All posts by Khabrain News

ٹینس کی دنیا کے عظیم آسٹریلوی کھلاڑی میل اینڈرسن 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

آسٹریلیا کے مایہ ناز ٹینس کھلاڑی اور سابق یو ایس اوپن چیمپئن میل اینڈرسن (Mal Anderson)  91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ٹینس آسٹریلیا نے پیر، 11 مئی 2026 کو ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔

  • تاریخی اعزاز: میل اینڈرسن ٹینس کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے غیر درجہ بند (Unseeded) کھلاڑی ہونے کے باوجود 1957 میں یو ایس اوپن (اس وقت کا یو ایس نیشنل چیمپئن شپ) جیتا۔

  • گرینڈ سلیم ٹائٹلز: انہوں نے اپنے کیرئیر میں چار بڑے ٹائٹلز جیتے۔ 1957 میں یو ایس اوپن سنگلز کے علاوہ، انہوں نے تین بڑے ڈبلز ٹائٹلز (بشمول 1973 کا آسٹریلین اوپن ڈبلز) بھی جیتے۔

  • ڈیوس کپ: وہ 1957 اور 1973 میں آسٹریلیا کی ڈیوس کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے۔

کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے نئی نسل کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ آسٹریلیا کے مشہور کھلاڑی پیٹ رافٹر (Pat Rafter) ان کے شاگردوں میں شامل تھے، جنہوں نے اینڈرسن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک “عظیم انسان اور بہترین استاد” قرار دیا ہے۔

میل اینڈرسن کا تعلق کوئینز لینڈ کے ایک دیہی علاقے سے تھا، جہاں انہوں نے ایک فارم پر مٹی کے کورٹ سے ٹینس شروع کی اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں اپنا نام بنایا۔ انہیں ٹینس کی دنیا میں ان کی عاجزی اور کھیل کے تئیں لگن کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

سیزن کے پہلا آئس برگ نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا کےساحل سے گزررہا ہیں

  • وقت سے پہلے آمد: اس سال آئس برگ معمول سے چند ہفتے پہلے، یعنی اپریل کے اوائل میں ہی ساحل کے قریب دیکھے گئے تھے۔

  • بڑی تعداد: ماہرین کے مطابق، اس سال آئس برگ کی تعداد پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق، مئی کے آغاز تک نیو فاؤنڈ لینڈ کے مشرقی ساحل اور جنوبی لیبراڈور کے کھلے پانیوں میں تقریباً 520 آئس برگ موجود تھے۔ گزشتہ سال اسی وقت یہ تعداد تقریباً 426 تھی، جبکہ تاریخی اوسط صرف 274 ہے۔

  • کہاں دیکھے جا رہے ہیں؟ سیزن کے پہلے بڑے آئس برگ “آئس برگ ایلی” (Iceberg Alley) کے راستے جنوب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہیں نیو فاؤنڈ لینڈ کے مختلف ساحلی علاقوں، جیسے ٹویلینگیٹ (Twillingate)، سینٹ جانز (St. John’s) کے قریب سگنل ہل (Signal Hill)، اور فلیٹ راک (Flatrock) کے واکنگ ٹریلز سے واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • منظر: سیاح اور مقامی لوگ ان عظیم الجثہ اور قدیم برفانی چٹانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ ایک سیاح نے ان کے رنگوں کو “شدید اور حیرت انگیز” قرار دیا۔

پس منظر: ہر سال بہار کے موسم میں، گرین لینڈ کے گلیشیئرز سے ہزاروں آئس برگ ٹوٹ کر الگ ہوتے ہیں اور لیبراڈور کرنٹ (Labrador Current) کے ساتھ جنوب کی طرف کینیڈا کے ساحلوں کا سفر شروع کرتے ہیں۔ نیو فاؤنڈ لینڈ کا ساحل دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں سے ان آئس برگ کا نظارہ زمین سے آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ آئس برگ دیکھنے کا بہترین وقت عام طور پر مئی کے آخر سے جون کے شروع تک ہوتا ہے۔

