تازہ تر ین

بھارتی فلموں پر پابندی ، فوری فیصلہ کیا جائے

لاہور(اشفاق حسین،تصاویرعمرفاروق)پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کےلئے نیفڈیک کو بحال کیا جائے یا اسی طرزکا ایک اور ادارہ بنایا جائے کیونکہ حکومتی سرپرستی کے بغیر فلم انڈسٹری کی بحالی ناممکن ہے۔ مقامی فلموں کی بہتری کےلئے بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی جائے جبکہ بھارتی فلموں پر پابندی کےلئے عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے، تقسیم کار بھارت کی بجائے چین،ترکی اور ایران کی فلمیں درآمد کریں،حکومت اچھے اور پروفیشنل پروڈیوسرزکو فلم بنانے کےلئے بلاسود قرضے جاری کرے،پاکستان میں بھارتی فلمیں غیرقانونی طریقے سے ریلیز کی جارہی ہیں جس سے مقامی انڈسٹری کا شدید نقصان ہورہا ہے۔پاکستان کے اہم ادارے جعل سازی کے ذریعے بھارتی فلمیں ملک میں لارہے ہیں،حکومت کلچرل پالیسی کا فوری اعلان کرے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان فلم انڈسٹری کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینئرافراد نے”خبریں فورم“میں کیا جن میں ڈائریکٹر سیدنور، پروڈیوسرچوہدری اعجازکامران،سہیل بٹ،عرفان کھوسٹ،ناصر ادیب،عامر نواز،ڈاکٹرعطاءاللہ عالی اور سہیل خان شامل ہیں۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سید نور نے کہاکہ مفاد پرست افراد کے ذریعے چوردروازے سے آنے والی بھارتی فلموں نے ہماری انڈسٹری میں تباہی کی بنیاد رکھی،ان فلموں کے خلاف ہم نے اسی وقت شورمچانا شروع کیا لیکن ہماری کسی نے نہ سنی اور آج صورت حال یہ ہے کہ سینماگھروں میں صرف بھارتی فلمیں چھائی ہوئی ہیں جبکہ پاکستانی فلموں کو مناسب ٹائم ہی نہیں دیا جاتا۔حکومت نیفڈیک بحال کرے یا اس کا متبادل کوئی ادارہ بنائے کیونکہ اس طرح کا ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فلمی معاملات کےلئے کہاں اور کس سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ماضی میں اس مقصد کےلئے حکومت نے نیفڈیک بنایا تھا جسے تباہ کردیا گیا اور میں سمجھتا ہوںکہ جن لوگوں نے اس اہم ادارے کو تباہ کیا ہے وہ مجرم ہیں۔سید نور نے کہا کہ اس مقصد کے لئے اگر حکومت نیا ادارہ نہیں بناسکتی تو جو ثقافتی ادارے ملک میں کام کررہے ہیں ان کی معاونت بھی حاصل کی جاسکتی ہے ،جب ہمارے پاس ہماری نمائندگی کرنے والا ایک ادارہ ہوگا تو ہم دنیا میں کسی بھی جگہ اپنی فلم لے جاسکتے ہیں اور اس سے متعلق تمام مسائل بھی حل کرسکتے ہیں۔سید نور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے تقسیم کاروں کو چاہیے کہ وہ ایرانی،ترکی اور چین کی فلمیں بھی درآمد کریں تاکہ انہیں اس بات کی شکایت بھی نہ ہو کہ ہمارے پاس فلمیں کم ہیں اور اسی لئے ہم بھارتی فلمیں دکھاتے ہیں۔رائٹروڈائریکٹر ناصرادیب نے کہا کہ ماضی کی تمام حکوتوں نے انڈسٹری کومکمل طور پرنظرانداز کیا ، ماضی کے اکثرلوگوں نے دعوے ضرورکئے لیکن انڈسٹری کے لئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا،کاغذوں اور تقریروں میں سب کچھ ہوتا رہا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا لیکن اب جو بھی عملی طورپر ہونا چاہیے،حکومت کو چاہیے کہ وہ فلم انڈسڑی کے ٹیلنٹ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے تمام مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے کیونکہ آج اس انڈسٹری کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں کلچر منسٹر ہی نہیں ہے تو ہماری بات کون سنے گا۔ناصر ادیب نے مزید کہا کہ بھارتی فلموں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے ہمیں سیکولرازم کی طرف لے جایا جارہا ہے۔اداکارعرفان کھوسٹ نے کہا کہ نیفڈیک کو بھی فلم کے لوگوں نے تباہ کیا تھا کیونکہ اس میں ایسے لوگوں کو بٹھادیا گیا تھا جن کا فلم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔آج کے دور میں ایک ایسے اچھے ادارے کی ضرورت تو ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ اگر کوئی ادارہ بن جائے تو اس کا حال بھی ماضی کی طرح ہو۔عرفان کھوسٹ نے کہا کہ حکومت اچھے ریکارڈ کے حامل پروڈیوسرزکو فلم بنانے کے لئے بلاسود قرضے فراہم کرے اور اس کے لئے پروڈیوسرز کی سکروٹنی ہونی چاہیئے تاکہ قرض انہی لوگوں کو ملے جن کے کریڈٹ پر ماضی میںاچھا کام ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری کے لوگوں کو اپنی سوچ بھی بدلنے کی ضرورت ہے،جن لوگوں نے ماضی میں فلموں سے پیسہ کمایا وہ دوڑ گئے کیونکہ جب سے فنانسر پروڈویوسر بن گیا انڈسٹری میں تباہی شروع ہوگئی۔پروڈیوسر چوہدری اعجازکامران نے کہا کہ جب پاکستان میں بھارتی فلموں کی ریلیز شروع ہوئی اسی دن سے سینما مالکان کے مزاج بھی تبدیل ہوگئے،ماضی میں پروڈیوسر اور سینما مالکان کے درمیان تحریری معاہدہ ہوتا تھا کہ اگر فلم اتنا کمائے گی تو اس کا کتنا حصہ کس کو ملے گا لیکن آج کے دورمیں کوئی سینما تحریری معاہدہ نہیں کرتا جبکہ سینما مالکان کی اکثریت صرف بھارتی فلموں کو ترجیح دیتی ہے اور پاکستانی فلموں کو نظراندازکرتی ہے،پاکستانی فلموں کو شوبھی کم دیئے جاتے ہیں۔پروڈیوسر سہیل بٹ نے کہا کہ اگر ہمارے ملک کے حالات بہتر ہوتے تو آج انڈسٹری کے حالات بھی مختلف ہوتے لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضروت نہیں ہے کیونکہ فلم انڈسٹری کی بحالی اور ترویج کےلئے ایک ادارہ بن چکا ہے جس کا اعلان حکومت بہت جلد کرنے والی ہے۔سہیل بٹ نے مزید کہا کہ شائقین ہمیشہ معیاری فلموں کو پسند کرتے ہیں لہٰذہ پروڈیوسرزکو اب اچھی فلمیں بنانا ہوں گی جبکہ اس کےساتھ ساتھ سینما مالکان کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی انڈسڑی کی بقا کےلئے پاکستانی فلموں کو ترجیح دیں۔رائٹروڈائریکٹر ڈاکٹرعطاءاللہ عالی نے کہا کہ ہماری فلمیں ابھی تک سینما گھروں کی رونقیں واپس نہیں لاسکیں جس کی وجہ سے انڈین فلمیں ریلیز کی جاتی ہیں ،اگر انکی فلمیں یہاں ریلیز ہوسکتی ہیں تو پھر ہماری فلمیں بھی وہاںریلیز ہونی چاہیے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain