لاہور: پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے نو منتخب وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے قومی ٹیم کی حکمتِ عملی پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو ون ڈے فارمیٹ میں فتوحات حاصل کرنی ہیں تو مڈل اوورز (Middle Overs) میں بیٹنگ کے انداز کو مزید جاندار اور مؤثر بنانا ہوگا۔
پی سی بی (PCB) کے آفیشل پوڈ کاسٹ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ مستقبل کے بڑے معرکے بالخصوص ورلڈ کپ کو ہدف بناتے ہوئے ون ڈے اسکواڈ کی تشکیلِ نو پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا بنیادی مقصد آئندہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں ایک ایسا متوازن اور ناقابلِ شکست ون ڈے کمبی نیشن تیار کرنا ہے جو دنیا کی کسی بھی ٹیم کا مقابلہ کر سکے۔
حالیہ تربیتی سیشنز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وائٹ بال کیمپ کے انعقاد سے ہمیں ڈومیسٹک سطح پر ابھرنے والے نئے ٹیلنٹ کو بہت قریب سے پرکھنے کا بہترین موقع ملا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نووارد کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، تاہم بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ کو جھیلنے کے لیے انہیں مزید سخت محنت، تجربے اور وقت کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے سلیکٹرز اور شائقین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو صرف ٹیم میں شامل کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کی جڑیں مضبوط ہونے تک ہمیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔
مائیک ہیسن نے بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ کے شعبے پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ پاور پلے کے ابتدائی اوورز میں حریف ٹیم کی زیادہ سے زیادہ وکٹیں اڑائی جائیں اور بولنگ لائن اپ میں تسلسل (Consistency) پیدا کیا جائے۔ انہوں نے فٹنس کو کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق کھلاڑیوں کے فٹنس لیول کو اوپر لے جا کر ہی میدان میں مستقل مزاجی سے پرفارم کیا جا سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف آئندہ آنے والی کڑی سیریز کے حوالے سے ہیڈ کوچ نے کہا کہ کینگروز کے خلاف ہوم یا اوے میچز ہمیشہ سے ایک چیلنج ہوتے ہیں، اور یہ سیریز ہمارے نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا ایک سنہری موقع ثابت ہوگی۔ آسٹریلیا ایک انتہائی مضبوط اور ڈیسپلینٹ حریف ہے، اس لیے ہمیں اپنی بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی۔ انہوں نے پاکستانی شائقینِ کرکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فینز دنیا میں سب سے زیادہ پُرجوش ہیں، ان کی والہانہ محبت اور سپورٹ ہی گرین شرٹس کا اصل اثاثہ ہے، لہذا مشکل وقت میں بھی وہ ٹیم اور خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں کی پشت پناہی جاری رکھیں۔