پاکستان میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں فی تولہ سونا 3 ہزار 800 روپے جب کہ 10 گرام سونا 3 ہزار 257 روپے سستا ہوگیا ہے۔
بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پیر کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر بھی حالیہ دنوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مارکیٹوں پر پڑ رہے ہیں۔
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 3 ہزار 800 روپے سستا ہو گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 79 ہزار 962 روپے ہو گئی۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 257 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 11 ہزار 490 روپے کا ہو گیا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 38 ڈالر کی کمی سے 4 ہزار 576 ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے۔
ادھر سونے کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت 100 روپے کی کمی سے 7 ہزار 914 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت 86 روپے کی کمی سے 6 ہزار 784 روپے کی سطح پر آگئی جب کہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 74.30 ڈالر پر آگئی ہے۔
واضح رہے کہ سونا خریدنا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے،جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے، اسے صدیوں سے کرنسی اور دولت کی شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت سونے کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے باعث خریداروں کی دلچسپی میں بھی اضافہ متوقع ہے جب کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی بحری جہاز پر میزائل حملے کے دعوے پر امریکا نے باضابطہ طور پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے من گھڑت اور بے بنیاد قراردیا ہے، ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ جزیرہ جاسک کے قریب دو میزائلوں نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ اور’سی این این‘ کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں ایران اور امریکا کے درمیان بیانیہ جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے امریکی بحریہ پر میزائل حملے کے دعوے سامنے آئے، وہیں واشنگٹن نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ مکمل طور پر’من گھڑت‘ ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔
اسی تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے بھی اپنے بیان میں ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی امریکی بحری جہاز نشانہ نہیں بنا۔ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا، جس میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔
آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز پر مبینہ حملے سے متعلق سامنے آنے والی متضاد خبروں کے دوران ایک سینئر ایرانی اہلکار نے نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا بل کہ اسے روکنے کے لیے صرف وارننگ شاٹ فائر کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں ایرانی اہلکار نے بتایا کہ یہ فائر اس مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح نہیں کہ اس کارروائی کے نتیجے میں جہاز کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
اس سے قبل نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جب اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق بحریہ نے تیز اور فیصلہ کن وارننگ جاری کرتے ہوئے دشمن جنگی جہازوں کو آبنائے میں داخل ہونے سے روک دیا۔
یہ مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس مشن کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک سخت اور فوری وارننگ کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
ایران کی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کا کہنا ہے کہ حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے غیر ملکی بحری بیڑوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے بہانے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے نے عالمی تجارت اور معیشت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے کہا کہ شرپسند امریکا کے حامیوں کو محتاط رہنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ناقابلِ تلافی پچھتاوا ہو، کیونکہ امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا نتیجہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے اور بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے واضح کیا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے لیے نافذ کردہ انتظامی عمل کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو طاقت کے زور پر روک دیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور جو سویلین یا تجارتی جہاز پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے جاری کردہ پروٹوکولز کے مطابق اور کوآرڈینیشن کے ساتھ طے شدہ راستے سے گزریں گے، وہ مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔
سردار محبی نے مزید کہا کہ اعلان کردہ اصولوں کے خلاف کی جانے والی کسی بھی بحری نقل و حرکت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا اور تمام شپنگ اور انشورنس کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے اعلانات پر توجہ دیں۔
جب بھی آپ گھر میں راؤٹر کو کسی جگہ لگاتے ہیں، اب وہ کوئی میز ہو، دیوار یا کوئی بھی جگہ، اس ڈیوائز کی روشنیاں ضرور جلتی بجھتی نظر آتی ہیں۔
یقیناً یہ روشنیاں آپ کو بتاتی ہیں کہ راؤٹر آن ہے، اس کا کنکشن ایکٹیو ہے اور ٹھیک کام کر رہا ہے۔
مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کے جلنے بجھنے کا عمل اتفاقیہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مخصوص عمل کے مطابق ہوتا ہے۔
اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں تو نیٹ ورک کے بارے میں بھی سب کچھ جان سکتے ہیں۔
ہر راؤٹر مختلف ہوتا ہے اور ہر کمپنی کا ڈیزائن مخصوص ہوتا ہے اور پروگرامنگ پہلے سے فکس ہوتی ہے۔
آسان الفاظ میں ضروری نہیں کہ ہر راؤٹر ایک جیسے انداز سے کام کرتا ہو، اس کے لیے ڈیوائس کے مینوئل کو پڑھنا چاہیے یا کمپنی کی ویب سائٹ پر تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔
مگر زیادہ تر راؤٹرز ایک جیسے اصولوں پر کام کرتے ہیں، مثال کے طور پر جب ایک راؤٹر کو آن کیا جاتا ہے تو مخصوص لائٹس سست روی اور مستحکم انداز سے جلتی بجھتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ڈیوائس نیٹ ورک کنکشن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جب کنکشن قائم ہو جاتا ہے تو یہ عمل رک جاتا ہے، تو روشنیاں جلنے بجھنے اور ان کے رنگ سے آپ کو پتا چلتا ہے کہ راؤٹر فعال ہے یا خرابی کی صورت میں آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
تو یہ روشنیاں کیا بتاتی ہیں؟
راؤٹرز پر سبز روشنیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک روشنی کے جلنے بجھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ راؤٹر کنکشن استعمال ہو رہا ہے اور نیٹ ورک ٹریفک استعمال ہو رہا ہے۔
کچھ راؤٹرز میں صرف سبز روشنی کا استعمال ہوتا ہے جبکہ کچھ ڈیوائسز کی روشنیوں کے رنگ بدلتے ہیں۔
سفید رنگ کا مطلب سبز رنگ جیسا ہی ہوتا ہے، سرخ یا نارنجی رنگ مسائل یا کنکشن کی ناکامی کا عندیہ دیتا ہے جبکہ پیلا رنگ لوڈنگ یا پراسیسنگ کی نشانی ہوتا ہے۔
اگر نیلا رنگ نظر آئے تو بلیو ٹوتھ کنکشن ایکٹیو ہونے کا عندیہ دیتا ہے۔
اگر سست روی مگر مستحکم انداز سے روشنیاں جل بجھ رہی ہیں یا کئی بار عارضی طور پر روشنیاں جلنے بجھنے کی بجائے صرف روشنی نظر آرہی ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی پراسیس چل رہا ہے، جیسے راؤٹر کنکشن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر روشنیاں تیزی سے جل بجھ رہی ہیں تو ایسا اکثر ڈیٹا ٹرانسمیشن اور ٹریفک کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کیا واقعی پنجاب پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب ہے یا یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے؟ پچھلے چھ ماہ کے ڈیٹا نے ایک امید ضرور پیدا کی ہے مگر زمینی حقائق جاننے کے لیے میں نے بطور ہیلتھ رپورٹر فیلڈ کا رخ کیا پولیو ورکرز سے بات کی اور والدین کے خدشات سنے اور متعلقہ حکام سے بھی ملاقات کی۔
