اے کی بلڈنگ کو سربمہر کر دیا گیا تھا جس کے بعد عدالت عالیہ میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے لیکن عمارت ڈی سیل نہ ہونے سے کے سی اے کی جانب سے کاٹن اسپاٹ ریٹ کا اجراء تاحال معطل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے پاکستان کے متعدد کاٹن زونز میں کپاس کی بوائی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ سندھ کے ان ساحلی علاقوں جہاں کپاس کی بوائی فروری اور مارچ میں کی گئی تھی وہاں کپاس کی چنائی جلد ہونے سے پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن تاریخ میں پہلی بار مئی کے وسط میں شروع ہونے کا امکان ہے جو مقامی ٹیکسٹائل ملوں کے لیے کپاس کی نئی فصل کی روئی کی جلد دستیابی کا باعث بنے گی۔

 

انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل مئی کی مختلف تاریخوں کو ڈلیوری کی بنیاد پر سندھ کے کئی ساحلی علاقوں میں کپاس کی نئی فصل جبکہ سانگھڑ اور بورے والا میں نئی روئی کی خرید فروخت کے پیشگی سودوں کا تیزی سے آغاز ہوا تھا اور اس دوران کپاس کے سودے 10ہزار سے 10ہزار 500روپے فی 40 کلو گرام جبکہ روئی کے سودے 21ہزار 500روپے فی من میں طے ہوئے تھے تاہم اب ان میں تیزی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کیونکہ خلیج میں جنگی حالات کی وجہ روئی کی درآمدی سرگرمیاں معطل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گذشتہ ہفتے کے فی من روئی کی قیمت 21ہزار 500روپے پر مستحکم رہیں، بھارت میں بہترین معیار کی روئی سے تیار ہونے والے سوتی دھاگے کی بڑھ پیمانے پر چین کو برآمد کی جارہی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ بھارت سے چین کو ماہوار سوتی دھاگے کے 1500کنٹینرز برآمد ہورہے ہیں۔ فی کنٹینر میں 30ہزار ٹن سوتی دھاگے کا حامل ہے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ پاکستان کے تمام کاٹن زونز میں گنے کی ریکارڈ کاشت کے باعث جہاں پاکستان میں کپاس کی پیداوار 15ملین7 گانٹھ سے کم ہو کر 6ملین گانٹھ سے بھی نیچے آگئی ہے وہیں گنے کی کاشت سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس اور روئی کا معیار بری طرح متاثر ہونے سے پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان میں کپاس کی بحالی کے لئے اب تک کوئی بھی عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے۔

میزائیلوں کے انبار جمع کرتا بھارت

بھارتی حکومت نے27مارچ کو بطور فوجی جدید کاری کی تیز رفتار مہم 25 بلین ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کرنے کی منظوری دے دی۔اس خطیر رقم سے روسی ساختہ S-400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم، مختلف اقسام کے طیارے اور آرٹلری (توپ خانہ) سسٹم خریدے جائیں گے۔خریداری کی ان تجاویز کو ڈیفنس ایکوزیشن کونسل (DAC) نے منظور کیا جو بھارتی وزارتِ دفاع میں فوجی خریداری سے متعلق فیصلہ سازی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ اس کی صدارت وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی تھی۔

وزارت دفاع کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان منظوریوں میں اضافی روسی S-400 ٹرائمف سسٹم، سوویت دور کے پرانے An-32 اور Il-76 طیاروں کی جگہ نئے ٹرانسپورٹ طیارے اور مختلف آرٹلری سسٹم شامل ہیں۔ وزارت نے مزید بتایا کہ ان خریداریوں میں فوج کے لیے ٹینک شکن گولہ بارود ، گن سسٹم اور فضائی نگرانی کے نظام، فضائیہ کے زیرِ استعمال Su-30 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ بھی شامل ہیں۔

