پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان بابر اعظم کیلئے بطور کپتان “ پی ایس ایل “ ٹرافی جیتنے کا پہلا اور سنہری موقع ہے۔
ان کی قیادت میں پشاور زلمی پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچی ہے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر 2022 میں کراچی کنگز سے پشاور زلمی میں شامل ہوئے تھے اور 2016 میں بابر اعظم “ پی ایس ایل “ کا پہلا ایڈیشن مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد یونائیٹڈ کیلئے کھیلے تھے جہاں انھیں صرف 2 میچ کھیلنے کا موقع مل سکا تھا۔
فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ہرانے والی اسلام آباد یونائیٹڈ کا بابر اعظم حصہ نہ تھے۔2017 سے 2021 تک بابر اعظم کراچی کنگز کا حصہ رہے۔ 2020 میں کراچی کنگز نے عماد وسیم کی قیادت میں لاہور قلندرزکو نیشنل اسٹیڈیم میں شکست دے کر چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
فاتح کراچی کنگز کیلئے بابر اعظم نے 2020 میں 11 میچوں میں 132.53 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلتے ہوئے 554رنز بنائے تھے۔ حالیہ “ پی ایس ایل “ میں بابر اعظم عمدہ فارم میں ہیں اور 10میچوں میں 146.26 کے اسٹرائیک ریٹ سے 588 رنز اسکور کر چکے ہیں۔
چین نے بانس کی شکل میں اس کا قدرتی حل دریافت کرلیا،چین اور عالمی بمبو اینڈ رتن آرگنائزیشن کی مشترکہ مہم میں پلاسٹک کی جگہ بانس کی اشیا متعارف کرائی جارہی ہیں۔
بانس جودنیا کےلیےصرف ایک پودا ہےمگرچینیوں نےاسے ماحول کے قدرتی محافظ کے طور پر چن لیا،بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیش نظرچین میں پلاسٹک ہٹاؤ،بانس اگاؤ کےنعرے کے ساتھ نومبر 2022 میں ایک مہم کا آغازہوا،اسی ویژن کے تحت روزمرہ استعمال کی اشیا میں پلاسٹک کو بانس سے بدل دیا گیا۔
چین کےگاوں اینجی کاونٹی میں بانس سےبنی اشیاء کی اس نمائش میں موجودڈسپوزبل کپ،چمچ،شاپنگ بیگ،بیڈ روم اورکچن کےسامان سمیت گھریلو استعمال کی تمام اشیا بانس سے بنی ہوئی ہےجو مستقبل میں ماحول پر کوئی منفی اثرات نہیں ڈالیں گی۔
دنیا بھرمیں پلاسٹک سے بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی زندگی اورماحول کےلیےسنگین خطرہ بن گئی،عالمی اعداد وشمارکےمطابق اب تک 9 ارب ٹن سےزائد پلاسٹک پیداکیاجاچکا ہے،جس کا بڑا حصہ کوڑےکی صورت میں اب سمندروں اور زمین کو آلودہ کررہا ہے۔
دفترخارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کےساتھ کسی قسم کی عارضی جنگ بندی نہیں۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق عید کے موقع پر صرف 3 دن کا وقفہ تھا جو ختم ہو گیا تھا اور موجودہ صورتحال کو جنگ بندی قرار دینا درست نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایاکہ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور دراندازی کی کوششیں بلا تعطل جاری رہیں اورمارچ میں پاکستان کے جنگ بندی اقدام کے باوجود افغانستان سے حملے جاری رہے۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھاکہ افغان طالبان کی بلااشتعال سرحد پار فائرنگ اور دہشتگرد کارروائیوں میں 52 شہری شہید، 84 زخمی ہوئے، افغانستان کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنائیں، دہشتگردی کی اصل وجوہات کو نظرانداز کرنا غیر متوازن مؤقف کی عکاسی ہے، عالمی برادری علاقائی صورتحال اور پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے۔
محکمہ موسمیات نے کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں دن کے وقت مطلع صاف اور موسم گرم رہنے کی پیشگوئی کی ہے، شہر میں وقفے وقفے سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ کل سے شہر میں گرمی کی شدت میں مزید اضافےکا امکان ہے، اتوار کو درجہ حرارت 40 اور پیر کو 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، اسی دوران شہر کا موسم گرم اور خشک رہے گا۔
سندھ کے بیشتر علاقے ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہیں گے: محکمہ موسمیات
دوسری جانب سندھ کے بیشتر اضلاع میں آج موسم گرم،شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، 3 مئی تک سندھ کے وسطی اور بالائی علاقے ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہیں گے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جامشورو، دادو، شہید بینظیرآباد، گھوٹکی اور سانگھڑ میں بھی درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے جبکہ خیرپور، نوشہروفیروز، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر بھی ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہیں گے۔
محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ آج رات ملک کے شمال مغربی علاقوں میں داخل ہوسکتا ہے، ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے کل تک سندھ کے بالائی علاقوں میں گرد آلود تیزہوائیں اور گرج چمک ہوسکتی ہے،سندھ کے بالائی علاقوں میں چند مقامات پر ہلکی بارش اوربوندا باندی کا امکان ہے، مغربی ہواؤں کے زیراثر سندھ میں گرمی کی شدت میں کچھ کمی آئےگی جبکہ 5 مئی کے بعد گرمی کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہوسکتا ہے۔
لاہور: پنجاب ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ نے صحت کے شعبے میں کیریئر بنانے کے خواہشمند طلبا اور گریجویٹس کے لیے نیا انٹرن شپ پروگرام شروع کر دیا۔
پنجاب میں فارمیسی کے طلبا کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 مئی مقرر کی گئی ہے۔
یہ پروگرام ڈائریکٹریٹ آف ڈرگز کنٹرول پنجاب کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔ جس کا مقصد فارمیسی اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ نوجوانوں کو عملی تربیت فراہم کرنا اور صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب کی سرکاری جامعات سے تعلق رکھنے والے فارمیسی کے طلبا، گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس اس پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
فائنل ایئر کے وہ طلبا بھی اہل ہوں گے جو نتائج کے منتظر ہیں۔ جبکہ گزشتہ دو سال کے دوران فارمیسی میں ڈگری، ماسٹرز یا ایم فل مکمل کرنے والے افراد بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔
درخواست دینے کا مکمل عمل آن لائن رکھا گیا ہے۔ جہاں امیدواروں کو رجسٹریشن کے بعد اپنا پروفائل مکمل کر کے مطلوبہ دستاویزات سرکاری پورٹل پر اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 12 مئی 2026 رات 12 بجے ہے۔ اور صرف آن لائن موصول ہونے والی درخواستوں پر ہی غور کیا جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کے لیے ان کی بیٹی نے سپرنٹنڈنٹ جیل کے نام تحریری درخواست جمع کرانے کی کوشش کی، تاہم جیل حکام نے درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا۔
وکیل چوہدری اویس یونس درخواست لے کر اڈیالہ جیل پہنچے اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی ہدایت پر دوسری مرتبہ جیل آئے ہیں تاکہ ملاقات کے حوالے سے باقاعدہ رپریزنٹیشن رپورٹ جمع کرا سکیں۔
چوہدری اویس یونس کے مطابق جیل انتظامیہ کا درخواست وصول نہ کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ پرزنر رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے، یہ اقدام نہ صرف قانونی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مبشرہ مانیکا کی والدہ سے ملاقات کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود جیل حکام کی جانب سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق درخواست وصول کریں اور اس پر کارروائی کریں۔
وکیل کے مطابق درخواست بذریعہ ڈاک بھی سپرنٹنڈنٹ جیل کو ارسال کردی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا قانونی ابہام باقی نہ رہے، جبکہ اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی بھی زیر غور ہے۔
کراچی کی مصروف ترین شارع فیصل پر کاروں اور موٹر سائیکلوں کی حد رفتار 70 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی جبکہ ہیوی ٹریفک کے لیےحد رفتار 30 کلو میٹر فی گھنٹہ ہی برقرار رکھی گئی ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کراچی کی مصروف ترین شارع فیصل پر گاڑیوں کے لیے نئی حد رفتار مقرر کردی اور اس حوالے سے حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شارع فیصل پر کاروں اور موٹر سائیکلوں کے لیے حد رفتار 70 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے جبکہ ہیوی ٹریفک کے لیے حد رفتار 30 کلو میٹر فی گھنٹہ ہی برقرار رکھی گئی ہے۔
