All posts by Khabrain News

کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی مہنگی، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی مہنگی کردی گئی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق نیپرا نے فی یونٹ بجلی ایک روپے 42 پیسے مہنگی کردی ہے، بجلی فروری 2026 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔

بجلی کی قیمت میں اضافہ صارفین سے اپریل کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔

حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا، لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر اطلاق نہیں ہوگا۔

نیپرا نے فروری کی ایڈجسٹمنٹ میں سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری کی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 63 پیسے مہنگی کی گئی تھی۔

ٹرانسپورٹرز اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی

خیبرپختونخوا کے ٹرانسپورٹرز اور گاڑیوں کے مالکان کے لیے اہم خبر آگئی ہے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ جو گاڑیاں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہیں وہ اپنے شناختی کارڈ کے کوائف کی درستگی برائے روٹ پرمٹ فوری طور پر متعلقہ دفاتر (پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی) سے یقینی بنائیں۔

محکمے کے مطابق مشاہدے میں آیا ہے کہ متعدد کیسز میں شناختی کارڈ کا ریکارڈ پروونشل و ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز میں موجود ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتا جس کے باعث روٹ پرمٹ کی تصدیق اور دیگر سہولیات کے حصول میں مسائل درپیش ہیں۔

لہٰذا تمام افراد کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنے کوائف کی بروقت درستگی و یقینی بنائیں، حکومت خیبرپختونخوا کی پالیسی کے مطابق فنانشنل سپورٹ صرف انہی ٹرانسپورٹرز اور گاڑی مالکان کو فراہم کی جائے گی۔

علاوہ ازیں روٹ پرمٹ، لنکنگ اور ریکارڈ درستگی کا عمل حکومت کی ہدایت کے مطابق ایک ماہ کے لیے مفت فراہم کیا جارہا ہے جس کے لیے کسی قسم کی فیس یا چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے، بصورت دیگر ان کے روٹ پرمٹس منسوخ تصور کیے جائیں گے اور وہ فنانشل سپورٹ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

ڈاکو ’’کسٹم اہلکار‘‘ بن کر جیولرز سے 17 کلو سونا لے اُڑے!

(8 اپریل 2026): لٹیروں نے بھی ہاتھ لوٹ مار کے لیے نئے روپ بدل لیے جیسا کہ ڈاکو کسٹم اہلکار بن کر جیولرز سے 17 کلو سونا لے اڑے۔

ڈکیتی کی یہ واردات بھارتی شہر پٹنہ میں ہوئی، جہاں نصف درجن کے قریب ڈاکوؤں نے خود کو کسٹمز اہلکار بتایا اور صراف کی تلاشی کے بہانے اس کے پاس موجود تمام سونا ضبط کرنے کے بہانے ساتھ لے اڑے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے جیولر کے صراف کے دو ملازمین بھاری مقدار سونے کے زیورات، جن کا وزن 17 کلو اور مالیت 25 کروڑ انڈین روپے (پاکستانی 80 کروڑ کے لگ بھگ) لے کر جا رہے تھے کہ پولیس کا اسٹیکر لگی کار میں سوار افراد نے انہیں روک لیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان جن کی تعداد سات کے قریب تھی۔ سفید شرٹ اور خاکی پتلون پہنے ملزمان نے خود کو کسٹم افسر ظاہر کیا اور تلاشی کے بعد ان کے پاس سے سونے کے زیورات سے بھرے تین بیگ قبضے میں لے لیے۔

بہروپیے ڈاکوؤں نے دونوں متاثرہ نوجوان کی آنکھوں میں پٹی باندھ کر زبردستی اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور آگے سنسان جگہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

متاثرہ نوجوان پولیس تھانے پہنچے، جہاں ملزمان کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج کیا گیا، جب کہ پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی قبضے میں لے لی، جس پر جعلی رجسٹریشن نمبر لگا ہوا تھا۔

پولیس نے گاڑی کے چیسس نمبر سے مالک کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے جب کہ جائے واردات کے قریبی ریلوے اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ترک صدر کا شہباشریف سے رابطہ، پاکستان کے تاریخی امن اقدام پر مبارکباد دی

وزیراعظم شہباز شریف کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے فون کر کے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے تاریخی امن اقدام پر مبارکباد دی ہے۔

صدر اردوان نے خلیج میں تنازعہ ختم کرانے کےلیے وزیراعظم کی قیادت کی تعریف کی۔

ترک صدر اردوان نے کہا کہ وزیراعظم کی جرات مندانہ قیادت نے انسانی مصائب اور تباہی کو روکنے میں مدد دی، ترکیہ خطے میں امن کی بحالی کیلئے شہبازشریف کی مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے امن کوششوں کی توثیق پر ترک صدر اردوان سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے عالمی امن اور استحکام کےلیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئےکوششیں جاری رکھےگا۔

قبل ازیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیرخارجہ میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

ایرانی سفارتخانہ کے مطابق عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کیلئے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے اور جنگ بندی کیلئے مسلسل کوششوں میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

پاکستان کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، پاکستان کی کوششوں کا بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراف کیا جا رہا ہے جبکہ امریکی و ایرانی حکام نے بھی جنگ بندی کے لیے پاکستانی اقدامات کی تعریف کی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ یومِ تشکر کے موقع پر مذاکرات کی حتمی کامیابی اور خطے کے امن کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔

وزیرِ اعظم نے اس مشن میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا، جس پر کابینہ ارکان نے ڈیسک بجا کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے اور یہ کامیابی پوری قوم کی ہے، جس کے باعث پاکستان کو امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کا عظیم شرف حاصل ہوا ہے۔

شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری، نائب وزیرِ اعظم اور بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں کو بھی لائقِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ جدوجہد سے یہ ناممکن کام ممکن ہوا۔

اندرونی کہانی

حکومتی ذرائع نے اس انتہائی مشکل اور اعصاب شکن مشن کی تمام تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اور رات پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے لیے ملکی تاریخ کے مشکل ترین اوقات میں سے ایک تھے، جب ایک طرف تباہ کن جنگ کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی تھی، تو دوسری طرف پاکستان کی قیادت تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی تھی۔

اس پورے سفارتی مشن کو تین اہم مراحل میں مکمل کیا گیا، جس میں وقت کی نزاکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انتہائی رازداری برتی گئی۔

ذرائع نے کہا کہ پہلہ مرحلہ منگل کی صبح سے شروع ہو کر دن 10 بجے تک جاری رہا، جس میں امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ابتدائی روابط قائم کیے گئے۔

دوسرا مرحلہ شام 6 بجے سے شروع ہو کر رات 9:30 بجے تک جاری رہا۔ اس دوران چین اور روس کی قیادت سے بھی دن میں 3 مرتبہ رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا گیا۔

تیسرا اور فیصلہ کن مرحلے میں سب سے اہم رابطے رات 11 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئے جو صبح 4 بجے تک مسلسل جاری رہے۔ یہی وہ وقت تھا جب جنگ بندی کے حتمی نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔

ان روابط میں وزیر اعظم شہباز شریف ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار اورچیف آف ڈیفنس فورسزسیدعاصم منیر براہ راست مشغول تھے جبکہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے پس پردہ کرداروں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انتہائی ذمہ داری اور رازداری سے سارا عمل مکمل کیا گیا اور پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی کاوشیں آخر کار رنگ لے آئیں۔

ترسیلاب زر میں 16.5 فیصد اضافہ، مارچ میں 3.8 ارب ڈالر موصول

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ مارچ 2026 میں ماہانہ بنیاد پر ترسیلات زر میں 16.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گزشتہ ماہ کے دوران 3.8 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

 

اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارچ 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر سے متعلق جاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.8 ارب امریکی ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ نمو کے لحاظ سے ترسیلات زر میں ماہ بہ ماہ بنیادوں پر 16.5 فیصد اضافہ جبکہ سال بہ سال بنیادوں پر 5.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔

 

مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں مجموعی طور پر 30.3 ارب ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے سے 8.2 فیصد زائد ہیں جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں 28 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مارچ 2026 کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر سے رقوم کی آمد کے اہم ذرائع میں سعودی عرب 918.4 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات 823.7 ملین ڈالر، برطانیہ 587.3 ملین ڈالر اور امریکا 359.3 ملین ڈالر اور دیگر شامل تھے۔

مچھروں نے پہلی بار کب اور کس انسان کا خون پیا؟ نئی اور دلچسپ تحقیق

(8 اپریل 2026): مچھر کہنے کو ایک چھوٹا مگر خطرناک جانور ہے جو سالانہ 6 لاکھ انسانوں کی جان لے لیتا ہے کیا آپ جانتے ہیں اس نے پہلی بار انسانی خون کب پیا تھا۔

مچھر دنیا میں موجود چھوٹے حشرات الارض میں سے ایک ہے، جو دیکھنے میں تو بہت چھوٹا مگر انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، جو ایک تحقیق کے مطابق سالانہ 6 لاکھ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔

مچھر انسان کا خون چوستا ہے، اس کے بدلے وہ انسانی جسم میں کچھ ایسے جراثیم چھوڑتا ہے، جو لوگوں کو ملیریا، ڈینگی، ، ویسٹ نیل وائرس، زرد بخار اور زیکا وائرس جیسی خطرناک بیماریوں کا شکار بناتے ہیں۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں مچھر کے منہ کو انسانی خون کب لگا اور اس نے پہلی بار کب کسی انسان کا خون پیا؟ اس حوالے سے ایک نئی بین الاقوامی تحقیق کا حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سائنسدانوں نے مچھروں کے ڈی این اے کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مچھروں نے جانوروں کو چھوڑ کر سب سے پہلے انسانوں کا خون پینا جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلات سے کیا۔

ملیریا پھیلانے والے انوفلیس لیوکوسفیرس گروپ سے تعلق رکھنے والے مچھروں پر کی گئی تحقیق میں 1992 اور 2020 کے درمیان جنوب مشرقی ایشیا سے جمع کیے گئے مچھروں کی 11 مختلف انواع پر ڈی این اے کا تجربہ کیا گیا۔

اس تجربے میں کمپیوٹر ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے، ان کی جینیاتی تبدیلی اور ارتقائی تاریخ کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق کے نتیجے میں پتہ چلا کہ جینیاتی تبدیلی سے پہلے مچھر اس علاقے میں رہنے والے دوسرے جانوروں اور بندروں کا خون پی کر خوش ہوتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے انسانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا، مچھروں میں جینیاتی تبدیلی ہوئی۔ انہوں نے ایسے رسیپٹرز تیار کیے جو انسانوں کا پتہ لگا سکتے تھے۔

اس سے قبل تحقیق میں کہا گیا تھا کہ مچھروں نے انسانوں کو 61,000 اور 500,000 سال پہلے کاٹنا شروع کیا تھا، لیکن نئی تحقیق کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں 1.8 ملین سال پہلے ایک انسانی آبادی موجود تھی، یوں مچھروں اور انسان کا ساتھ اس سے بھی لاکھوں سال قبل ہو چکا تھا۔

سائنسدانوں کی مچھروں کے حوالے سے کی گئی مختلف اسٹڈیز کے مطابق آج دنیا بھر میں مچھروں کی تقریباً 3,500 اقسام ہیں، لیکن صرف چند ہی انسانوں کے لیے واقعی مہلک ہیں۔ مچھروں کی رال میں موجود کیمیکلز انسانی مدافعتی نظام کو چکما دینے میں ماہر ہیں۔

سمندر کی تہہ میں قدرتی لیبارٹری یا مستقبل کی فارمیسی؟ حیرت انگیز دریافت

بحیرہ احمر دنیا کے اہم ترین بحری ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سمندر نہ صرف خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے بلکہ اب سائنسی تحقیق اور طب کے میدان میں بھی ایک “قدرتی لیبارٹری” کے طور پر ابھر رہا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں مرجانی چٹانوں اور کچھوؤں کے تحفظ کی جنرل فاؤنڈیشن ’’شمس‘‘ کے ماحولیاتی ماہر محقق ڈاکٹر عبد الالہ الرشودی نے بتایا کہ یہ چٹانیں ایک ایسی قدرتی لیبارٹری سمجھی جاتی ہیں جو سائنسدانوں کو جدید ادویات اور طبی حل تیار کرنے کے لیے فعال حیاتیاتی مواد حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

بحیرہ احمر محض ایک بھرپور بحری ماحول ہی نہیں بلکہ اختراع کے لیے ایک امید افزا سائنسی اور طبی مرکز بھی ہے۔

اس سمندر میں دنیا کی تقریباً 6.2 فیصد مرجانی چٹانیں موجود ہیں، جو اسے دنیا کے بڑے مرجانی نظاموں میں شامل کرتی ہیں۔

یہاں 310 سے زائد اقسام کی مرجانی چٹانیں پائی جاتی ہیں، جن میں 270 سخت اور 40 نرم مرجان شامل ہیں۔

یہ چٹانیں ہزاروں اقسام کے بحری جانداروں کا مسکن ہیں، جن میں مچھلیاں، کچھوے، اسفنج، کائی اور کئی نایاب مخلوقات شامل ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتیں۔

ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کی خاص بات اس کا سخت ماحول ہے، جہاں پانی زیادہ گرم اور نمکین ہوتا ہے۔ ان مشکل حالات میں رہنے والے جاندار اپنے دفاع اور بقا کے لیے منفرد کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں۔ یہی مرکبات سائنسدانوں کے لیے نئی ادویات بنانے کا قیمتی ذریعہ بن رہے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سمندری جانداروں سے حاصل ہونے والے کچھ مرکبات پہلے ہی طب میں استعمال ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سمندری اسفنج سے حاصل کردہ دوا “سائٹارابائن” خون کے کینسر (لیوکیمیا) کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح دیگر مرکبات پر تحقیق جاری ہے جو کینسر، سوزش، بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

جدید بایوٹیکنالوجی کی مدد سے اب سائنسدان ان سمندری وسائل سے مزید فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سیپی (shellfish) سے متاثر ہو کر ایک خاص قسم کا حیاتیاتی چپکنے والا مادہ تیار کیا گیا ہے، جو زخموں کو بھرنے اور سرجری میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح مرجان سے متاثر ڈھانچے ہڈیوں کی مرمت اور ریجنریٹو میڈیسن میں استعمال ہو رہے ہیں۔

بحیرہ احمر کی مرجانی چٹانوں کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت کے باوجود یہ چٹانیں زندہ رہتی اور بڑھتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں “مرجانی پناہ گاہیں” بھی کہا جاتا ہے۔

اقتصادی لحاظ سے بھی یہ خطہ نہایت اہم بنتا جا رہا ہے۔ “بلیو اکانومی” کے تحت سمندری وسائل سے فائدہ اٹھا کر معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ شعبہ تقریباً 22 ارب ریال کی آمدنی اور ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کر سکتا ہے۔

سعودی عرب نے اس مقصد کے لیے “بحیرہ احمر کی پائیداری کی قومی حکمت عملی” متعارف کرائی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ، اقتصادی ترقی، سماجی بہتری اور سائنسی تحقیق کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اقدامات ویژن 2030 کا حصہ ہیں، جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنا ہے۔

مختصراً، بحیرہ احمر کی مرجانی چٹانیں نہ صرف قدرت کا حسین شاہکار ہیں بلکہ مستقبل کی ادویات، سائنسی تحقیق اور معاشی ترقی کے لیے ایک قیمتی خزانہ بھی ثابت ہو رہی ہیں۔

 

پیٹرول کتنے روپے سستا ہوگا؟ وزیراعظم نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد خصوصی ہدایات جاری کر دیں ، جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مثبت اثرات ملکی معیشت پر نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

2 ہفتوں کی جنگ بندی سے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رحجان دیکھا گیا۔

خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں عوام کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 16 فیصد تک کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں 30 سے 60 روپے فی لٹر تک کمی کی تجویز زیر غور ہے، تاہم حتمی فیصلہ عرب خام تیل کی مزید دو روزہ مانیٹرنگ کے بعد کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں، بشمول وزارت خزانہ اور وزارت پیٹرولیم، کو ہدایت جاری کی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے۔

اس حوالے سے مختلف تجاویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے جبکہ وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں کرایوں کو مستحکم رکھنا اور مال برداری کے اخراجات کم کرنا شامل ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم اب جنگ بندی کے بعد حالات میں بہتری آ رہی ہے اور امید ہے کہ قیمتیں بتدریج کم ہو کر عوام کو ریلیف فراہم کریں گی۔

ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

لاہور:

پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی کے خیرمقدم کی قرارداد جمع کرا دی گئی۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ایوان وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

متن کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور پاکستان کی پرامن سفارتی کاوشوں کو آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

 

قرارداد کے مطابق جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج وہی پاکستان دنیا کے اہم فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلامی دنیا کے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں۔

قرارداد کے مطابق یہ ایوان امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔

ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 15 ہزار سے زائد کا اضافہ

کراچی: ملک  بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 15 ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں  15700 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت  5 لاکھ4 ہزار 162 روپے ہوگئی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ ایک لاکھ3ہزار 460 روپے اضافے سے 4لاکھ 32 ہزار237 روپے ہے۔

دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 157 ڈالر اضافے سے 4814 ڈالر فی اونس ہے۔