اسلام آباد (9 مئی 2026): نیشنل ڈیٹابیس رجسٹرشن اتھارٹی (نادرا) نے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط سہولت متعارف کروائی ہے جو اس سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔
نادرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں بالغ آبادی کی رجسٹریشن کا عمل تقریباً 98.3 فیصد مکمل ہو چکا ہے، تاہم اب بھی 1.7 فیصد کا معمولی فرق موجود ہے۔ یہ کمی خواتین میں زیادہ نمایاں ہے اور ان اضلاع میں بھی دیکھی گئی ہے جہاں سول دستاویزات کا نظام کمزور ہے، زیادہ تر کیسز میں مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی عدم دستیابی پہلی بار رجسٹریشن میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نادرا نے اپنی سالانہ رپورٹ 2025 کی تیاری کے دوران ادارہ شماریات، الیکشن کمیشن، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے گزشتہ دس سالہ ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا، اس مشق کا مقصد رجسٹریشن میں کمی کی وجوہات کا سراغ لگانا، آبادیاتی رجحانات اور صنفی فرق کا جائزہ لینا اور اصلاحی اقدامات تجویز کرنا تھا، ان نتائج کی روشنی میں وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی کی ہدایت پر ایک قانونی اور منظم سہولیاتی طریقہ کار وضع کیا گیا جسے نادرا اتھارٹی بورڈ نے منظور کر لیا ہے۔
’نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کروانے والوں کے لیے 31 دسمبر 2026 تک ایک عارضی سہولت متعارف کروائی ہے۔ اس فریم ورک کے تحت پیدائشی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی سخت تصدیقی شرائط کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) جاری کیے جا سکیں گے۔ یہ سہولت نادرا آرڈیننس 2000 اور نادرا رولز 2002 کے تحت دی گئی ہے جو مخصوص زمروں میں متبادل تصدیقی نظام کی اجازت دیتے ہیں۔‘
خواتین کیلیے شرائط
نادرا نے مزید بتایا کہ اس طریقہ کار کے تحت کارڈ کا اجراء صرف اسی صورت میں ہوگا جب نادرا کے موجودہ ریکارڈ اور خاندان کے پہلے سے رجسٹرڈ قریبی افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے شناخت ثابت ہو جائے، 18 سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کارڈ، شوہر کا کارڈ اور شوہر یا والدین میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی، غیر شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر سے متعلق شرائط لاگو نہیں ہوں گی، تاہم والدین کا کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق ضروری ہوگی۔
مردوں کیلیے شرائط
بیان کے مطابق 24 سال سے زائد عمر کے مرد درخواست دہندگان کے لیے شرط ہے کہ ان کے والدین اور کم از کم ایک بہن یا بھائی کے پاس نادرا کا شناختی کارڈ موجود ہو، جبکہ والد یا والدہ میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے، ایسے کیسز جہاں والدین یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو، وہاں مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر بائیومیٹرک تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔
’عوام کی سہولت کے لیے نارمل کیٹیگری کے تحت اپلائی کیے گئے ٹیسلن (غیر اسمارٹ) شناختی کارڈز اس فریم ورک کے تحت بلا معاوضہ جاری کیے جائیں گے۔ نادرا نے واضح کیا ہے کہ ایک بار سسٹم میں درج ہونے کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور مقامِ پیدائش ناقابلِ تبدیلی ہوں گے، لہٰذا شہری رجسٹریشن کے وقت معلومات کی درستگی کو یقینی بنائیں۔ اہل افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس محدود مدت کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے قریبی نادرا سینٹر سے رجوع کریں۔‘