نئی منظوریوں میں S-400 کے پانچ یونٹ شامل ہیں جو ان پانچ یونٹس کے علاوہ ہیں جن کا معاہدہ بھارت نے 2017 ء میں کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں سے تین پہلے ہی فراہم کیے جا چکے جبکہ بقیہ دو کی رواں سال آمد متوقع ہے۔ 2025 ء میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھارتی فوج نے ان سسٹمز کی کارکردگی کو سراہا تھا۔مزید برآں بھارتی وزارت دفاع نے 27 مارچ کو ہی روس کے فوجی برآمد کنندہ، روسو بورون ایکسپورٹ کے ساتھ بھارتی فوج کے لیے ٹنگوسکا (Tunguska) ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کے حصول کے لیے 4.45 بلین روپے (47 ملین ڈالر) کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے مجموعی طور پر31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال میں 6.73 ٹریلین روپے (71 بلین ڈالر) مالیت پہ مشتمل 55 عسکری تجاویز کی منظوری دی اور مزید 503 تجاویز کے لیے 2.28 ٹریلین روپے کے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دونوں اعداد و شمار کسی بھی ایک مالی سال میں سب سے زیادہ ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا کا پانچواں بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک اور یوکرین کے بعد اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ بھارتی اسلحے کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ سوویت یا روسی ساختہ ہے، اگرچہ ملک اب فرانس، امریکہ، اسرائیل اور جرمنی سمیت سپلائرز کی ایک وسیع رینج سے ٹکنالوجی اور ساز و سامان حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سسٹمز کا حصہ بھی بڑھا رہا ہے۔

یہ اطلاع بھی ہے کہ روس نے بھارت کی اسٹریٹجک فضائی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی صلاحیتوں کی پیشکش کی ہے۔ اس تجویز میں روس کا پینٹسر (Pantsir) شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم شامل ہو سکتا ہے جو اہم فوجی اور تزویراتی مقامات کو بڑے حملوں سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیکیج بھارت کے موجودہ فضائی دفاعی نیٹ ورک کو مزید مکمل کرے گا جس میں پہلے ہی روس کے فراہم کردہ سسٹمز کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں۔

روس بھارت کو ‘پینٹسر-S1M زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور گن سسٹم فراہم کرنے کی پیشکش کے لیے تیار ہے تاکہ ملک کے موجودہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے S-400 ٹرائمف سسٹمز کو موثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پینٹسر-S1M بغیر پائلٹ کے فضائی طیاروں (UAVs) سمیت تمام اقسام کے ایرو ڈائنامک اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

یہ یاد رہے، غیر ملکی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ’’بدترین شکست‘‘ قرار دیے جانے کے بعد سے مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطّے میں بڑھتی عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملی ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت بھارت کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر چکی جو کہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 1.9 فیصد بنتا ہے۔ بھارتی حکومت رواں سال دفاع پر 85.4 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ نئے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر اسلحہ جمع کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔اپنے جنگی جنون اور جارحانہ فوجی تیاریوں کو تیز کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے ابً 25 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔

اہل پاکستان کے لیے یہ امر لمحہ فکریہ اور خطرے کی گھنٹی ہے کہ بھارت اس وقت اس پیمانے اور تزویراتی گہرائی کے ساتھ میزائلوں کا ذخیرہ جمع کر رہا ہے جو اُسے ابھرتی ہوئی کثیر قطبی (multipolar) دنیا کی اہم ترین فوجی قوتوں میں شامل کردیتا ہے۔ بھارت کے ماہرین عسکریات کا دعوی ہے کہ ان کی مملکت کا حفاظتی تخمینہ بیک وقت دو ایٹمی مسلح ریاستوں کے خلاف معتبر دفاع (deterrence) برقرار رکھنے کی ضرورت سے مشروط ہے: مغرب میں پاکستان جو تقسیم کی تاریخ، علاقائی تنازعات اور بار بار پیدا ہونے والے فوجی بحرانوں کے باعث بھارت سے جڑا ہوا ہے۔اور شمال و مشرق میں چین جس کی بڑھتی روایتی اور اسٹریٹجک صلاحیتیں حل طلب سرحدی تناؤ کے ساتھ جڑی ہیں۔ اس انتہائی عسکری ماحول میں بھارت کی قومی دفاعی منصوبہ بندی میں میزائل سازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کم ازکم تیس تا چالیس کروڑ لوگ غربت کی لکیر تلے زندگی گذار رہے ہیں۔ یہ افسوس ناک صورت حال ہے کہ مودی حکومت ان کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے کھربوں روپے انسانوں کو قتل کرتے ہتھیار خریدنے پہ خرچ کر رہی ہے۔ ایسی انسان دشمن حکومتوں کی وجہ سے ہی کرہ ارض پہ نفرت و دشمنی کا ماحول بنا ہے اور محبت و امن کے مثبت جذبوں کو گزند پہنچی ہے۔

پچھلی کئی دہائیوں میں بھارت نے محدود فاصلے کے حامل میزائیل سسٹمز سے ترقی کرتے ہوئے ایک ایسی تہہ در تہہ ساخت اپنائی ہے جس میں مختصر اور درمیانی فاصلے کے بیلسٹک میزائل، بین البراعظمی پلیٹ فارم، سمندر سے چھوڑے جانے والے ایٹمی ترسیل کے نظام اور آواز کی رفتار سے تیز سپرسونک کروز میزائل شامل ہیں جنہیں زمین، سمندر اور فضا سے داغا جا سکتا ہے۔

زمین پر مبنی بیلسٹک میزائل: بنیادی دفاع کی تشکیل

بھارت کی موجودہ میزائل پوزیشن دہائیوں کی مسلسل تکنیکی ترقی پر مبنی ہے جو محض فوجی استعمال تک محدود نہیں ۔ 1994 ء سے بھارت کے پاس ملکی تیار کردہ لانچ وہیکلز کے ذریعے پے لوڈز کو مدار میں بھیجنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ آزادانہ طور پر سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے والا آٹھواں ملک بن گیا ہے۔ یہ کامیابی 1970 ء کی دہائی میں سیٹلائٹ کی تیاری کے سلسلے میں سوویت یونین کے ساتھ تعاون سے شروع ہوئی۔اس کے بعد بتدریج مقامی ڈیزائن، انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مستحکم کیا گیا۔ اب یہ صنعتی بنیاد بھارتی کمپنیوں کو بیلسٹک میزائل سسٹمز کی ایک وسیع رینج تیار کرنے کے قابل بنارہی ہے۔ان میں بین البراعظمی رسائی والے طویل فاصلے کے پلیٹ فارم شامل ہیں اور موجودہ ترجیح 8 ہزار کلومیٹر تک کی رینج والے میزائل سسٹمزکو بہتر بنانے پر ہے۔

یہ صلاحیتیں ایک مربوط تکنیکی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جہاں سویلین اسپیس لانچ کا تجربہ، پروپلشن پر تحقیق، گائیڈنس سسٹمز اور میٹریل انجینئرنگ براہ راست اسٹریٹجک میزائل کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔ اس مہارت کی بدولت بھارت بیلسٹک سسٹمز کی نسل در نسل کو ترقی کرنے میں کامیاب ہوا ہے جس سے رینج اور پے لوڈ کی نفاست میں اضافہ ہوا اور آپریشنل لچک پیدا ہوئی ۔

بھارت کی زمین پر مبنی بیلسٹک میزائل فورسز اس کے تزویراتی دفاعی ڈھانچے کا مرکزی ستون ہیں اور جو کئی دہائیوں کے دوران تیار کردہ جدید ترین سسٹمز کے ذریعے پروان چڑھی ہیں۔ اس شعبے میں پہلا کامیاب قومی منصوبہ ’’پرتھوی SS-150 آپریشنل ٹیکٹیکل میزائل سسٹم ‘‘تھا جسے 150 کلومیٹر کی رینج کے لیے ڈیزائن کیا گیا اور یہ سوویت ‘اسکڈ’ (SCUD) میزائیل کے مماثل تھا۔ پرتھوی نے اپنی پہلی پرواز 1988 ء میں کی تھی اور آج بھی اس کے متعدد ورژن زیرِ استعمال ہیں جن کی رینج تقریباً 250 کلومیٹر تک ہے۔ اگرچہ یہ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ نظام بنیادی طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور چین کے تبت سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں روایتی استعمال کے لیے ہے۔

پاکستان اور چین کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی ضرورت کے پیش نظر 1980ء کی دہائی میں ’’اگنی‘‘ پروگرام شروع کیا گیا جس میں توجہ طویل فاصلے تک مار کرتے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل بنانے پر تھی۔ اگنی اول جس نے پہلی بار 1989 ء میں اڑان بھری، تقریباً 1200 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے اور ایٹمی وار ہیڈ سے لیس ہے۔ ایسے کم از کم 70 میزائل نصب ہیں جنہیں ٹرکوں یا ریل سسٹم پر لگے موبائل لانچ پلیٹ فارمز کی مدد حاصل ہے،یہ پورے بھارتی علاقے میں ان کی نقل و حرکت اور بقا ممکن بناتے ہیں۔

رینج میں مزید توسیع 2002 ء میں اگنی دوم کے متعارف ہونے سے حاصل ہوئی جس نے حملے کی صلاحیت کو تقریباً 2500 کلومیٹر تک بڑھا دیا۔ اگنی اول کے ڈیزائن کی بنیاد پر تیار کردہ یہ متحرک نظام سڑک اور ریل کے ذریعے نقل و حمل کی سہولت برقرار رکھتے ہوئے وسطی اور مغربی چین میں اہداف تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مسلسل ترقی نے 2006 ء تک اگنی سوم کو جنم دیا، جس کی رینج 5000 کلومیٹر تک ہے۔اس نے ایک مضبوط علاقائی دفاعی فریم ورک قائم کر دیا

 

بعد کے ورژنوں بشمول اگنی چہارم اور اگنی پنجم نے بھارت کی رسائی کو بین البراعظمی دائرے تک پھیلا دیا۔ اگنی پنجم 8000 کلومیٹر تک کی رینج رکھتا ہے اور اس میں ’’ملٹی پل انڈیپینڈنٹلی ٹارگیٹ ایبل ری اینٹری وہیکل‘‘ (MIRV) ٹیکنالوجی شامل ہے جو ایک ہی میزائل کو مختلف اہداف کے لیے مختص کئی بم لے جانے کے قابل بناتی ہے۔ اس کی تعیناتی 2018 ء کے آس پاس شروع ہوئی تھی اور موجودہ اندازوں کے مطابق بھارت کے پاس ایسے کئی درجن میزائل سسٹم موجود ہیں۔ اگنی پنجم کے فریم ورک کے اندر جاری تکنیکی بہتری میں درستگی بڑھانے اور آپریشنل اختیارات وسعت دینے کی کوششیں شامل ہیں۔ان میں غیر جوہری ورژن بھی شامل ہیں جو محدود شدت والے حالات میں نپا تلا جواب دینے کے لیے بنائے گئے ۔

پرتھوی اور یکے بعد دیگرے اگنی سسٹمز کی تہہ در تہہ ترقی کے ذریعے بھارت نے زمین پر مبنی ایک ایسی میزائل فورس تشکیل دے دی جو ٹیکٹیکل، انٹرمیڈیٹ اور بین البراعظمی رینج تک پھیلی ہوئی ہے اور جو اس کی دفاعی پوزیشن کا بنیادی حصہ ہے۔

 

بحری حصہ: ایٹمی تثلیث (Nuclear Triad) کی تکمیل

بھارت کی اسٹریٹجک فورسز کے بحری جزو کو اس لیے تیار کیا گیا تاکہ سمندر پر مبنی ایٹمی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک محفوظ ’’سیکنڈ اسٹرائیک‘‘ (جوابی حملے) کی صلاحیت حاصل کی جا سکے۔ یہ کوشش ’’اریہانت کلاس‘‘ آبدوز پروگرام کے تحت ایٹمی توانائی سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزوں کی شمولیت کے ذریعے حقیقت بنی جو مکمل ایٹمی تثلیث فعال کرنے کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ توقع ہے کہ صفِ اول کی آبدوز، آئی این ایس اردھمن ڈیزائن، ٹیسٹنگ اور سمندری آزمائشوں کے طویل عرصے کے بعد اس سال اپریل-مئی میں سروس میں داخل ہو جائے گی۔اس سے سمندر میں مسلسل دفاعی گشت کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم ہو جائے گا۔

یہ آبدوزیں مقامی طور پر بھارت کے دفاعی تحقیقی ادارے، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی نگرانی میں تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہیں جو بحری پروپلشن کی مہارت کو جدید میزائل انجینئرنگ کے ساتھ یکجا کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر تعینات کیا گیا سسٹم، K-15 ساگاریکا تقریباً 750 کلومیٹر کی رینج فراہم کرتا ہے اور یہ بھارت کا پہلا فعال سمندر پر مبنی ایٹمی ترسیل کا پلیٹ فارم ہے۔ بعد کی ترقی نے K-4 میزائیل متعارف کرایا جس نے بھارتی آبدوز فورس کی رسائی کو تقریباً 3500 کلومیٹر تک بڑھا دیا۔اس سے محفوظ گشتی علاقوں سے دور دراز کے اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانا ممکن ہو گیا۔

آئی این ایس اردھمن سمیت اضافی آبدوزوں کی شمولیت بھارتی جنگی بیڑے کا سائز بڑھانے اور گشت کے تسلسل کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے ہی یہ اثاثے بھارتی بحریہ کے کمانڈ اسٹرکچر میں ضم ہوں گے، یہ ایک ایسا مستقل پلیٹ فارم فراہم کریں گے جو دشمن کے پہلے حملے کو برداشت کرنے اور جوابی کارروائی کی صلاحیت یقینی بنانے کے قابل ہوگا۔

ڈی آر ڈی او اور تکنیکی خودمختاری کا نظریہ

یہ بات قابل ذکر ہے،بھارت کے اسٹریٹجک میزائل اور دفاعی پروگراموں کی ادارہ جاتی ریڑھ کی ہڈی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) ہے جس نے اسٹریٹجک سسٹمز کی کئی نسلوں میں پروپلشن سسٹم، گائیڈنس ٹیکنالوجیاں، ری اینٹری وہیکلز اور ڈیلیوری پلیٹ فارموں کی مربوط ترقی کی نگرانی کی ہے۔ لیبارٹریوں اور تحقیقی مراکز کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتے ہوئے ڈی آر ڈی او نے سائنسی تحقیق، صنعتی پیداوار اور فوجی ضروریات کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے ، اہم ٹیکنالوجیاں قومی کنٹرول میں رہیں۔

بیلسٹک میزائل سازی کے ابتدائی مراحل سے لے کر ایم آئی آر وی (MIRV) ٹیکنالوجی سے لیس بین البراعظمی نظاموں کی تیاری تک ڈی آر ڈی او نے مقامی ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ پر مبنی بتدریج صلاحیتوں میں اضافے کے ایک منظم پروگرام پر عمل کیا ہے۔ اس فریم ورک نے بھارت کو اسٹریٹجک نظاموں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے قابل بنایا ہے جس میں تصّوراتی ڈیزائن، میٹریل انجینئرنگ، پروپلشن ریسرچ، فلائٹ ٹیسٹنگ اور بڑے پیمانے پر پیداوار شامل ہیں۔ ان مہارتوں کے استحکام نے حساس شعبوں میں بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کر دیا اور بھارت کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا ہے۔

تکنیکی خودمختاری پر اس زور نے خریداری اور پیداواری پالیسی کو بھی تشکیل دیا ہے جس میں مقامی صنعتی شرکت اور اہم اجزا کی مقامی سطح پر تیاری کو مسلسل ترجیح دی گئی ہے۔ تحقیقی اداروں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے مینوفیکچررز کے درمیان قریبی ہم آہنگی کے ذریعے ڈی آر ڈی او نے ایک ایسا مربوط نظام تیار کیا ہے جو سویلین خلائی لانچ کی سرگرمیوں اور جدید فوجی پروگراموں، دونوں کو سہارا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اور یہ ڈی آر ڈی او ہی ہے جو روس و بھارت کے مشترکہ برہموس (BrahMos) میزایئل منصوبے میں بھارتی شراکت دار ہے۔

برہموس: پاک-روسی تعاون کا علمبردار

برہموس روس اور بھارت کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے اور اسے جدید فوجی-تکنیکی تعاون کی کامیاب ترین مثالوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ روس کے ’’اونیکس‘‘ (Oniks) میزائل مشترکہ ادارے ،برہموس ایرو اسپیس کے ذریعے بھارتی اجزا کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں۔ برہموس کا نام دریائے برہم پترا اور دریائے موسکوا (Moskva) کے ناموں سے ماخوذ ہے اور جو دونوں ممالک کے مشترکہ قومی مفادات کی علامت ہے۔ روس کی جانب سے اس منصوبے میں ’’NPO Mashinostroyeniya‘‘ نامی راکٹ ڈیزائن بیورو شامل ہے جو اونیکس میزائل بناتا ہے۔

مختلف پلیٹ فارموں یعنی بحری جہازوں، آبدوزوں، زمینی اور فضائی میزائل سسٹمز سے داغے جانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے برہموس میزائل کی پہلی بار نمائشMAKS-2001 ایئر شو میں کی گئی تھی۔ اس کی آزمائش 2001 ء میں شروع ہوئی اور جنوری 2004 ء میں مشترکہ پیداوار کا آغاز ہوا، جس کا بنیادی مقصد بھارتی بحریہ کو لیس کرنا تھا۔ بھارت اب میزائلوں کی حتمی اسمبلی، لانچرز کی تیاری اور سافٹ ویئر کے ساتھ اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم خود تیار کرتا ہے۔

برہموس ایک سپرسونک کروز میزائل ہے جو ٹھوس ایندھن والے بوسٹر اور ریم جیٹ انجن سے لیس ہے۔ یہ 8.9 میٹر طویل ٹرانسپورٹ لانچ کنٹینر میں محفوظ کیا جاتا ہے اور اس کا وزن تقریباً تین ٹن ہے۔ اس کی آپریشنل رینج کم از کم 290 کلومیٹر ہے، جو میزائل ٹیکنالوجی کی برآمد کے بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ہے۔ مزید برآں 400 کلومیٹر رینج والے مکمل طور پر مقامی ورژن کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے ڈھائی گنا زیادہ (2.8 ماخ سے زیادہ) کی رفتار سے اڑتا اور 300 کلوگرام تک وزنی وار ہیڈ لے جاتا ہے۔یہ خاصیت اِسے کسی بھی طبقے کے بحری جہازوں کے خلاف موثر بنا دیتی ہے۔

بحری جہازوں پر تعیناتی کے بعد برہموس میزائلوں کو زمین پر موبائل لانچرز سے لیس متعدد رجمنٹوں کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ مزید یہ میزائل نہ صرف بحری جہازوں بلکہ زمین پر موجود اہداف بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پچھلے سال بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران برہموس میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

برہموس میزائل کا فضائی ورژن بھی، جسے برہموس اے کہا جاتا ہے، حال ہی میں تیار کیا گیا ہے جس کی آزمائشیں جاری ہیں۔ یہ میزائل روسی ساختہ Su-30MKI کثیر المقاصد لڑاکا طیارے کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سپرسونک فضائی برہموس-اے میزائلوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بھارت کے پاس درجنوں ایسے طیارے ہوں گے جو دشمن کے فضائی دفاعی زون میں داخل ہوئے بغیر ایٹمی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ قدرتی طور پر ایک ہائپرسونک پینترا باز (maneuverable) میزائل کسی بھی جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

روسی میزائیل سسٹم اور ہائپرسونک اُفق

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ برہموس منصوبے کے اگلے مرحلے میں روس کے زرکون (Zircon) ہائپرسونک میزائل پر مبنی میزائل سسٹم کی مشترکہ تیاری شامل ہو جائے۔ آیا یہ ’’برہموس-دوم‘‘ پروجیکٹ کی شکل اختیار کرے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ زرکون میزائل اُسی روسی ڈیزائن بیورو نے تیار کیے ہیں جو برہموس پروگرام میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ بھارت کے فضائی دفاعی ہتھیاروں میں جدید روسی S-400 میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔ یہ نظام 300 کلومیٹر تک کی دوری پر زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی فراہمی کا معاہدہ 2018 ء میں ہوا تھا۔ 2025 ء کے تنازع میں S-400 سسٹمز نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسی لیے اضافی یونٹس حاصل کرنے کی خاطر بھارت کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ مستقبل میں بھارت روس کا تیار کردہ زیادہ جدید S-500 میزائیل ڈیفنس سسٹم بھی حاصل کر سکتا ہے۔

آنے والے مہینے واضح کریں گے کہ روس اور بھارت کے مابین آیا مزید تعاون کے قوی امکانات موجود ہیں یا بھارت مکمل طور پر اپنے میزائل سسٹم تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ بھارت فوجی-تکنیکی تعاون میں ایک آزادانہ نقطہ نظر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں شاذ و نادر ہی براہ راست اسلحے کی خریداری شامل ہوتی ہے۔اس کے بجائے بھارت اکثر غیر ملکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مقامی پیداوار پر اصرار کرتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ تعاون کس طرح آگے بڑھتا ہے اور شاید ان کوششوں سے نئے مشترکہ میزائل منصوبے سامنے آ جائیں۔

کاجول نے 30 سال بعد اصول توڑ کر بوسے کے سین کیوں فلمائے؟ اداکارہ کا انکشاف

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کاجول نے تین دہائیوں پر محیط کیریئر میں اب اصول توڑ کر بوسے کے سین فلمانے کی وجہ بتادی۔

بالی ووڈ کی متعدد بلاک بسٹر فلموں میں ہیروئن کا مرکزی کردار ادا کرنے والی کاجول نے اپنے او ٹی ٹی ڈیبیو ’دی ٹرائل: پیار، قانون، دھوکہ‘ میں ایک ایسا قدم اٹھایا جس سے وہ ماضی میں گریز کرتی رہی تھیں۔

کاجول طویل عرصے تک اسکرین پر بوسہ دینے کے مناظر سے دور رہیں لیکن اس سیریز میں انہوں نے اپنے اس اصول کو توڑ دیا۔

 

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر کردار کی ضرورت کے تحت کیا گیا۔

ان کے مطابق یہ صرف ایک منظر نہیں تھا بلکہ کردار کے جذبات اور سوچ کی عکاسی کرتا تھا اور اسے ہٹانا کہانی کے لیے نقصان دہ ہوتا۔

 

انہوں نے اعتراف کیا کہ اس منظر کو فلمانے سے قبل وہ کافی غیر یقینی اور بے چینی کا شکار تھیں لیکن آخرکار اسے ایک پیشہ ورانہ فیصلہ سمجھتے ہوئے انجام دیا۔

سیریز میں انہوں نے یہ منظر اداکار جیشو سین گپتا کے ساتھ فلمایا۔

اس ڈرامے میں کاجول نے نوینیکا سین گپتا کا کردار ادا کیا ہے جو ایک گھریلو خاتون ہوتی ہیں، تاہم اپنے شوہر کے اسکینڈل کے بعد دوبارہ وکالت کے شعبے میں قدم رکھتی ہے۔

حکومت نے دوسرے ممالک کو پاکستان کے راستے ایران تک سامان لے جانے کی اجازت دیدی

حکومت نے ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026ء نافذ کردیا جس کے تحت پاکستان کے راستے ایران تک سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی گئی۔

 

ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026ء کے نوٹی فکیشن کے مطابق  نئے ٹرانزٹ روٹس کا باضابطہ اعلان کردیا گیا، گوادر، کراچی اور تفتان روٹس ٹرانزٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

 

وزارت تجارت کے مطابق تیسرے ملک سے ایران جانے والا سامان پاکستان سے گزر سکے گا، گوادر بندرگاہ کو بھی تجارتی مقاصد کے لیے حیثیت دے دی گئی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ٹرانزٹ کارگو کے لیے مالی گارنٹی لازمی قرار دے دی گئی، ایف بی آر قوانین کے تحت کسٹمز طریقۂ کار لاگو ہوگا۔

