All posts by Khabrain News

امریکی آبدوز کا بھارتی سمندر میں ایرانی جہاز پر حملہ، 100 سے زائد افراد لاپتہ

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ جہاز بھارت میں ہونے والی انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا اور بھارت اور سری لنکا کے ساحلوں کے قریب موجود تھا۔

رپورٹس کے مطابق کم از کم 100 افراد لاپتہ ہیں جنہیں ہلاک تصور کیا جا رہا ہے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ سری لنکن بحریہ نے جہاز کو ریسکیو کر لیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ خطے میں شدید سفارتی اور عسکری کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس حوالے سے متعلقہ ممالک کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایرانی بحریہ کا موڈج کلاس فریگیٹ بھارت پہنچا، انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026 اور مشق میلان 2026 میں شرکت کی۔

ان مشقوں میں امریکی بحریہ کا آرلِی برک کلاس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر بھی شریک ہوا جبکہ روسی بحریہ کا اُدالائے کلاس فریگیٹ مارشل شاپوشنیکوف بھی اس بحری اجتماع کا حصہ بنے۔

بین الاقوامی فلیٹ ریویو اور مشق میلان میں مختلف ممالک کی بحری افواج کی شرکت کو خطے میں بحری سفارت کاری اور تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین ایک بار پھر ملتوی

اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی آج ادا کی جانے والی نماز جنازہ کے اجتماع کو ملتوری کردیا گیا۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج یعنی 4 مارچ کو ہونا تھی لیکن اب یہ ملتوی کردی گئی۔

آج نماز جنازہ کے بعد تہران کے امام خمینی نماز ہال میں تین روزہ الوداعی تقریب کی تیاری بھی کرلی گئی تھی جس میں عوام کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی تدفین مشہد میں کی جانا تھی مگر اب تدفین کا دن اور وقت ابھی تک طے نہیں کیا گیا۔

لیکن اب اس تقریب کو ملتوی بھی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آخری رسومات کا حتمی شیڈول مقام اور انتظامات کے طے نہ ہونے کی وجہ سے مؤخر کیا جا رہا ہے۔

نماز جنازہ کے اجتماع کے مقام، تاریخ اور دیگر تفصیلات فی الحال بتائی نہیں گئیں تاہم اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ نماز جنازہ کے اجتماع کو ملتوی کرنے کا فیصلہ دیگر صوبوں کے شہریوں کی جانب سے آنے والی آرا کی روشنی میں کیا گیا۔

دور دراز کے علاقوں سے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے اب بھی متعدد قافلے راستے میں ہیں اور محدود سفری سہولیات کے باعث انھیں پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔

جس کے باعث رہبر اعلیٰ کے نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔

یورپی ممالک کو شامل کیے بغیر سٹریٹیجک استحکام سے متعلق معاہدہ ممکن نہیں: روس

کریملن میں بریفنگ کے دوران انہوں نے فرانس اور جرمنی کے درمیان جوہری تعاون کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت روس کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں برطانیہ اور فرانس جیسے یورپی جوہری ممالک کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

پیسکوف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یورپی جوہری ہتھیاروں کو نظر انداز کر کے کسی قسم کے مذاکرات کرنا قطعی طور پر ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک ہتھیاروں کی تحدید سے متعلق آخری معاہدہ “نیو سٹارٹ “کی مدت فروری میں ختم ہو گئی ہے، واشنگٹن کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ وہ ایک نیا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں چین کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ ماسکو کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے وسیع مشاورت درکار ہوگی اور اس میں یورپی اتحادیوں کے جوہری ہتھیاروں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی حالات کی کشیدگی کے باعث جوہری توازن اور اسٹریٹیجک استحکام کا معاملہ مزید حساس صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے پیش نظر آئندہ مذاکرات آسان دکھائی نہیں دیتے۔ 

