اسلام آباد: شہید لیاقت کے لیے ستارہ شجاعت کی منظوری — ایک قومی ہیرو جس نے خود کو قربان کر کے سینکڑوں جانیں بچائیں
حکومت پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک غیر معمولی مثال قائم کرنے والے جرات مند شہری، لیاقت شہید، کو بعد از مرگ پاکستان کے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز، ‘ستارہ شجاعت’، سے نوازنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ قوم کی جانب سے ان کی بے مثال قربانی اور وطن سے محبت کے اعتراف کے طور پر کیا گیا ہے۔
چند روز قبل، صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے قریبی دیہی علاقے میں ایک دہشت گردانہ منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لیے لیاقت شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک مشتبہ خارجی دہشت گرد، جو خودکش جیکٹ پہنے ہوئے تھا، کھیتوں اور غیر روایتی راستوں سے آبادی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کا ہدف ممکنہ طور پر کوئی اہم تنصیب یا پرہجوم مقام تھا۔
اسی دوران، اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں منکور سے تعلق رکھنے والے لیاقت، جو اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں میں مصروف تھے، نے اس مشتبہ شخص کی غیر معمولی نقل و حرکت بھانپ لی۔ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر، وہ اس دہشت گرد کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور اسے روک کر سخت لہجے میں اس کی شناخت اور مقصد پوچھا۔ یہ اچانک اور جرات مندانہ سامنا دہشت گرد کے لیے غیر متوقع تھا۔ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور جب اسے لگا کہ وہ مزید آگے نہیں بڑھ سکتا اور پکڑا جائے گا، تو اس نے اسی مقام پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
اس دھماکے میں لیاقت شہید ہو گئے، لیکن ان کی فرض شناسی، الرٹ ذہن اور فوری کارروائی نے ایک خوفناک تباہی کو ٹال دیا۔ اگر لیاقت اسے نہ روکتے تو یہ خودکش حملہ آور کسی بڑے جانی و مالی نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔
لیاقت شہید کی اس قربانی کو قومی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک درخشندہ ستارہ قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں لیاقت شہید کی جرات کو سلام پیش کیا اور انہیں “قوم کا ہیرو” قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا: “لیاقت شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔ ان کی فوری کارروائی نے نہ صرف کوہاٹ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا بلکہ پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ان کا نام جرات اور بہادری کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔”
وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر، صدر مملکت آصف علی زرداری نے لیاقت شہید کے لیے ‘ستارہ شجاعت’ کی منظوری دی ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے اپنے ایک بیان میں کہا:
“لیاقت شہید نے اپنی جان قربان کر کے بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا۔ ان کی جرأت، فرض شناسی اور قربانی قوم کے لیے روشن مثال ہے۔ انہوں نے ایک درندے کے سامنے ڈٹ کر بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ قوم اپنے اس بہادر سپوت کو سلام پیش کرتی ہے جس نے ثابت کیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف وردی نہیں، ایک بہادر دل اور حب الوطنی کے جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔”
قومی اعزاز ‘ستارہ شجاعت’ کی وصولی کے لیے لیاقت شہید کے اہل خانہ، جن میں ان کی والدہ، صاحبزادے اور بھائی شامل ہیں، آج شام ایوان صدر پہنچیں گے، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری خود یہ اعزاز لیاقت شہید کے خاندان کے حوالے کریں گے۔ یہ لمحہ قوم کے لیے فخر اور شہید کے خاندان کے لیے غم کے ساتھ ساتھ عز و شرف کا باعث ہوگا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور وہ وطن کی سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ لیاقت شہید کی قربانی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