تونسہ شریف میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کا سانحہ اب محض ایک مقامی خبر یا وقتی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے ہمہ جہتی قومی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جس نے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے نظامِ صحت، حکومتی شفافیت، پالیسی سازی اور انتظامی صلاحیت پر گہرے اور سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہری مراکز تک پھیلنے کے خدشات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ کہانی صرف ایک بیماری کی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی ہے جہاں غفلت، تاخیر، کمزور نگرانی اور خاموشی مل کر ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دیتے ہیں۔
اگر اس بحران کو محض اعداد و شمار کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کی شدت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ سرکاری طور پر تونسہ شریف میں ایچ آئی وی کیسز کی تعداد تقریباً ساڑھے تین سو سے چار سو بتائی جاتی رہی ہے مگر مقامی ذرائع، فیلڈ رپورٹس اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اصل تعداد چھ سو سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ فرق صرف نمبروں کا نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔ جب ریاستی بیانیہ اور زمینی حقیقت میں اتنا واضح فرق ہو تو سوال صرف بیماری کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ حکمرانی پر اٹھتا ہے۔
یہی تصویر اس وقت اور بھی بڑی ہو جاتی ہے جب پورے پنجاب کا ڈیٹا سامنے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے تازہ کوائف کے مطابق صوبے میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں 31 ہزار سے زائد مرد، 9 ہزار 500 سے زائد خواتین، دو ہزار سے زائد 14 سال تک کے بچے اور 1800 سے زائد خواجہ سرا شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور پھیلا ہوا بحران ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان رجسٹرڈ مریضوں میں سے تقریباً 70 فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں جبکہ 30 فیصد سے زائد ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہونے کے باوجود ادویات نہیں لے رہے۔ یہ وہ “خاموش مریض” ہیں جو نہ صرف اپنی صحت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ معاشرے میں وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ ان مریضوں کا کوئی واضح ٹریک نہ ہونا ایک بڑی پالیسی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اگر ضلع وار اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو بحران کی وسعت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ لاہور میں 10 ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ صرف دور دراز علاقوں تک محدود نہیں۔ فیصل آباد میں 5199، ڈی جی خان میں 3710، سرگودھا میں 2861، گجرات میں 2823، ملتان میں 2387، مظفر گڑھ میں 2065، راجن پور میں 1199، رحیم یار خان میں 1196، اوکاڑہ میں 1118، ساہیوال میں 1101، شیخوپورہ میں 1180، سیالکوٹ میں 721 اور وہاڑی میں 700 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی سینکڑوں کیسز موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک صوبہ گیر بحران بن چکا ہے۔
تونسہ شریف اس بڑے بحران کا ایک فوکل پوائنٹ بن کر سامنے آیا ہے جہاں ہونے والی تحقیقات نے نظامی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ سرکاری ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، بغیر دستانوں کے انجیکشن لگانا، اور ادویات کی شیشیوں کا دوبارہ استعمال جیسے عوامل نہ صرف طبی اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ ایچ آئی وی جیسے وائرس کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ یہ وہ بنیادی غلطیاں ہیں جنہیں عالمی سطح پر برسوں پہلے تسلیم کیا جا چکا ہے مگر بدقسمتی سے مقامی سطح پر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس بحران کو محض ڈیٹا سے نکال کر انسانی المیے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ کئی خاندانوں نے یہ بتایا کہ ان کے بچے معمول کے علاج کے لیے ہسپتال گئے اور بعد ازاں ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بارہا شکایات درج کروائیں مگر نہ تو کوئی مؤثر انکوائری سامنے آئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
محکمہ صحت کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے اعلیٰ حکام مکمل طور پر آگاہ تھے۔ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ، صوبائی وزیر صحت اور پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذمہ داران کو بارہا صورتحال سے آگاہ کیا گیا مگر اس کے باوجود فیصلہ کن اقدامات نہ کیے جا سکے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک طبی بحران ایک انتظامی اور اخلاقی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس پورے معاملے میں ایک اہم موڑ گزشتہ دنوں آیا جب صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ جیسے ہی کیسز سامنے آئے فوری ایکشن لیا گیا اور 28 مارچ 2025 تک صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں پر مشتمل ایک جوائنٹ مشن تشکیل دیا گیا اور پانچ ہزار افراد کی سکریننگ کی گئی۔
