کراچی:
سندھ ہائی کورٹ نے حادثات کے مقدمات چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹروے کے خلاف درج کرنے کا حکم دے دیا۔
ہائی ویز کی خراب صورتحال اور ٹریفک حادثات کے خلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ این ایچ اے اور موٹروے پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے این ایچ اے حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ این ایچ اے ہائی ویز کی بہتری کے لیے کیا کام کر رہی ہے؟
ممبر جنوبی این ایچ اے عبدالطیف مہیسر نے بتایا کہ گیارہ منصوبے اور اسکیمز موجود ہیں، این ایچ اے سندھ کے تحت بحالی منصوبے بھی جاری ہیں۔
جسٹس نثار بھنبرو نے استفسار کیا کہ آپ کو علم ہے حادثات میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے ہیں؟ موٹر وے اور ہائی ویز پر ایمرجنسی سہولیات موجود ہیں؟
ممبر جنوبی این ایچ اے نے بتایا کہ ایم نائن موٹروے پر نوری آباد کے مقام پر ٹراما اور ریسکیو سینٹر موجود ہے۔
جسٹس نثار بھنبھرو نے ریمارکس دیے کہ این ایچ اے سب سے ناکارہ ادارہ ہے اور ناکارہ لوگوں کو دفتروں میں رکھا ہوا ہے۔
وکیل این ایچ اے نے کہا کہ حادثات صرف ہائی ویز پر نہیں دیگر اہم سڑکوں پر بھی ہوتے ہیں، لائسنس اور فٹنس کے لیے صوبہ ذمہ دار ہے، ایکسل لوڈ سے متعلق سندھ حکومت کو متعدد بار کہا ہے، سندھ حکومت سے کہا ہے کہ ایسی گاڑیوں کو موٹرویز پر آنے سے روکیں۔
جسٹس نثار بھنبرو نے ریمارکس دیے کہ پیسے بھی تو آپ لے رہے ہیں، این ایچ اے سیفٹی آرڈننس پڑھیں صوبائی پولیس کی ذمہ داری ہے یا موٹروے پولیس کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی ویز پر حادثات کے مقدمات چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹرویز کے خلاف درج کیا جائے، ہائی ویز پر ٹریفک بند ہوا تو نقصان این ایچ اے کو بھرنا ہوگا۔
جسٹس نثار بھنبرو نے ریمارکس میں کہا کہ ہم موٹر وے پولیس کو کہہ دیتے ہیں کہ جہاں سڑک خراب ہو وہاں ٹریفک روک دیں، ہم ہائی ویز سندھ حکومت کے حوالے کرتے ہیں، ہم ان سے کام کروا لیں گے۔
وکیل این ایچ اے نے کہا کہ ایم نائن کے لیے دی گئی زمین کی منتقلی سندھ حکومت نے ختم کر دی ہے۔
جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ وفاق نے ادائیگی نہیں کی تو منتقلی منسوخ کی۔
جسٹس نثار بھنبرو نے استفسار کیا کہ سکھر سے اسلام آباد سفر کیا ہے؟ کیا اتنی دیر میں ہالہ سے سکھر پہنچ سکتے ہیں؟
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ کراچی میں پل گرا تھا اسکا مقدمہ چیئرمین کے خلاف درج ہونے کے بعد کوئی پل نہیں گرا۔
ممبر جنوبی این ایچ اے نے بتایا کہ انڈس ہائی وے مارچ میں مکمل بحال کر دیا جائے گا، جس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ مارچ تک حادثات کا ذمہ دار کون ہوگا؟ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ ہم اس معاملے پر تفصیلی حکم نامہ جاری کریں گے۔
عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 10 اپریل تک ملتوی کر دی۔
















