All posts by Khabrain News

پی ایس ایل 11: سیالکوٹ اسٹالینز کا نام تبدیل کرکے ملتان سلطانز رکھ دیا گیا

لاہور: پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) 11 میں شامل ہونے والی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کو باضابطہ طور پر ملتان سلطانز کے نام سے ری برانڈ کر دیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کی تصدیق منگل کے روز پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے کی۔

یہ اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں سلمان نصیر، فرنچائز کے مالک حمزہ مجید اور سی ڈی وینچرز کے سربراہ گوہر شاہ شریک تھے۔

او زیڈ ڈیولپرز نے اسلام آباد میں ہونے والی ٹیم نیلامی کے دوران سیالکوٹ اسٹالینز کی فرنچائز 10 سال کے لیے 18.5 ارب روپے میں حاصل کی تھی تاہم اب اس نے سی ڈی وینچرز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کر لی ہے۔

اس شراکت کے تحت گوہر شاہ کو فرنچائز کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور فرنچائز کا نام تبدیل کرکے ملتان سلطانز رکھا گیا ہے۔

پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیرکے مطابق تازہ پیش رفت کے بعد اس فرنچائز کی سالانہ مالیت بڑھ کر 2 ارب روپے ہو گئی ہے۔

سلمان نصیر نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو بننے کے بعد گوہر شاہ نے سیالکوٹ اسٹالینز فرنچائز کا نام تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی، جسے منظور کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران سیالکوٹ فرنچائز کے بارے میں قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی تھیں، جن میں او زیڈ ڈیولپرز کے حصص فروخت کرنے اور مالی مشکلات کے دعوے شامل تھے۔

پریس کانفرنس میں  ملتان سلطانز کے سی ای او گوہر شاہ نے تصدیق کی کہ وہ باضابطہ طور پر چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے فرنچائز میں شامل ہو چکے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی لیگ میں مضبوط ہو۔

انہوں نے کہا کہ  اکیلا اسٹالین پی ایس ایل نہیں جیت سکتا، آگے بڑھنے کے لیے اسٹالین کو سلطان چاہیے، اور ہم سلطان بن کر آئے ہیں۔ ملتان کی شناخت برقرار رکھنا ان کے لیے بہت اہم تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک ہوگا۔

سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران چونکا دینے والا انکشاف

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بننے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ کراچی میں 20 برس سے الیکٹرک انسپکشن معطل ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکٹرک انسپکٹر لوڈ اور اسپکشن کا جائزہ لیتا ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ انسپکشن میں کیا کیا جاتا ہے؟ پرویز احمد نے بتایا کہ بجلی کا انفرااسٹرکچر چیک کا کرنا ہمارا کام ہے۔ فائر فائٹنگ سامان کی ایکسپائری چیک کرتے ہیں۔ 20 سال سے انسپکشن معطل ہے۔

کمیشن نے سوال کیا وجہ ہے؟ الیکٹرک انسپکٹر نے کہا کہ ڈپارٹمنٹ اور انرجی منسٹری نے منع کیا ہوا ہے۔

پرویز احمد نے نوٹفکیشن کمیشن کو پیش کردیا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے لیے بتادیں کہ نوٹس ایریگیشن اور پاور نے 2003 میں جاری کیا، جب آپ کو تو پہلے ہی اوپر سے کام بند کرنے کی ہدایات ہیں تو پھر آپ کو کیوں بلائیں۔

صحافی محمد بابر جرح کے لیے پیش ہوئے۔ چیف فائر افسر ہمایوں خان نے جرح کرتے ہوئے سوال کیے کہ آپ کے پاس فائر فائٹنگ کی تربیت یا تعلیم نہیں ہے، آپ گل پلازہ آپریشن میں شامل نہیں تھے۔