تاہم دستیاب شواہد اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی جوائنٹ مشن نے جولائی اور اگست 2025 میں تقریباً 20 دن تک تونسہ کا تفصیلی دورہ کیا اور اس دوران 50 ہزار افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ کی گئی۔ یہ تضاد نہ صرف بیانات کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ حقائق کو مکمل طور پر سامنے نہیں لایا جا رہا۔
وزیر صحت کا یہ دعویٰ کہ ایچ آئی وی متاثرہ افراد کا ڈیٹا پبلک کیا جاتا ہے یہ بھی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت بھی مکمل ڈیٹا فراہم کرنے سے گریزاں رہا ہے۔ یہ صورتحال شفافیت کے دعوؤں کو کمزور کرتی ہے اور اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ مریض بچے ایسے ہیں جن کی عمر 12 سال سے کم ہے۔ یہ ایک نہایت تشویشناک پہلو ہے کیونکہ بچوں میں اس بیماری کا پھیلاؤ واضح طور پر انفیکشن کنٹرول کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی بحران بھی ہے جہاں معصوم زندگیاں ایک نظامی ناکامی کا شکار ہو رہی ہیں۔
عالمی سطح پر ہونے والی تحقیقات کے باوجود رپورٹس کا منظر عام پر نہ آنا بھی ایک بڑا سوال ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کی گئی سکریننگ اور اقوام متحدہ کے وفد کے دورے کے باوجود ان کی رپورٹس کو پبلک نہ کرنا شکوک و شبہات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر سب کچھ کنٹرول میں ہے تو پھر ان رپورٹس کو سامنے لانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
طبی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید پھیل سکتا ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر جہاں پہلے ہی ہزاروں کیسز موجود ہیں اس خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک واضح وارننگ ہے کہ اگر نظامی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پالیسی سازی کا بھی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسا کوئی مؤثر نظام موجود ہے جو نہ صرف مریضوں کی رجسٹریشن کرے بلکہ ان کی مسلسل مانیٹرنگ بھی یقینی بنائے؟ کیا ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوئی سخت میکانزم موجود ہے؟ اور اگر ہے تو پھر تونسہ جیسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟
بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو کئی ممالک نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو مؤثر پالیسیوں، آگاہی مہمات اور سخت طبی ضوابط کے ذریعے کنٹرول کیا ہے۔ وہاں نہ صرف ڈیٹا شفاف ہوتا ہے بلکہ ہر مریض کی مکمل ٹریکنگ بھی کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس یہاں ڈیٹا کی عدم دستیابی، شفافیت کی کمی اور احتساب کا فقدان اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
تونسہ شریف کا سانحہ اب ایک کیس اسٹڈی بن چکا ہےایسی مثال جو یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک مقامی غفلت ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی کہانی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں مل کر ایک بڑے المیے کو جنم دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی وڈیو میں ایک سرنج بار بار لگانے والے کون ہیں؟ اور بتایا گیا ہے کہ یہ وڈیو 30 گھنٹے کی ریکارڈنگ ہے کیا ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعلی افسران نے یہ زحمت کی کہ دیکھا جائے یہ کیمرے کہاں لگائے گئے تھے اور سرکاری ہسپتال میں کس وقت لگائے گئے ؟ یہ تحقیقات اگر مکمل کی جاچکی ہیں تو ان کو بھی بے نقاب کرنا ناگزیر ہوچکا ہے ۔
ہماری کوشش ہے کہ اعداد و شمار، زمینی حقائق، متاثرہ خاندانوں کے بیانات، سرکاری مؤقف اور پالیسی کے خلا کو ایک ساتھ جوڑ کر ایک مکمل تصویر پیش کی جائے۔ لیکن اس تصویر میں سب سے نمایاں چیز خاموشی ہے ایک ایسی خاموشی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے مگر اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہے کہ
متاثرین کی اصل تعداد کیا ہے؟
کتنے مریض نظام سے باہر ہیں؟
مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟
اور ایک سال گزرنے کے باوجود جواب کیوں نہیں مل رہا؟
اگر ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو تونسہ کا سانحہ محض ایک واقعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل مثال بن جائے گا۔ ایک ایسی مثال جو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ جب نظام خاموش ہو جائے تو بحران خود بولنا شروع کر دیتا ہے۔

