ہم جائز حقوق مانگ رہے ہیں، ہمارے مطالبات معقول اور ذمہ دارانہ ہیں ایران

حالیہ خبروں (2026) کے مطابق، ایران کے حوالے سے اس طرح کے جملے کئی تناظر میں سامنے آئے ہیں:

1. امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید (مارچ 2026)

مارچ 2026 کے آخر میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کو ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والے امریکی پیغامات میں “غیر معقول مطالبات” شامل تھے، جنہیں ایران نے مسترد کر دیا۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنے “جائز حقوق” (خاص طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے) سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کے مطالبات عالمی قوانین کے عین مطابق ہیں۔

2. انسانی حقوق اور عوامی مظاہرے (جنوری – اپریل 2026)

ایران میں انسانی حقوق اور احتجاجی لہر کے حوالے سے بھی اسی طرح کی زبان استعمال کی جاتی رہی ہے:

  • عوامی موقف: مظاہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ اپنے جائز شہری اور سیاسی حقوق مانگ رہے ہیں۔

  • حکومتی جواب: دوسری جانب، ایرانی حکومت اکثر یہ کہتی ہے کہ وہ مظاہرین کے ان مطالبات کو تو تسلیم کرتی ہے جو “معقول” ہوں، لیکن “شرپسندی” کو برداشت نہیں کرے گی۔ جنوری 2026 کی رپورٹوں کے مطابق، ایران نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ان قراردادوں کو مسترد کر دیا تھا جنہیں وہ اپنے داخلی معاملات میں مداخلت اور “غیر منصفانہ” سمجھتا ہے۔

3. آبنائے ہرمز اور معاشی حقوق (اپریل 2026)

اپریل 2026 کی ایک اہم خبر یہ تھی کہ ایرانی عہدیداروں (جیسے محسن رضائی) نے بیان دیا کہ جب تک ایران کے معاشی اور تجارتی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ خطے میں (خاص طور پر آبنائے ہرمز میں) اپنی پالیسیاں سخت رکھیں گے۔ ان کا موقف تھا کہ ایران کے مطالبات بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت “ذمہ دارانہ” ہیں۔

ائے ہرمز بحران، عرب دنیا نے گوادر پورٹ کا رخ کر لیا

گوادر پورٹ اور بحری تجارت سے متعلق آپ کی فراہم کردہ معلومات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث بحری جہازوں کا رخ گوادر کی جانب موڑ دیا گیا ہے

آج 11 مئی 2026 کو وفاقی وزیر برائے بحری امور، جنید انور چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور بڑا تجارتی جہاز ’ایم وی یوان ہانگ وی یے‘ (MV Yuan Hang Wei Ye) گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔

  • کارگو کی تفصیل: اس جہاز پر تقریباً 34,000 ٹن کارگو لدا ہوا ہے، جس میں 20,000 ٹن سے زائد دیگر سامان (جس میں صنعتی مشینری اور پائپس شامل ہیں) موجود ہے۔

  • منزل: یہ مال اصل میں ابوظبی اور کویت کے لیے روانہ کیا گیا تھا، لیکن خطے کی موجودہ صورتحال اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث اسے گوادر پورٹ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • حکومتی اقدامات: اس موقع پر حکومتِ پاکستان نے گوادر پورٹ کی اہمیت بڑھانے کے لیے ٹیرف (Tariff) میں بڑی رعایتوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ کنٹینر جہازوں کی برتھنگ فیس میں 25 فیصد، جبکہ انٹرنیشنل ٹرانسشمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے تاکہ عالمی شپنگ لائنز کو راغب کیا جا سکے۔

  • اہمیت: مئی کے مہینے میں یہ گوادر پہنچنے والا دوسرا بڑا ٹرانسشمنٹ جہاز ہے (اس سے قبل ‘ایم وی شو لونگ’ آیا تھا)۔ حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ اب خلیجی ریاستوں کے لیے ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستے کے طور پر ابھر رہا ہے۔