جواب دیتے ہوئے بابر سلیم نے کہا کہ میں گل پلازہ میں پہلے روز نہیں لیکن بعد میں اندر گیا تھا۔ ہمایوں خان نے پوچھا آپ نے کہا میری تعیناتی عدالت میں چیلنج کی گئی۔ ایسا کوئی آرڈر موجود نہیں ہے۔ عہدہ خالی ہونے پر گریڈ 18 کے افسران موجود تھے۔ پروموشن کے افسران کی اہلیت کے تناظر میں قائم مقام چارج دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ایک ہی ادارے ہیں۔ 1991 میں بطور فائر فائٹر تعیناتی ہوئی۔ 2009 سے فائر بریگیڈ میں بھرتیاں بند ہیں۔ 22 میں سے 12 عہدے خالی ہیں۔ 35 برس بعد اپگریڈیشن کے بعد چیف فائر افسر کا عہدہ گریڈ 19 کا ہوگیا ہے۔ چیف فائر افسر کے ساتھ ٹیم لیڈر کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ  سوالات  بیان کے حوالے سے رکھے جائیں۔ چیف فائر افسر کی جانب سے فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو کے پاس دستیاب آلات کی ویڈیو کمیشن میں پیش کی گئی۔

صحافی محمد بابر نے کہا کہ انکی فہرست میں 29 آلات ہیں، ایس او پی کے تحت 41 آلات ہوتے ہیں۔ شہریوں کو ریسکیو کرنے والے شہری محمد دانش پیش ہوئے۔ ڈی جی ریسکیو 1122 سید واجد صبغت اللہ نے جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ تربیت یافتہ فائر فائٹر ہیں؟ دانش نے کہا کہ سول ڈیفنس سے ایک ماہ کا کورس کیا تھا، میں دس بجکر بیس منٹ پر گل پلازہ پہنچا۔ کے ایم سی کے فائر ٹینڈر سے سیڑھی لیکر اوپر گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے پہنچنے کے بعد پہلا فائر ٹینڈر گل پلازہ پہنچا۔ ڈی جی نے سوال کیا کہ آپ کو کتنی دیر لگی اوپر پہنچنے میں۔ دانش نے کہا کہ وقت کا اندازہ نہیں۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی صاحب یہ ٹرائل پر نہیں ہیں،  آپ سوالات ان کے بیانات تک رکھیں۔ ڈی جی نے کہا کہ تیسرے فلور سے لوگوں کو ریسکیو کیا؟ دانش نے کہا کہ گرل میں چھوٹی سے کھڑکی سے لوگوں کو ریسکیو کیا۔

ڈی جی نے سوال کیا کہ کیا آپ عمارت میں داخل ہوئے؟ دانش نے کہا کہ میرے پاس آلات نہیں تھے۔ اندر دھواں بھرا ہوا تھا، اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا۔ آخری فرد بے ہوش ہوگیا تھا، اسکو اتارتے ہوئے سیڑھی گر گئی اور میں اوپر رہ گیا۔

دانش نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی گاڑی نے سیڑھی لگائی جس سے نیچے اترا۔ ڈی جی نے کہا کہ ریسکیو 1122 شہر میں بہت کم وسائل کے ساتھ کے ایم سی کے ساتھ بیک اپ پر کام کررہا ہے۔

ریسکیو 1122 کے پاس 4 اسٹیشن اور 7 فائر ٹینڈر موجود ہیں۔ پہلا فائر ٹینڈر ڈی ایچ اے سے روانہ کیا جو 10 بجکر 53 منٹ پر پہنچا۔ ہمارے فائر فائٹرز اور ریسکیور کے پاس ماسک اور دیگر آلات موجود تھے۔ جب ہماری ٹیم پہنچی تو آگ نے عمارت کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 2 فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کی کوشش کی، 2 نے رمپا پلازہ سے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ہمیں 20 سے 25 منٹ کی تاخیر سے اطلاع ملی۔ جس کی وجہ سے ٹیم کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔

تاخیر سے اطلاع کی وجہ سے ہم سے مواقع ضائع ہوئے۔ ریسکیو 1122کے پاس اسنارکل، ایئریل لیڈر اور ایکس کیویٹر نہیں ہیں۔ ہیوی مشینری کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کو نکالنے کا موقع ضائع ہوا۔ زیادہ تر ہلاکتیں گراونڈ اور میز نائن فلور پر ہوئیں۔

