Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کوئی ملک فیس وصول نہ کرے:ٹرمپ
    • ایشین انڈر 18 والی بال: پاکستان نے تھائی لینڈ کو ہرا کر مسلسل فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا
    • پاکستان کا تاریخی اقدام، 4.7 کھرب روپے کا قرض وقت سے پہلے ادا
    • بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کا حساس ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف
    • ہرمز بحران کے پیشِ نظر پٹرول قیمتوں کا نیا نظام زیرِ غور
    • پاکستان نے مون سون نگرانی کے لیے چین کا اے آئی موسمیاتی نظام اپنا لیا
    • جاپان میں پالتو جانوروں کی تعداد انسانوں سے بڑھ گئی، شرح پیدائش کا بحران سنگین
    • مردوں کا کرکٹ ورلڈ کپ 2027: کم رینک ٹیموں کے لیے اضافی مرحلہ شامل
    • پنجاب میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی
    • "حکومت تیل کی قیمتوں پر قابو نہیں پا سکتی، عوام سے ایندھن کا استعمال کم کرنے کی اپیل”
    • محکمہ موسمیات کی گلگت بلتستان میں معمول کے مطابق بارشوں کی پیشگوئی
    • ’ڈیڈی‘ کیس: برطانیہ کی پاکستان کو ویزا پابندیوں کی دھمکی
    • عائزہ خان کا 90s کِڈز کے لیے پیغام ہم نے ChatGPT کے بغیر ڈگریاں مکمل کیں
    • ناروے نے فیفا ورلڈ کپ کی آمدنی غزہ کے انسانی امدادی کاموں کے لیے عطیہ کر دی
    • اسپین کے ابھرتے ہوئے فٹبال اسٹار لامین یا مال کا کہنا ہے :الحمد للہ، میں مسلمان ہوں“
    • یورپی یونین نے قطر کو بھی فضائی حفاظتی انتباہی فہرست میں شامل کر دیا
    • امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ دوبارہ شروع کر دیا
    • امریکہ-ایران تنازع بڑھ گیا، تیل کی قیمت 90 ڈالر کے قریب پہنچ گئی
    • پاکستان میں سونا سستا، قیمت 4.2 لاکھ روپے کی سطح پر آ گئی
    • لاہور کے سوزو واٹر پارک میں 9 سالہ بچی جاں بحق
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    بھارتی فلموں پر پابندی ، فوری فیصلہ کیا جائے

