All posts by Khabrain News

فیلڈ مارشل کو نوبل انعام کیلیے نامزد کیا جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اراکین نے فیلڈ مارشل کو امن کے نوبل انعام کیلیے نامزد کرنے کی قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کروادی۔

 

ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلیے بھرپور کردار ادا کیا۔

 

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں لہذا فیلڈ مارشل کو امن انعام کے لئے نامزد کیا جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین اسمبلی کی جانب سے دستخط شدہ قرار داد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔

نیشنل گیمز 2026: کھلاڑیوں میں 26.6 ملین کے انعامات تقسیم

نیشنل گیمز 2026 میں میڈلز جیتنے والے خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 26.6 ملین روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔

تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند تھے جنہوں نے میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انڈر 23 گیمز کی ٹرافی ریجنل سپورٹس افسر کاشف فرحان کے حوالے کی گئی یہ ٹرافی پشاور ریجن نے جیتی تھی۔

تقریب میں گولڈ میڈلسٹس کوفی کھلاڑی 6 لاکھ روپے، سلور میڈلسٹ کو 4 لاکھ روپے جبکہ برونز میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو 3 لاکھ روپے نقد انعام دیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تاج محمد ترند نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے کہ ہم اپنے ان ہیروز کے ساتھ موجود ہیں جنہوں نے نیشنل گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے گولڈ میڈلسٹ کے لیے 3 لاکھ، سلور کے لیے 2 لاکھ اور برونز کے لیے 1 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، اب اس رقم کو دگنا کر دیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کوچز کے لیے بھی ایک، ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔

مشیر کھیل نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ سہولیات کی بہتری کے لیے سوئمنگ پول سمیت دیگر منصوبے اے ڈی پی میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ تمام اضلاع میں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ تاہم، اس ٹیلنٹ کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کا مقصد کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عید کے بعد نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا اور آئندہ سال مزید بڑے پیمانے پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔

تاج محمد ترند نے انعامی رقم کی شفاف تقسیم کے لیے جاز کیش کے ساتھ معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے کھلاڑیوں کو ادائیگیوں میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کھلاڑیوں کی ہر ممکن سرپرستی جاری رکھے گی۔گولڈ میڈلز جیتنے والوں میں سیلنگ کی حجاب اجمل، جوڈو کے سید فیصل شاہ، باڈی بلڈنگ کے شاہد خان، کراٹے کے مراد خان، ٹیبل ٹینس کے فہد خواجہ اور عثمان خلیل، سلور میڈلز جیتنے والوں میں سیلنگ کی مریم سجاد، تحریم فاطمہ، رحیم داد خان، کاشف سعید، عاطف رزاق، عبدالہادی اور امینہ اجمل، جوڈو کے محمد عباس، آصفہ نور، باڈی بلڈنگ کے الیاس خالد، تائیکوانڈو کے محمد احسن، طارق خان، سندس خان، اریبہ جاوید، میمونہ نصیر، فنسنگ کے بریال خان، اویس خان، اویس احمد، اقراش زمان، سکواش کی ماہ نور علی، سحرش علی، علیشبہ، رانیہ علی، ووشو کے نور الایمان، باکسنگ کی عائشہ، گالف کی سائرہ امین کو انعامات دیئے گئے۔

اسی طرح برونز میڈلز جیتنے والی ٹیموں میں خواتین کبڈی، خواتین ٹیبل ٹینس، مرد ٹیبل ٹینس، تائیکوانڈو کی وریشہ، خواتین ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن کے مراد علی، ووشو کے صمد علی، باکسنگ کے محمد عامر، منال، گالف کی زینب مر، ٹینس کے برکت اللہ اور مردوں کی ٹینس ٹیم کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔

کوچز کامران علی، ہدایت اللہ خلیل، ذوالفقار بٹ، اکرم اور ابصار علی کو انعامات دیئے گئے۔ اس موقع پر پاک افغان ٹی ٹونٹی وہیل چیئر کرکٹ سیریز جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں گوہر علی آفریدی، ایاز خان، زوار نور، مثل خان، زوار خان، ساجد علی، شاہ فیصل اور محمد سعید کو بھی نقد انعامات دیئے گئے۔

ہارٹ اٹیک سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟ تو ان 8 آسان عادات کو زندگی کا حصہ بنالیں

بیشتر افراد اچھی صحت کے حصول کے لیے طرز زندگی میں ڈرامائی تبدیلیاں لانے کا عزم کرتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد ناکام ہو جاتے ہیں۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ اچھی صحت کے لیے ڈرامائی تبدیلیاں لانے کی ضرورت نہیں بلکہ چند چھوٹی اور آسان عادات کو اپنا کر آپ ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یورپین جرنل آف پرینیٹیو کارڈیالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دل کو صحت مند رکھنے کے لیے 8 آسان عادات بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اس کے لیے ہر رات 11 منٹ کی اضافی نیند، ساڑھے 4 منٹ کی اضافی تیز رفتاری سے چہل قدمی اور روزانہ کچھ زیادہ سبزیاں کھانے جیسی عادات مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان عادات کو طرز زندگی کا حصہ بناکر آپ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ 10 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں واضح کیا گیا کہ درحقیقت آپ کو بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت نہیں بس روزمرہ کی چند عادات کو بہتر بنانا بھی کافی ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 53 ہزار سے زائد درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی صحت کا جائزہ 8 سال تک لیا گیا۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ ہر رات اضافی 11 منٹ کی نیند سے کسی فرد میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جبکہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کو یقینی بنایا جائے۔

محققین نے بتایا کہ نیند سے انسولین کی حساسیت اور گلوکوز میٹابولزم میں بہتری آتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے تحفظ ملتا ہے جبکہ نیند کی کمی سے دل کی دھڑکن کی رفتار میں اضافے، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اسی طرح تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ساڑھے 4 منٹ کی اضافی تیز رفتاری سے چہل قدمی سے بھی دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق تیز رفتاری سے چلنے سے دل کے مسلز مضبوط ہوتے ہیں جبکہ خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور جسم میں آکسیجن کی سطح بہتر ہوتی ہے۔

اسی طرح اضافی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے کیونکہ ان میں موجود فائبر، وٹامنز اور منرلز سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانے کی عادت سے بھی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مچھلی میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بلڈ پریشر اور خون میں چکنائی کی سطح کم ہوتی ہے، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، بلڈ کلاٹس کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جبکہ دل کا نظام صحت مند ہوتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دن بھر میں بیٹھنے کے وقت میں ایک گھنٹے کی کمی سے بھی ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق کافی پینے، مسلز مضبوط بنانے والی ورزشوں اور گریوں کے استعمال سے بھی ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

زیادہ جمائیاں آنا معمولی تھکن نہیں، خطرناک بھی ہوسکتی ہیں

اگر آپ دن بھر بار بار جمائیاں لیتے ہیں، مسلسل تھکن محسوس کرتے ہیں یا دفتر میں بیدار رہنے کے لیے بار بار کافی پینے پر مجبور ہوتے ہیں تو یہ صرف مصروف روٹین کا نتیجہ نہیں بلکہ نیند کی شدید کمی کی واضح علامت ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس کیفیت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا جسمانی، ذہنی اور سماجی سطح پر سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کی وارننگ: نیند کی کمی ایک سنجیدہ طبی مسئلہ

امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ جمائیاں لینا یا دن بھر غنودگی محسوس کرنا ناکافی نیند کی اہم نشانی ہے۔ دنیا بھر کی 25 سے زائد طبی تنظیموں نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیند کی کمی کو سنجیدگی سے لینا ناگزیر ہے۔

اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر ایرک اولسن کے مطابق نیند کی کمی نہ صرف فرد کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی خطرات پیدا کرتی ہے، جیسے غنودگی میں ڈرائیونگ کے باعث حادثات، کام کے دوران غلطیاں اور دیگر طبی پیچیدگیاں۔

کن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

 

ماہرین کے مطابق روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند نہ لینے سے متعدد سنگین امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جن میں ذیابیطس، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، فالج، گردوں کی بیماریاں اور ڈپریشن وغیرہ شامل ہیں۔

طبی رپورٹس کے مطابق امریکا میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد روزانہ شدید غنودگی محسوس کرنے کی شکایت کرتے ہیں۔

 

مائیکرو سلیپ: چند سیکنڈ کی نیند بھی جان لیوا

نیند کے ماہرین کے مطابق مسلسل نیند کی کمی دماغ کو مختصر دورانیے کے لیے ’’مائیکرو سلیپ‘‘ میں لے جا سکتی ہے، جس میں انسان چند سیکنڈ کے لیے بے اختیار سو جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت گاڑی چلاتے یا حساس مشینری استعمال کرتے ہوئے پیدا ہو تو حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

نیند متاثر کرنے والی عام وجوہات

ماہرین کے مطابق نیند کی خرابی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سلیپ ایپنیا، بے خوابی، ریسٹ لیس لیگ سنڈروم، دائمی درد، زیادہ کیفین، شراب نوشی، منشیات، ورزش کی کمی، شور یا غیر آرام دہ ماحول شامل ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب یا بعض نشہ آور اشیا نیند بہتر بناتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ نیند کے معیار کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔

احتیاطی مشورہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دن بھر غنودگی، بار بار جمائیاں یا مسلسل تھکن محسوس ہو تو فوری طور پر نیند کے معیار کا جائزہ لینا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر طبی مشورہ ضرور حاصل کرنا چاہیے۔

اداکارہ نمرہ خان نے نکاح کی تصاویر شیئر کردیں، دلہے کا چہرہ سامنے آگیا

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نمرہ خان نے گزشتہ دنوں اپنی دوسری شادی کی اطلاع دی تھی، لیکن دلہا کا چہرہ ظاہر نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے مداحوں میں تجسس تھا۔

لیکن اب نمرہ خان نے انسٹاگرام پر اپنے نکاح کی تصاویر شیئر کی ہیں، جس میں دلہے کا چہرہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

 

اداکارہ نے لندن میں اپنی شادی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو اپنی دوسری شادی کی اطلاع دی تھی۔ ایفل ٹاور کے سامنے لی گئی تصاویر کے ساتھ نمرہ خان نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس نئے رشتے کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔

ان کی پوسٹ سامنے آتے ہی مداحوں، ساتھی فنکاروں اور شوبز شخصیات نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ لیکن مداحوں کو تجسس تھا کہ نمرہ خان کا دلہا کون ہے؟

 

اب نمرہ خان نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے نکاح کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ اور اپنے نکاح کےلیے اللہ کا شکر ادا کیا ہے۔

مداحوں نے اداکارہ کو مبارک باد دیتے ہوئے جوڑی کی تعریف کی ہے۔

پاکستان میں عیدالاضحیٰ پر طویل ترین تعطیلات؟

کراچی (5 مئی 2026): پاکستان میں اس بار عیدالاضحیٰ کے موقع پر سرکاری ملازمین طویل ترین چھٹیوں کا مزا اٹھا سکتے ہیں۔

مسلمانوں کا دوسرا بڑا تہوار عیدالاضحیٰ قریب آ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر کئی روز کی عام تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال عیدالاضحیٰ بدھ 27 مئی کو ہونے کا امکان ہے، جب کہ حکومت ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر 9 ذی الحج سے عید تعطیلات کا اعلان کرتی ہے۔

اگر ماہرین فلکیات کی پیشگوئی درست ہوتی ہے تو سرکاری ملازمین ممکنہ طور پر 9 روز طویل چھٹیوں کا مزا لے سکیں گے۔

عیدالاضحیٰ سے قبل 23 اور 24 مئی کو ہفتہ وار تعطیل ہوگی جب کہ ممکنہ طور پر 26 سے 29 مئی تک عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں کا اعلان ہو سکتا ہے جب کہ اس کے بعد 30 اور 31 مئی کو ایک بار پھر ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات ہوں گی۔

اگر حکومت 25 مئی کی چھٹی کا اعلان نہ بھی کرے تو امکان ہے کہ اپنے جائے ملازمت سے دور بیرون شہر یا بیرون صوبہ رہنے والے ملازمین پیر کی چھٹی لے کر اپنے گھر جائیں گے۔ اس طرح سرکاری ملازمین عیدالاضحیٰ پر ایک ساتھ 9 چھٹیوں کو انجوائے کریں گے۔

 

واضح رہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال 10 ذی الحج کو عیدالاضحیٰ کا تہوار مناتے ہیں اور صاحب استطاعت افراد سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔

کسی بھی آپریشن سے قبل ایڈز اسکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے حوالے سے کسی بھی آپریشن سے قبل ایڈز اسکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے چیئرمین کمیٹی مہیش کمار ملانی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جہاں وزارت صحت حکام نے کہا کہ وزیر صحت کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ ایڈز پر بریفنگ کو ان کیمرہ کر دیا جائے جبکہ اراکین نے ان کیمرہ بریفنگ کی مخالفت کر دی۔

حکام وزارت صحت نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 61 ہزار مریض زیر علاج ہیں جبکہ 16 ہزار سے زائد مریض علاج کے دوران غائب ہوگئے۔

 

حکام کا کہنا تھا کہ کیسز میں اضافہ رپورٹ ہونے کی بڑی وجہ اسکریننگ میں اضافہ ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2020 میں 49 مراکز پر تقریباً 38 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی، 2025 تک ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد بڑھا کر 97 کر دی گئی جہاں تین لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور 14 ہزار سے زیادہ کیسز مثبت آئے۔

 

کمیٹی کے ارکان نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ سرنجز کے دوبارہ استعمال کو قرار دیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ ایچ آئی وی کے حوالے سے وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں یہ 10 سی سی سرنج سمیت کسی بھی سرنج کے دوبارہ استعمال پر پابندی لگانے اور کسی بھی آپریشن سے قبل ایڈز اسکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ کی جانب سے پاکستان کو 65 ملین ڈالر دیے جا رہے جس میں سے صرف 3.9 ملین وزرات صحت کو دیے گئے جبکہ 61 ملین ڈالر غیر سرکاری دو تنظمیوں کو دیا جا رہا۔

کمیٹی اراکین نے اگلے اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے کمیٹی کو برینفگ دینے کی سفارش کی۔

دنیا کا وہ ملک جہاں اے آئی کو جواز بناکر ملازمین کو فارغ کرنا غیر قانونی قرار دیدیا گیا

آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے باعث دنیا بھر میں کمپنیوں کی جانب سے ورکرز کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔

مگر چین میں کمپنیوں کے لیے ملازمین کی جگہ اے آئی کو دینے کے عمل کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

ہواگز کی ایک عدالت نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے باعث لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ہوانگزو چین کا وہ شہر ہے جسے اہم چینی اے آئی ہب قرار دیا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنیوں کو ٹھوس قانونی بنیادوں پر ملازمین کو نکالنے کی اجازت دی جاسکتی ہے، اے آئی کے باعث نہیں جبکہ ملازمین کی تنخواہوں کو گھٹانا بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔

یہ مقدمہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی سے تعلق رکھنے والے ملازم نے دائر کیا تھا جسے ملازمت سے نکال دیا گیا تھا جبکہ مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا گیا تھا۔

مقدمے میں ان ورکرز کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جن کو اے آئی کے باعث ملازمتوں سے محروم ہونا پڑا تھا۔

مقدمہ لڑنے والے ایک وکیل نے بتایا کہ یہ موجودہ اے آئی کے عہد کا بہت اہم مقدمہ ہے اور کمپنیوں کو سماجی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کو واپس نہیں کیا جاسکتا مگر وہ قانونی دائرے سے باہر نہیں۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی ملازمین کو بھی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موجودہ عہد کے تقاضوں کے مطابق تربیت حاصل کرسکیں۔

رواں سال پاکستان میں ہیٹ ویوز اور شدید بارشوں کا خدشہ، خطرے کی گھنٹی بج گئی

 

اسلام آباد : چیئرمین این ڈی ایم اے نے رواں سال ہیٹ ویوز، جنگلات میں آگ اور شدید بارشوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں منعقدہ بریفنگ کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 کے دوران ملک کو شدید ہیٹ ویوز، جنگلات میں آگ اور موسلا دھار مون سون بارشوں جیسے خطرناک موسمی حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمی خطرات کی تشخیص اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق آفات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خطرہ موجود ہے، جو سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق رواں سال ہیٹ ویوز کے ساتھ ساتھ شدید بارشوں اور جنگلات میں آگ کے واقعات میں اضافہ بھی متوقع ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ دنیا کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے اور زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ کے ذریعے عوام کو پیشگی وارننگ دینے کے نظام پر بھی بریفنگ دی گئی اور غیر مصدقہ خبروں سے بچنے اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر زور دیا گیا۔

این ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمی شدت کے پیش نظر تمام اداروں کو ہنگامی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 66 فیصد امریکیوں کا اظہارِ نفرت

امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے چھ ماہ قبل ریپبلکن پارٹی کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

پول کے مطابق امریکی عوام کی بڑی اکثریت ایران جنگ اور معیشت جیسے کلیدی مسائل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت سے غیر مطمئن دکھائی دیتی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک ووٹرز انتخابات میں حصہ لینے کے لیے زیادہ پرجوش نظر آ رہے ہیں۔

سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 37 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ان کی غیر مقبولیت 62 فیصد تک جا پہنچی ہے جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

خاص طور پر ایران کے ساتھ صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر 66 فیصد امریکیوں نے ان کی پالیسیوں کو ناپسند کیا ہے۔

معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے، جہاں صرف 23 فیصد عوام معیارِ زندگی سے متعلق ان کے اقدامات سے خوش ہیں۔

اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

موجودہ سروے کے مطابق 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 59 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد ان کی جسمانی صحت کو صدارتی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ناکافی سمجھتے ہیں۔

انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے۔

وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