صبا قمر نے اپنی ’’ادھوری خواہشات‘‘ کا اظہار کردیا

پاکستانی اداکارہ صبا قمر ایک بار پھر اپنے منفرد خیالات کے باعث سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ ایک وائرل ویڈیو میں اداکارہ نے اپنی زندگی، خواہشات اور ادھورے پن کے احساس پر نہایت گہرے انداز میں گفتگو کی۔

 

صبا قمر نے کہا کہ ان کی زندگی بھارتی ہدایتکار امتیاز علی کی فلموں جیسی محسوس ہوتی ہے، جہاں ادھورے پن میں بھی ایک عجیب خوبصورتی اور کشش موجود ہوتی ہے۔

ان کے مطابق وہ خود کو ایک ادھوری روح سمجھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ زندگی میں کچھ چیزوں کا نامکمل رہ جانا بھی اپنی خاص معنویت رکھتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ جب تمام خواہشات پوری ہو جائیں تو خواہش کرنے کا جذبہ ہی ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے درد، کمی اور ادھورے پن میں بھی ایک خاص لطف موجود ہے۔

صبا قمر کے اس فلسفیانہ انداز نے مداحوں کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ انہیں گہرے غور و فکر پر بھی مجبور کر دیا۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے گوادر پورٹ کی اہمیت میں اضافہ، ایک اور کارگو جہاز لنگر انداز

خلیج فارس میں جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب پاکستان کے گہرے پانی کی بندرگاہ گوادر پورٹ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا۔

 

گوادر میں ایک اور کارگو جہاز کامیابی سے لنگر انداز ہوگیا۔

ایم وی یوان ہانگ ویئے گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا، جو 34 ہزار ٹن سامان لے کر گوادر پہنچا ہے، بحری جہاز پر 20 ہزار سے زائد کارگو آئٹمز موجود ہیں۔

معرکۂ حق: پاکستان سرحدی محاذ سے سفارت کاری کے میدان تک

مئی 2025ء میں پاکستان اس وقت دنیا کے سامنے وقار کی علامت بن کر ابھرا جب دنیا خطّے میں جنگ اور بدلتے ہوئے حالات پر نظریں‌ جمائے ہوئے تھی۔ بھارت نے ایک بار پھر اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پہلے تو الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا اور پھر اس کی جانب سے “آپریشن سندور” کے نام پر جارحیت کا آغاز کردیا گیا، جس کا مقصد نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کو پامال کرنا تھا بلکہ خطّے کے امن کو ایک بار پھر ایک ایسی آگ میں جھونکنا تھا جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی پڑتے۔ مگر بھارت کو یہ کوشش مہنگی پڑی اور شکست کے بعد بھارت کی دنیا بھر میں‌ رسوائی بھی ہوئی۔

تاریخ گواہ رہے گی کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کی مسلح افواج اور پاکستانی قوم نے مل کر “آپریشن بنیان مرصوص” کے ذریعے بھارت کو وہ دندان شکن جواب دیا جس کی تعریف آج بھی دنیا کے ایوانوں میں کی جارہی ہے۔ یہ محض ایک جوابی فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا ظہور تھا جس نے دشمن کی تمام تر چالوں اور ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستان نے اس سنگین اور نازک مرحلے پر ثابت کیا کہ وہ اپنی خود مختاری پر حرف نہیں آنے دے گا اور ملکی دفاع میں ایک ایسی پیشہ ورانہ مہارت اور پختگی دکھائی جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو چار چاند لگا دیے۔

