امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عدم پیشر فت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی 112 ڈالر پر ٹریڈنگ جاری ہے۔
ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 1 ہزار 144 پوائنٹس کمی کے بعد 1 لاکھ67 ہزار268 پوائنٹس پر دیکھا گیا۔
کوریا اور ہانگ کانگ کے شیئر بازاروں میں مثبت رجحان دیکھا گیا جبکہ جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں کمی آئی۔
اسلام آباد : یورپی سرمایہ کاری بینک نے پاکستان کے لیے 160 ملین یورو فنانسنگ کا اعلان کر دیا۔
اعلامیے کے مطابق سندھ میں سیلاب متاثرہ گھروں کی تعمیرِ نو کے لیے 100 ملین یورو مختص کیے ہیں۔ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ 21 لاکھ گھروں کی تعمیرِ نو کی جائے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کراچی میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 60 ملین یورو مختص کیے گئے ہیں ۔کراچی میں 2 فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر سے 22 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا، روزانہ 30 کروڑ لیٹر پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق منصوبے یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
ان معاہدوں کا اعلان اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کےموقع پر کیا گیا۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کے تحت پاکستان میں ترقیاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک کے حکام نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کیلئے تعاون کا اعادہ کیا ہے۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ کمزور طبقات کیلئے محفوظ رہائش اور صاف پانی کی فراہمی ترجیح ہے، ای آئی بی کی پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری سے شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک حکام کے مطابق گھروں کی تعمیر میں عوامی شمولیت اور ماحولیاتی معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔
کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل ہزاروں روپے کی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 5500 کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4لاکھ 79ہزار 562 روپے کا ہوگیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونےکا بھاؤ 4 ہزار 715 روپے کم ہوکر4لاکھ 11ہزار 147 روپے ہوگیا ہے۔
دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 55 ڈالر کم ہوکر 4572 ڈالر فی اونس ہے۔
دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 ستمبر 2026 سے کئی پرانے آپریٹنگ سسٹم والے فونز کے لیے اپنی سروسز بند کر دے گی، جس کے باعث لاکھوں صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
واٹس ایپ ہیلپ سینٹر کے مطابق، اب واٹس ایپ صرف ان اینڈرائیڈ فونز پر چلے گا جن کا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 6 یا اس سے نیا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ تمام صارفین جو اینڈرائیڈ ورژن 5.0 یا 5.1 استعمال کر رہے ہیں، ستمبر کے بعد اس ایپ تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ اسمارٹ فونز زیادہ متاثر ہوں گے جو 2014 یا اس سے پہلے لانچ کیے گئے تھے، جن میں سام سنگ، سونی، ایچ ٹی سی اور ہواوے کے پرانے ماڈلز شامل ہو سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور نئی فیچرز کو مؤثر طریقے سے متعارف کروانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
پرانے آپریٹنگ سسٹمز واٹس ایپ کے نئے فیچرز اور جدید سیکیورٹی پروٹوکولز کا ساتھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے صارفین کا ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
واٹس ایپ باقاعدگی سے پرانے سسٹمز کو سپورٹ لسٹ سے باہر کرتا رہتا ہے تاکہ ایپ کو محفوظ اور تیز رفتار رکھا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی چیٹس اور میڈیا کا بیک اپ پہلے ہی محفوظ کر لیں تاکہ اہم ڈیٹا ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
اگر آپ کا فون بھی اس فہرست میں شامل ہے، تو آپ کے پاس دو آپشنز ہیں۔
سافٹ ویئر چیک کریں: اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر اباوٹ فون میں اینڈرائیڈ ورژن چیک کریں۔ اگر اپ ڈیٹ دستیاب ہے تو فوراً اپ ڈیٹ کر لیں۔
نیا فون خریدیں: اگر آپ کا فون اینڈرائیڈ 6 یا اس سے اوپر سپورٹ نہیں کرتا، تو واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے آپ کو نیا اسمارٹ فون لینا ہوگا۔
ایلون مسک نے اوکلینڈ، کیلیفورنیا میں ایک اہم مقدمے کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی دراصل ان کا آئیڈیا تھی، جسے بعد میں اس کے منتظمین نے اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کی موجودہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ منگل کے روز شروع ہونے والے اس اہم مقدمے میں ایلون مسک نے موقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی دراصل ان کا اپنا آئیڈیا تھا، لیکن بعد میں اس کے عہدیداروں نے اسے چرالیا۔
ایلون مسک نے کہا کہ اوپن اے آئی کو انہوں نے اس مقصد کے لیے شروع کیا تھا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہو جو انسانیت کے فائدے کے لیے کام کرے۔ ان کے مطابق کمپنی کو بعد میں ایک منافع کمانے والے ادارے میں تبدیل کر دیا گیا، جو ان کے بقول اصل وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔
مسک نے عدالت میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی خیراتی ادارے کو اس طرح تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی تو امریکا میں فلاحی کاموں کی بنیاد ہی کمزور ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کا مقصد کسی فرد کو فائدہ پہنچانا نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی تھا۔
اپنی گواہی میں ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ صرف اس منصوبے کا خیال پیش کیا بلکہ اس کا نام رکھا، اہم افراد کو ٹیم میں شامل کیا اور ابتدائی مالی مدد بھی فراہم کی۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اسے منافع کمانے والا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔
دوسری جانب اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سَم آلٹمین کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شروع ہی سے ایلون مسک کے عزائم مختلف تھے۔ ان کے مطابق مسک نے کمپنی کی ابتدائی ترقی میں سرمایہ کاری کی اور بعد میں اسے ایک کاروباری ادارہ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ خود اس کے سربراہ بن سکیں۔ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ مسک نے اس مقدمے کا سہارا اس وقت لیا جب انہیں اپنی مرضی کا نتیجہ نہیں ملا۔
اوپن اے آئی کے وکلاء کے مطابق کمپنی کو 2019 میں ایک منافع بخش ڈھانچے کی طرف لے جانا اس لیے ضروری تھا تاکہ جدید کمپیوٹنگ وسائل حاصل کیے جا سکیں اور ماہر سائنسدانوں کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر گوگل جیسے بڑے اداروں کے ساتھ مقابلے کے لیے۔
مقدمے میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے شراکت دار مائیکروسافٹ سے 150 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش ادارہ بنایا جائے اور اس کی موجودہ قیادت کو ہٹا دیا جائے۔
دوسری طرف مائیکروسافٹ کے وکیل نے کہا کہ کمپنی نے ہر مرحلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں کی گئی۔
عدالت میں جج نے ایلون مسک کو سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کے حوالے سے بھی تنبیہہ کی، خاص طور پر ان پوسٹس پر جن میں انہوں نے اوپن اے آئی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مسک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا سرگرمی کم کریں گے۔
یہ مقدمہ نہ صرف اوپن اے آئی کی قیادت اور اس کی ساخت پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اور اس کے مستقبل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
استنبول : ترکی میں حالیہ برسوں میں زمین دھنسنے کے واقعات نے سب کو خوفزدہ کردیا، خوفناک اور پراسرار گڑھے اچانک نمودار ہوجاتے ہیں، جسے سنک ہولز کا نام دیا گیا ہے، کیا یہ خلائی مخلوق کا کام ہے؟
ہوا کچھ یوں کہ ایک کسان صبح سویرے اپنے کھیت کی طرف نکلا، سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہ تھا کہ اس کی نظر زمین پر پڑنے والے ایک بڑٖے اور خوفناک قسم کے گڑھے پر پڑی جو کل تک وہاں نہیں تھا۔
وہ چونک اٹھا ابھی وہ حیرت سے اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ چند قدم آگے ایک اور گڑھا پھر ایک اور گڑھا نظر آتا گیا۔
لیکن یہ کوئی فلمی منظر نہیں، اور نہ ہی کوئی خلائی مخلوق زمین پر اتری ہے، بلکہ یہ عمل کونیا بیسن کے علاقے میں روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے، جہاں 2ہزار کی دہائی سے اب تک سینکڑوں سنک ہولز (زمین میں اچانک بننے والے پراسرار گڑھے) ظاہر ہوچکے ہیں۔
یہ پراسرار گڑھے خاموشی سے کھیتوں کو نگل رہے ہیں۔ کبھی کبھار یہ آبادیوں کے قریب تک پہنچ جاتے ہیں، انہیں دیکھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زمین خود کسی انجانی طاقت کے زیر اثر دھنستی جارہی ہو، یہ گڑھا کب اور کہاں بن جائے، کوئی نہیں جانتا، اس صورتحال میں مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
اصل وجہ کیا ہے؟
اگرچہ یہ منظر کسی سائنس فکشن کہانی جیسا لگتا ہے مگر حقیقت اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات ہیں
پہلی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خشک سالی اور دوسری وجہ کھیتوں کو بچانے کے لیے زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال کرنا۔
کسان پانی حاصل کرنے کے لیے ہزاروں غیر قانونی کنویں کھود چکے ہیں، مگر اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ گیا ہے۔
کیونکہ جب زیر زمین پانی تیزی سے ختم ہونے لگتا ہے تو نیچے کی مٹی کمزور ہوجاتی ہے اور پھر ایک دن اچانک اوپر کی زمین دھڑام سے بیٹھ جاتی ہے اور ایک نیا گڑھا جنم لے لیتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسان ڈرِپ ایریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) جیسے جدید طریقے اپنائیں تو پانی کا ضیاع کم ہو سکتا ہے اور زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات بروقت کیے جائیں گے یا زمین اسی طرح خاموشی سے بیٹھتی رہے گی؟
اسلام آباد (29 اپریل 2026): پی ٹی اے نے اپریل 2026 تک آئی فون 14 سیریز کے درآمدی موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکسز میں ترمیم کی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اپریل 2026 تک آئی فون 14 سیریز کے درآمدی موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکسز میں ترمیم کی ہے۔
ٹیکس کی یہ نئی شرحیں قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ پر موبائل رجسٹریشن کرانے والے دونوں صارفین پر لاگو ہوں گی۔
آئی فون 14 رجسٹر کرنے والے صارفین کے لیے نیا ٹیکس 30,321 روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ پاسپورٹ استعمال کرنے والے اب 27,860 روپے ادا کریں گے۔
آئی فون 14 پرو رجسٹریشن کے لیے قومی شناختی کارڈ پر 34,101 روپے اور پاسپورٹ کے ساتھ لانے پر 31,640 روپے کا ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
پریمیم آئی فون 14 پرو میکس کو قومی شناختی کارڈ پر رجسٹریشن کرانے والے صارفین سے 48,235 روپے جب کہ پاسپورٹ رکھنے والے صارفین پر 42,615 روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔
اس ماہ کے شروع میں، ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کے 62 ماڈلز کی کسٹم ویلیو میں اضافہ کیا تھا۔ پریمیم ماڈلز، جیسے کہ آئی فون 15 پرو میکس اور آئی فون 14 پرو میکس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکس کا تعین پی ٹی اے خود نہیں کرتا بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ڈیوائسز کی امریکی ڈالر میں درآمدی قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
سنگاپور سٹی (29 اپریل 2026): سنگاپور میں سائبر کرائم کی ایک تشویشناک لہر سامنے آئی ہے جس میں ہیکرز نے 66 سالہ بزرگ شہری کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر کے ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سے ہزاروں روپے بٹور لئے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق لو چانگ منگ نامی بزرگ شہری اس وقت دھوکہ دہی کا شکار ہوئے جب ہیکرز نے ان کے ایک دیرینہ دوست کا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے ان سے رابطہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق لو چانگ منگ کو اپنے 20 سالہ پرانے دوست کے نمبر سے پیغام موصول ہوا جس میں 1,000 سنگاپور ڈالرز ادھار مانگے گئے تھے۔
لو چانگ کو شک محسوس ہوا کیونکہ ان کا دوست کبھی پیسے ادھار نہیں لیتا تھا۔ فون کال پر پتہ چلا کہ دوست کا اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے۔
ایک ہفتے بعد اسی دوست کے نمبر سے صبح 6 بجے دوبارہ پیغام آیا جس میں ایک ‘ون ٹائم پاس ورڈ’ (OTP) طلب کیا گیا۔ لو چانگ منگ نے یہ سمجھ کر کہ یہ ان کے دوست کو اپنا اکاؤنٹ بحال کرنے کے لیے چاہیے ہوگا، کوڈ بھیج دیا۔
جیسے ہی لو نے او ٹی پی (OTP) شیئر کیا، ان کا اپنا اکاؤنٹ بھی ہیکرز کے قبضے میں چلا گیا۔ ہیکرز نے ان کے اکاؤنٹ سے ان تمام دوستوں کو نشانہ بنایا جو روزانہ ‘گڈ مارننگ’ کے پیغامات بھیجتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک 4 افراد کے اکاؤنٹس ہیک کیے جا چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 3,000 سنگاپور ڈالرز سے زائد کی رقم لوٹی جا چکی ہے۔
متاثرہ شہری نے واقعے کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دے دی ہے۔ حکام نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ کبھی بھی اپنا OTP یا تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی دوست کیوں نہ ہو۔
اگر کوئی دوست یا رشتہ دار اچانک پیسوں کا مطالبہ کرے تو میسج کے بجائے براہ راست فون کال کر کے تصدیق کریں۔
امریکا (29 اپریل 2026): اب مصروف سڑکوں پر نہ سگنل کی رکاوٹ نہ ٹریفک جان کا جھنجھٹ ایئر ٹیکسی گھنٹوں کا سفر منٹوں میں تبدیل کر دیا۔
دنیا بھر میں لوگوں کو ٹریفک جام کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر ان کا مقررہ وقت پر مطوبہ مقام پر پہنچنا دشوار بن جاتا ہے۔ تاہم اب الیکٹرک فلائنگ ٹیکسی کی کامیاب اڑان نے یہ مشکل آسان کر دی ہے۔
نیویارک میں فلائنگ ٹیکسی کی اڑان کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ سگنل اور ٹریفک جام کے جھنجھٹ سے آزاد الیکٹرک ایئر ٹیکسی نے مین ہٹن سے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک فضا میں سفر کیا۔
مین ہٹن سے ایئرپورٹ تک ایئر ٹیکسی نے صرف سات سے 10 منٹ میں سفر مکمل کیا، جو سڑک کے ذریعہ گاڑی یا ٹیکسی سے عموماً 45 منٹ سے ایک گھنٹے کا وقت لے لیتا ہے۔
فضائی ٹیکسی ایک جدید قسم کا چھوٹا الیکٹرک طیارہ ہے، جو ہیلی کاپٹر کی طرح ٹیک آف اور لینڈ کر سکتا ہے۔ یہ مکمل طور پر بجلی پر چلتا ہے۔ ایئر ٹیکسی میں بیک وقت چار مسافروں کے بیٹھے کی گنجائش ہے۔
ایک آل الیکٹرک ہوائی جہاز نے مین ہٹن سے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک نمائشی پروازیں اڑائی ہیں، جس کی آپریٹر کو امید ہے کہ یہ دنیا بھر کے مقامات پر روزمرہ کا واقعہ بن جائے گا۔
گلوکار علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع ایک بار پھر نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں میشا شفیع نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے اپیل دائر کی، جس میں سیشن عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا۔ میشا شفیع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے الزامات مکمل طور پر ثابت نہیں کرسکیں تو علی ظفر بھی خود پر لگائے گئے الزامات کی مکمل نفی ثابت نہیں کر سکے۔
درخواست گزار کے مطابق انہوں نے جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق صوبائی محتسب سے بھی رجوع کیا تھا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی تاحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے قبل سیشن کورٹ کی ڈگری نافذ نہیں کی جا سکتی۔
میشا شفیع نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سیشن کورٹ کے 50 لاکھ ہرجانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ کیس پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے سب سے زیادہ زیر بحث قانونی تنازعات میں شمار ہوتا ہے، جس نے نہ صرف تفریحی حلقوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی مسلسل توجہ حاصل کیے رکھی ہے۔ اب لاہور ہائیکورٹ میں دائر نئی اپیل کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں ایک اور اہم قانونی موڑ سامنے آ گیا ہے۔