رمپا پلازہ کے مالکان کی تنظیم کے چیئرمین مصطفی صفوی ایڈووکیٹ روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ گل پلازہ کی مخدوش عمارت ٹیڑھی ہوگئی، میں نے کمیشن کو ای میل بھی کی تھی۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کی شکایت کا ہمارے ٹی او آر سے کیا تعلق ہے؟ آپ کی ای میل ہمارے ٹی او آر سے تعلق نہیں رکھتی، ہم تحقیقاتی کمیشن ہیں۔

چیئرمین رمپا پلازہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت ایم اے جناح روڈ کی جانب جھک رہی ہے، ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک رواں ہوتا ہے۔ کسی بھی حادثے کی صورت میں انسانی جانوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ کی شکایت کے لیے ہمارا فورم نہیں ہے۔ چیئرمین رمپا پلازہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نے ایس بی سی اے کو بھی شکایت کی ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کردیا۔ اجلاس کے بعد ڈی جی 1122 واجد صبغت اللہ نے کہا کہ لوگوں کی جان اس لیے نہیں بچ سکی کہ تاخیر سے رپورٹ کی گئی۔  انتظامیہ نے گل پلازہ میں آگ کی اطلاع ریسکیو 1122 کو تاخیر سے دی۔ جب ریسکیو کی گاڑیاں گل پلازہ پہنچیں تو عمارت آگ دھوئیں سے بھر چکی تھی۔ بڑی غلطی گل پلازہ کی لائٹ بند کرنے کی گئی۔ بجلی نہ ہونے سے لوگ پھنس گئے ان کو نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ زیادہ تر اموات میز نائن اور گراؤنڈ فلور پر ہوئیں۔

ان کا خیال ہے ہم عمران خان کو بھول جائیں گے مگر پورا ملک ان کا انتظار کررہا ہے، علیمہ خان

راولپنڈی:

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہماری ترجیح ملاقات سے زیادہ عمران خان کا علاج ہے، ہم ملاقات کرکے عمران خان کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کا علاج ترجیح ہے۔

اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم امید کررہے ہیں وکلاء شاید اب آئینی ترامیم کے خلاف نکل آئیں، عمران خان بھی دو سال سے انتظار کررہے ہیں 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے خلاف وکلا نکلیں گے، عمران خان کو بند کرکے انہوں نے قید تنہائی میں رکھا ہے، ان کا خیال ہے ہم عمران خان کو بھول جائیں گے مگر پورا ملک ان کا انتظار کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح ملاقات سے زیادہ عمران خان کا علاج ہے، ہم ملاقات کرکے عمران خان کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کا علاج ترجیح ہے، ہم جب سے پریشان ہیں جب سے ان کی آنکھ کے بارے میں سنا ہے ہمیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی اور یہ دینا بھی نہیں چاہتے، یہ جو کررہے ہیں غیر قانونی ہے، یہ ہمیں کب تک جیلوں میں ڈالیں گے؟ دنیا کے حالات بدل رہے ہیں انہیں چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔

علیمہ خان نے کہا کہ کیا ہم بانی کے علاج سے متعلق حکومت کی بات مان لیں جو انہیں مارنا چاہتے ہیں، جو حکومت میں بیٹھے ہیں جھوٹے ہیں اور چور بھی ہیں، حکومت کو ایران سے ہی کچھ سبق سیکھ لینا چاہیے، افغانستان کے بارے میں عمران خان کی ٹویٹس موجود ہیں ہم چھوٹی عمر سے سنتے آرہے ہیں پاکستان میں دہشت گردی ہے عمران خان نے کہا 80 ہزار پاکستانی دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہوئے عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، افغانستان میں ہمارے  مسلمان بھائی ہیں کیا ہم اپنے بھائیوں سے لڑیں؟ سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا تب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ افغانستان پر بمباری کریں گے وہ بھی خاموش نہیں رہیں گے، جنگ کی وجہ سے ہمارے ہی فوجیوں اور پولیس والوں کو مرنا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کتنا عظیم لیڈر تھا جس نے شہادت کی خواہش کی، عمران خان نے بہت پہلے کہا تھا یہ مسلمانوں کو آپس میں لڑارہے ہیں، آج آپ کو سمجھ آنی چاہیے عمران خان جیل میں کیوں ہیں؟