میری پہلی منزل لاہور کا ایک گنجان آباد علاقہ چونگی امرسدھو تھا جہاں حالیہ پولیو مہم کے دوران ٹیمیں گھر گھر جا رہی تھیں۔ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک خاتون نے بچے کو اٹھا کر باہر لایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بچے کو پولیو کے قطرے پلوا دیے۔ یہ منظر اس مہم کی کامیابی کا پہلا اشارہ تھا۔اسی دوران ایک ذاتی تجربہ بھی اس رپورٹ کا حصہ بن گیا۔ بطور ہیلتھ رپورٹر میں نہ صرف اس مہم کو کور کر رہا تھا بلکہ ایک باپ کی حیثیت سے بھی اس کا حصہ ہوں۔ میرے اپنے گھر کے دروازے پر جب پولیو ورکر خواتین آئیں تو میں نے اپنے تین سالہ بیٹے اور ڈیڑھ سالہ بیٹی کو خود باہر لا کر پولیو کے قطرے پلوائے۔ اس لمحے نے مجھے یاد دلایا کہ یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ میں نے پولیو ورکرز کا شکریہ ادا کیا اور ان کی محنت کو سراہا کیونکہ یہی وہ فرنٹ لائن سپاہی ہیں جو اس جنگ کو جیتنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار اس تبدیلی کی واضح تصدیق کرتے ہیں۔ پنجاب بھر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پولیو وائرس کی گردش میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کے تحت مجموعی طور پر 49 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں 31 معمول کے اور 11 اضافی نمونے شامل تھے۔ ان میں سے صرف لاہور کے ایک ضلع میں فروری کے دوران ایک مثبت نمونہ سامنے آیا جو مارچ میں مکمل طور پر منفی ہو گیا۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ سیوریج میں وائرس کی موجودگی ایک فیصد تک محدود ہو چکی ہے جبکہ 2025 کے اختتام پر یہ شرح 26 فیصد اور اگست 2025 میں 56 فیصد تھی۔
میں نے اس حوالے سے محکمہ صحت کے حکام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ مسلسل حکمت عملی بہتر نگرانی اور مؤثر ویکسینیشن مہمات کا نتیجہ ہے۔ فیلڈ میں موجود ٹیموں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اب زیادہ تر والدین تعاون کر رہے ہیں جو پہلے ایک بڑا چیلنج تھا۔
علاقائی سطح پر بہتری اور بھی واضح ہے۔ لاہور میں جہاں پہلے وائرس کی موجودگی 56 فیصد تک تھی اب یہ کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی ہے۔ راولپنڈی میں صورتحال مزید حوصلہ افزا ہے جہاں مثبت نمونے 63 فیصد سے کم ہو کر صفر تک پہنچ گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بھی وائرس کی شرح مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
جب میں نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پولیو سپروائزر سے فون پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ “پہلے ہمیں مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا مگر اب لوگ خود بچوں کو لے کر آتے ہیں۔ یہ سب آگاہی مہمات کا نتیجہ ہے۔”
انسداد پولیو پروگرام کے سربراہ عدیل تصور سے ہونے والی گفتگو نے اس پیش رفت کی مزید وضاحت کی۔ ان کے مطابق گزشتہ مہم میں خاص طور پر ان بچوں پر توجہ دی گئی جو پہلے ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ “کیچ اپ مہم کے دوران مسڈ بچوں کا ڈیٹا تفصیل سے دیکھا گیا، اضلاع کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا اور اسی بنیاد پر حکمت عملی ترتیب دی گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خلاف کامیابی کا یہ تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور 2026 میں زیرو پولیو کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی محنت کو بھی سراہا اور کہا کہ “یہ کامیابی انہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔”
فیلڈ میں میری ملاقات ایک ایسے ورکر سے بھی ہوئی جو پچھلے دس سال سے پولیو مہم کا حصہ ہے۔ اس نے بتایا کہ “پہلے ہمیں دروازے بند ملتے تھے اب لوگ خود دروازہ کھول کر استقبال کرتے ہیں۔” یہ تبدیلی محض ویکسینیشن نہیں بلکہ اعتماد سازی کا نتیجہ ہے۔
حالیہ پولیو مہم کے اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ صرف لاہور میں پانچ روز کے دوران 15 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ پنجاب کے 35 اضلاع میں مہم مکمل ہو چکی ہے جہاں مجموعی طور پر ایک کروڑ بہتر لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ خاص طور پر متحرک اور مہاجر آبادیوں کے پانچ لاکھ پچاس ہزار بچوں تک رسائی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جسے کامیابی سے پورا کیا گیا۔
میں نے شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک ایسی بستی کا دورہ بھی کیا جہاں زیادہ تر مہاجر خاندان رہتے ہیں۔ یہاں پولیو ٹیموں کو اب بھی کچھ مشکلات کا سامنا ہے مگر ٹیموں کی مستقل مزاجی نے حالات کو بہتر بنایا ہے۔ ایک ورکر نے بتایا، “ہم بار بار آتے ہیں، سمجھاتے ہیں، آخرکار لوگ مان جاتے ہیں۔”
وزیر اعلیٰ کی فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق کمیونٹی انگیجمنٹ، مذہبی اور مقامی رہنماؤں کے تعاون سے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کو مکمل طور پر پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
میری تحقیقات کے دوران ایک اہم پہلو نگرانی کے نظام کا بھی سامنے آیا۔ محکمہ صحت کا سرویلنس سسٹم اب پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہو چکا ہے۔ خطرناک علاقوں کی بروقت نشاندہی کی جاتی ہے اور فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں وائرس کا خدشہ ہوتا ہے، وہاں فوری طور پر اضافی ٹیمیں تعینات کی جاتی ہیں۔
بطور رپورٹر، میری اس فیلڈ وزٹ نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں جیتی جا سکتی اس کے لیے عوامی تعاون لازمی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو بلا جھجک قطرے پلواتی ہے یا جب ایک باپ اپنے بچوں کو خود آگے بڑھ کر ویکسین دلواتا ہے تو یہ صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کی عکاسی ہوتی ہے۔
آج پنجاب ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اعداد و شمار امید دلاتے ہیں فیلڈ کی صورتحال حوصلہ افزا ہے اور حکومتی عزم واضح نظر آتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی پولیو سے پاک ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔
باہر کھانے کا تجربہ اکثر خوشی اور آسائش کا احساس دیتا ہے، خاص طور پر جب بات بوفے کی ہو جہاں رنگا رنگ کھانے اور بے شمار انتخاب انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مگر اس چمک دمک کے پیچھے ایک سوال خاموشی سے ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی اتنا ہی تازہ ہوتا ہے جتنا نظر آتا ہے؟
اسی سوال پر معروف شیف سنجیو کپور نے حال ہی میں ایک گفتگو میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے پوڈکاسٹ میں اس عام تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی کہ ہوٹلوں میں بوفے کا بچا ہوا کھانا اگلے دن پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت اس سے کچھ مختلف اور شاید زیادہ سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوٹلوں میں بھی بچا ہوا کھانا اسی طرح سنبھالا جاتا ہے جیسے ایک عام گھر میں ہوتا ہے۔
ان کا مؤقف یہ تھا کہ فرق صرف تربیت اور طریقہ کار کا ہے۔ ہوٹلوں میں اس کام کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور بہتر نظام موجود ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ کھانے کو کیسے محفوظ رکھنا ہے اور کب اسے استعمال کے قابل نہیں سمجھنا اور کتنی مقدار میں بنانا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل غیر ضروری طور پر زیادہ کھانا تیار نہیں کرتے، جبکہ گھروں میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پک جاتا ہے اور پھر ضائع ہو جاتا ہے۔
شیف نے واضح کیا کہ جو کھانا غیر محفوظ یا استعمال کے قابل نہیں رہتا، اسے گھروں کی طرح ہوٹلوں میں بھی ضائع کر دیا جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ کچن فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے پابند ہوتے ہیں۔
یہ بات سننے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم نظر آئی۔ کچھ لوگوں نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا صارفین کو ہر بات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کیا واقعی معیار ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اچھے ہوٹل اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خطرہ مول نہیں لیتے اور معیار کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے جدید طریقوں کی طرف بھی اشارہ کیا، جیسے فروزن فوڈز کا استعمال، جس سے بچا ہوا کھانا کم ضائع ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ تجربات ایسے بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ بڑے ہوٹلوں میں خاصی مقدار میں کھانا ضائع ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
شیف سنجیو کپور کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہوٹل انڈسٹری میں کھانے کے انتظام کے لیے بہتر تکنیکی مہارت استعمال کی جاتی ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہاں ہمیشہ باسی یا غیر معیاری کھانا دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی اپیل پر 50 لاکھ ہرجانے کی رقم گلوکار علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے 50 لاکھ ہرجانے کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل پر سماعت کی۔
دوران سماعت عدالت نے ہرجانے کی رقم علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ہرجانے کی آدھی نقد رقم میشا شفیع کو عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت جاری کی۔
عدالت کی جانب سے ہرجانے کی باقی آدھی رقم کی شورٹی عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نےمیشا شفیع کی اپیل پرعلی ظفر کو نوٹس جاری کرکے جواب بھی طلب کرلیا ۔