ڈِیپ سیک نے مصنوعی ذہانت کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

ٹیکنالوجی کمپنی ڈِیپ سِیک نے اپنا نیا مصنوعی ذہانت کی ماڈل جاری کر دیا جس کی کافی عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عالمی سطح پر بہترین کارکردگی فراہم کرتا ہے۔

 

ڈِیپ سِیک وی 4 کا ایک پری ویو ورژن اب استعمال کے لیے دستیاب ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اسے خاص طور پر چین میں تیار ہونے والی چِپس کے لیے بہتر انداز میں آپٹمائز کیا گیا ہے۔

کمپنی کے بیان کے مطابق اس نئے ماڈل میں ایک ملین الفاظ تک کا انتہائی طویل کانٹیکسٹ موجود ہے اور یہ ایجنٹ صلاحیتوں، عالمی معلومات اور ریزننگ پرفارمنس میں اوپن سورس اور مقامی میدان دونوں میں قیادت حاصل کرتا ہے۔

 

یہ ماڈل دو ورژنز میں دستیاب ہے: ڈِیپ سِیک وی 4-پرو اور ڈِیپ سِیک وی 4-فلیش۔ کمپنی کے مطابق فلیش ورژن زیادہ مؤثر اور کم خرچ آپشن ہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ ورلڈ نالج بینچ مارکس میں ِیپ سِیک وی 4-پرو دیگر اوپن سورس ماڈلز سے واضح طور پر آگے ہے اور صرف ٹاپ درجے کے کلوزڈ سورس ماڈل جیمینائی-پرو-3.1 سے معمولی حد تک پیچھے ہے، جس کا حوالہ گوگل کی جنریٹو اے آئی کی طرف ہے۔

تحفے میں ملے لاٹری کے ٹکٹ نے لاکھوں ڈالر جتوا دیے

امریکا میں ایک شخص کو سالگرہ کے تحفے میں ملے لاٹری کے ٹکٹ نے لاکھوں ڈالر کا انعام جتوا دیا۔

 

امریکی ریاست مشیگن کی سیگینا کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے شہری نے بتایا کہ ان کی بہن نے ان کی 66 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک لاٹری کا ٹکٹ تحفے میں دیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک اسٹور پر رک کر بارکوڈ اسکریچ کیا اور ٹکٹ کو اسکین کیا جس کے بعد انہیں کلیم فائل کرنے کا میسج موصول ہوا۔ انہوں نے گھر پہنچ کر ٹکٹ اسکریچ کیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے انہوں نے پانچ لاکھ ڈالر کا انعام جیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انعام جیتنے کے بعد انہوں نے اپنی بہن کو خوش خبری کے لیے فون کیا اور بھی یہ خبر سن کو خوش تھیں۔

منگولیا میں شدید زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 5.9 ریکارڈ

منگولیا کے مختلف حصوں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جن کی شدت عالمی میڈیا کے مطابق 6.3 ریکارڈ کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے باعث زمین لرز اٹھی جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین کی 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اتنی شدت کا زلزلہ مکانات یا کمزور ڈھانچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے آفٹر شاکس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گزشتہ رات کا واقعہ ثابت کرتا ہے محفوظ بال روم کتنا ضروری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ رات کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک محفوظ بال روم کی تعمیر کتنی ضروری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹ سروس گزشتہ 150 سال سے وائٹ ہاؤس میں ایک محفوظ ہال کی تعمیر کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کیونکہ موجودہ حالات میں سیکیورٹی کے تقاضے بڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں جدید اور محفوظ بال روم موجود ہوتا تو اس نوعیت کا واقعہ پیش نہ آتا۔ یہ منصوبہ دنیا کی سب سے محفوظ عمارت کے اندر مزید سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بال روم کی تعمیر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ ایک ایسی خاتون کی جانب سے ہے جس کا اس معاملے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ لہٰذا اس کیس کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس میں مجوزہ بال روم کی تعمیر جلد مکمل نہیں ہو سکے گی۔ تاہم اسے سیکیورٹی کے لیے ایک اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