واضح رہے گزشتہ برس نومبر میں کراچی میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے اہم سڑکوں پر کاروں اور موٹر سائیکل کی حد رفتار 60 کلو میٹر فی گھٹنہ مقرر کی گئی تھی جبکہ شہر بھر میں ہیوی ٹریفک کی حد رفتار 30 کلو میٹر فی گھنٹہ ہی مقرر اور برقرار رکھی گئی ہے۔
شہرت اب روایتی فلمی اسکرین کی محتاج نہیں رہی بلکہ محض ایک کلک کی دوری پر آ گئی ہے، جہاں فنکار اب خیالی کرداروں کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنی اصل زندگی اور حقیقی شخصیت کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
وقت نے شوبز کے اس پورے منظرنامے کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں فنکارانہ اداکاری کے مقابلے میں انسانی حقیقت زیادہ معتبر اور بھاری محسوس ہوتی ہے، کیونکہ آج کا کیمرہ صرف سکرپٹ کے سین عکس بند نہیں کرتا بلکہ جیتی جاگتی زندگی کو قید کرتا ہے اور دورِ حاضر کے ناظرین کو اب مصنوعی کہانیوں کے بجائے سچائی کی تلاش ہے۔
لوگ سچ دیکھنا ور سننا چاہتے ہیں اپنے پسندیدہ فنکاروں کی زندگی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
فلمی دنیا کی وہ قدیم چمک دمک جو کبھی صرف بڑے پردے یا ٹیلی ویژن تک محدود تھی، اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور خاص طور پر یوٹیوب کے ذریعے ہر انسان کی رسائی میں ہے، جہاں لائٹس، کیمرہ اور ایکشن کی روایتی گونج کے ساتھ اب ”لائک، شیئر اور سبسکرائب“ جیسے الفاظ شوبز ثقافت کا ایک ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔
حالیہ برسوں میں بالی ووڈ اور ٹی وی کے متعدد معروف چہروں نے اپنی مصنوعی دنیا سے باہر نکل کر یوٹیوب کی دہلیز پر قدم رکھا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی روزمرہ زندگی کی جھلکیاں دکھا رہے ہیں بلکہ مداحوں سے ایک براہِ راست اور گہرا تعلق بھی قائم کر رہے ہیں، جن میں ارچنا پورن سنگھ، آشیش ودیارتھی، دیپیکا ککڑ، فرح خان اور بھارتی سنگھ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔
کووڈ-19 لاک ڈاؤن نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے فنکاروں نے اس دور میں یوٹیوب کو بطور تجربہ استعمال کیا، مگر وقت کے ساتھ یہ ایک سنجیدہ اور منافع بخش ذریعہ بن گیا۔
ارچنا پورن سنگھ کے مطابق، ابتدا میں ان کے سادہ اور غیر رسمی ویڈیوز کو غیر معمولی پذیرائی ملی، جس نے انہیں باقاعدہ وی لاگنگ کی طرف مائل کیا۔
اسی طرح آشیش ودیارتھی کے لیے یہ سفر محض اتفاقیہ تھا، مگر آہستہ آہستہ انہوں نے اسے اپنی تخلیقی پہچان کا حصہ بنا لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے انہیں ایک نئی نسل سے متعارف کرایا اور ان کی مقبولیت کو دوبارہ زندہ کیا۔
یوٹیوب نے فنکاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی زندگی کے حقیقی لمحات شیئر کر سکتے ہیں۔ گھر، خاندان، کھانے پینے کی عادات اور روزمرہ مصروفیات۔
مثلاً فرح خان اپنی ویڈیوز میں ہلکے پھلکے انداز اور گھریلو ماحول کے ذریعے ناظرین کو محظوظ کرتی ہیں، جبکہ دیپیکا ککڑ اپنے ذاتی مسائل اور زندگی کے تجربات شیئر کر کے مداحوں سے جذباتی تعلق قائم کرتی ہیں۔
دوسری جانب بھارتی سنگھ اپنی مزاحیہ اور پرجوش وی لاگز کے ذریعے ناظرین کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ اپنی نجی زندگی کی جھلک بھی دکھاتی ہیں۔
یہ پلیٹفارمز صرف مقبولیت ہی نہیں بلکہ مالی فوائد بھی فراہم کر رہا ہے۔ اشتہارات، برانڈ پارٹنرشپس، اسپانسرڈ مواد اور ذاتی بزنس وینچرز کے ذریعے فنکار اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں فنکار اب صرف اداکار نہیں رہے بلکہ وہ خود اپنے مواد کے تخلیق کار اور ناظرین کے ساتھ براہِ راست جڑے ہوئے برانڈ بن چکے ہیں۔ یوٹیوب نے انہیں اپنی کہانی خود سنانے کا موقع دیا ہے، جس سے مداحوں اور ستاروں کے درمیان فاصلے کم ہو گئے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج کا ستارہ صرف اسکرین پر نہیں چمکتا، بلکہ اسمارٹ فون کی اسکرین پر بھی اتنا ہی قریب اور حقیقی محسوس ہوتا ہے۔