ایرانی بیلسٹک میزائل نیٹو دفاعی نظام نے تباہ کر دیا: ترک وزارت دفاع

ترک وزارت دفاع کے مطابق میزائل نے عراقی اور شامی فضائی حدود عبور کیں، میزائل کو مانیٹر کر کے مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو دفاعی نظام متحرک ہوا۔

ترکیے کے مطابق خطرے کو فضا میں ناکام بنایا گیا، واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی رپورٹ نہیں ہوا۔

ترک وزارت دفاع کے مطابق ترکیے اپنی سرزمین کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔

یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، گورنر اسٹیٹ یبنک

اسلام آباد:
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، پہلے وہ قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کررہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک حکام اور دیگر موجود تھے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا جسے کم کرنے کے لیے اقدام اٹھائے جو 2022ء میں کی ڈی پی کے 4.7 فیصد تھا یہ 2023ء میں کم ہوکر جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہوگیا اور پچھلے سال دو ارب ڈالر سرپلس رہا ہے اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ابھی بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے کمفرٹ ایبل ہیں، پہلے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر تھے جو صرف دو ہفتے کی درآمد کے برابر تھے ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی، اس وقت سولہ ارب ڈالر سے زائد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا بیرونی قرضہ سات سال کے دوران 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہوگیا تھا اور پچھلے سال سے یہ قرضہ اسی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے، اس وقت ملک کا کل قرضہ 148ارب ڈالر ہے، اس میں حکومت کا قرضہ 103قرب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جون2026ء کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، دسمبر 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یو اے ای کا قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور ہورہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ ایکسپورٹ کی اسکیمیں ختم کرتے جارہے ہیں اس وجہ سے دباؤ میں ہیں۔

گورنر نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم ختم نہیں کی گئی، برآمدات نہ بڑھنے کی اور بھی وجوہات ہیں، فوڈ آئٹمز کی قیمت میں کمی بھی ایک وجہ ہے ایک تو عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہیں اور ڈیمانڈ بھی کم ہوئی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس سال برآمدات میں سات فیصد کمی ہوئی ہے، برآمدات میں کمی کی ایک وجہ چاول کی برآمد میں کمی بھی ہے صرف چاول کی برآمد میں ایک ڈالر کی کمی ہوئی ہے، جب آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہیں تو سبسڈی اور ری بیٹ اس طرح دے نہیں سکتے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: نیوزی لینڈ کا پانچواں، جنوبی افریقا کا چوتھا سیمی فائنل، کتنی مرتبہ فتح ملی؟

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب دونوں ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ چار اور جنوبی افریقا تین مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا سیمی فائنل کھیل چکے ہیں لیکن دونوں ٹیمیں صرف ایک مرتبہ ہی فائنل میں رسائی حاصل کرسکیں۔

جنوبی افریقا کو 2009 کے سیمی فائنل میں پاکستان اور 2014 کے سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی جبکہ 2024 کے سیمی فائنل میں افغانستان کے خلاف فتح حاصل کی۔

تاہم 2024 کے فائنل میں جنوبی افریقا کو بھارت کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نیوزی لینڈ کو 2007 کے سیمی فائنل میں پاکستان، 2016 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ اور 2022 کے سیمی فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

کیوی ٹیم نے 2021 کے سیمی فائنل میں انگلیںڈ کو شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کی جہاں اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ ناقص کارکردگی پر کوچ کیساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی

ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان بڑھ گیا ، کوچ کے ساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی،ٹیم میں بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت کئی پلیئرز کی جگہ خطرے میں پڑ گئی، نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو آزمانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ سیریز کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ادھر شاہد آفریدی نے شاداب خان کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا،سابق کپتان کے مطابق حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے،فخر زمان کو ذمہ داری سونپنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے ، ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دینے لگی۔

ذرائع کے مطابق قیادت اور کوچنگ اسٹاف کے مستقبل پر سنجیدہ غور جاری ہے،آئندہ چند ہفتے کئی اہم فیصلوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی پوزیشنز بھی زیر بحث ہیں جبکہ سلیکشن کمیٹی کارکردگی کی بنیاد پر اسکواڈ میں رد و بدل پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

بھارت اور سری لنکا میں منعقدہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک تو رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تاہم سیمی فائنل میں جگہ نہ بناسکی،روایتی حریف بھارت کے خلاف شکست اور پھر انگلینڈ کے ہاتھوں ہار نے پاکستان کی راہ مزید دشوار بنا دی۔ آخری میچ میں سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی درکار تھی لیکن مڈل آرڈر کی ناقص بیٹنگ کے باعث مطلوبہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکا اور یوں گرین شرٹس کا سفر اختتام کو پہنچا۔

میگا ایونٹ میں ناقص اجتماعی کارکردگی کے بعد سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تجربہ کار کرکٹرز کو آرام دے کر نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو موقع دینے کی تجویز زیر غورہے۔ اس تناظر میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی بحث جاری ہے۔

پی سی بی حکام ٹیم کی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور دبائو میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔دوسری جانب سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کی کارکردگی پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اسپن بولنگ آل راونڈر شاداب خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے،فخرزمان کو کپتان بنایا جا سکتا ہے، ہیڈ کوچ مسلسل شاداب کو مواقع دے رہے ہیں لیکن بار بار چانس ملنے کے باوجود وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکیشاداب خان نے 6 میچز میں 118 رنز بنائے، ان کی بیٹنگ اوسط 23.60 اور اسٹرائیک ریٹ 153.25 رہا۔

بولنگ میں وہ صرف 5 وکٹیں حاصل کر سکے، بولنگ اوسط 30.40 اور اکانومی ریٹ 8.44 رہی۔ ناقدین کے مطابق شاداب اہم مواقع پرمیچ کا رخ موڑ سکے نہ ہی ٹیم کو درکار کامیابیفراہم کر پائے، ورلڈ کپ میں اگر کوئی نمایاں مثبت پہلو سامنے آیا تو وہ اوپنر صاحبزادہ فرحان کی شاندار کارکردگی تھی۔

انہوں نے 6 اننگز میں 383 رنز اسکور کیے، ان کی اوسط 76.60 اور اسٹرائیک ریٹ 160.26 رہا۔ وہ پورے ایونٹ میں پاکستان کے سب سے مستقل مزاج بیٹر ثابت ہوئے اور مشکل حالات میں بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا کی پوزیشنز محفوظ نہیں رہیں اور آئندہ چند دن ان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ پی سی بی کے اعلی حکام ٹیم کی مجموعی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور میدان میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں ، ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، قومی اسکواڈ میں ممکنہ رد و بدل کی بازگشت بھی تیز ہو چکی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ سلیکشن کمیٹی ٹیم کمبی نیشن میں بڑی تبدیلیاں کر سکتی ہے، بعض سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے اور نوجوانوں کو آزمانے کی تجویز زیر غور ہے، کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے ، جو پلیئرز تسلسل کے ساتھ نتائج دینے میں ناکام رہے انھیں ڈراپ کیے جانے کا امکان موجود ہے،اس تناظر میں بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں نام بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں،مسلسل دبائو اور غیر یقینی فضا کے باعث فیصلہ سازی متاثر ہو رہی ہے، اہم مواقع پر غلط حکمت عملی اور ناقص عمل درآمد ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے خلاف مجوزہ سیریز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ، اسے کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لئے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے ۔

آپریشن غضب للحق میں 481 خوارج ہلاک، 696 زخمی ہو چکے: عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطالعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائی اپنے اہداف کے مطابق کامیابی سے جاری ہے اور دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے 481 کارندے ہلاک جبکہ 696 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، کارروائی کے دوران دشمن کی 226 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 35 چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو بھی تباہ کیا گیا ہے، افغانستان بھر میں 56 مختلف مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آپریشن کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دینا ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیے جاتے۔

پاکستان میں آبی بحران شدید، پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو گئی

پاکستان آبی دباؤ والے ملک سے آبی قلت والے ملک میں داخل ہو چکا ہے، سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 1000 مکعب میٹر کی آبی قلت کی حد سے نیچے آ چکی ہے۔

فی کس دستیابی میں کمی اور پاکستان کے آبی قلت میں تبدیل ہونے کی وجہ آبادی میں اضافہ ہے، وزارت آبی وسائل نے رپورٹ قومی اسمبلی میں جمع کرا دی۔

رپورٹ کے مطابق 1951 میں فی کس پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر تھی، 2017 میں یہ کم ہو کر 1,102 مکعب میٹر رہ گئی۔

2023 میں فی کس پانی مزید کم ہو کر 948 مکعب میٹر تک پہنچ گیا، 2025 میں فی کس دستیابی صرف 899 مکعب میٹر رہ گئی، 1,000 مکعب میٹر سے کم سطح پانی کی قلت تصور کی جاتی ہے۔

2023 میں آبادی 241.49 ملین ریکارڈ کی گئی، 2025 میں آبادی بڑھ کر 254.79 ملین ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی، وفاقی حکومت نے 2030 تک قومی سطح پر نئے آبی ذخائر کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔

فی الوقت وفاقی حکومت عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف مراحل میں اٹھارہ چھوٹے، بڑے اور درمیانے ڈیم منصوبوں کی سرپرستی کر رہی ہے جن کی مجموعی لاگت 1،036.069 ارب روپے ہے۔

تکمیل کے بعد یہ منصوبے مجموعی طور پر تقریباً 8.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کریں گے، اضافی 346،447 ایکڑ اراضی کو زیر آبپاشی لائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق صرف دیامر بھاشا ڈیم ہی 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرے گا، انڈس بیسن آبپاشی نظام کے تحت زیر خدمت 45 ملین ایکڑ اراضی کے لیے آبپاشی کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے مرض کی تیزی سے پھیلاؤ کی اہم وجہ دریافت

کیا آپ کو معلوم ہے کہ زیادہ تر ذہین افراد عجیب عادات کے مالک ہوتے ہیں؟

جی ہاں واقعی دنیا تو ان عادات کو عجیب قرار دیتی ہے مگر متعدد تحقیقی رپورٹس میں انہیں زیادہ ذہانت سے منسلک کیا گیا ہے۔

ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں مگر اتنا فرق بھی ہوتا ہے کیا؟

ایسی ہی ایک عجیب عادت جسے سائنس نے ذہانت سے منسلک کیا ہے وہ خود سے باتیں کرنا ہے۔

اگر آپ خود کلامی کے عادی ہیں تو یہ پاگل پن نہیں بلکہ دیگر افراد سے زیادہ ذہین ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

ویسے تو اس رویے کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے مگر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ اس عادت سے دماغ کو فائدہ ہوتا ہے جیسے یادداشت بہتر ہوہتی ہے، اعتماد بڑھتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔

2012 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خود کلامی کرنے والے افراد تصاویر میں موجود اشیا کو زیادہ تیزی سے شناخت کرلیتے ہیں۔

تو اگر آپ خود کلامی کرنے کے عادی ہیں تو اس پر شرمندہ مت ہوں، یہ عجیب عادت تفصیلات کو تجزیہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کو تیز بنا سکتی ہے۔

2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خود سے باتیں کرنا، چاہے اونچی آواز میں یا ذہن کے اندر، دماغ کی توجہ مرکوز کرنے اور مقاصد کے حصول جیسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے والی عادت ہے۔

محققین نے بتایا کہ خود کلامی سے سے لوگوں کو خود پر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ وہ اپنے خیالات کو منظم کر پاتے ہیں جس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے جبکہ اقدامات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اگر آپ اونچی آواز میں خود سے باتیں کرتے ہیں تو اس سے مقاصد کے حصول میں مزید مدد ملتی ہے۔