بیشتر افراد اچھی صحت کے حصول کے لیے طرز زندگی میں ڈرامائی تبدیلیاں لانے کا عزم کرتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد ناکام ہو جاتے ہیں۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ اچھی صحت کے لیے ڈرامائی تبدیلیاں لانے کی ضرورت نہیں بلکہ چند چھوٹی اور آسان عادات کو اپنا کر آپ ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
یورپین جرنل آف پرینیٹیو کارڈیالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دل کو صحت مند رکھنے کے لیے 8 آسان عادات بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اس کے لیے ہر رات 11 منٹ کی اضافی نیند، ساڑھے 4 منٹ کی اضافی تیز رفتاری سے چہل قدمی اور روزانہ کچھ زیادہ سبزیاں کھانے جیسی عادات مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان عادات کو طرز زندگی کا حصہ بناکر آپ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ 10 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں واضح کیا گیا کہ درحقیقت آپ کو بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت نہیں بس روزمرہ کی چند عادات کو بہتر بنانا بھی کافی ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں 53 ہزار سے زائد درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی صحت کا جائزہ 8 سال تک لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ ہر رات اضافی 11 منٹ کی نیند سے کسی فرد میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جبکہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کو یقینی بنایا جائے۔
محققین نے بتایا کہ نیند سے انسولین کی حساسیت اور گلوکوز میٹابولزم میں بہتری آتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے تحفظ ملتا ہے جبکہ نیند کی کمی سے دل کی دھڑکن کی رفتار میں اضافے، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اسی طرح تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ساڑھے 4 منٹ کی اضافی تیز رفتاری سے چہل قدمی سے بھی دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق تیز رفتاری سے چلنے سے دل کے مسلز مضبوط ہوتے ہیں جبکہ خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور جسم میں آکسیجن کی سطح بہتر ہوتی ہے۔
اسی طرح اضافی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے کیونکہ ان میں موجود فائبر، وٹامنز اور منرلز سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانے کی عادت سے بھی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
مچھلی میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بلڈ پریشر اور خون میں چکنائی کی سطح کم ہوتی ہے، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، بلڈ کلاٹس کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جبکہ دل کا نظام صحت مند ہوتا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دن بھر میں بیٹھنے کے وقت میں ایک گھنٹے کی کمی سے بھی ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق کافی پینے، مسلز مضبوط بنانے والی ورزشوں اور گریوں کے استعمال سے بھی ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