All posts by Khabrain News

امریکی اقلیتی لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کو جھوٹا قرار دیدیا

چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہےکہ ایرانی فوج نے ٹام ہاک میزائل مار کر اپنے ہی ملک کے اسکول میں 170 بچیوں کو مارڈالا، حقیقیت یہ ہے کہ ایران کے پاس ٹام ہاک میزائل ہیں ہی نہیں۔

امریکی سینیٹ میں اقلیتی ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے دیا۔

امریکا کےڈیموکریٹک سینیٹر بلومینتھل نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی فوج ایران میں زمین پر اتارنے والی ہے۔

سینیٹر بلومینتھل نے یہ بات بند کمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا کو بتائی۔ بولے انہوں نے جو بھی سوال پوچھے ان کا جواب نہیں ملا، امریکیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرانے سے کارگو جہازکوآگ لگ گئی:یوکے میری ٹائم ایجنسی

یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سنٹر (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق، ایک کارگو جہاز آبنائے ہرمز میں ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرا گیا، جس سے جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔

رواں مالی سال کے آٹھ ماہ میں گاڑیوں کی فروخت میں 43 فیصداضافہ

پاما کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں گاڑیوں کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ اور ایک ماہ میں 26 فیصد کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کےآٹھ ماہ میں گاڑیاں 43 فیصد بڑھ کر 1 لاکھ 28 ہزار 498 یونٹس فروخت ہوئیں۔

پاما کی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں گاڑیوں کی فروخت کم ہو کر 17 ہزار 121 یونٹس رہی، فروری 2026 میں دو اور تین پہیوں والے یونٹس میں سالانہ 24 فیصد اضافہ، ماہانہ 12 فیصد کمی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری 2026 میں دو اور تین پہیوں والے آٹو یونٹس کی فروخت بڑھ کر 1 لاکھ 59 ہزار 512 رہی، رواں مالی سال کے آٹھ ماہ میں 31 فیصد بڑھ کر 12 لاکھ 65 ہزار 61 دو اور تین پہیوں والے یونٹس فروخت ہوئے۔

پاما کے مطابق ملک میں ٹرکوں بسوں کی فروخت سالانہ37 فیصد اضافے سے 486 یونٹس سے 664 یونٹس رہی، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت رواں مالی سال کے آٹھ ماہ میں 82 فیصد بڑھ کر 5 ہزار 296 یونٹس رہی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرکوں اور بسوں کی فروخت ایک ماہ میں 40 فیصد کم ہوئی، ٹریکٹرز کی فروخت سالانہ 12 فیصد بڑھی اور ماہانہ فروخت 31 فیصد کم ہوئی۔

دیامر بھاشا ڈیم پانی اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم ہے: چیئرمین واپڈا

واپڈا اور ڈیمز عملدرآمد کمیٹی کے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ (ر) جنرل محمد سعید نے اجلاس کی صدارت کی جس میں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے باقی ماندہ زمین کے حصول اور منتقلی اور متاثرین کو ہاؤس ہولڈ پیکیج کی ادائیگی پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

لیفٹیننٹ (ر) جنرل محمد سعید کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے نہایت اہم ہے، قومی اہمیت کے اس پراجیکٹ کی بلا تاخیر تکمیل انتہائی ضروری ہے، پراجیکٹ کی بلا تاخیر تکمیل میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ واپڈا 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے، مقامی افراد دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی بروقت تعمیر کو یقینی بنانے میں معاونت کریں، گلگت بلتستان کی انتظامیہ زمین کی خریداری اور متعلقہ اُمور میں تیزی لائے۔

چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ مقامی لوگ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے سٹیک ہولڈر بنیں اور اس کی بروقت تکمیل میں مدد کریں، حقوق دو ڈیم بناؤ کمیٹی لوگوں کو دیامر بھاشا ڈیم کے طویل مدتی فوائد بارے آگاہ کرے، مقامی لوگ پراجیکٹ کے طویل مدتی اور پائیدار فوائد میں شراکت دار بنیں۔

لیفٹیننٹ (ر) جنرل محمد سعید نے کہا کہ دریائے سندھ پر زیرتعمیر دیامر بھاشا ڈیم ایک میگا، کثیر المقاصد منصوبہ ہے، پراجیکٹ مکمل ہونے پر زرعی مقاصد کیلئے 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا،دیامر بھاشا ڈیم سے 4500 میگاواٹ ماحول دوست اور کم لاگت پن بجلی بھی حاصل ہوگی۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ڈیمز عملدرآمد کمیٹی کا قیام سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں جولائی 2018 میں عمل میں لایا گیا،عملدرآمد کمیٹی کا مقصد دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پر تعمیراتی کام کے جلد آغاز اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل ہے۔

خیال رہے عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں، کمیٹی کا یہ آٹھواں اجلاس تھا۔

جنگ نہیں چاہتے، لیکن اس سے بچنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے:صدرشمالی کوریا

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایران امریکا جنگ پر پہلی بار کھل کر ردِعمل دیتے ہوئے شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا، لیکن اس سے بچنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کم جونگ اُن نے فوجی اہلکاروں اور حکام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک، خصوصاً امریکا کو سخت تنبیہ کی اور اپنے ملک کی فوجی طاقت کا حوالہ دیا۔

انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو شرمناک اور غیرقانونی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کسی بھی ملک کی علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہم اس سے بچنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران کو اپنے جوہری پروگرام کے جواز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

کم جونگ اُن نے دعویٰ کیا کہ دنیا گینگسٹر طرز کی منطق پر چل رہی ہے اور صرف وہی ممالک محفوظ رہ سکتے ہیں جن کے پاس بے پناہ طاقت ہو۔ 

ایران نے عرب ممالک پر 2ہزارڈرونز اور 5سومیزائل داغے: رپورٹ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز  کی

رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے عرب ممالک میں مختلف اہداف پر تقریباً 2000 ڈرونز اور 500 میزائل داغے ہیں۔

اخبار کے مطابق بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایران کے میزائل ذخائر کم ہو رہے ہیں، تاہم حملوں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں کی شدت میں اب تک کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی مکمل تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تل ابیب پر 10 خیبر شکن میزائل داغے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں سائرن بجنے کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔

ایرانی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کے ایک جہاز کو خیبر شکن میزائل سے نشانہ بنایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا: قطر

دوحہ: قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ

  قطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے، موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پرکوششیں مرکوز کر رکھی ہیں، ہمیں یقین ہےتنازعات کو مذاکرات کےذریعےحل کیا جاسکتا ہے۔

ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ قطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا۔

ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرئے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں

جواب دیا جائے گا۔

کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کےشروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھا

فضائی حدود کی خلاف ورزی ،ترکیے نے ایران کو خبردار کر دیا

انقرہ:ترکیے نے ایران کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر خبردار کر دیا۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فدان کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ ترکیے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں۔

حاقان فدان نے کہا کہ ترکیہ اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، اگر ایسی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ترکی ضروری اقدامات کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیے کی جانب داغے گئے میزائل ایران سے نہیں گئے، اس واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں گی۔

دوسری جانب عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں ترکیے کی جانب دوسرا میزائل فائر کیا گیا۔

بحرین: اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنیوالا بھارتی گرفتار

بحرین کی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارتی شہری کو گرفتار کر لیا جس پر الزام ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس معلومات فراہم کر رہا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت نتن موہن کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے حساس جغرافیائی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز موساد کو فراہم کیں جن میں بعض اہم اور اسٹریٹجک مقامات کی تفصیلات بھی شامل تھیں، بتایا جا رہا ہے کہ یہ معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس کے لیے اہداف کے تعین اور تجزیے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ نے گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے تاہم تفتیش اور تکنیکی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات ابھی جاری نہیں کی گئیں، معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے کے بعد تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

کمر درد سے نجات ممکن، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر

اکثر افراد کو کمر کے نچلے حصے میں کبھی ہلکا کھچاؤ اور کبھی شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث بستر سے اٹھنا، کرسی پر بیٹھنا، جھکنا یا بچوں کو گود میں اٹھانا جیسے معمولی کام بھی مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کمر کا درد ان مسائل میں شامل ہے جن کے باعث لوگ ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں یا کام سے

چھٹی لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

کمر کے نچلے حصے کا درد ایک عام مگر تکلیف دہ مسئلہ ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کو بروقت سمجھ لیا جائے اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو نہ صرف اس درد پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں اس سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمر کے نچلے حصے کا درد کسی مخصوص عمر تک محدود نہیں۔ یہ نوجوانوں میں بھی پیدا ہو سکتا ہے اور عمر رسیدہ افراد میں بھی عام ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ درست تشخیص، مناسب علاج اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی کے ذریعے اس مسئلے کو کافی حد تک قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

کمر کے درد کی وجوہات

طبی ماہرین کے مطابق اس درد کی بڑی وجہ ہماری روزمرہ عادات ہوتی ہیں۔ لمبے عرصے تک غلط انداز میں بیٹھنا، موبائل فون استعمال کرتے وقت گردن اور کمر کو جھکائے رکھنا، بھاری چیزیں غلط طریقے سے اٹھانا یا اچانک سخت ورزش شروع کرنا ریڑھ کی ہڈی پر اضافی دباؤ ڈال دیتا ہے۔

اس کے علاوہ ریڑھ کی ہڈی کی ڈسک کا اپنی جگہ سے سرک جانا یا پھٹ جانا، عمر کے ساتھ جوڑوں اور ڈسکس کا گھس جانا، جسمانی سرگرمی میں کمی، موٹاپا اور ذہنی دباؤ بھی اس مسئلے کو بڑھانے والے اہم عوامل ہیں۔

عام علامات کیا ہیں؟

کمر کے نچلے حصے میں درد کا آغاز عموماً سختی یا ہلکے کھچاؤ سے ہوتا ہے جو چلنے پھرنے یا زیادہ دیر بیٹھنے سے بڑھ جاتا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ درد ٹانگوں تک پھیل جاتا ہے جسے طبی اصطلاح میں Sciatica کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ٹانگوں میں سن پن، جھنجھناہٹ یا کمزوری محسوس ہونا اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ کوئی اعصاب دباؤ کا شکار ہیں۔

سینئر کنسلٹنٹ نیورولوجی کے مطابق اکثر کمر درد آرام اور مناسب دیکھ بھال سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر چار سے چھ ہفتوں تک درد برقرار رہے یا ٹانگوں میں شدید کمزوری، سن پن یا رفع حاجت پر قابو نہ رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ سنگین حالت Cauda Equina Syndrome کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

فوری آرام اور علاج کے طریقے

اگر کمر کا درد اچانک شروع ہوجائے تو ایک یا دو دن آرام فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ دیر تک مسلسل بستر پر لیٹے رہنا درد کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

عارضی آرام کے لیے شدید درد کی صورت میں برف کا استعمال جبکہ اکڑن کی حالت میں گرم پانی یا گرم پیک مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ درد کم کرنے کے لیے عام طور پر پیراسیٹامول یا آئی بپروفین جیسی ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں، جبکہ اعصابی درد کی صورت میں ڈاکٹر دیگر درد کش دوائیں تجویز کرسکتے ہیں۔

اگر درد شدید ہو یا طویل عرصے تک برقرار رہے تو فزیوتھراپی مؤثر علاج ثابت ہوسکتی ہے، جس میں ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط بنانے اور حرکت بہتر کرنے کے لیے مخصوص ورزشیں کروائی جاتی ہیں۔ بعض مریضوں میں جدید طریقۂ علاج جیسے اسٹیرائڈ انجیکشن، ایپی ڈورل انجیکشن، فیسٹ جوائنٹ انجیکشن یا ریڈیو فریکوئنسی ایبلیشن بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

سرجری کب ضروری ہوتی ہے؟

ماہرین کے مطابق سرجری کو ہمیشہ آخری حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ اسی صورت میں کی جاتی ہے جب دیگر علاج مؤثر ثابت نہ ہوں یا اعصاب کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ عام طور پر کی جانے والی سرجریوں میں Laminectomy، Discectomy اور Spinal Fusion شامل ہیں۔

بحالی اور بچاؤ کی تدابیر

درد میں کمی کے بعد بھی احتیاط جاری رکھنا ضروری ہے۔ بنیادی عضلات کو مضبوط بنانے والی ورزشیں جیسے پلینک اور گلوٹ برج ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دینے میں مدد دیتی ہیں۔

اسی طرح درست انداز میں بیٹھنا، ایرگونومک کرسی استعمال کرنا، زیادہ دیر تک جھک کر بیٹھنے سے گریز کرنا اور ہلکی جسمانی سرگرمی جیسے چہل قدمی یا تیراکی کمر کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اس کے علاوہ وزن متوازن رکھنا، ذہنی دباؤ کم کرنا، کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا لینا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا بھی نہایت اہم ہے۔

اگرچہ کمر کے درد کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن یہ مسئلہ ناقابلِ علاج نہیں۔ بروقت تشخیص، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے انسان دوبارہ متحرک اور صحت مند زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