All posts by Khabrain News

ریڈ لائٹ تھراپی کیا واقعی لمبی عمر کا راز؟

(ویب ڈیسک)سوشل میڈیا اور جدید مارکیٹنگ میں لمبی عمر، خوبصورتی اور بہتر صحت کے دعووں کے ساتھ مختلف تھراپیز اور آلات تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، ان میں ریڈ لائٹ تھراپی خاص طور پر نمایاں ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ان کے کچھ سائنسی شواہد موجود ہیں مگر یہ کوئی جادوئی حل نہیں۔

 

ماہرین صحت اور محققین کا کہنا ہے کہ لمبی عمر اور خوبصورتی کے نام پر مارکیٹ میں بے شمار مصنوعات اور دعوے کیے جا رہے ہیں، جن میں سے کچھ بے اثر یا محض مہنگے ہیں، جبکہ کچھ کے بارے میں ابتدائی سائنسی شواہد حوصلہ افزا ضرور ہیں مگر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئے۔

 

امریکی ماہر امراض جلد اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر زاکیا رحمان کے مطابق ریڈ لائٹ تھراپی ایک مخصوص طول موج کی روشنی پر مبنی علاج ہے جو جسم کے خلیات میں توانائی بڑھانے اور سوزش کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، محققین کے مطابق یہ روشنی مائٹوکونڈریا پر اثر ڈالتی ہے جو خلیات کی کارکردگی بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیقات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ ریڈ لائٹ تھراپی جلد کی ساخت، جھریوں اور بالوں کی نشوونما میں بہتری لا سکتی ہے، جس کی وجہ سے گھریلو استعمال کے آلات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کے درست استعمال، وقت اور طریقہ کار کے بارے میں ابھی مکمل سائنسی اتفاق موجود نہیں۔

 

ڈاکٹرز کے مطابق ریڈ لائٹ تھراپی 2 طریقوں سے دی جاتی ہے، ایک لیزر کے ذریعے کلینک میں اور دوسرا ایل ای ڈی پینلز کے ذریعے گھروں میں، گھریلو آلات نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کے معیار میں فرق پایا جاتا ہے، ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین ایف ڈی اے سے منظور شدہ آلات کو ترجیح دیں۔

 

تاہم محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ریڈ لائٹ تھراپی جیسے طریقے بنیادی صحت کے اصولوں کا متبادل نہیں ہیں۔ اچھی نیند، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور سماجی روابط لمبی اور صحت مند زندگی کی اصل بنیاد ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق یہ جدید طریقے صرف ان افراد کے لیے اضافی فائدہ دے سکتے ہیں جو پہلے ہی صحت مند طرز زندگی اپنائے ہوئے ہوں، ورنہ یہ محض مہنگے مگر محدود اثرات رکھنے والے اختیاری طریقے ہیں

مرنے سے قبل دکھائی دینے والے خواب ، سائنسی تحقیق میں دلچسپ انکشافات

(ویب ڈیسک)انسانی زندگی کے آخری ایام اور اس دوران نظر آنے والے خواب ہمیشہ سے ایک معمہ رہے ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس پر سے پردہ اٹھایا ہے۔

 

اس حوالے سے ایک نئی تحقیق چونکا دینے والے انکشافات سامنے لائی ہے، جس کے مطابق مرنے سے پہلے لوگوں کو حیرت انگیز اور اکثر ایک جیسے خواب اور مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

 

اٹلی کے ماہرین کی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خواب اور مناظر انہیں سکون فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

این ڈی ٹی وی کے مطابق اٹلی کے ادارے ’ایزینڈا یو ایس ایل‘ کے ماہرین نے اپنی نوعیت کی پہلی ایسی تحقیق کی ہے جس میں ان مریضوں کے خوابوں کا جائزہ لیا گیا جو زندگی کی آخری اسٹیج پر تھے۔

 

اس مقصد کے لیے 239 طبی ورکرز، نرسوں اور ماہرِ نفسیات سے ڈیٹا جمع کیا گیا جنہوں نے مرنے والے مریضوں کے تجربات کو خود سنا اور دیکھا تھا، نتائج معروف جریدے ’ڈیتھ اسٹڈیز‘ میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے مطابق بہت سے مریضوں نے بتایا کہ انہوں نے خواب میں اپنے ان عزیزوں کو دیکھا جو پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں۔

 

ایک خاتون مریضہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کو دیکھا، جو انہیں اپنے پاس بلاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ ان کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ ایک اور شخص نے خود کو ایک روشن دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا۔

 

کچھ افراد نے روشن روشنی، سیڑھیاں یا کھلے دروازے جیسے مناظر بیان کیے، جو گویا ایک نئی دنیا میں داخل ہونے کی علامت تھے، ایک مریض نے ساحلِ سمندر پر سفید گھوڑے کو دوڑتے ہوئے دیکھنے کا ذکر کیا۔

 

اگرچہ زیادہ تر خواب سکون دینے والے تھے، لیکن کچھ مریضوں کو خوفناک خواب بھی آئے، جیسے کسی ڈراؤنی شکل کا نظر آنا۔ ایک شخص نے بتایا کہ اسے ایسا لگا جیسے کوئی خوفناک مخلوق اسے نیچے کی طرف کھینچ رہی ہو۔

 

ماہرین کے مطابق ایسے خواب انسان کے اندر موجود خوف یا موت کو قبول نہ کرنے کی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

 

تحقیق کی سربراہ ایلیسا رابٹی کے مطابق یہ خواب اور مناظر محض وہم نہیں بلکہ یہ مریضوں کو موت کے لیے ذہنی اور روحانی طور پر تیار کرتے ہیں، ان سے مریض کو یہ احساس ملتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے جس سے اسے سکون ملتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے مریض اس ڈر سے یہ باتیں نہیں بتاتے کہ لوگ انہیں پاگل سمجھیں گے اس لیے ان کی باتوں کو توجہ سے سننا چاہیے۔

 

یہ مطالعہ ان لوگوں پر کیا گیا جو بیماری کے آخری مرحلے میں تھے نہ کہ وہ جو کسی حادثے میں بال بال بچے ہوں، دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں طرح کے افراد کے تجربات حیرت انگیز طور پر ایک جیسے پائے گئے ہیں۔

 

یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی دماغ زندگی کے آخری وقت میں خود کو تسلی دینے اور سکون پانے کا ایک قدرتی طریقہ رکھتا ہے جو ادویات سے ہٹ کر ایک نفسیاتی سہارا ثابت ہوتا ہے۔

ریٹیل چین اسٹورزکے اوقات کار رات 10بجے تک کرنے کامطالبہ

کاروباری مراکزکیلئے نئے اوقات کار کے اطلاق کے بعدریٹیل چین اسٹورزکی کاروباری سرگرمیاں شدید متاثرہوگئیں۔
چین اسٹورایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین اسفندیارفرخ کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے کاروباری مراکز کے اوقات کارکم کرنے سے خودحکومت کوہفتہ وار ٹیکس کی مدمیں 25ارب روپے کانقصان ہورہاہے۔
چیئرمین چین اسٹورایسوسی ایشن آف پاکستان اسفندیارفرخ نے مطالبہ کیاہے کہ ریٹیل چین اسٹورزکے اوقات کار رات 10بجے تک کئے جائیں ،ترکیہ،ملائیشیا ،سعودیہ عرب سمیت مختلف ممالک میں ریسٹورنٹس اورریٹیل چین اسٹورزکی ٹائمنگز10بجے تک ہوتی ہے ،ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم اسٹورزکورات دیرتک کھلے رہیں ، ریٹیل چین اسٹورز سے 10لاکھ افرادکاروزگاروابستہ ہے۔

 

اسفندیارفرخ کے مطابق مجموعی طورپر ریٹیل سیکٹرسے تقریباً ایک کروڑ لوگوں کاروزگارجڑاہواہے،ٹائمنگز کم ہونے ریٹیل چین اسٹورزپرخریداری کارجحان کم ہوگیاہے، کراچی میں 9بجے اور زیادہ تر ملک میں 8 بجے کے اوقات کار ہیں جو بہت نقصان دہ ہیں۔

پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش، بعض مقامات پر ژالہ باری

پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری ریکارڈ کی گئی۔

خیبر پختونخوا میں سوات، کرک، ملاکنڈ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں بارش  ہوئی جبکہ گلیات اور وادی ناران میں برف باری سے موسم سرد ہوگیا۔

ادھر وادی نیلم میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مرکزی شاہراہ کیل شیخ بیلہ کے مقام پر بند ہوگئی جس کے سبب سیاحوں کی 20 سے زائد گاڑیاں پھنس گئیں۔

حکام کا کہنا ہےکہ کئی مسافروں کو مقامی آبادی میں رہائش فراہم کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ  بلوچستان کی وادی زیارت کے بالائی علاقوں، توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑی میں بارش  ہوئی جبکہ بارش کے باعث شاہراہ قراقرم کوہستان لاچی نالہ کے قریب لینڈ سلائڈنگ کے باعث بند ہوگئی۔

محکمہ موسمیات نے  آج بھی ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

اسلام آباد: ایچ آئی وی مخصوص گروپس سے نکل کر عام آبادی میں پھیل رہا ہے، ماہرین صحت

اسلام آباد:  پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی مخصوص گروپس سے نکل کرعام آبادی میں تیزی پھیل رہا ہے، پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی ہے، پاکستان کے 79 فیصد افراد ایچ آئی وی سے لاعلم ہیں۔

سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق بچوں میں بڑھتے کیسز  نظام صحت کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں، ایچ آئی وی اب عام آبادی اور بچوں میں بھی پھیل رہا ہے۔

اسی حوالے سے ڈاکٹر قائد سعید نے کہا کہ غیر محفوظ انجیکشنز اور آلودہ خون پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں جبکہ ڈاکٹر رانا جواد اصغر کا کہنا تھا کہ  بار بار آؤٹ بریکس نظام صحت کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین صحت نے یہ بھی کہا کہ بلڈ بینکوں کی نگرانی اور خون کی مکمل اسکریننگ یقینی بنائی جائے، اس کے ساتھ ہی غیر محفوظ انجیکشنز کے خاتمے اور انفیکشن کنٹرول کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

کشیدگی بڑھی تو ایران عالمی تیل منڈیاں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، باقر رضا نقدی

تہران(19 اپریل 2026): سینئر ایرانی کمانڈر اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف کے مشیر جنرل محمد رضا نقدی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو ایران عالمی تیل کی منڈیوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جنرل محمد رضا نقدی کا کہنا تھا کہ ایران کو خطے میں مکمل فوجی برتری حاصل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے ابھی تک اپنے سب سے تباہ کن ہتھیار استعمال نہیں کیے اور بہت سے اہم اہداف کو اگلے مراحل کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں تیل کی پیداوار کو مستقل طور پر روکنے کی طاقت رکھتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

امریکی فوجی طاقت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایرانی بیلسٹک میزائل امریکی طیارہ بردار جہاز کے ڈیک پر لگ جائے تو اس پر موجود تمام طیارے سمندر میں جا گریں گے اور ہزاروں ٹن گولا بارود پھٹنے سے ایسی تباہی ہوگی جو امریکا کے لیے “قومی المیہ” بن جائے گی۔

جنرل نقدی نے مزید کہا کہ ایران کی اصل طاقت اس کی زمینی افواج ہیں جو ابھی تک جنگ کے میدان میں نہیں اتریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر خطے میں امریکی اڈے ختم نہ کیے گئے تو ایرانی افواج خود جا کر انہیں نیست و نابود کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے، اسی لیے دشمن کو مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پوپ لیو نے امریکا کی 250 ویں سالگرہ میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی

ویٹیکن سٹی (19 اپریل 2026): کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پوپ لیو 4 جولائی کو امریکا کی سال گرہ تقریب میں شرکت کی بجائے یورپ میں مہاجرین کے داخلے کے ایک مقام پر وقت گزاریں گے، اس سے قبل ایک بیان میں پوپ لیو نے ٹرمپ کے ساتھ مباحثے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ سے تنازع میری ترجیح نہیں۔

پوپ کا کہنا تھا کہ ان کے افریقہ دورے کا مقصد امن کا فروغ ہے، ذاتی محاذ آرائی نہیں، ٹرمپ کی تنقید کے باعث سیاسی صورت حال پر غلط تبصرے ہوئے، جنھیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ ویٹیکن اور واشنگٹن کے درمیان کئی مہینوں سے کشیدہ تعلقات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کی وجہ امریکا کی امیگریشن پالیسیوں اور ایران میں جنگ سے متعلق اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون کے عہدیداروں نے ہولی سی (ویٹیکن) کو سخت انتباہات بھی جاری کیے تھے۔

نیوز کے مطابق پوپ لیو چہار دہم کا امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بہ یک وقت علامتی اور سیاسی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اہم موقع میں شریک ہونے کی بجائے، پہلے امریکی نژاد پوپ ایک یورپی مہاجرین کے داخلہ مرکز پر موجود ہوں گے، جس سے پس ماندہ طبقات کے ساتھ ان کی وابستگی نمایاں ہوتی ہے۔

’’امریکا اگر ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین سے بھی نہیں الجھنا چاہیے‘‘

(19 اپریل 2026): بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے امریکی طاقت کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا امریکا اگر ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین سے بھی نہیں الجھنا چاہیے، ٹرمپ نے دنیا پر اچھے سے ثابت کر دیا کہ امریکا جتنا طاقت ور سمجھا جاتا تھا اتنا ہے نہیں۔

انھوں نے کہا ٹرمپ نے دکھا دیا کہ امریکا مکمل طور پر ناقابلِ شکست طاقت نہیں ہے، امریکی قیادت سمجھتی تھی کہ وہ ایک سپر پاور ہیں، لیکن وہ کوئی سپر طاقت نہیں ہیں۔

بیلاروس کے صدر نے خبردار کیا کہ ’’اب سب یہ سمجھ چکے ہیں اور امریکا کا اصل دشمن چین ہے، اگر امریکا ایران جیسے ملک سے نمٹ نہیں سکا جیسا کہ وہ پہلے ہی پیش گوئی کرتے رہے ہیں، تو اسے چین کے ساتھ ٹکر نہیں لینی چاہیے، کیوں کہ وہ اس طرح کی طاقت کے ساتھ کبھی بھی نمٹ نہیں سکیں گے۔

 

لوکاشینکو نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی امید دیتی ہے کہ جب امریکا کو یہ حقیقت سمجھ آ جائے گی تو اسے نہ صرف چین بلکہ روس کو بھی مدنظر رکھنا پڑے گا۔ روس ایک بہت وسیع علاقہ ہے، اس پر میزائلوں سے کوئی خاص اثر نہیں ڈالا جا سکتا۔ میزائل روس کے رقبے سے پہلے ختم ہو جائیں گے، یہی حقیقت ایران کے معاملے میں بھی سامنے آئی ہے۔

بیلاروس کے صدر نے کہا امریکا اصل میں تیل و گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، جن کے حصول کے لیے وہ ہر ممکن راستہ اختیار کرتا ہے، امریکا خود کو جمہوریت کا علم بردار کہتا ہے مگر وہاں حقیقی جمہوریت ہے نہ ہی انسانی حقوق کا احترام۔ وینزویلا، کیوبا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیاں اصل آمریت ہیں۔ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ہزاروں کلو میٹر دور ایک خودمختار ملک میں ایک اسکول پر بمباری کی، اس میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔

جرمنی میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کا نیا طریقہ

اسلام آباد : جرمنی میں ملازمت کے مواقع تک رسائی کے لیے اس بات سے باخبر ہونا ضروری ہے کہ پاکستانی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال جرمن ریکگنیشن سسٹم میں کس طرح کی جاتی ہے؟۔

زیر نظر مضمون میں جرمنی میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے رہنمائی اور تعلیمی اسناد کی تصدیق سے متعلق اہم معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے پاکستانیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تعلیمی اسناد کی جرمن نظام کے مطابق درست جانچ کو یقینی بنائیں، کیونکہ یہ مرحلہ ویزا درخواست اور روزگار کے حصول میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق غیرملکی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کے لیے ’انابن‘ ڈیٹا بیس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جسے جرمنی کا سنٹرل آفس فار فارن ایجوکیشن (زیڈ اے بی) برقرار رکھتا ہے۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر درست اور شفاف تصدیق نہ صرف انتظامی عمل کو تیز بناتی ہے بلکہ درخواست گزار کی ساکھ بھی بہتر کرتی ہے۔

بیورو نے واضح کیا ہے کہ امیدوار اپنی ڈگری جاری کرنے والے ادارے اور متعلقہ تعلیمی قابلیت دونوں کی تصدیق انابن پورٹل کے ذریعے کریں۔

کسی ادارے کی مکمل منظوری کے لیے اس کا ایچ پلس اسٹیٹس ہونا ضروری ہے، جبکہ ایچ پلس کی صورت میں صرف مخصوص پروگرام ہی تسلیم کیے جاتے ہیں، اسی طرح ڈگری کا جرمن معیار کے مطابق ہونا بھی لازمی شرط ہے۔

ویزہ پراسس کے لیے درخواست گزاروں کو ’انابن‘ سے دو الگ پرنٹ آؤٹس فراہم کرنا ہوں گے، جن میں ادارے کی حیثیت اور ڈگری کی مساوات شامل ہوگی۔

مزید برآں پاکستانی امیدواروں کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ڈگری اور ٹرانسکرپٹس کی تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے یا ڈگری کا ریکارڈ ’انابن‘ میں موجود نہ ہو یا معلومات غیر واضح ہوں تو درخواست گزار کو (زیڈ اے بی) سے “اسٹیٹمنٹ آف کمپیریبیلٹی” حاصل کرنا ہوگی، جس میں تقریباً تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس لیے درخواست کا عمل بروقت شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بیورو نے مزید وضاحت کی ہے کہ جرمنی میں بعض پیشے، جیسے طب، قانون اور تدریس، باقاعدہ قانونی منظوری کے متقاضی ہیں، جن کے لیے متعلقہ اداروں سے علیحدہ اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر شعبوں میں عمومی تصدیق کافی ہوتی ہے۔

حکام نے زور دیا ہے کہ تمام تقاضوں کی مکمل اور درست تکمیل نہ صرف تاخیر سے بچاتی ہے بلکہ جرمنی کی لیبر مارکیٹ میں کامیاب داخلے کے امکانات کو بھی بڑھاتی ہے۔

لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام: فیز II پر 66 فیصد پیشرفت مکمل

 شہر کے بڑے ترقیاتی منصوبے ڈویلپمنٹ پروگرام پر کام تیزی سے جاری ہے، گزشتہ سال لاہور میں  شروع ہونے والا منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے کا پہلا فیز مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے فیز پر کام جاری ہے، جو اب تک 66 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔ دوسرے فیز کے تحت 5 ہزار 774 گلیاں تیار کی جا چکی ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ 2 ہزار 156 گلیوں پر کام جاری ہے جبکہ 850 گلیوں پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں گلیوں کی تعمیر، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور سیوریج نظام کی بہتری شامل ہے۔

137 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈلائن رواں سال جون مقرر ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ، میونسپل کارپوریشن لاہور (MCL) حکام، ضلع بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز، واسا اور نیسپاک کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ ڈیڈلائن کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے اور تمام متعلقہ ادارے رفتار مزید تیز کریں۔