    By Daily Khabrainاکتوبر 6, 2016
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(اشفاق حسین،تصاویرعمرفاروق)پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کےلئے نیفڈیک کو بحال کیا جائے یا اسی طرزکا ایک اور ادارہ بنایا جائے کیونکہ حکومتی سرپرستی کے بغیر فلم انڈسٹری کی بحالی ناممکن ہے۔ مقامی فلموں کی بہتری کےلئے بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی جائے جبکہ بھارتی فلموں پر پابندی کےلئے عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے، تقسیم کار بھارت کی بجائے چین،ترکی اور ایران کی فلمیں درآمد کریں،حکومت اچھے اور پروفیشنل پروڈیوسرزکو فلم بنانے کےلئے بلاسود قرضے جاری کرے،پاکستان میں بھارتی فلمیں غیرقانونی طریقے سے ریلیز کی جارہی ہیں جس سے مقامی انڈسٹری کا شدید نقصان ہورہا ہے۔پاکستان کے اہم ادارے جعل سازی کے ذریعے بھارتی فلمیں ملک میں لارہے ہیں،حکومت کلچرل پالیسی کا فوری اعلان کرے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان فلم انڈسٹری کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینئرافراد نے”خبریں فورم“میں کیا جن میں ڈائریکٹر سیدنور، پروڈیوسرچوہدری اعجازکامران،سہیل بٹ،عرفان کھوسٹ،ناصر ادیب،عامر نواز،ڈاکٹرعطاءاللہ عالی اور سہیل خان شامل ہیں۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سید نور نے کہاکہ مفاد پرست افراد کے ذریعے چوردروازے سے آنے والی بھارتی فلموں نے ہماری انڈسٹری میں تباہی کی بنیاد رکھی،ان فلموں کے خلاف ہم نے اسی وقت شورمچانا شروع کیا لیکن ہماری کسی نے نہ سنی اور آج صورت حال یہ ہے کہ سینماگھروں میں صرف بھارتی فلمیں چھائی ہوئی ہیں جبکہ پاکستانی فلموں کو مناسب ٹائم ہی نہیں دیا جاتا۔حکومت نیفڈیک بحال کرے یا اس کا متبادل کوئی ادارہ بنائے کیونکہ اس طرح کا ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فلمی معاملات کےلئے کہاں اور کس سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ماضی میں اس مقصد کےلئے حکومت نے نیفڈیک بنایا تھا جسے تباہ کردیا گیا اور میں سمجھتا ہوںکہ جن لوگوں نے اس اہم ادارے کو تباہ کیا ہے وہ مجرم ہیں۔سید نور نے کہا کہ اس مقصد کے لئے اگر حکومت نیا ادارہ نہیں بناسکتی تو جو ثقافتی ادارے ملک میں کام کررہے ہیں ان کی معاونت بھی حاصل کی جاسکتی ہے ،جب ہمارے پاس ہماری نمائندگی کرنے والا ایک ادارہ ہوگا تو ہم دنیا میں کسی بھی جگہ اپنی فلم لے جاسکتے ہیں اور اس سے متعلق تمام مسائل بھی حل کرسکتے ہیں۔سید نور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے تقسیم کاروں کو چاہیے کہ وہ ایرانی،ترکی اور چین کی فلمیں بھی درآمد کریں تاکہ انہیں اس بات کی شکایت بھی نہ ہو کہ ہمارے پاس فلمیں کم ہیں اور اسی لئے ہم بھارتی فلمیں دکھاتے ہیں۔رائٹروڈائریکٹر ناصرادیب نے کہا کہ ماضی کی تمام حکوتوں نے انڈسٹری کومکمل طور پرنظرانداز کیا ، ماضی کے اکثرلوگوں نے دعوے ضرورکئے لیکن انڈسٹری کے لئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا،کاغذوں اور تقریروں میں سب کچھ ہوتا رہا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا لیکن اب جو بھی عملی طورپر ہونا چاہیے،حکومت کو چاہیے کہ وہ فلم انڈسڑی کے ٹیلنٹ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے تمام مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے کیونکہ آج اس انڈسٹری کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں کلچر منسٹر ہی نہیں ہے تو ہماری بات کون سنے گا۔ناصر ادیب نے مزید کہا کہ بھارتی فلموں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے ہمیں سیکولرازم کی طرف لے جایا جارہا ہے۔اداکارعرفان کھوسٹ نے کہا کہ نیفڈیک کو بھی فلم کے لوگوں نے تباہ کیا تھا کیونکہ اس میں ایسے لوگوں کو بٹھادیا گیا تھا جن کا فلم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔آج کے دور میں ایک ایسے اچھے ادارے کی ضرورت تو ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ اگر کوئی ادارہ بن جائے تو اس کا حال بھی ماضی کی طرح ہو۔عرفان کھوسٹ نے کہا کہ حکومت اچھے ریکارڈ کے حامل پروڈیوسرزکو فلم بنانے کے لئے بلاسود قرضے فراہم کرے اور اس کے لئے پروڈیوسرز کی سکروٹنی ہونی چاہیئے تاکہ قرض انہی لوگوں کو ملے جن کے کریڈٹ پر ماضی میںاچھا کام ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری کے لوگوں کو اپنی سوچ بھی بدلنے کی ضرورت ہے،جن لوگوں نے ماضی میں فلموں سے پیسہ کمایا وہ دوڑ گئے کیونکہ جب سے فنانسر پروڈویوسر بن گیا انڈسٹری میں تباہی شروع ہوگئی۔پروڈیوسر چوہدری اعجازکامران نے کہا کہ جب پاکستان میں بھارتی فلموں کی ریلیز شروع ہوئی اسی دن سے سینما مالکان کے مزاج بھی تبدیل ہوگئے،ماضی میں پروڈیوسر اور سینما مالکان کے درمیان تحریری معاہدہ ہوتا تھا کہ اگر فلم اتنا کمائے گی تو اس کا کتنا حصہ کس کو ملے گا لیکن آج کے دورمیں کوئی سینما تحریری معاہدہ نہیں کرتا جبکہ سینما مالکان کی اکثریت صرف بھارتی فلموں کو ترجیح دیتی ہے اور پاکستانی فلموں کو نظراندازکرتی ہے،پاکستانی فلموں کو شوبھی کم دیئے جاتے ہیں۔پروڈیوسر سہیل بٹ نے کہا کہ اگر ہمارے ملک کے حالات بہتر ہوتے تو آج انڈسٹری کے حالات بھی مختلف ہوتے لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضروت نہیں ہے کیونکہ فلم انڈسٹری کی بحالی اور ترویج کےلئے ایک ادارہ بن چکا ہے جس کا اعلان حکومت بہت جلد کرنے والی ہے۔سہیل بٹ نے مزید کہا کہ شائقین ہمیشہ معیاری فلموں کو پسند کرتے ہیں لہٰذہ پروڈیوسرزکو اب اچھی فلمیں بنانا ہوں گی جبکہ اس کےساتھ ساتھ سینما مالکان کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی انڈسڑی کی بقا کےلئے پاکستانی فلموں کو ترجیح دیں۔رائٹروڈائریکٹر ڈاکٹرعطاءاللہ عالی نے کہا کہ ہماری فلمیں ابھی تک سینما گھروں کی رونقیں واپس نہیں لاسکیں جس کی وجہ سے انڈین فلمیں ریلیز کی جاتی ہیں ،اگر انکی فلمیں یہاں ریلیز ہوسکتی ہیں تو پھر ہماری فلمیں بھی وہاںریلیز ہونی چاہیے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      عائزہ خان کا 90s کِڈز کے لیے پیغام ہم نے ChatGPT کے بغیر ڈگریاں مکمل کیں

      ’جراسک پارک‘ کے نامور اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

      "وہ ایک مسخرا ہے…” انوپم کھیر سے متعلق نصیر الدین شاہ کا پرانا بیان سوشل میڈیا پر دوبارہ ہائی لائٹ

      تازہ ترین

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.