تازہ تر ین

جمہوریت کیخلاف خوفناک سازش …. ایک ہی دن میں ایسا کام ہو گیا جس کی امید نہ تھی

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کے ایوان میں ارکان دست و گریبان ہو گئے۔ پاناما کا ہنگامہ عدالت سے پارلیمنٹ ہاو¿س پہنچا تو ہنگامہ آرائی بھی ہوئی اور لڑائی مار کٹائی بھی۔ تحریک انصاف اور حکومتی ارکان گتھم گتھا ہو گئے۔ شاہ محمود قریشینے تقریر کے دوران چور چور نعرے لگوائے تو پھڈا پڑ گیا۔ پی ٹی آئی والوں نے آوازیں لگائی توحکومتی بنچوں سے بھی ویسے ہی جواب آئے۔ خواجہ آصف کی تقریر کے دوران بھی شور شرابا جاری رہا تو شاہد خاقان عباسی شاہ محمود قریشی کے پاس پہنچ گئے۔ مراد سعید اور امجد علی خان ان سے الجھ پڑے۔ ایوان مچھلی بازار بنا تو بات باتوں سے نکل کر ہاتھوں تک پہنچ گئی پھر مکے بھی چلے اور گھونسے بھی۔ ن لیگ اور پی ٹی آئی مدمقابل آئیں تو جمشید دستی اور امجد نیازی جلتی پر تیل ڈالتے رہے۔ شہر یار آفریدی بچ بچاو¿ کراتے ہوئے پٹ گئے۔ مراد سعید نے مکے برسائے۔ دوسرے ارکان نے بھی ہاتھ خوب گرمائے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ارکان کو چھڑانے کی کوشش کی۔ سپیکر کو کارروائی پندرہ منٹ کیلئے ملتوی بھی کرنا پڑی۔ ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔اس کے بعد اسمبلی کے اندر اپوزیشن کے ارکان نے احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ قومی اسمبلی میں ہنگامہ اس وقت بڑھا جب اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکان نے اسپیکر سے وزیراعظم کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرانے کی اجازت مانگی۔ اسمبلی میں شاہ محمود قریشی خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران مبینہ طور پ رپی ٹی آئی کے دیگر ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اپنی نشست سے اٹھ کر شاہ محمود قریشی کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی پارٹی کے ارکان کو قابو میں رکھیں۔جب پی ٹی آئی کے بینچز سے نعرے بازی کا سلسلہ نہ رکا تو شاہد خاقان عباسی دوبارہ شاہ محمود قریشی کے پاس گئے تاہم وہ ان سے بات نہ کرسکے کیونکہ پی ٹی آئی کے ارکان بیچ میں آگئے۔تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کا دعویٰ ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے پارٹی چیف عمران خان کے خلاف نازیبا جملے استعمال کیے جس پر معاملہ بگڑا۔ ارکان قابو سے باہر ہوئے تو اسپیکر نے سکیورٹی گارڈز کو بلایا جبکہ ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے پر مکے بھی برسائے۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے ارکان کو پرامن رہنے کی اپیل کی تاہم نہ ماننے پر اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی 15 منٹ کے لیے معطل کر دی گئی۔بعدازاں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آوٹ کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں ہونے والی ہاتھا پائی کے بعد شاہد خاقان عباسی کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا اعلان کردیا۔قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاناما کے ایشو پر قوم اور پارلیمان کا استحقاق مجروح کیا جا رہا ہے ، حکومتی ارکان کی جانب سے روا رکھے جانے والے سلوک کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد کل تحریک استحقاق پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جواب مانگنے پر کسی حکومتی پارٹی نے اپوزیشن پر حملہ نہیں کیا لیکن پارلیمنٹ میں ہمیں دھکے دیے گئے اور جس طرح ان کے وزیر شاہد خاقان عباسی نے مراد سعید پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور گالم گلوچ کی وہ سب ارکان نے دیکھا۔ آج حکومتی بینچز نے حکومتی رویہ اختیار نہیں کیا ، یہ پنجہ آزمائی نہیں بلکہ سچ اور جھوٹ کی بات ہے، یہ پاکستان کے عوام کے لوٹے ہوئے پیسے کا حساب ہے۔ یہاں نہ موقف پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی مستعفی ہو رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف پارلیمان میں آئیں اور اپنا مو¿قف پیش کریں ، ان کا موقف یہی تھا جو انہوں نے پارلیمنٹ میں آکر بیان کیا لیکن ان کے اپنے ہی وکلا نے عدالت میں اسے سیاسی بیان قرار دے دیا جب اس سے بھی بات نہ بنی تو انہوں نے آرٹیکل 66 کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف پارلیمنٹ میں آکر اپنے بیان پر قائم رہنے کا اعلان کر دیں تو ہمارا اختلاف ختم ہو جائے گا۔ سپیکر قومی اسمبلی سرداز ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں ہونے والی ہاتھا پائی کی تحقیقات کرنے کا اعلان کر دیا۔ اپنے ایک بیان میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ آج کا دن افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ آج ایوان میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ واقعے کی ویڈیو منگوا لی ہے جس کے بعد معاملے کی تحقیق کی جائے گی اور دیکھیں گے کہ کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈرز، حکومت اور اپوزیشن سے مل کر مسئلے کا حل نکالیں گے۔ دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی نے ہنگامہ آرائی ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔ پشاور(خصوصی رپورٹ)خیبر پختونخوا اسمبلی جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کے مابین لڑائی اور گالم گوچ کے باعث ایک مرتبہ پھر میدان جنگ بن گئی، کورم کی نشاندہی کرنے کے معاملہ پر پیپلزپارٹی کے صاحبزادہ ثنا اللہ اور جماعت اسلامی کے محمد علی نے ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے کیلئے میدان میں کود پڑے تاہم سارجنٹ ایٹ آرمز، سکیورٹی اہلکاروں اور دوسرے ارکان اسمبلی نے درمیان میں آکر حملہ کی کوشش ناکام بنادی۔کورم کی نشاندہی پر ثنا اللہ اور محمد علی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، چور چور کے نعرے لگائے گئے، غیر متعلقہ افراد کو باہر نکال دیا گیا، اسمبلی میں موجود پولیس اہلکار بھی ہال پہنچ گئے تاکہ کسی ناخوشگوار صورت حال کو کنٹرول کیاجاسکے، اسی دوران اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی حرکت میں آگئے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کو ہال سے باہر نکال دیا، ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کے باعث ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس جمعہ تک کیلئے ملتوی کردیا،جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی میں نماز کے وقفہ کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو ڈپٹی سپیکر نے تحریک انصاف کے فضل الہی کو تحریک استحقاق پیش کرنے کیلئے کہا تاہم اس دوران پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ثنا اللہ نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر جماعت اسلامی کے محمد علی اچانک مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ثنا اللہ سے کہا کہ وہ اسمبلی اجلاس کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں؟اجلاس کو خراب کرنے کیلئے وہ کورم کی نشاندہی کررہے ہیں جس پر ثنا اللہ نے کہا کہ یہ ان کا حق ہے کہ جب کورم پورا نہ ہوتو وہ اس کی نشاندہی کریں تاہم اس دوران دونوں جانب سے تلخ جملوں کے تبادلے بعد بات گالم گلوچ تک چلی گئی اور ایوان میں چور،چور کی آوازیں گونج اٹھیں جس کے بعد دونوں ارکان ایک دوسرے پر حملہ کرنے کےلئے آگے بڑھے تاہم سارجنٹ ایٹ آرمز اوردیگر ارکان درمیان میں آگئے لاہور(خصوصی رپورٹ)وزیر اعلی شہباز شریف کے خلاف ریفرنس پر بات کی اجازت نہ ملنے پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔حکومتی و اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے کیخلاف چور، چور کے نعرے لگائے۔اسپیکر کی بار بار اراکین کو خاموش کرانے کی کوشش ایوان مچھلی منڈی بن گیا،اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے آکروزیر اعظم اور وزیر اعلی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی ا س کے جواب میں حکومتی ارکان نے بھی عمران خاں کے خلاف نعرے لگائے اوردس منٹ تک ا ایوان شہباز شریف چور اور عمران خان چورکے نعروں سے گونجتا رہا۔سپیکر نے بار بار اراکین کو خاموش کرانے کی کوشش کی مگر کسی رکن کے کان پر جوں تک نہ ر ینگی اور دونوں جانب سے مخالفانہ نعروں سے ایوان مچھلی منڈی بنارہا ۔صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا صحت پر بحث اپو زیشن لیڈر کی مرضی سے رکھی گئی لیکن ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ یہ لوگ اسمبلی میں صرف ہلہ گلہ کرنے آئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ صنعت تجارت‘ سرمایہ کاری اور سپیشل ایجوکیشن کے متعلقہ سوالات کے جواب دیئے گئے۔ صوبائی وزیر چودھری شفیق نے کہا حکومت نابینا افراد کے لئے سپیشل سرکاری نوکریوں کا کوٹہ مقرر کررہی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved