اسرائیل کے حملے میں 28 فروری کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے تاحال ان کے جانشین کا انتخاب نہیں ہوسکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں اب نئے رہبر معظم کے انتخاب کے لیے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔ عوام کے بعد اب خواص بھی حکومت دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق معروف شیعہ مرجع تقلید اور گرینڈ آیت اللہ ناصر مکرم شیرازی نے کہا ہے کہ ملک کے معاملات کو بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے نئے سپریم لیڈر کا جلد تقرر ضروری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قیادت کا خلا زیادہ دیر تک برقرار رہنا ملکی نظم و نسق کے لیے مناسب نہیں اور ملک کے تازہ ترین حالات بھی اس میں کوتاہی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے نئے سپریم لیڈر کی فوری انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور بااثر گرینڈ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی ایران کی مجلسِ خبرگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے عمل کو تیز کرے تاکہ ملک میں غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہوسکے۔
ان دونوں سینئر مذہبی شخصیات نے فتوے بھی جاری کیے تھے جن میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مسلمانوں پر یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان مجرموں کے شر کو دنیا سے ختم ہونے تک اس معاملے کو زندہ رکھیں۔
یاد رہے کہ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کی عدم موجودگی میں عارضی طور پر ایک تین رکنی کونسل اختیارات سنبھالتی ہے، جس میں صدر، ایک سینئر مذہبی عالم اور عدلیہ کے سربراہ شامل ہوتے ہیں۔
یہ کونسل اس وقت تک ذمہ داریاں ادا کرتی ہے جب تک مجلسِ خبرگان نئے سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کر لیتی۔ مجلسِ خبرگان 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے جو ایران کے آئین کے تحت سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔
آئینی ضابطوں کے مطابق نیا سپریم لیڈر تین ماہ کے اندر منتخب کیا جانا چاہیے، تاہم موجودہ جنگی صورتحال کے باعث یہ واضح نہیں کہ مجلسِ خبرگان کب باقاعدہ اجلاس منعقد کر کے حتمی فیصلہ کرے گی۔
تاہم ذرائع کے مطابق بعض علما اس سلسلے میں آن لائن مشاورت بھی کر رہے ہیں لیکن تاحال موجودہ حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کا بھی کردار ہونا چاہیے تاہم ایران نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

