ایران کے بعد اگلا ہدف کیوبا ہوگا، امریکا نے بتا دیا

وینزویلا اور پھر ایران میں فوجی آپریشن کے بعد رجیم چینج کی پالیسی کو اپناتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلا ہدف بھی سامنے آگیا۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ری پبلکن جماعت کے سینیٹر لینڈسے گراہم نے حالیہ جنگوں کے تناظر میں بتایا کہ صدر ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف بہت واضح ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاطینی امریکا سے متعلق بھی سخت پالیسی اپنانے پر غور کر رہے ہیں اور ان کا اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔

امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ اب کمیونسٹ آمریت زدہ ممالک کے دن گنے جا چکے ہیں اور امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر آپشن استعمال کرے گا۔

کیوبا کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟

1. نظریاتی اختلاف اور کمیونسٹ نظام

کیوبا 1959 کے انقلاب کے بعد سے ایک سوشلسٹ ریاست ہے۔ امریکا اور کیوبا کے تعلقات سرد جنگ کے دور سے کشیدہ رہے ہیں۔

امریکا طویل عرصے سے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی آزادیوں پر قدغنوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان 2015 میں تعلقات کی بحالی کی کوششیں کی گئیں تاہم بعد ازاں دوبارہ پابندیاں سخت کی گئیں۔

2. وینزویلا سے قریبی تعلقات

کیوبا کے وینزویلا کی نکولس مادورو حکومت سے قریبی تعلقات ہیں اور امریکا نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک کی عدالت میں پیش کرچکا ہے۔

امریکی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کیوبا لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی حکومتوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

3. روس اور چین سے روابط

امریکی حکام کئی بار یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ کیوبا کے روس اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

4. داخلی امریکی سیاست

فلوریڈا سمیت بعض ریاستوں میں کیوبا نژاد امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو کیوبا کی موجودہ حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ سخت مؤقف اپنانا بعض اوقات داخلی سیاسی حکمتِ عملی کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیوبا کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کارروائی یا منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے یا پیغام رسانی کے لیے دیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب لاطینی امریکی ممالک اور بعض یورپی حلقوں نے خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بھی یکطرفہ کارروائیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایران نے میزائل حملوں سے پہلے مطلع نہیں کیا تھا، قطر

دوحہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے صرف فوجی تنصیبات نہیں بلکہ پورے قطر میں حملے کیے، قطر کے حماد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو بھی نشانہ بنانے کی کوششی کی گئی جو ناکام بنا دی گئی۔

ترجمان نے کہا کہ ایران کے ساتھ فی الحال ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے، ہمارے پاس موساد سیل موجود ہونےکی کوئی اطلاع نہیں ہے، قطر کی حدود میں داخل ہونے والے ایرانی جہاز کو تنبیہہ کی گئی تھی اس کے بعد گرایا گیا، ایرانی جہاز نے دوحہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جس پر نشانہ بنایا، عملےکی تلاش جاری ہے۔

ترجمان قطری وزارت خارجہ کے مطابق یہ دعویٰ غلط ہے کہ خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے سے مذاکرات میں واپسی ہوجائے گی۔

انھوں نے کہا کہ فضائی حدود بند ہونے سے 8 ہزار افراد قطر میں پھنسے ہوئے ہیں، حالات بہتر ہونے تک ان افراد کی میزبانی کریں گے، کروز شپ میں بھی بہت سے افراد پھنسے ہوئے ہیں لیکن محفوظ ہیں۔ 

ایرانی 174 بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے: اماراتی وزارتِ دفاع

متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان اماراتی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہم نے172میزائل تباہ کیے، تباہ کیے جانے والے میزائل زیادہ تر سمندر میں گرے۔

اُنہوں ںے کہا کہ جو بھی نقصان ہوا وہ میزائل یا ڈرون لگنے سے نہیں ملبہ گرنے سے ہوا، ہماری سرزمین پر کوئی بھی میزائل براہ براست نہیں گرا بلکہ ملبہ گرا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈیفنس سسٹم نےتمام میزائل اور ڈرونزکو بروقت روکا، ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اپنی سرزمین کا ہر صورت دفاع کریں گے۔

یو اے ای وزارتِ دفاع نے کہا کہ ایران کی جانب سے 174 بیلسٹک میزائل ٹریک کیے گئے، 161 میزائلوں کو تباہ کیا گیا، ان میں 13 سمندر میں گرے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 689ایرانی ڈرونز میں سے 645 کو روکا گیا، 44 اماراتی حدود میں پہنچے، 8 کروز میزائل بھی تباہ کیے، حملوں میں 3 افراد ہلاک، 68 زخمی ہوئے، حملوں کے نتیجے میں بعض شہری اور رہائشی علاقوں میں نقصان پہنچا۔

پروسٹیٹ کینسر کیلئے نئی دوا کی آزمائش

جدید مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کے لیے تیار کی گئی نئی دوا کے ابتدائی آزمائشی نتائج کو طبی ماہرین نے ’غیر معمولی‘ قرار دیا ہے۔

یہ جدید علاج دراصل ایک امیونو تھراپی ہے، جسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف متحرک کرے۔ اس علاج نے نہ صرف موجودہ رسولیوں کو سکڑنے میں مدد دی بلکہ ان کی مزید نمو کو روکنے کی بھی صلاحیت دکھائی۔

کینسر کے ماہرین نے ان نتائج کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ روایتی امیونو تھراپیز پروسٹیٹ کینسر میں ماضی میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں۔ اکثر رسولیوں کو نمایاں حد تک کم کرنے میں ناکام رہیں اور مریضوں میں شدید ضمنی اثرات کا سبب بنیں۔

تاہم، نئی دوا (جس کا نام VIR-5500 ہے) ایک منفرد ’خفیہ نظام‘ استعمال کرتی ہے جو اسے صرف رسولی تک پہنچنے کے بعد ہی فعال ہونے دیتا ہے، یوں مضر اثرات کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔

امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی (ASCO) کے جینیٹویورینری کینسرز سمپوزیم میں نتائج پیش کرتے ہوئے محققین نے بتایا کہ اس دوا کو 58 ایسے مردوں پر آزمایا گیا جن میں اگلے مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر پر دیگر علاجوں کا اثر دِکھنا ختم ہو چکا تھا۔

بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر فیصلے جاری

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے یہ تحریری احکامات جاری کیے، فیصلے کے مطابق توشہ خانہ میں مبینہ جعلی رسیدوں کے مقدمے میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، استغاثہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ رسید سوشل میڈیا پر دیکھی گئی، تاہم آج تک اس رسید کا فرانزک معائنہ نہیں کرایا گیا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مبینہ جعلی رسیدیں الیکشن کمیشن یا کابینہ ڈویژن میں جمع کرائیں۔

اسی طرح اعلیٰ شخصیات کے خلاف الزام تراشی کے مقدمے میں بھی بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کی گئی، کیونکہ استغاثہ ان کی افواجِ پاکستان کے خلاف تقریر یا کسی قسم کا ثبوت عدالت میں پیش نہ کر سکا۔

عدالت کے مطابق ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ بانی پی ٹی آئی نے بغاوت پر اکسایا، 9 مئی کے احتجاج اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں بھی استغاثہ شواہد پیش نہ کر سکا۔

احتجاجی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ ثابت کیا جا سکا کہ احتجاج ان کی ایما پر ہوئے۔

بعد ازاں عدالت نے 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں منظور کر لیں۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ کوہسار، سیکرٹریٹ اور کراچی سمیت دیگر مقامات پر 6 مقدمات درج ہیں۔

پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ہدایات جاری کردیں

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے نے مملکت میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے ہدایات جاری کردی۔

سفارت خانے کی جانب سے سعودی عرب میں موجود پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور سوشل میڈیا پر ایسا کوئی مواد شیئر کرنے سے گریز کریں جو مملکت کے قوانین کے منافی ہو۔

ریاض میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنے اعلامیے میں بتایا ہے کہ سفارت خانہ پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے چوبیس گھنٹے فعال ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیمیں ائیرپورٹ اور سفارت خانے دونوں مقامات پر تعینات ہیں تاکہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی شہری ریاض میں پاکستانی سفارت خانے یا جدہ میں قونصل خانے سے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

پاکستانی سفارت خانہ، ریاض

لینڈ لائن: +9660114887272، +9660114884111، +9660114884222

موبائل: +966576284980، +966560505030

پاکستانی قونصلیٹ جنرل، جدہ

لینڈ لائن: +966126689149، +966126692371

موبائل: +966590008295، +966536617573

مشرق وسطیٰ کی صورتحال؛ متعدد بھارتی شوبز شخصیات دبئی میں پھنس گئیں

مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث متعدد بھارتی شوبز شخصیات دبئی میں پھنس گئیں اور انہوں نے اپنی حکومت سے وطن واپسی کے لیے مدد کی اپیل کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تیلگو انڈسٹری کے سپر اسٹار چیرنجیوی کی بیٹی سریجا کونڈیلا اور نواسیاں اس وقت دبئی میں موجود ہیں۔

تاہم، انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران فضائی حدود کی بندش پر اپنے فالوورز کو یقین دہانئی کروائی ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ دبئی میں محفوظ ہیں۔

انسٹاگرام پر اپنی اسٹوری میں انہوں نے کہا کہ مقامی حکام عوام کی حفاظت یقینی بنا رہے ہیں جب کہ ہم نے اس ملک کا انتخاب کیا ہے اور ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں فضائی حدود کی بندش کے سبب کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جہاں بڑی تعداد میں مسافر تازہ صورتحال کے منتظر ہیں جب کہ متعدد ایئرلائنز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے، سروس بحال کر دی جائے گی۔

ایشا گپتا

اداکارہ ایشا گپتا بھی ابوظہبی میں موجود ہیں، انہوں نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ صورتحال خوشگوار نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے یو اے ای حکام کی تعریف بھی کی کہ وہ معاملات کو پرسکون انداز میں سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ حکام کی جانب سے ایئرپورٹ پر پھنسے ہر فرد کا خیال رکھنے پر شاندار کام کیا جا رہا ہے۔

نرگس فخری

اداکارہ نرگس فخری نے بھی اس کشیدہ ماحول میں دبئی میں موجودگی کے دوران اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دن انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار رہے، شہر کے منظر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ’یہاں گزشتہ دو دن بہت ہنگامہ خیز گزرے ہیں‘۔

سونل چوہان

اس سے قبل، بالی ووڈ فلم ’جنت‘ میں عمران ہاشمی کے ساتھ مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ سونل چوہان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مداحوں کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پروازوں کی معطلی کے سبب دبئی میں پھنس گئی ہیں، تاہم وہ محفوظ ہیں۔

انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا کہ تمام پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں اور بھارت واپسی کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں، اس لیے وہ محفوظ سفر کےلیے حکومتی رہنمائی اور تعاون کی منتظر ہیں۔

اجیت کمار

تامل انڈسٹری کے اور اداکار اجیت کمار بھی فضائی حدود کی بندش کے باعث اپنی پرواز منسوخ ہونے کے بعد دبئی میں پھنس چکے ہیں۔

یکم مارچ کو ان کے منیجر سریش نے تصدیق کی کہ اداکار طے شدہ پرواز نہ ملنے کے باعث ایئرپورٹ سے واپس لوٹ آئے تھے اور وہ اس وقت دبئی میں محفوظ ہیں۔

دوسری جانب، ایئر انڈیا اور انڈیگو سمیت بھارتی ایئرلائنز نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور محفوظ فضائی راستے بحال ہونے پر پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