تازہ تر ین

ٹی وائٹنر، خشک دودھ منہ کے کینسر اور جگر فیل ہونیکا باعث, دیکھئے اہم خبر

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ملک بھر مےں ڈبوںکے خالص دودھ کے نام پر ٹی وائٹنر کی فروخت کرکے عوام کی زندگےوں سے کھےلاجانے لگا ہے جبکہ پنجاب فورڈ اتھارٹی نے مئی تک ان تمام ٹی وائٹنر بنانے والے کمپنےوں کو وارننگ جاری کردی ہے۔ مصنوعی یا جعلی دودھ کا استعمال سے معدے اور منہ کا کینسر ، ہاضمے کے نظام کی تباہی، جگر کا فیل ہونا، بچوں کی نشونما کا رکنااور ایسے کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی وائٹنر مائع اور دانے دار دونوں شکلوں میں پایا جاتا ہے جو چائے ، کافی اور دیگر مشروبات کے لیے دودھ یا کریم کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جسم میں الیکٹوز(Electos)نہیں پایا جاتااس لیے اس کی تیاری میں مصنوعی طور پر چینی شامل کی جاتی ہے۔ اس میں کیزین(ایک قسم کی پروٹین)کی مقدار پائی جاتی ہے۔ اگر ہم تاریخ کو دیکھیں تو 1945ءمیں پہلی دفعہ سویابین سے ٹی وائٹنر بنا گیا تھا۔ اس کے بعد کمرشل بنیادودں پر کافی کریمر کے نام سے متعارف کرایا گیا۔اسی طرح 1992ءمیں Dehydratedکریم اور چینی سے چائے کو سفید کرنے والا سفوف تیار کیا گیا۔تاہم ٹی وائٹنر دنیا بھردودھ سے الگ مخصوص لائحہ عمل کے تحت فروخت کیا جاتا ہے۔ ٹی وائٹنر نباتاتی چکنائی(palm oil)اور سکمڈ ملک میں چینی ڈال کر ان سب کو یکچا کرنے والا Stablizerڈال کر بنایا جاتا ہے۔اس کی تےاری45 ڈگری سینٹی گریڈ سے 50ڈگری سینٹی گریڈ پر پانی کوگرم کر کے اس میں سکمڈ ملک پاﺅڈر شامل کیا جاتا ہے۔15سے 20منٹ تک ہائیڈریٹ کرنے کے بعد پگھلنے سے پہلے والی چکنائی اس میں شامل کی جاتی ہے۔pHیعنی ہائیڈروجن لیول 6.80بمعہ phosphate/Sodium Sytrateتک رکھا جاتا ہے۔پھر پاسچرائزیشن لائن تک منتقل کیا جاتا ہے۔ 180/30بار کو 65سے 70ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوموجینائز کر کے یکجا کیا جاتا ہے اور 15سیکنڈتک 72ڈگری سینٹی گریڈ تک پاسچرائزکیا جاتا ہے۔5ڈگری سینٹی گریڈ پر ٹھنڈا کیا جاتااور 3 گھنٹے تک اس آمیزے کو رکھاجاتا ہے ۔UHTکے عمل کو 4سیکنڈ تک 142ڈگری سینٹی گریڈ پر جاری رکھا جاتا ہے۔ 180/30بار پریشر پر 70ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوموجینائز ڈاﺅن سٹریم کیا جاتا ہے اور 20سے25ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کر کے پیک کر دیا جاتا ہے۔اس عمل سے صاف ظاہر ہے کہ ٹی وائٹنر دودھ یا اس کا متبادل بلکل نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق دودھ اور ٹی وائٹنر مےں فرق اس طرح ہے کہ خالص دودھ میں لیکٹوز، دودھ کو میٹھا کرنے والی قدرتی چینی پائی جاتی ہے جبکہ ٹی وائٹنر میں قدرتی چینی نہیں پائی جاتی اور غذائیت بھی خالص دودھ کی نسبت انتہائی کم پائی جاتی ہے۔ اس لئے دنیا بھر میں ٹی وائٹنر کو دودھ یا اس کا متبادل تصور نہیں کیا جاتا اوراس حوالے سے ڈبوں پر واضح ہدایات درج ہوتی ہیں۔ ٹی وائٹنرکے صحت پر اثرات ہےں کہخشک دودھ سے چائے بنانے والے محلول میں آکسیڈائزڈ کولیسٹرول ( ایسا کولیسٹرول جو کولیسٹرول کی سب سے خطرنا ک قسم سمجھی جاتی ہے، شامل ہوتا ہے جوکہ خون کی نالیوں میں خون کی روانی میں خلل ڈالتا ہے ،یہ خلل دل کی بیماریوں کے آغاز کا باعث بنتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک مسلسل رد عمل کی وجہ بھی بنتا ہے ۔ ٹی وائٹنر کا مسلسل استعمال کینسر کا باعث بھی بنتا ہے۔ٹی وائٹنر کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین انتہائی واضح اور بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ تا ہم مارکیٹ میں ٹی وائٹنر کا کاروبار کرنے والے قوانین کے بر عکس ٹی وائٹنر کو دودھ کا متبادل بنا کر بیچ رہے ہیں۔ مبہم اشتہارات، غیر واضح لیبلنگ اورشعور و آگاہی کی کمی کی وجہ سے لوگ ٹی وائٹنر کو دودھ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مائیں بچوں کو ٹی وائٹنر دودھ سمجھ کر پلاتی ہیں جس سے شدید قسم کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں% 60آبادی ناقص خوراک کی وجہ مسائل کا شکار ہے جبکہ 44% بچوں کی نشونما ناقص خوراک اور دودھ کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ ان تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے PFA Act 2011 کے سیکشن 2(b) کے تحت لازم کیا ہے کہ تمام ٹی وائٹنر اور اس سے کے استعمال سے مختلف اشیاء خوردونوش بنانے والی کمپنیاں درج ذیل ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہوں گی۔ ٹی وائٹنر بنانے والی تمام کمپنیز اپنی مصنوعات کے لیبل(Label) کے 15 % حصے پراردو اور انگریزی میں یہ واضح تحریر کریں کہ ” یہ پراڈکٹ نباتاتی چکنائی سے بنائی گئی ہے اور دودھ یا دودھ کا متبادل نہیں ہے©©©©©” فروزن ڈیزرٹ(Frozen Dessert) تیار کرنے والی تمام کمپنیز اپنی مصنوعات کے لیبل(Label) کے 15 % حصے پراردو اور انگریزی میں یہ واضح تحریرکریں کہ ” یہ پراڈکٹ نباتاتی چکنائی سے بنائی گئی ہے اور آئس کریم نہیں ہے”۔ مارجرین(Margarine) تیار کرنے والی تمام کمپنی اپنی مصنوعات کے لیبل(Label) کے 15 % حصے پراردو اور انگریزی میں یہ واضح کریں کہ ” یہ پراڈکٹ ©نباتاتی چکنائی سے بنائی گئی ہے اور مکھن یا مکھن کا متبادل نہیں ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved