All posts by Khabrain News

محسن نقوی پھر ایران پہنچ گئے ، جنرل احمد وحیدی سے اہم ملاقات

Mohsin Naqvi ایک بار پھر Iran پہنچ گئے جہاں انہوں نے Ahmad Vahidi سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر بھی آنکھ کی بیماری میں مبتلا ہوگئے

Imran Khan کے وکیل Barrister Salman Safdar بھی آنکھ کی بیماری کا شکار ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلمان صفدر کو آنکھوں میں تکلیف کے باعث طبی معائنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ان کی صحت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ سیاسی و قانونی حلقوں میں ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

اداکارہ صنم سعید کے کانز فلم فیسٹیول میں ڈیبیو کے بھارت میں بھی چرچے ہونے لگے۔

پاکستانی اداکارہ Sanam Saeed کے Cannes Film Festival میں ڈیبیو نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی خوب توجہ حاصل کرلی۔ سوشل میڈیا پر صنم سعید کے انداز، لباس اور بین الاقوامی ایونٹ میں شرکت کو مداحوں کی جانب سے بے حد سراہا جارہا ہے، جبکہ بھارتی شوبز حلقوں میں بھی ان کے کانز لُک کے چرچے جاری ہیں۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ صنم سعید نے عالمی سطح پر پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی بہترین نمائندگی کی ہے۔

بنگلہ دیش نے پاکستان کو 78 رن سے ہرا کر ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کر دیا

Bangladesh نے Pakistan کو 78 رنز سے شکست دے کر ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ مکمل کر لیا۔ بنگلادیشی ٹیم نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی کامیابی اپنے نام کی، جبکہ پاکستانی ٹیم دونوں میچز میں توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔

امریکا کی جنگی جارحیت کا منہ تور جواب دیا جائے گا: عباس عراقی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقی کی جانب سے امریکی دھمکیوں اور جنگی جارحیت کے خلاف دیے گئے بیانات کی مستند اور تازہ ترین تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں (بشمول الجزیرہ، اناطولو ایجنسی اور وال اسٹریٹ جرنل) کے مطابق، عباس عراقی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “تین دن کی مہلت” اور “بڑے حملے” کی دھمکیوں پر انتہائی سخت اور واضح موقف اختیار کیا ہے۔

وزیرِ خارجہ عباس عراقی نے امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل  میں اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے لکھا:

“گزشتہ سال (جون 2025) ایران نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا تھا، اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر ہم پر دوبارہ حملہ کیا گیا، تو ہماری طاقتور مسلح افواج کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اس کے ساتھ پوری قوت سے جوابی وار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گی۔ یہ محض دھمکی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”

عباس عراقی نے پریس کانفرنسز اور حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ ایران دباؤ میں آ کر سر تسلیم خم نہیں کرے گا:

  • مذاکرات کا اصول: ان کا کہنا تھا کہ “مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے۔ بات چیت صرف برابری کی سطح اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے۔”

  • امریکہ کا تضاد: ایرانی وزیرِ خارجہ نے مئی 2026 میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے تہران میں ملاقات کے دوران بھی کہا کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے، یہ تضاد سفارتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

عباس عراقی نے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی جارحیت کی تو:

  • یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) اس کی آگ میں جل اٹھے گا، جس کا اثر دنیا بھر کے عام لوگوں پر پڑے گا۔

  • انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور امن کے لیے تہران نے حال ہی میں ایک نیا 14 نکاتی امن منصوبہ (14-Point Peace Proposal) بھی پیش کیا ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب انتہائی “تکلیف دہ اور پشیمان کن” ہوگا۔

امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے قرارداد پیش

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس (بشمول دی گارڈین اور الجزیرہ) کے مطابق، منگل (19 مئی 2026) کو امریکی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو روکنے کے لیے پیش کی گئی “وار پاورز قرارداد” (War Powers Resolution) کو بحث کے لیے منظور کرتے ہوئے اگلے مرحلے کی طرف بڑھا دیا ہے۔

ایران کے پاس محدود وقت ہے، تین دن میں یا آئندہ ہفتے حملا کر سکتے ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی اس سخت وارننگ اور ڈیڈ لائن کی مستند ترین تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ بین الاقوامی اور عرب ذرائع ابلاغ (بشمول سی این این، سی بی ایس نیوز، اور العربیہ) کے مطابق، یہ بیانات حالیہ چند دنوں کے دوران جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سامنے آئے ہیں:

حالیہ ترین پیش رفت کے مطابق، جب صدر ٹرمپ سے صحافیوں نے سوال کیا کہ وہ ایران کو امن معاہدے پر راضی ہونے کے لیے کتنا وقت دیں گے، تو انہوں نے واضح طور پر “دو یا تین دن” کا ذکر کیا۔

  • حملہ مؤخر کرنے کی وجہ: صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے ایک سوشل میڈیا بیان (Truth Social) میں انکشاف کیا کہ منگل کے روز ایران پر ایک بڑا طے شدہ فوجی حملہ ہونا تھا، لیکن انہوں نے اسے فی الحال مؤخر (Hold off) کر دیا ہے۔

  • عرب رہنماؤں کی درخواست: ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی تھی کہ حملے کو روکا جائے کیونکہ ایک امن معاہدہ طے پانے کے سنجیدہ امکانات موجود ہیں اور مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔

  • ہائی الرٹ کی ہدایت: اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کسی بھی لمحے ایران پر بڑے پیمانے پر فل سکیل حملہ ,کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل، اپریل کے آخر میں بھی صدر ٹرمپ نے “فاکس نیوز” کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے حوالے سے تین دن کا وقت دیا تھا۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں وارننگ دی تھی کہ:

“ایران کے پاس اپنے تیل کے بنیادی ڈھانچے (Oil Infrastructure) کے دھماکوں سے دوچار ہونے سے قبل صرف تقریباً 3 دن باقی رہ گئے ہیں۔”

امریکا ایران مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں :چینی صدر

چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس کے دوران چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خصوصاً امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے اہم ترین بیانات دیے ہیں۔

  • مذاکرات کی اہمیت: چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ “امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت خصوصی اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں”۔

  • جنگ بندی پر زور: انہوں نے زور دیا کہ خطے میں جاری لڑائی اور جنگ کو ہر صورت روکنا ہوگا، کیونکہ مزید کشیدگی بڑھانا کسی بھی طور دانشمندی نہیں ہے۔

  • عالمی توانائی کا استحکام: چینی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام سے ہی عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی  کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔

  1. امریکی صدر کا دعویٰ: صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ چین، ایران کو کسی قسم کا فوجی سامان یا ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ تاہم، چینی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔

  2.  دونوں عالمی رہنماؤں (امریکا اور چین) نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عالمی معیشت کو بچانے کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور وہاں سے تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔

  3. مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن: صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران پر مزید حملوں کا ارادہ رکھتے تھے لیکن فی الحال انہوں نے اسے مؤخر کیا ہے اور ایران کو مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے چند دنوں کا وقت دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ کی26 سے 28 مئی تک تعطیلات کا اعلان کردیا

وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ 2026 کے موقع پر سرکاری تعطیلات کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اس حوالے سے کابینہ ڈویژن (Cabinet Division) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی مکمل اور مستند تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • تعطیلات کے دن اور تاریخیں: حکومت نے 26، 27 اور 28 مئی 2026 (بروز منگل، بدھ اور جمعرات) تین دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

  • وزیر اعظم کی منظوری: یہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم شہباز شریف کی باقاعدہ منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

  • اطلاق: ان چھٹیوں کا اطلاق ملک بھر کے تمام وفاقی سرکاری دفاتر، خود مختار اداروں اور محکموں پر ہوگا۔

ہمیں کسی سے کوئی بدلہ لینا ہے نا انتقام

“ہمارا مقصد نہ تو کسی سے بیر رکھنا ہے اور نہ ہی انتقام لینا ہے۔ لگ بھگ پانچ دہائیوں پر محیط سیاسی سفر میں، طلبہ سیاست سے لے کر قومی سیاست تک، ان گنت سیاسی حریف سامنے آئے۔ ہزاروں شناسا اس بات کے گواہ ہیں کہ شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود کسی سے میرے تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے، بلکہ ہمیشہ باہمی احترام کا رشتہ قائم رہا۔

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں دائر کردہ مقدمہ محض میرا ذاتی معاملہ نہیں، بلکہ یہ بلا تفریقِ جماعت ہر اس شہری کا مقدمہ ہے جسے بدنیتی اور سازش کے تحت میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کردار کشی کے اس سلسلے کو اب کہیں نہ کہیں تھمنا ہوگا۔

میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے نام، میرے اہل خانہ یا میرے کسی مینیجر کے نام پر ‘کونسٹی ٹیوشن ون اپارٹمنٹس’ میں سرمایہ کاری یا ملکیت کا کوئی ایک ثبوت پیش کریں، اپنی پوزیشن واضح کریں، ورنہ قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

زہر آلود اور جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عمل جاری رہے گا۔ بہتان تراشی میں ملوث متعدد اکاؤنٹس کی شناخت ہو چکی ہے اور بہت جلد ان کے نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ان اکاؤنٹس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کوئی نادانستہ غلطی نہیں، بلکہ یہ عناصر عادی مجرم ہیں۔ محض چند ویوز، پیسوں اور اپنے آقاؤں کے ایما پر معزز شخصیات کی پگڑیاں اچھالنا ان کا باقاعدہ دھندہ بن چکا ہے۔

یہ کوئی تنقید یا اختلافِ رائے نہیں، بلکہ کردار کشی اور دشنام طرازی پر مبنی ایک منظم اور بیہودہ مہم ہے۔ بہت جلد ان عناصر کے خلاف، ان شا اللہ، ‘پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ’ کے تحت بھی سخت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔”