All posts by Khabrain News

انگلینڈ میں کمسن بچی پالتو کتوں کے حملے میں دم توڑ گئی

(ویب ڈیسک) ریڈکار کے علاقے ڈورمانسٹاؤن میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، جہاں تین ماہ کی معصوم بچی میگی مے کو پالتو کتوں نے حملہ کرکے موت کی نیند سلادیا۔

 

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ المناک واقعہ 9 اپریل کو رونما ہوا، جب دو کتوں نے اچانک اس کمرے میں گھس کر بچی پر حملہ کر دیا جہاں وہ موجود تھی۔ معصوم بچی میگی مے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

 

پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کی موت سر پر آنے والی شدید چوٹوں (Head Injury) کی وجہ سے ہوئی۔

 

پڑوسیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کتے (Pocket Bully) نسل کے تھے، جو کہ ممنوعہ ‘ایکس ایل بُلی’ کی ایک چھوٹی قسم ہے۔ تاہم، پولیس نے ابھی تک نسل کی تصدیق نہیں کی لیکن یہ واضح کیا ہے کہ یہ کتے پالنا غیر قانونی نہیں تھا۔

واقعے کے بعد پولیس نے ایک سفید اور سلیٹی رنگ کے کتے کو موقع پر گولی مار دی، جبکہ دوسرے کتے کو بعد ازاں مار دیا گیا۔

 

عدالت کو بتایا گیا کہ 9 اپریل 2026 کو دوپہر ایمبولینس سروس نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک بچی پر کتے نے حملہ کر دیا ہے اور اس کا سانس بند ہو گیا ہے۔

کراچی میں 2 دن کے لئے پانی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کردیا گیا

(ویب ڈیسک) کراچی میں 2 دن کے لئے پانی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ کراچی کے شہریوں کو  ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانی ذخیرہ کر لیں اور اس  کا استعمال احتیاط سے کریں۔

 

تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہر کے بڑے حصے میں پانی کی فراہمی معطل رہنے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

 

کراچی کے دھابیجی پمپنگ سٹیشن پر نئی ٹرانسمیشن لائن کو  مین لائن سسٹم سے منسلک کرنے کے لیے کل سے کام کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے شہر کو 48 گھنٹوں تک 250 ملین گیلن روزانہ پانی کی قلت کا سامنا رہے گا۔

 

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے بتایا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت ٹرانسمیشن لائن نمبر 5 کی انٹر کونکٹنگ کا کام 25 اپریل بروز ہفتہ دوپہر 12 بجے شروع ہوگا جو 27 اپریل تک جاری رہے گا۔

 

دھابیجی کے 21 میں سے 9 پمپس بند رکھے جائیں گے اور 7 پمپس 27 اپریل تک بحال کر دیے جائیں گے، جبکہ 2 پمپس مزید 5 دن تک تکنیکی کام کے لیے بند رہیں گے۔

 

اس تعمیراتی کام کے دوران فورتھ فیز، K-II اور K-III سسٹمز سے پانی کی سپلائی مکمل بند رہے گی۔

 

متاثر ہونے والے علاقوں میں نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن، اسکیم 33 اور گلستانِ جوہر جبکہ گلشنِ اقبال، صدر اور چنیسر ٹاؤن کے مختلف حصے شامل ہیں۔

 

کراچی کو عام طور پر 650  ملین گیلن روزانہ  پانی فراہم کیا جاتا ہے، جو اس بندش کے دوران کم ہو کر تقریباً 400 MGD رہ جائے گا جبکہ نیپا، صفورہ اور سخی حسن پر قائم واٹر ہائیڈرنٹس بھی اس مدت کے دوران بند رہیں گے۔

 

واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس اپ گریڈیشن سے مستقبل میں پانی کی ترسیل بہتر ہوگی اور سسٹم میں پریشر مستحکم ہوگا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پانی کا استعمال احتیاط سے کریں اور پہلے سے ذخیرہ کر لیں تاکہ کسی بھی پریشانی سے بچا جا سکے۔

’’خوف بمقابلہ دلیری‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں بننےلگا ؟

سوشل میڈیا پر خوف بمقابلہ دلیری کا جملہ ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے جس کی وجہ بھارتی وزیر دفاع کی حالیہ ویڈیو کو قرار دیا جا رہا ہے جس میں وہ ایک آبدوز میں اترتے ہوئے توازن کھو بیٹھے جس پر سوشل میڈیا پر خوب دُرگت بنی ، جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے اس حوالے سے دلچسپ تبصرے کیے۔

اس موقع پر قریب موجود افسران نے بڑی مشکل سے انہیں پکڑ کر سہارا دیا جبکہ دوسری طرف ویڈیو میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کو دکھایا جا رہا ہے کہ نہر میں تن تنہا کودتے ہیں۔

اگر آپ نے آج سوشل میڈیا، خاص کر ایکس دیکھا ہو تو آپ نے سوچا ضرور ہوگا کہ اچانک سے انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کیوں ٹرینڈ کر رہے ہیں؟

ابھی دو روز قبل ہی پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہونے پر برسی منائی گئی جس کے بعد آپریشن سندور بھی ٹرینڈ کرتا رہا، جمعہ کی صبح سوشل میڈیا پر اچانک انڈین وزیر دفاع ٹرینڈ کرتے نظر آئے اور جب وجہ تلاش کی گئی تو وہ ان کی ایک وائرل ویڈیو تھی۔

پاکستانی حجاج رواں برس قربانی پر ساڑھے 9 ارب روپے سے زائد خرچ کریں گے

 رواں برس پاکستانی حجاج قربانی کی مد میں ساڑھے نو ارب روپے سے زائد کے اخراجات کریں گے۔ سرکاری اور نجی سکیموں کے تحت حج پر جانے والے ایک لاکھ اناسی ہزار دو سو دس عازمین مجموعی طور پر بارہ کروڑ نوے لاکھ ریال سے زائد رقم سے قربانی کے جانور خریدیں گے۔

رواں سال فی حاجی ایک جانور کی قربانی کے اخراجات سات سو بیس ریال طے پائے ہیں، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً چون ہزار روپے بنتے ہیں۔ پاکستان سے سرکاری سکیم کے تحت جانے والے ایک لاکھ انیس ہزار دو سو دس عازمین کی قربانی پر چھ ارب تینتالیس کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوں گے۔

 

11 برس بعد سپر النینو کا پاکستان کا رخ; ہیٹ ویو اور خشک سالی کاخطرہ

11 برس بعد سپر النینو  نے  پاکستان کا رخ کرلیا ۔ مون سون سے پہلے ہیٹ ویو اور خشک سالی کاخطرہ  بڑھ گیا ۔

این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب نے  خصوصی گفتگو میں کہا آنے والا مئی اور جون زیادہ گرم ہونگے ۔اس سال ہیٹ ویو کے چانسز زیادہ ہیں۔موسمیاتی ماڈلز کے مطابق یہ سال اور اگلا سال زیادہ گرم ہوگا ۔

ملتان میں ان دنوں ہیٹ برسٹ کا اسپیشل دیکھا گیا ہے ۔ہیٹ برسٹ سے اچانک رات کو درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، کلاؤڈ برسٹ کی طرح ہیٹ برسٹ ہوتا ہے۔

ہیٹ برسٹ بننے کے امکانات بہت زیادہ ہیں. پوٹھوہار ریجن میں بھی اس سال ہیٹ ویو زیادہ ہے.

اسلام آباد کا درجہ حرارت گزشتہ برس کی نسبت زیادہ ہے.شدید ہیٹ سے نہ صرف انسان بلکہ آبی حیات بھی متاثر ہونگی،ساؤتھ پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خشک سالی ہوگی،سپر النینو سے نہ صرف سطح زمین بلکہ سطح سمندر کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے.

میٹرک پریکٹیکلز میں نقل روکنے کیلئے بڑا اقدام، لیبز میں سی سی ٹی وی نصب کرنے کا فیصلہ

لاہور بورڈ  نے عملی امتحانات میں نقل کی روک تھام کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام سائنس لیبارٹریز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

بورڈ کی جانب سے جاری مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری و نجی سکولوں کی تمام سائنس لیبز میں کیمرے لگائے جائیں تاکہ امتحانات کے دوران مکمل نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیمروں کی تنصیب بروقت مکمل نہ کرنے والے سکول سربراہان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لاہور میں 205 سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں میٹرک کے پریکٹیکل امتحانات منعقد ہوں گے، جن کا آغاز 12 مئی سے ہوگا۔

تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امتحانی نظام کو شفاف بنانا اور نقل جیسے رجحانات کا مکمل خاتمہ کرنا ہے، تاکہ طلبہ کی کارکردگی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

درسی کتب کے لیے مہنگے کاغذ کی منظوری، قیمتوں میں اضافے کا امکان

پیکٹا کے تحت درسی کتب کی چھپائی میں استعمال ہونے والے کاغذ کی منظوری اور قیمتوں سے متعلق فیصلوں پر تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ کے لیے معیاری اور سستی درسی کتب کا حصول مزید مشکل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 68 گرام کاغذ کی قیمت ملوں میں تقریباً 180 سے 190 روپے فی کلو کے درمیان ہے، جبکہ بعض منظوریوں کے تحت یہی کاغذ 210 روپے فی کلو کے حساب سے خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فرق کے باعث درسی کتب کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

اچھرہ 3 بچوں کے قتل کیس میں اہم پیش رفت؛ کیس کا نیا رخ سامنے آگیا

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر صرف دو مخصوص ملز سے کاغذ کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس عمل میں متعلقہ افسران کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، درسی کتب میں استعمال ہونے والے کاغذ کے معیار اور انتخاب کا اختیار ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر فیلڈ اینڈ مانیٹرنگ کے پاس ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ معیاری کاغذ کے استعمال اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق مہنگے کاغذ کے استعمال سے درسی کتب کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کا براہ راست اثر پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ اور ان کے والدین پر پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سستی کتب کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مخصوص ملز سے کاغذ کی خریداری کے فیصلے سے پبلشرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کتابوں کی تیاری اور قیمتوں کا پورا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

تمام خدمات ایک پلیٹ فارم پر، نادرا کی جدید ویب سائٹ متعارف

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی( نادرا) نے جدید ویب سائٹ متعارف کرا دی۔
شناختی خدمات اب مزید منظم اور صارف دوست انداز میں دستیاب ہوں گی، شناختی کارڈ، نائیکوپ، پی او سی، ایف آر سی سمیت تمام خدمات کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کردیا گیا۔

 

رجسٹریشن ڈیٹا اور اعدادوشمار nGRIDSسسٹم پر نقشوں کی صورت میں موجود ہے، ضلعی سطح پر مردم شماری اور رجسٹریشن کا تقابلی جائزہ بھی فراہم کر دیا گیا، تحقیقی سرگرمیوں اور منصوبہ بندی میں رہنمائی کے لیے میپ گیلری کو متعارف کرایا گیا۔

 

قومی و صوبائی سطح کے اعدادوشمار اور رجحانات بھی ویب سائٹ پر پیدائش، وفات، شادی و طلاق کی رجسٹریشن کا مربوط نظام نمایاں کیا گیا ، بینکاری، ٹیلی کام اور حکومتی اداروں کے لیے تصدیقی خدمات یکجا کردی گئیں ،کال سنٹر، آئی وی آر اور ای میل سپورٹ مزید مؤثر کردیا گیا۔

 

شکایات کے اندراج اور ازالے کا نظام بہتر انداز میں فعال ہے، نادرا کیریئر پورٹل اپ گریڈ کر دیا گیا، آن لائن درخواست کا آسان عمل متعارف کرایا گیا جب کہ ملک بھر اور بیرون ملک نادرا نیٹ ورک کی مکمل معلومات اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

 

رجسٹریشن مراکز اور موبائل رجسٹریشن وین کی معلومات ایک جگہ دستیاب ہیں، رائٹ ٹو انفارمیشن اور میڈیا سنٹر کے سیکشن جدید خطوط پر استوار کئے گئے ہیں۔

عمان میں ملازمین کے اوور ٹائم کے حوالے سے اہم اپ ڈیٹ

عمان میں ملازمین کے اوور ٹائم کے حوالے سے اہم خبر آگئی ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی پوسٹ کے مطابق سلطنت عمان کا لیبر قانون، جو رائل ڈیکری نمبر 53/2023 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، اضافی اوقاتِ کار (اوور ٹائم) کے حوالے سے ایک واضح اور منظم قانونی نظام فراہم کرتا ہے تاکہ کاروباری ضروریات اور کارکنوں کے حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

قانون کے آرٹیکل 71 کے مطابق اگر ادارے کی ضروریات کا تقاضا ہو تو آجر ملازم سے اضافی اوقات میں کام لے سکتا ہے، لیکن اس پر واضح حدود مقرر ہیں تاکہ کارکنوں پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ عام کام کے اوقات اور اوور ٹائم ملا کر ایک دن میں کل کام کا دورانیہ بارہ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

عام حالات میں اوور ٹائم کام ملازم کی رضامندی سے ہی کروایا جا سکتا ہے۔ اگر ملازم اضافی اوقات میں کام کرتا ہے تو آجر پر لازم ہے کہ وہ اسے اس کے بنیادی اجرت کے مطابق اضافی گھنٹوں کی ادائیگی کرے اور اس کے ساتھ کم از کم 25 فیصد اضافی معاوضہ دن کے وقت کے اوور ٹائم کے لیے اور 50 فیصد اضافی معاوضہ رات کے وقت کیے گئے اوور ٹائم کے لیے ادا کرے۔ متبادل طور پر آجر نقد ادائیگی کے بجائے اضافی کام کے بدلے برابر وقت کی چھٹی بھی دے سکتا ہے۔

اگر اوور ٹائم ہفتہ وار چھٹی کے دن یا سرکاری تعطیل کے دوران کیا جائے تو آجر کو ملازم کو اس دن کی معمول کی اجرت کے علاوہ بنیادی یومیہ اجرت کے برابر اضافی ادائیگی کرنی ہوگی، یا اس کے بدلے ایک متبادل چھٹی فراہم کرنی ہوگی۔

قانون کچھ مخصوص حالات میں ملازم کی پیشگی رضامندی کے بغیر بھی اوور ٹائم کی اجازت دیتا ہے۔ آرٹیکل 72 کے مطابق ایسے حالات میں سالانہ اسٹاک چیک، بجٹ کی تیاری، حسابات کی تکمیل، کمپنی کی بندش یا تصفیہ کے معاملات، یا سیزنل اور پروموشنل سیلز کی تیاری شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ایسی صورت میں اضافی کام کی مدت ایک سال میں پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، جب تک متعلقہ حکام سے مزید اجازت حاصل نہ کی جائے۔

اسی طرح ہنگامی حالات میں بھی اوور ٹائم لیا جا سکتا ہے، مثلاً کسی بڑے حادثے کو روکنے کے لیے، حادثے کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے، خراب ہونے والی اشیاء کے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے یا کسی غیر معمولی کاروباری دباؤ کی صورت میں۔ ان حالات میں قانون زیادہ معاوضہ مقرر کرتا ہے۔ کارکن کو اضافی گھنٹوں کی بنیادی اجرت کے ساتھ کم از کم 50 فیصد اضافی ادائیگی دن کے وقت اور 75 فیصد اضافی ادائیگی رات کے وقت کے اوور ٹائم کے لیے دی جائے گی۔

اگر ایسا لازمی اوور ٹائم ہفتہ وار چھٹی یا سرکاری تعطیل کے دن کیا جائے تو ملازم کو اس دن کی معمول کی اجرت کے علاوہ بنیادی اجرت کے دگنا کے برابر اضافی ادائیگی دی جائے گی، یا اس کے بدلے دو دن کی متبادل چھٹی فراہم کی جائے گی۔

علاوہ ازیں آرٹیکل 73 کے تحت وزیرِ محنت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بعض موسمی کاموں یا مخصوص شعبوں کے لیے کام کے اوقات اور اوور ٹائم کے عام قواعد میں استثنا دے سکے، کیونکہ کچھ صنعتوں میں کام کی نوعیت سال کے مختلف اوقات میں بدلتی رہتی ہے۔

صبافیصل کی شوہروں پر شک کرنیوالی بیویوں کو نصیحت

پاکستانی سینئر اداکارہ صبا فیصل نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک پرانا واقعہ بیان کرتے ہوئے ازدواجی تعلقات، اعتماد اور غیر ضروری شک و شبہات کے موضوع پر گفتگو کی ہے۔

حالیہ پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران انہوں نے بتایا کہ تقریباً 25 سال قبل وہ اپنے شوہر کو لینے ان کے دفتر گئی تھیں، جہاں انہوں نے ریسیپشن پر موجود خاتون سے اپنے شوہر کو بلانے کی درخواست کی۔ ان کے مطابق جب ان سے شناخت پوچھی گئی تو انہوں نے خود کو “مسز فیصل” کے طور پر متعارف کرایا۔

مادری زبان کی حفاظت ضروری ہے، صبا حمید کا والدین کو پیغام

اداکارہ نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد اگلے روز ان کے شوہر نے انہیں آگاہ کیا کہ مذکورہ ریسیپشنسٹ نے ملازمت چھوڑ دی ہے۔ ان کے مطابق شوہر کا کہنا تھا کہ ممکن ہے اس خاتون کو یکطرفہ طور پر جذباتی وابستگی پیدا ہوئی ہو، تاہم انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

صبا فیصل نے اس تجربے کو ازدواجی تعلقات میں اعتماد کی اہمیت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط رشتہ وہی ہوتا ہے جس میں اعتماد اور خود اعتمادی قائم رہے، تاکہ غیر ضروری مداخلت یا غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات رشتوں میں غیر ضروری شک اور حد سے زیادہ نگرانی مسائل کو جنم دیتی ہے، جو معاشرتی طور پر بھی مختلف ڈرامائی صورتوں میں دکھائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق مالی استحکام بھی بعض اوقات تعلقات کی نوعیت پر اثر انداز ہوتا ہے، تاہم بلاوجہ خوف اور بے چینی ازدواجی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