دوسری جانب عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی ٹرائل کورٹ کا مکمل فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کودوبارہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے سے روکا ہے، ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو معطل نہیں کرسکتے ،کسی کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ۔
یاد رہے کہ سیشن کورٹ لاہور نےگلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانےکا حکم دیا تھا۔
علی ظفر نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے پر میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانےکا دعویٰ دائر کیا تھا۔
فٹبال ورلڈکپ دنیا میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اور تمام براعظموں سے تعلق رکھنے والے ممالک اس کا حصہ بننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
11 جون 2026 سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور ارجنٹینا کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔
یعنی ٹیموں کے لحاظ سے یہ اب تک کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، اس سے قبل 2022 میں 32 ٹیموں نے شرکت کی تھی۔
اس سال کے ورلڈ کپ میں اردن، ازبکستان، کیپ وردے اور Curacao کی ٹیمیں اس ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار شرکت کر رہی ہیں۔
ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟
ٹیموں کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ انعامی رقم کے لحاظ سے بھی یہ اب تک کا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔
اس بار ایونٹ کے لیے فیفا نے 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کی رقم مختص کی ہے جو کہ گزشتہ ایونٹ کے مقابلے میں لگ بھگ دوگنی زیادہ ہے۔
ایونٹ کی تیاری کے لیے ہر ٹیم کو 25 لاکھ جبکہ کوالیفائی کرنے پر ایک کروڑ ڈالرز ملیں گے، 2022 میں تیاریوں کے لیے 15 لاکھ اور کوالیفائی کرنے پر 90 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے۔
یعنی محض کوالیفائی کرنے پر ہی ہر ٹیم کو ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم مل جائے گی جبکہ مزید رقم ان کی کارکردگی کے مطابق دی جائے گی۔
اس ایونٹ کے فاتح کو 5 کروڑ 35 لاکھ ڈالرز دیے جائیں گے جبکہ 2022 کی فاتح ٹیم ارجنٹینا کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے جبکہ 2026 کی رنراپ ٹیم 3 65 لاکھ کروڑ ڈالرز کی حقدار ہوگی جبکہ 2022 میں رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ ڈالرز دیے گئے تھے۔
تیسری پوزیشن پر رہنے والی ٹیم کے حصے میں 3 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز آئیں گے جبکہ چوتھے نمبر کی ٹیم 3 کروڑ 5 لاکھ ڈالرز جیت لے گی۔
5 سے 8 ویں پوزیشن پر رہنے والی ہر ٹیم کو 2 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز دیے جائیں گے۔
9 سے 16 ویں نمبر پر رہنے والی ہر ٹیم کے حصے میں ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالرز آئیں گے۔
17 سے 32 ویں پوزیشن پر رہنے والی ہر ٹیم کو ایک کروڑ 45 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔
33 سے 48 ویں نمبر پر رہنے والی ہر ٹیم ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالرز کی حقدار ہوگی جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔
اس ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جبکہ 2022 کے ایونٹ میں 64 میچز ہوئے تھے۔
جیسے جیسے ’میٹ گالا 2026‘ کی گھڑیاں قریب آ رہی ہیں، فیشن کی دنیا میں ملبوسات کے ساتھ ساتھ ایک پرانی اور پراسرار بحث نے دوبارہ جنم لے لیا ہے، جسے انٹرنیٹ کی زبان میں ’میٹ گالا کرس‘ یعنی میٹ گالا کی نحوست کہا جاتا ہے۔
اگرچہ بظاہر یہ محض ایک وہم معلوم ہوتا ہے، لیکن ماضی کے کئی واقعات اس لوک داستان کو تقویت دیتے نظر آتے ہیں۔
فیشن کی دنیا کے سب سے بڑے اور باوقار ایونٹ ”میٹ گالا“ کے بارے میں یہ تصور کوئی نیا نہیں، مگر ہر سال ایونٹ کے قریب آتے ہی اس پر گفتگو تیز ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ان مشہور جوڑوں کے حوالے سے جو اس ریڈ کارپٹ پر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
اس مبینہ ”کرس“ کے مطابق، اگر کوئی مشہور جوڑا میٹ گالا میں ایک ساتھ ڈیبیو کرے یا ریڈ کارپٹ پر اپنی محبت کا اظہار کرے، تو اکثر ان کا رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر کسی کی ملاقات بھی اسی تقریب یا اس کے بعد ہونے والی پارٹی میں ہو، تو وہ تعلق بھی زیادہ دیر نہیں چلتا۔
