All posts by Khabrain News

کراچی میں آج وقفے وقفے سے تیز سمندری ہوائیں چلنے کا امکان

شہرِ قائد میں آج وقفے وقفے سے تیز سمندری ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر مقامات پر موسم شدید گرم اور خشک رہنےکا امکان ہے۔

 

 

محکمہ موسمیات نے بتایاکہ کراچی میں بھی موسم گرم رہے گا  جب کہ آئندہ 3 روز کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ آج وقفے وقفے سے مغرب اور جنوب مغرب سے  تیز سمندری ہوائیں چلتی رہیں گی۔

امریکا: فٹبال فیلڈ کے برابر گھاس کاٹنے کا انوکھا ریکارڈ

امریکا میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے 15 منٹ کے اندر فٹبال فیلڈ کے برابر رقبے کی گھاس کاٹنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

 

ریاست کینٹکی میں ’لان کوئین‘ نامی انفلوئنسر جن کا اصلی نام ہیلی ریمن ہے، نے لوئزوِل کے واٹر فرنٹ پارک میں ٹرف مٹ گریٹ لان کی گھاس 14 منٹ اور 51.06 سیکنڈ میں کاٹ کر گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔

منتظمین کے مطابق گینیز ورلڈ ریکارڈز کے قوانین کے تحت گھاس کی لمبائی کم از کم 6 انچ ہونا ضروری تھی، تبھی ریکارڈ کو تسلیم کیا جا سکتا تھا۔

 

ریہلکو (پاور ٹیک کمپنی جس نے گھاس کاٹنے کے لیے مشین فراہم کی) کا یہ موور ’کمانڈ پرو 999 سی سی‘ پیٹرول انجن سے چل رہا تھا، جس نے زبردست رفتار اور طاقت دکھائی۔

واٹر فرنٹ پارک کی صدر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیبرا بِلیٹزکی کا کہنا تھا کہ ٹرف مَٹ گریٹ لان ان کی کمیونٹی کی پہچان ہے اور انہیں فخر ہے کہ آج اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

میری اننگ اب اختتام کو پہنچی!

میری اننگ اب اختتام کو پہنچی۔ دیکھنے اور پڑھنے میں بظاہر یہ ایک عام سا جملہ ہے لیکن اس کو بولنا بہت مشکل اور اس پر عمل کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ عموماً لوگ اس بات کا فیصلہ نہیں کر پاتے کہ کب انھیں اپنی اننگ کا اختتام کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ یا تو وقت سے بہت پہلے اس کا اختتام کر دیتے ہیں، ہرچند کے ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں یا پھر وہ اپنی اننگ کو اتنا طول دے دیتے ہیں جب وہ اپنے سفر کا اختتام کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ اپنی عزت کو کہیں راستے میں گنوا بیٹھے ہیں۔

ایک طویل اننگ کے بعد بھی اگر کوئی شخص عزت سے محروم ہے تو پھر ایسے لوگوں سے غریب کوئی نہیں ہوتا کیونکہ ایک طویل کیرئیر کے بعد بھی ان کے پاس بتانے کےلیے پیسے کے سوا کچھ نہیں ہوتا، اور ایسا بھی ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر لوگ تو ہر طرح سے تہی دامن ہوتے ہیں۔ اننگ ختم کرنے کا صحیح وقت کب ہے اس بات کا کوئی عالمگیر جواب تو نہیں ہے لیکن اس پر کچھ گزارشات ضرور ہیں اور یہ ہی ہماری آج کی تحریر کا مرکزی خیال ہے۔

ہمارے یہاں عام طور پر ایک محاورہ یا اصطلاح بہت استعمال کی جاتی ہے کہ ’بھریا میلہ چھوڑنا‘۔ اس کے معنی یہ ہے کہ آپ اپنے عروج کے دنوں میں ہی اپنی اننگ کو ختم کر دیں۔ جیسا کہ ہم نے لکھا ہے کہ اگر یہ ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ بعض اوقات لوگ، حالات اور واقعات یہ ثابت بھی کرتے ہیں کہ آپ نے جلدی کردی۔ اس کی ایک بہترین مثال کرکٹر یونس خان ہے کہ جنہوں نے 22 جون 2009 کو سری لنکا کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں ہرا کر ورلڈ کپ جیتا اور پھر اس تاریخی کامیابی کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس میں اس فارمیٹ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ سنایا۔ اس کو کہتے ہیں ’بھریا میلہ چھوڑنا‘ لیکن بعد میں وقت نے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں جلدی کردی تھی۔

اس کی دوسری انتہا بھی ایک کرکٹر اور سابق کپتان ہے کہ انہوں نے اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑا کہ جب تک کل کے بچوں نے ان کو آؤٹ کرنا شروع نہیں کر دیا۔ ایک دفعہ تو انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب ایک بولر نے انھیں آؤٹ کرنے کے بعد ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ یہ پتہ نہیں ہے کہ انھوں نے آؤٹ کرنے پر معافی مانگی یا پھر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اللہ کے واسطے اب ہمارا اور کرکٹ کا پیچھا چھوڑ دو۔ میرے خیال سے انھوں نے دوسرا والا پیغام لے لیا لیکن اس کے بعد بھی لیگ کرکٹ میں چند گیند کے مہمان کے طور پر نمودار ہوتے رہے تاوقتیکہ کہ ان کی کمر نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ یہ بھریا میلہ چھوڑنے کی دوسری انتہا ہے۔

 

ہم چونکہ مینجمنٹ کے آدمی ہے تو ہم اس کو (PLC) پروڈکٹ لائف سائیکل یا پروڈکٹ کی زندگی کے دورانیے کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ پہلا درجہ تعارفی ہے کہ جس میں آپ اپنی اننگ کا آغاز کرتے ہیں۔ دوسرا درجہ گروتھ کا ہے کہ جس میں آپ اپنے عروج پر پہنچتے ہیں۔ اس کے بعد مزید گروتھ یا ترقی نہیں ہوتی اور آپ اسی درجے پر برقرار رہتے ہیں، اس کو اسٹیشنری یا پلیٹو بھی کہتے ہیں۔ پلیٹو آپ سمجھیے کہ سطح مرتفع کہ جہاں اب اس سے اوپر جانا ممکن نہیں ہے۔ اس درجے کے بعد ڈیکلائن یا زوال نے ہی آنا ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہر عروج کو زوال ہے ماسوائے اللہ تعالٰی کی ذات کے۔ تو زوال ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس کو تھوڑے عرصے کےلیے روکا تو جاسکتا ہے لیکن مکمل ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔

 

ایک اور بات بھی ہوتی ہے کہ آدمی کبھی کبھی برے وقت سے بھی گزر رہا ہوتا ہے تو اس کو اننگ کا خاتمہ نہیں کہہ سکتے ہیں اور اس دوران مکمل محنت سے یا تو آپ اس برے وقت سے باہر آجائیں گے یا آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اب وقت ختم ہونے والا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا ہے کہ اس سوال یا بات کا کوئی عالمگیر جواب نہیں ہے۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ جب آپ کی کارکردگی کا معیار منفی پانچ سے پندرہ فیصد کے درمیان ہوں تو سمجھ لیجیے کہ فیصلے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔

آج کی اس تحریر کا اختتام ایک مشہور انگریزی فلم ’دی ڈارک نائٹ‘ کے ایک ڈائیلاگ پر کرنا چاہوں گا۔ پہلے اصل ڈائیلاگ انگریزی میں اور پھر اس کا ترجمہ: You either die a hero or live long enough to see yourself become the villain اس کا ترجمہ یہ ہے یا تو آپ ہیرو رہتے ہوئے ہی مرجائیں یا پھر زندہ رہیں اور خود کو ہی ولن بنتے دیکھیں۔

آج کل ہندوستان کے ایک وکٹ کیپر بیٹسمین اور سابق کپتان اس کی عملی تصویر بننے ہوئے ہیں۔ یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میری اننگ اب اختتام کو پہنچی کہنا آسان نہیں ہے اور اس بات کو صحیح وقت پر کہنے والا ہی اصل ہیرو ہوتا ہے۔

فیفا ورلڈکپ 2026: امریکی ہوٹل انڈسٹری کو بڑے نقصان کا خدشہ

امریکا میں ہونے والے آئندہ فیفا ورلڈ کپ سے متعلق سیاحتی شعبے کی بڑی امیدیں خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی ہوٹل اینڈ لاجنگ ایسوسی ایشن (اے ایچ ایل اے)کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں ہوٹل بکنگز توقعات سے بہت زیادہ کم ہیں، جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ٹورنامنٹ سے متوقع معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔

رپورٹ کے مطابق فیفا کی جانب سے پانچ ملین سے زائد ٹکٹ فروخت ہونے کے دعوؤں کے باوجود ہوٹلوں میں رش نظر نہیں آ رہا۔

 

امریکا کے 32 ہزار سے زائد ہوٹلوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم اے ایچ ایل اے نے اس صورتحال کا کچھ حد تک ذمہ دار فیفا کو بھی قرار دیا ہے۔

تنظیم کے مطابق فیفا نے اپنے استعمال کے لیے ضرورت سے زیادہ ہوٹل کے کمرے پہلے ہی بک کر لیے تھے، جس سے مصنوعی طور پر طلب اور قیمتیں بڑھ گئیں۔

 

بعد ازاں بڑی تعداد میں یہ بکنگز منسوخ کردی گئیں جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔

فیفا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔

دوسری جانب ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ میچ ٹکٹوں کی بلند قیمتیں، مقامی ٹرانسپورٹ اور ٹیکس اخراجات کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی ماحول بھی شائقین کو امریکا آنے سے روک رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ورلڈ کپ سے امریکی سیاحت کو متوقع فائدہ نہیں مل پائے گا۔

حج کے دوران شدید گرمی اور گرد کے طوفان کا الرٹ جاری

حج کے دوران شدید گرمی اور گرد کے طوفان کے پیشِ نظر سعودی حکام نے حجاج کرام کے لیے الرٹ جاری کردیا۔ حکام نے زائرین کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور حفاظتی ماسک و چھتری کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔ مختلف مقدس مقامات پر طبی سہولیات اور ایمرجنسی ٹیموں کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ حجاج کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کی جاسکے۔

سائنسدانوں کی میڈیکل میں اہم پیشرفت، اون سے ہڈیوں کا علاج ممکن بنادیا

سائنس دانوں کی طب کے میدان میں اہم پیش رفت کی ہے جس کے تحت اون سے حاصل کردہ پروٹین (Keratin) ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے ٹشو کی دوبارہ نشوونما ممکن بنانے معاون ہوگا اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے قدرتی پروٹین کے متبادل کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کنگز کالج لندن کے سائنس دانوں نے اون سے حاصل کیراٹن جانوروں کے ماڈل میں آزمایا اور دریافت کیا کہ اس سے تمام متاثرہ حصوں میں ہڈیوں کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے، تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ مواد جنریٹیو میڈیسن اور دانتوں کے پروسیجر کے لیے مضبوط متبادل بن سکتا ہے۔

نئی تحقیق میں پایا گیا کہ اون سے حاصل کردہ اسٹرکچرل پروٹین زندہ جانوروں میں ہڈیوں کی نشوونما میں مدد کرسکتا ہے، مواد سے ہڈیوں کے ایسے ٹشو پیدا ہوئے جو اس طرح کے علاج کے لیے موجودہ دور میں معیاری مواد تصورکیے جانے والے روایتی علاج کے مقابلے میں صحت مند قدرتی ہڈیوں کے انتہائی مماثل ہے۔

 

کنگز کالج لندن کی فیکلٹی برائے ڈینٹسٹڑی، اورل اور کرینیوفیشل سائنس کے ڈاکٹر شیرف ایلشاروے نے بتایا کہ ہم پہلی دفعہ یہ دکھانے کے لیے واقعی میں پرجوش ہیں کہ اون سے حاصل کردہ مواد کیسے زندہ جانوروں میں ہڈیوں کے علاج کے لیے کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے حوالے سے یہ ایک بڑا سنگ میل ہے، یہ کیراٹن کو قابل تجدید بائیومیٹیریل کی نئی ممکنہ سطح میں رکھ دیتا ہے جو طویل عرصے سے جاری موجودہ طریقہ علاج کا متبادل بن سکتا ہے۔

 

سائنس دانوں نے مواد کی پائیداری فائدوں کو بھی نمایاں کیا اور بتایا کہ اون ایک قدرتی ذریعہ ہے اور اس سے اکثر فارمنگ صنعتوں میں ناکارہ گردان کر الگ کیا جاتا ہے لیکن اس سے کیراٹن حاصل ہوتا ہے جو طبی طور پر علاج کے لیے قابل تجدید اور بڑے پیمانے پر طبی پیمانوں کا ذریعہ کا بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سائنس دانوں نے موجودہ طریقہ علاج کے متبادل کے طور پر تجربے کے لیے اون سے حاصل کردہ کیراٹن سے میمبرینز بنایا، مواد کو ہڈیوں کی نشوو نما کی مدد کے لیے کیمیائی عمل سے گزار کر مضبوط اور پائیدار ڈھانچے تیار کیے گئے۔

ٹیم نے اون سے حاصل کیراٹن میمبرینز (جھلیاں) کو لیب میں سب سے پہلے انسانی ہڈیوں کے سیلز میں آزمایا، انسانی ہڈیوں کے سیلز کامیابی سے بحال ہوئے اور صحت مند ہڈیوں کی نشوونما کے مضبوط نشان مل گئے۔

سری لنکا میں پے پال سروسز شروع، پاکستان تاحال محروم

پے پال نے جنوبی ایشیا کے ملک سری لنکا میں باضابطہ طور پر اپنی سروسز کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ پاکستان میں اب بھی صارفین بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

15 مئی کو ہونے والی تقریب میں وزیر اعظم ہرینی اماراسوریا نے اعلان کیا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ سروس بینک آف سیلون، کمرشل بینک آف سیلون اور سمپتھ بینک کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جبکہ مزید بینکوں کی شمولیت بھی متوقع ہے۔

اس پیش رفت کو سری لنکا کے ڈیجیٹل شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے کاروباری افراد اور فری لانسرز پے پال کی مکمل سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے قبل صارفین صرف ادائیگیاں کر سکتے تھے، مگر رقوم وصول کرنے کی سہولت محدود تھی۔

حکام کے مطابق نئی سہولت سے ہزاروں فری لانسرز، ٹیکنالوجی ماہرین، کاروباری افراد اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی اور زرمبادلہ کے باضابطہ بہاؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔

سری لنکا میں ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کا تقریباً 52 فیصد حصہ رکھتا ہے، اور ماہرین کے مطابق عالمی ادائیگی کے نظام تک آسان رسائی مقامی کاروبار کو بین الاقوامی تجارت میں مزید فعال بنا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے بڑھتے ہوئے مقابلے کو بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں پے پال جیسے پلیٹ فارمز تک رسائی کو اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے مختلف حکومتیں پے پال کو متعارف کرانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ متعدد اعلانات کے باوجود پے پال نے پاکستان میں براہ راست آپریشنز شروع نہیں کیے۔

اس تاخیر کے باعث پاکستانی فری لانسرز اب بھی متبادل پلیٹ فارمز جیسے Payoneer پر انحصار کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے خوراک کا شدید بحران پیدا ہونیوالا ہے، ایف اے او

فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر خوراک کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق ہرمز کے راستے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور کھاد کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ گزرتا تھا، تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد یہ اہم گزرگاہ مؤثر طور پر بند ہو گئی ہے۔

ایف اے او نے خبردار کیا کہ اس صورت حال کے باعث خاص طور پر گرمیوں کی فصلوں کے لیے کھاد کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ادارے نے متبادل زمینی و بحری راستوں، خصوصاً جزیرہ نما عرب سے بحیرہ احمر تک راستے استعمال کرنے پر زور دیا، جبکہ ممالک سے اپیل کی کہ توانائی اور کھاد کی برآمدات پر پابندیاں نہ لگائی جائیں اور غذائی امداد کو تجارتی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق یہ صرف عارضی مسئلہ نہیں بلکہ “زرعی و غذائی نظام کو باقاعدہ جھٹکا” ہے، جو مرحلہ وار سامنے آ رہا ہے۔

ادارے کے مطابق بحران کی شدت مختلف مراحل سے گزرے گی، جن میں توانائی کی قلت، کھاد اور بیجوں کی کمی، پیداوار میں کمی، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بالآخر خوراک کی مہنگائی شامل ہیں۔

ایف اے او نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل عالمی خوراک بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ ادارے کا عالمی فوڈ پرائس انڈیکس پہلے ہی مسلسل تین ماہ سے بڑھ رہا ہے۔

خطبہ حج 35 زبانوں کے ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گا

مکہ مکرمہ : سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال حج کے موقع پر خطبہ حج دنیا بھر میں بولی جانے والی 35 بڑی زبانوں میں ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گا۔

اس حوالے سے ادارہ امور حرمین کے سربراہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں تک خطبۂ حج کا اہم پیغام پہنچانا اور اسلام کے اعتدال، رواداری اور انسانیت کے پیغام کو عالمی سطح پر عام کرنا ہے۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق شیخ السدیس کا کہنا ہے کہ خطبۂ حج کا ترجمہ سعودی عرب کی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے عزم کا مظہر ہے، جبکہ یہ اقدام سعودی قیادت کی جانب سے حجاج کرام کی خدمت اور ان کی سہولت کے لیے خصوصی توجہ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے حج سیزن کے عالمی اثرات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ خطبۂ حج کے روحانی، اخلاقی اور انسانی پیغامات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

شیخ السدیس کا کہنا تھا کہ خطبۂ حج ترجمہ کا منصوبہ ادارہ امور حرمین کے اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے، جو برسوں کے تجربے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے مختلف عالمی زبانوں میں دینی مواد کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

شیخ السدیس نے کہا کہ خطبے کی مؤثر ترسیل کے لیے ادارہ امور حرمین نے اپنی تکنیکی، میڈیا اور خصوصی ماہر ٹیموں کو متحرک کر دیا ہے تاکہ یہ پیغام اعلیٰ معیار اور پیشہ ورانہ انداز میں دنیا کے وسیع ترین حلقے تک پہنچایا جا سکے۔

میں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا، ٹرمپ

واشنگٹن (21 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ’’میں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے جواب کا چند دن تک انتظار کر سکتے ہیں، مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے ہمیں ایران سے مناسب جواب کی توقع ہے۔

انھوں نے کہا میری ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بہت اچھی گفتگو ہوئی، لوگوں کی ہلاکت سے بہتر ہے کہ معاہدے کے لیے چند روز انتظار کیا جائے، ایران سے درست جواب نہیں ملا تو ہم تیزی سے آگے بڑھیں گے، ہم کوئی بھی کارروائی کرنے کے لیے الرٹ پر ہیں۔

امریکی صدر نے کہا ڈیل ہونے تک ایرانی ٹینکروں کو جانے نہیں دیں گے، کوئی بھی معاہدہ ہونے تک پابندیاں نہیں ہٹائیں گے، اگر ایران سے 100 فی صد اچھا جواب ملا تو وقت اور بہت زندگیاں بچ جائیں گی، امید ہے ایران اور ہمارے لیے ایک اچھی ڈیل ہو جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران اپنے جہاز نہیں نکال سکا، 37 جہازوں کو ہم نے روک دیا، ایران جب تک معاہدہ نہیں کرتا ریلیف کی کوئی بات نہیں ہو سکتی، ایران کو جنگ میں شکست ہو چکی، معاہدے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

انھوں نے اپنا پسندیدہ دعویٰ کیا کہ ایران مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے، اور اب ایران میں ذہین لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں، امید ہے جن سے بات کر رہے ہیں وہ ڈیل کر لیں گے، ایران ڈیل کر لیتا ہے تو یہ سب کے لیے اچھا ہوگا، جن سے بات کر رہے ہیں وہ سمجھدار ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کیوبا سے متعلق کہا کہ اس کے لوگ مشکلات میں ہیں، دیکھتے ہیں ان کے لیے کیا ہوتا ہے، کیوبا کے لوگ بہترین اور میرے دوست ہیں، ہم ان کو مشکلات سے آزاد کریں گے، ہمیں کیوبا کے عوام کی مدد کرنی ہوگی کیوں کہ حکومت نے وہاں اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