All posts by Khabrain News

تونسہ ایچ آئی وی بحران قومی صحت کے سنگین مسئلے میں تبدیل، کیسز میں اضافہ اور نظامی ناکامیاں بے نقاب

تونسہ شریف میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کا سانحہ اب محض ایک مقامی خبر یا وقتی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے ہمہ جہتی قومی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جس نے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے نظامِ صحت، حکومتی شفافیت، پالیسی سازی اور انتظامی صلاحیت پر گہرے اور سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہری مراکز تک پھیلنے کے خدشات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ کہانی صرف ایک بیماری کی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی ہے جہاں غفلت، تاخیر، کمزور نگرانی اور خاموشی مل کر ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دیتے ہیں۔
اگر اس بحران کو محض اعداد و شمار کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کی شدت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ سرکاری طور پر تونسہ شریف میں ایچ آئی وی کیسز کی تعداد تقریباً ساڑھے تین سو سے چار سو بتائی جاتی رہی ہے مگر مقامی ذرائع، فیلڈ رپورٹس اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اصل تعداد چھ سو سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ فرق صرف نمبروں کا نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔ جب ریاستی بیانیہ اور زمینی حقیقت میں اتنا واضح فرق ہو تو سوال صرف بیماری کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ حکمرانی پر اٹھتا ہے۔
یہی تصویر اس وقت اور بھی بڑی ہو جاتی ہے جب پورے پنجاب کا ڈیٹا سامنے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے تازہ کوائف کے مطابق صوبے میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں 31 ہزار سے زائد مرد، 9 ہزار 500 سے زائد خواتین، دو ہزار سے زائد 14 سال تک کے بچے اور 1800 سے زائد خواجہ سرا شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور پھیلا ہوا بحران ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان رجسٹرڈ مریضوں میں سے تقریباً 70 فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں جبکہ 30 فیصد سے زائد ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہونے کے باوجود ادویات نہیں لے رہے۔ یہ وہ “خاموش مریض” ہیں جو نہ صرف اپنی صحت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ معاشرے میں وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ ان مریضوں کا کوئی واضح ٹریک نہ ہونا ایک بڑی پالیسی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اگر ضلع وار اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو بحران کی وسعت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ لاہور میں 10 ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ صرف دور دراز علاقوں تک محدود نہیں۔ فیصل آباد میں 5199، ڈی جی خان میں 3710، سرگودھا میں 2861، گجرات میں 2823، ملتان میں 2387، مظفر گڑھ میں 2065، راجن پور میں 1199، رحیم یار خان میں 1196، اوکاڑہ میں 1118، ساہیوال میں 1101، شیخوپورہ میں 1180، سیالکوٹ میں 721 اور وہاڑی میں 700 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی سینکڑوں کیسز موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک صوبہ گیر بحران بن چکا ہے۔
تونسہ شریف اس بڑے بحران کا ایک فوکل پوائنٹ بن کر سامنے آیا ہے جہاں ہونے والی تحقیقات نے نظامی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ سرکاری ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، بغیر دستانوں کے انجیکشن لگانا، اور ادویات کی شیشیوں کا دوبارہ استعمال جیسے عوامل نہ صرف طبی اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ ایچ آئی وی جیسے وائرس کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ یہ وہ بنیادی غلطیاں ہیں جنہیں عالمی سطح پر برسوں پہلے تسلیم کیا جا چکا ہے مگر بدقسمتی سے مقامی سطح پر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس بحران کو محض ڈیٹا سے نکال کر انسانی المیے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ کئی خاندانوں نے یہ بتایا کہ ان کے بچے معمول کے علاج کے لیے ہسپتال گئے اور بعد ازاں ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بارہا شکایات درج کروائیں مگر نہ تو کوئی مؤثر انکوائری سامنے آئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
محکمہ صحت کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے اعلیٰ حکام مکمل طور پر آگاہ تھے۔ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ، صوبائی وزیر صحت اور پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذمہ داران کو بارہا صورتحال سے آگاہ کیا گیا مگر اس کے باوجود فیصلہ کن اقدامات نہ کیے جا سکے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک طبی بحران ایک انتظامی اور اخلاقی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس پورے معاملے میں ایک اہم موڑ گزشتہ دنوں آیا جب صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ جیسے ہی کیسز سامنے آئے فوری ایکشن لیا گیا اور 28 مارچ 2025 تک صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں پر مشتمل ایک جوائنٹ مشن تشکیل دیا گیا اور پانچ ہزار افراد کی سکریننگ کی گئی۔
تاہم دستیاب شواہد اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی جوائنٹ مشن نے جولائی اور اگست 2025 میں تقریباً 20 دن تک تونسہ کا تفصیلی دورہ کیا اور اس دوران 50 ہزار افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ کی گئی۔ یہ تضاد نہ صرف بیانات کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ حقائق کو مکمل طور پر سامنے نہیں لایا جا رہا۔
وزیر صحت کا یہ دعویٰ کہ ایچ آئی وی متاثرہ افراد کا ڈیٹا پبلک کیا جاتا ہے یہ بھی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت بھی مکمل ڈیٹا فراہم کرنے سے گریزاں رہا ہے۔ یہ صورتحال شفافیت کے دعوؤں کو کمزور کرتی ہے اور اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ مریض بچے ایسے ہیں جن کی عمر 12 سال سے کم ہے۔ یہ ایک نہایت تشویشناک پہلو ہے کیونکہ بچوں میں اس بیماری کا پھیلاؤ واضح طور پر انفیکشن کنٹرول کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی بحران بھی ہے جہاں معصوم زندگیاں ایک نظامی ناکامی کا شکار ہو رہی ہیں۔
عالمی سطح پر ہونے والی تحقیقات کے باوجود رپورٹس کا منظر عام پر نہ آنا بھی ایک بڑا سوال ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کی گئی سکریننگ اور اقوام متحدہ کے وفد کے دورے کے باوجود ان کی رپورٹس کو پبلک نہ کرنا شکوک و شبہات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر سب کچھ کنٹرول میں ہے تو پھر ان رپورٹس کو سامنے لانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
طبی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید پھیل سکتا ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر جہاں پہلے ہی ہزاروں کیسز موجود ہیں اس خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک واضح وارننگ ہے کہ اگر نظامی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پالیسی سازی کا بھی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسا کوئی مؤثر نظام موجود ہے جو نہ صرف مریضوں کی رجسٹریشن کرے بلکہ ان کی مسلسل مانیٹرنگ بھی یقینی بنائے؟ کیا ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوئی سخت میکانزم موجود ہے؟ اور اگر ہے تو پھر تونسہ جیسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟
بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو کئی ممالک نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو مؤثر پالیسیوں، آگاہی مہمات اور سخت طبی ضوابط کے ذریعے کنٹرول کیا ہے۔ وہاں نہ صرف ڈیٹا شفاف ہوتا ہے بلکہ ہر مریض کی مکمل ٹریکنگ بھی کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس یہاں ڈیٹا کی عدم دستیابی، شفافیت کی کمی اور احتساب کا فقدان اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
تونسہ شریف کا سانحہ اب ایک کیس اسٹڈی بن چکا ہےایسی مثال جو یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک مقامی غفلت ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی کہانی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں مل کر ایک بڑے المیے کو جنم دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی وڈیو میں ایک سرنج بار بار لگانے والے کون ہیں؟ اور بتایا گیا ہے کہ یہ وڈیو 30 گھنٹے کی ریکارڈنگ ہے کیا ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعلی افسران نے یہ زحمت کی کہ دیکھا جائے یہ کیمرے کہاں لگائے گئے تھے اور سرکاری ہسپتال میں کس وقت لگائے گئے ؟ یہ تحقیقات اگر مکمل کی جاچکی ہیں تو ان کو بھی بے نقاب کرنا ناگزیر ہوچکا ہے ۔
ہماری کوشش ہے کہ اعداد و شمار، زمینی حقائق، متاثرہ خاندانوں کے بیانات، سرکاری مؤقف اور پالیسی کے خلا کو ایک ساتھ جوڑ کر ایک مکمل تصویر پیش کی جائے۔ لیکن اس تصویر میں سب سے نمایاں چیز خاموشی ہے ایک ایسی خاموشی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے مگر اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہے کہ
متاثرین کی اصل تعداد کیا ہے؟
کتنے مریض نظام سے باہر ہیں؟
مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟
اور ایک سال گزرنے کے باوجود جواب کیوں نہیں مل رہا؟
اگر ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو تونسہ کا سانحہ محض ایک واقعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل مثال بن جائے گا۔ ایک ایسی مثال جو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ جب نظام خاموش ہو جائے تو بحران خود بولنا شروع کر دیتا ہے۔

وزیراعظم نے پی ایس ایل کے پلے آف میچز میں تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان سپر لیگ (ایچ بی ایل پی ایس ایل 11) کے پلے آف میچز میں تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مداحوں کو خوشخبری سنائی۔

انہوں نے لکھا کہ ابھی ابھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے پی ایس ایل کے تینوں پلے آف میچز میں بھی عوام کی شرکت کے لیے ان کی منظوری حاصل کر لی ہے۔

 

محسن نقوی نے لکھا کہ تماشائیوں کے اسٹیڈیم آنے کے حوالے سے ایک شرط کفایت شعاری رکھی گئی ہے۔ تماشائیوں سے گزارش ہے وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں یا ایندھن کو کم سے کم استعمال کریں۔

 

وزیرداخلہ نے پی ایس ایل پلے آف میں حصہ لینے والی چاروں ٹیموں کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور لکھا کہ اب پلے آف کے مقابلے مزید دلچسپ ہوں گے۔

اس سے قبل پی ایس ایل کے پلے آف میچز میں بھی تماشائیوں کو اجازت دینے کے معاملے پر وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیر اعظم ہاؤس پہنچے۔

محسن نقوی نے وزیراعظم کو سیکیورٹی سے متعلق بریفنگ دی جس کے بعد وزیراعظم نے تماشائیوں کے اسٹیڈیم سے متعلق فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر پی ایس ایل کے بقیہ میچز میں تماشائیوں کو اجازت دینے کا مسلسل مطالبہ کیا جارہا تھا۔

گھر داماد نے 6لاکھ کی خاطر ساس کے ٹکڑے کر ڈالے

عارف والا کے نواحی گاؤں 133 ای بی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں گھر داماد نے 6 لاکھ کی خاطر اپنی ہی ساس کے ٹکڑے کر دیے۔

 

پولیس کے مطابق اکرام نے اپنی ساس کے ٹکڑے کر کے 6 ماہ قبل صندوق میں ڈال کر کھیتوں میں دفن کر دیا۔

اکرام کی ساس بشریٰ بی بی نے چھ ماہ قبل 6 لاکھ کی بھینس فروخت کی تھی اور اکرام ساس سے چھ لاکھ روپے مانگتا تھا کہ وہ پیسے مجھے دے دو لیکن ساس کے انکار پر اکرام نے گھناؤنا قدم اٹھایا۔ ساس کو قتل کرنے کے بعد اکرام نے ساس کی گمشدگی کا ڈرامہ رچایا۔

 

پولیس نے بشریٰ بی بی کے اغواء کا مقدمہ بھی درج کر رکھا تھا، ملزم نے قتل کے بعد 6 لاکھ بھی چوری کرنے اعتراف کیا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر اکرام کو گرفتار کیا تو تفتیش میں سچ سامنے آگیا۔

پولیس نے ملزم کی نشان دہی پر لاش برآمد کر کے کارروائی شروع کر دی، وقوعہ کے روز ملزم اکرام کی بیوی کھیتوں میں کام کرنے گئی ہوئی تھی۔

سدھو موسے والا کا نیا گانا ریلیز سے پہلے ہی چھا گیا، صرف دو منٹ میں ٹیزر کے لاکھوں ویوز

بھارتی پنجاب کے معروف اور مقتول گلوکار سدھو موسے والا ایک بار پھر اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہوگئے، جب ان کے نئے گانے ’’آئیز آن می‘‘ کا ٹیزر جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرگیا۔

طویل عرصے سے اس گانے کا انتظار کیا جا رہا تھا، اور جیسے ہی اسے ریلیز کیا گیا، مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ رپورٹس کے مطابق صرف دو منٹ کے اندر اس ٹیزر نے یوٹیوب پر ایک لاکھ بیس ہزار ویوز حاصل کرلیے، جبکہ انسٹاگرام پر بھی اسے ہزاروں لائیکس ملے۔ اور تین دن میں اس ویڈیوز کو اکتیس لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جاچکا ہے۔ محض 34 سیکنڈ کے اس ٹیزر میں ایکشن اور سنسنی سے بھرپور مناظر دکھائے گئے ہیں، جس نے شائقین کی دلچسپی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ویڈیو کا آغاز ایک نقاب پوش شخص سے ہوتا ہے جو ہاتھ میں پستول تھامے پنجاب کے نقشے پر ضلع مانسا کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد موسے والا کو جیپ چلاتے اور مخالفین کا سامنا کرتے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ خود کو بچانے کے لیے فائرنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ٹیزر میں شامل ایک ’’بول‘‘ نے بھی مداحوں کی توجہ حاصل کی ’’منڈا بلیک کیٹ تیری، تیرے گولی مروا دو گی۔‘‘

 

ذرائع کے مطابق اس گانے میں ممکنہ طور پر گلوکار کے قتل اور اس سے قبل ہونے والی مبینہ سازشوں کی جھلک بھی پیش کی گئی ہے، جس نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یاد رہے کہ موسے والا کی سابقہ میوزک ویڈیوز بھی عالمی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکی ہیں، جن میں سے ایک ویڈیو پر ایک کروڑ سے زائد کمنٹس بھی کیے گئے تھے۔

 

گلوکار کے انتقال کے بعد اب تک ان کی ٹیم بارہ گانے جاری کرچکی ہے، اور ہر ریلیز کو مداحوں کی بھرپور توجہ حاصل ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک منفرد ہولوگرام ورلڈ ٹور کی بھی تیاری جاری ہے، جس کے تحت تھری ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے موسے والا کو اسٹیج پر دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

متوقع طور پر اس ٹور میں امریکا، کینیڈا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ سدھو موسے والا کو 29 مئی 2022 کو بھارتی پنجاب کے ضلع مانسا میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا، تاہم ان کی موسیقی آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ہر نئی ریلیز کے ساتھ ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

شعیب ملک کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے جم کے اوقات میں نرمی کرنے کی اپیل

لاہور: سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب ملک نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ جمز اور فٹنس سینٹرز کے اوقات کار میں نرمی دی جائے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ کاروباری سرگرمیوں کی بروقت ریگولیشن ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم فٹنس سینٹرز خصوصی رعایت کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ملازمت پیشہ افراد اپنے دفتری اوقات کے بعد ہی ورزش کر سکتے ہیں۔ اس لیے جمز کے اوقات محدود کرنا ان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔

 

شعیب ملک نے کہا کہ صحت خوراک کی طرح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اور اگر جمز کے اوقات رات 10 بجے تک بڑھا دیئے جائیں تو اس سے ایک زیادہ صحت مند معاشرے کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ ، 71 ہزار کی حد بحال ، ڈالر سستا ہو گیا

ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد روپے کی قدر میں بہتری آ گئی ، دوسری جانب اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 2 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد ڈالر 278 روپے 83 پیسے کا ہو گیا۔

 

دوسری جانب اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مندی دیکھی گئی تاہم تھوڑی دیر بعد 100 انڈیکس میں 584 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 256 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 2405 پوائنٹس کی کمی کیساتھ ایک لاکھ 70 ہزار 671 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

وائٹ ہاؤس فائرنگ: ملزم کا حملے سے 10 منٹ پہلے اہل خانہ کو پیغام بھیجنے کا انکشاف

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ڈنر کے دوران فائرنگ کرنے والے ملزم کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق حملہ آور نے واردات سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے اہلخانہ کو ایک اہم پیغام بھیجا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کی شناخت کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جس نے فائرنگ سے پہلے اپنے اہلخانہ کو بھیجے گئے پیغام میں اپنے اقدام پر معذرت کی اور کہا کہ وہ ایک ’اہم کام‘ کرنے جا رہا ہے۔ اس پیغام میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے خلاف غصے کا بھی اظہار کیا۔

 

امریکی حکام کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بھی اعتراف کیا کہ اس کا ہدف ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ افراد تھے۔ اس کے بیان سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت اس تقریب میں داخل ہوا تھا۔

 

تحقیقات کے دوران ملزم نے تقریب کے مقام واشنگٹن ہیلٹن ہوٹل کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے۔ اس کا کہنا تھا کہ سکیورٹی انتظامات انتہائی کمزور تھے اور اگر کوئی خطرناک ایجنٹ ہوتا تو وہ اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار اندر لا سکتا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ متعدد ہتھیاروں کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوا لیکن کسی نے اس پر شک نہیں کیا۔

رپورٹس کے مطابق ملزم نے دو ہینڈ گنز اور ایک شاٹ گن خرید رکھی تھی اور وہ باقاعدگی سے شوٹنگ رینج میں پریکٹس بھی کرتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور اس پر جلد فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ واقعہ امریکی سکیورٹی نظام کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے، خاص طور پر

AI اب ملازمین سے زیادہ مہنگی پڑنے لگی

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) جہاں کاروباری ترقی اور کارکردگی میں انقلاب لا رہی ہے وہیں اب یہ ٹیکنالوجی ایک نئے معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔

 

بڑی ٹیک کمپنیوں میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اے آئی کے استعمال پر آنے والے اخراجات بعض اوقات ملازمین کی مجموعی تنخواہوں سے بھی بڑھ گئے ہیں۔

 

اخراجات بڑھنے سے کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

اوبر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر نے 2026 کا اپنا پورا اے آئی بجٹ سال کے آغاز سے قبل ہی ختم کر دیا۔

 

 

 

یہ اخراجات ہارڈویئر یا انسانی وسائل پر نہیں بلکہ ’ٹوکن کاسٹس‘ یعنی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی لاگت پر ہوئے۔

 

یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی اب محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک بھاری سرمایہ کاری کا تقاضا کرنے والا نظام بن چکا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اصل بحث صرف اے آئی کے استعمال کی نہیں رہی بلکہ اس کی لاگت اور اس سے حاصل ہونے والی حقیقی کاروباری قدر کے درمیان توازن کی ہے جو آنے والے برسوں میں کارپوریٹ دنیا کو براہِ راست متاثر کرے گا۔

ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کا معاملہ پارلیمنٹ پہنچ گیا

(ویب ڈیسک )تونسہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کا معاملہ پارلیمنٹ پہنچ گیا۔

 

سینیٹر سرمد علی نے ایچ آئی وی کیسز میں تشویشناک اضافے پر توجہ دلاؤ نوٹس سینیٹ جمع کروا دیا۔

 

توجہ دلاؤ نوٹس میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافے پر وفاقی وزیرِ صحت سے جواب طلب کیا گیا ہے۔

 

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ایچ آئی وی کیسز بڑھنا پبلک ہیلتھ مینجمنٹ پر سوالیہ نشان ہے، ملک میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جائے۔

 

 

 

 سینیٹر سرمد علی نے قومی ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کا فوری جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

نوٹس میں غیر محفوظ طبی طریقوں، اسکریننگ اور آگاہی میں کمی کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

 

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ محفوظ بلڈ ٹرانسفیوژن اور ٹیسٹنگ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے اور عوام میں خوف اور غلط معلومات روکنے کے لیے شفاف معلومات کی فراہمی ناگزیر قرار دی جائے۔

 

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ صحتِ عامہ کے نظام کے لیے سنگین چیلنج بننے کا خدشہ ہے۔

 

ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی اور آگاہی مہم تیز کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

ملتان میں بارش،موسم خوشگوار ہو گیا

ملتان  میں کالی گھٹاؤں نے آسمان کو ڈھانپ لیا، بارش کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا ، گرمی کی شدت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔

 

بارش کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں مزید بارش کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق شہرِ قائد میں آج بھی موسم شدید گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے تاہم آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت  میں اضافے کا امکان ہے ۔