اگرچہ اس نظریے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں، لیکن کئی ہائی پروفائل بریک اپس نے اس کہانی کو مزید تقویت دی ہے۔
2016 میں ماڈل بیلا حدید اور گلوکار ایبل ٹیسفائے (دی ویکنڈ) نے میٹ گالا میں ایک ساتھ شرکت کی، جس کے کچھ عرصے بعد ہی ان کا بریک اپ ہوگیا۔ بعد ازاں ان کا تعلق آن اینڈ آف رہا اور بالآخر 2019 میں ختم ہوگیا۔
اسی کے اگلے سال دی ویکنڈ نے سیلینا گومز کے ساتھ میٹ گالا میں شرکت کی۔ اس جوڑے کی کیمسٹری نے مداحوں کو خوب محظوظ کیا، مگر یہ رشتہ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
2018 میں ہیلی بیبر اور شان مینڈیز نے میٹ گالا میں ایک ساتھ واک کیا، اگرچہ ان کے تعلق کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی تھی، لیکن کچھ ہی عرصے بعد دونوں الگ ہوگئے۔
اسی سال ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور گلوکارہ گریمز نے بھی میٹ گالا میں ایک ساتھ ڈیبیو کیا۔ ان کا تعلق کئی سال تک اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، مگر تین بچوں کی پیدائش اور طویل رفاقت کے بعد 2021-22 کے دوران ان کے راستے جدا ہوگئے۔
2022 میں کم کارڈیشین اور پیٹ ڈیوڈسن بطور جوڑا میٹ گالا میں شریک ہوئے، لیکن چند ہی ماہ بعد ان کا رشتہ ختم ہوگیا۔
حالیہ مثالوں میں 2024 کا جوڑا سبرینا کارپینٹر اور بیری کیوگھن بھی شامل ہیں، جنہوں نے اسی ایونٹ میں اپنے تعلق کو عوامی بنایا، مگر جلد ہی علیحدگی اختیار کرلی۔
اسی طرح ٹیلر سوئفٹ اور ٹام ہڈلسٹن کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی ملاقات میٹ گالا پارٹی میں ہوئی تھی، اور ان کا تعلق بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔
کیا واقعی یہ “کرس” حقیقت ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصور کی تردید بھی موجود ہے۔ کئی طاقتور اور کامیاب جوڑے جیسے پریانکا چوپڑا اور نک جونس، اور ریحانہ اور اے ایس اے پی راکی اس ’کرس‘ کو غلط ثابت کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کے تعلقات مضبوطی سے قائم ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ میٹ گالا کرس محض ایک دلچسپ قیاس آرائی ہے، جسے سوشل میڈیا صارفین اور مداح ہر سال شوق سے زیر بحث لاتے ہیں۔
میٹ گالا 2026 کی تیاریاں عروج پر
اب جبکہ میٹ گالا 2026 میں صرف چند گھنٹے باقی ہیں، فیشن کی دنیا میں جوش و خروش اپنے عروج پر ہے۔ اس سال کا ڈریس کوڈ ”فیشن از آرٹ“ رکھا گیا ہے، جس نے شائقین کے تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے کہ کون سا اسٹار کیا پہن کر جلوہ گر ہوگا۔
تقریب سے قبل ووگ کی پری میٹ گالا پارٹی میں ایشا امبانی کی شرکت بھی خاصی توجہ حاصل کرچکی ہے، جہاں انہوں نے بھارتی ثقافت کی جھلک پیش کی۔
اب نظریں میٹ گالا کے ریڈ کارپٹ پر مرکعز ہیں، جہاں یہ تجسس اپنے عروج پر ہے کہ ستارے اس سال فیشن کے اس بڑے میلے میں کس انداز اور لباس کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے۔
انسانی موت کو عموماً ایک اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس ہمیں ایک بالکل مختلف اور حیرت انگیز زاویہ فراہم کرتی ہے۔ مشہور ماہرِ فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق، موت کے بعد انسانی جسم حقیقت میں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنی حالت تبدیل کر کے کائنات کے لامتناہی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ محض ایک حیاتیاتی انجام نہیں، بلکہ توانائی کی منتقلی کا ایک عظیم الشان عمل ہے۔
اسی تناظر میں، مشہور امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ’ کی ایک حالیہ رپورٹ نے موت کے بعد انسانی وجود کے حوالے سے ایک نئی سائنسی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹائسن کا ماننا ہے کہ موت درحقیقت کسی ’غائب‘ ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مادے کی وہ تبدیلی ہے جو کائنات کے مستقل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے اس نظریے نے لاکھوں قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارا وجود اس کائنات میں کتنا گہرا اور غیر فانی ہے، جہاں ہم فنا ہونے کے بجائے صرف اپنی شکل بدل کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتے ہیں
انسانی وجود کے اس سفر کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی بھر جس جسم کی آبیاری کی، وہ موت کے بعد بھی بیکار نہیں جاتا۔ نیل ڈی گراس ٹائسن کی وضاحت کے مطابق، جب کسی جسم کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس میں موجود توانائی ضائع ہونے کے بجائے ’ری سائیکلنگ‘ کے عمل سے گزرتی ہے۔