​اس معرکے کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ پاکستان نے اسے صرف سرحد کی لکیر پر ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پوری مہارت سے جیتا۔ جہاں بھارت سازشوں اور من گھڑت کہانیوں کے سہارے دنیا کی ہمدردی سمیٹنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، وہیں پاکستان نے ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ دنیا کو یہ باور کروایا کہ امن کا اصل دشمن کون ہے اور کون ہے جو بار بار خطّے میں سکون کو غارت کرنے کے درپے رہتا ہے۔ عالمی میڈیا اور بین الاقوامی مبصرین نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی ریاست کے طور پر ردعمل دیا اور وقار کے ساتھ کمزوری دکھائے بغیر اشتعال انگیزی کو روکا اور ایک بڑی تباہی کو ٹال دیا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی ملی، اس نے دشمن کی سفارتی تنہائی کو مزید گہرا کر دیا۔ پاکستانی قوم اور فوج کے اس بے مثال اتحاد نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور پاکستان کا خطّے کے ہر ملک کے لیے امن کا پیغام کسی خوف سے نہیں بلکہ اس کی طاقت اور اخلاقی برتری سے جنم لیتا ہے۔ آج جب ہم مئی 2025ء اور آپریشن بنیان مرصوص کی یاد تازہ کررہے ہیں تو بحیثیت قوم ہمارا سر فخر سے بلند ہے، کیوں‌ کہ ہم نے نہ صرف مادرِ‌ وطن کی حفاظت کی بلکہ دنیا کے سامنے سچائی کا پرچم بھی بلند رکھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے مؤقف کو مکمل طور پر رد کر دیا

تازہ ترین بین الاقوامی خبروں کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعی ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والے ایرانی جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا۔

  • ٹرمپ کا بیان: ٹرمپ نے لکھا: “میں نے ابھی ایران کے نام نہاد ‘نمائندوں’ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا—یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے!”

  • پس منظر: یہ جواب اس امن تجویز کے تناظر میں آیا تھا جو امریکہ نے ایک ہفتہ قبل پیش کی تھی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگانا تھا۔

  • ایران کا موقف: ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران نے اپنی تجویز میں امریکی پابندیوں کے خاتمے، بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور علاقائی سیکورٹی کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا تھا۔

  • ردِ عمل: ٹرمپ کے اس سخت ردِ عمل کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے طول پکڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

گوگل نے صارفین کی پرائیویسی کیلیے نیا فیچر متعارف کرا دیا

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے گوگل کروم کے اینڈرائیڈ ورژن میں ایک زبردست پرائیویسی فیچر متعارف کرا دیا، جس کے بعد صارفین اب اپنی بالکل درست لوکیشن کے بجائے ’تقریباً درست لوکیشن‘ شیئر کر سکیں گے۔

یعنی اب ہر ویب سائٹ کو آپ کی گھر کی گلی، بلڈنگ یا درست جگہ جاننے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔صارفین چاہیں تو صرف اندازاً لوکیشن دے سکیں گے، جو زیادہ تر ویب سائٹس کے لیے کافی ہوتی ہے۔

 

اس سے پہلے گوگل کروم ہمیشہ صارف سے ’پریسائز لوکیشن‘ یعنی بالکل درست مقام تک رسائی مانگتا تھا، جسے ماہرین غیر ضروری اور پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔

 

اچھی بات یہ ہے کہ اگر کسی ایپ یا ویب سائٹ کو واقعی آپ کی درست لوکیشن درکار ہو (جیسے میپس یا رائیڈہائرنگ سروس) تو صارفین اب بھی اپنی مرضی سے پریسائز لوکیشن آن کر سکیں گے۔

رپورٹس کے مطابق گوگل جلد ایک نیا اے پی آئی بھی متعارف کرانے جا رہا ہے، جس کے ذریعے ویب ڈویلپرز یہ واضح کر سکیں گے کہ انہیں صارف کی صرف اندازاً لوکیشن چاہیے یا مکمل درست مقام۔

ماہرین کے مطابق یہ اپڈیٹ آن لائن پرائیویسی کے حوالے سے ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اب صارفین کو اپنی ذاتی معلومات پر پہلے سے زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔

ڈھاکا ٹیسٹ: بارش کے باعث کھانے کے وقفے کے بعد میچ شروع نہ ہوسکا

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز بارش کے باعث کھیل روک دیا گیا۔

 

تفصیلات کے مطابق چوتھے روز کھانے کے وقفے تک بنگلادیش نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 93 رنز بنالیے ہیں اور اس کی برتری 120 رنز کی ہوگئی ہے۔

 

تاہم کھانے کے وقفے کے دوران ہی بارش شروع ہونے کے باعث میچ دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔

مومن الحق 37 اور کپتان نجم الحسن شنتو 34 رنز بناکر کریز پر موجود ہیں۔