جسم کے مالیکیولز مٹی میں موجود خرد بینی اجسام اور پودوں کے لیے خوراک بن جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہماری حیاتیاتی توانائی زمین کی ہریالی اور نئے جانداروں کی صورت میں دوبارہ زندہ ہو اٹھتی ہے۔
دوسری جانب، احتراق یا جسم کو جلانے کا عمل اس توانائی کو ایک کائناتی وسعت عطا کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران جسم کی ذخیرہ شدہ توانائی حرارت میں تبدیل ہو کر انفراریڈ لہروں کی صورت میں کائنات کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے۔
ٹائسن اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو محض چار سال قبل جلایا گیا ہو، تو اس کے وجود کی لہریں اب تک زمین کے قریب ترین ستارے ’الفا سنٹوری‘ تک پہنچ چکی ہوں گی۔ یہ تصور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد بھی ستاروں کی روشنی اور خلا کی خاموشی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہ سارا عمل دراصل ”تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون“ کی عملی تفسیر ہے، جس کی رو سے مادہ یا توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی، بلکہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے۔
اس تصور میں ایک گہری فکر بھی پوشیدہ ہے۔ ہمارے جسم کے ایٹمز مٹی میں مل کر دوبارہ پودوں کا حصہ بنتے ہیں اور بالآخر خوراک کے ذریعے دوسرے جانداروں کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم مر کر بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کائنات کا مستقل حصہ رہتے ہیں۔
ہماری ہستی مٹتی نہیں، بلکہ وہ زندگی کے ایک لامتناہی اور خوبصورت چکر میں شامل ہو کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتی ہے، یعنی سائنس کے مطابق موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے، جس میں انسان کسی نہ کسی صورت میں کائنات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔
پشاور زلمی کے چیمپئن بننے پر بابر اعظم کا جذباتی بیان سامنے آ گیا۔
پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے چیمپئن بننے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا،الحمدللہ، چیمپئنز۔
بابر اعظم نے کہا کہ انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے اور ہر مشکل صورتحال میں پوری ٹیم ایک ساتھ کھڑی رہی۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا،میں کبھی ایک بال بوائے تھا، باؤنڈری پر کھڑا ہو کر خواب دیکھا کرتا تھا۔
انہوں نے نوجوانوں کیلئے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج کوئی بال بوائے یقین کے ساتھ بیٹ اٹھائے تو یہ فتح اس کیلئے معنی رکھتی ہے کیونکہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
بابر اعظم نے اپنی کامیابی کو فیملی، زلمی مینجمنٹ اور دوستوں کی سپورٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بھرپور محنت کی اور غلطیوں پر قابو پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں قریبی دوستوں، فیملی اور کوچز نے بھرپور ساتھ دیا جس سے انہیں دوبارہ فارم حاصل کرنے میں مدد ملی۔
بابر اعظم نے کہا کہ فارم میں واپسی پر خوشی ہے اور وہ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بطور کپتان وہ ہمیشہ مد مقابل ٹیم کو دیکھ کر حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔
انہوں نے سابق عظیم کرکٹر ظہیر عباس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل دور میں جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے حوصلہ افزائی کی۔
بابر اعظم نے گراؤنڈ اسٹاف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اچھی پچز کی تیاری میں ان کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے والدین اور مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ ان کی حمایت کی۔
میچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی چار وکٹیں گرنے کے بعد دباؤ بڑھ گیا تھا، تاہم ہارڈی اور عبدالصمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو کامیابی دلائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پی ایس ایل میں انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنا نیچرل کھیل کھیلیں گے اور کوچز کی جانب سے ملنے والے فری ہینڈ پر عمل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ تینوں فارمیٹس پر ہے اور ہر کھلاڑی کو ہر فارمیٹ کیلئے تیار رہنا چاہیے۔