اسلام آباد (صباح نیوز، آئی این پی) سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمہ کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور دہشتگردوں کو کسی صورت سر اٹھا نے نہیں دیں گے، وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں بدھ کو اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی کاونٹر ٹیرر ازم ،وزیرداخلہ چودھری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار،قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجو عہ و دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ لاہور، کوئٹہ، پشاور اور مہمند ایجنسی میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی گئی۔اجلاس میں دہشت گرد حملوں میں شہید افراد کو خراج عقیدت پیش کیاگیا جبکہ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کا عزم بھی کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے نظریات کو کچل دیا جائے گا، دہشت گردوں کو دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی کےخلاف فورسز اور عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں،دہشت گردی کا بیانیہ مسترد ہو چکا ہے، صرف امن، استحکام اور خوشحالی کا بیانیہ ہی چھا چکا ہے،دہشت گردی کے حالیہ واقعات حکومت کی بھرپور کارروائیوں کا ردعمل ہیں،کراچی،فاٹااوربلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی۔اجلاس میں اندرون و بیرون ملک سے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جبکہ اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ریاستی اداروں کی بھرپور کوششوں سے دہشت گرد عناصر کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا عوام اور مسلح افواج نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ دہشتگردی کی سوچ ناکام، امن و خوشحالی کی سوچ پروان چڑھی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کراچی، فاٹا، بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی۔اجلاس میں شرکا کا کہنا تھا ملکی سیکورٹی اور امن کیلئے خطرہ بننے والوں کو ریاستی عملداری سے کچل دیا جائیگا۔ فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے آپریشنز کی کامیابیاں ضائع نہیں ہونے دی جائیں گی،سیاسی و عسکری قیادت نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے حاصل مقاصد کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردوں اور ان کے نظریات کو کچل دیا جائے گا اور کسی بھی قیمت پر دہشت گردوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دینگے۔اعلی سطح کے اجلاس میں جانوں کا نذرانہ دینے والے قومی ہیروز کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں نے کئی بم دھماکے کئے، جن میں خودکش حملے بھی شامل ہیں۔لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے قریب ادویہ ساز کمپنیوں اور ٹریڈرز کے دھرنے کے موقع پر ایک خودکش بم دھماکے میں اعلی پولیس افسران اور اہلکاروں سمیت 13 کے قریب افراد شہید اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی ۔انہوں نے امن وامان کی صورتحال اور ملکی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا،وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ پاکستان نے جماعة الاحرار کی جانب سے افغان سرزمین سے پاکستان میں مسلسل حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین سے دہشتگردوں ، انکی پناہ گاہوں اور منصوبہ سازوں کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے ۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغانستان کے نائب ناظم الامور سید عبد الناصر یوسفی کو وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کی جانب سے دفتر خارجہ طلب کیا گیا ۔ نائب افغان ناظم الامور کو پاکستانی سر زمین پر دہشتگرد تنظیم جماعة الاحرار کے مسلسل حملوں پر پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشتگرد تنظیم افغانستان کے اندر اپنی پناہ گاہوں سے پاکستانی سر زمین پر حملے کر رہی ہے ۔ افغانستان کے نائب ناظم الامور کی توجہ پاکستانی حکام کی جانب سے قبل ازیں افغانستان کے ساتھ شیئر کی جانیوالی قابل کارروائی انٹیلی جنس کی جانب مبذول کروائی گئی اور افغانستان پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی سر زمین سے دہشتگردوں ، انکی پناہ گاہوں، مالی مدد فراہم کرنیوالوں اور منصوبہ سازوں کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے ۔ دہشتگرد حملوں کی تفصیلات پر مبنی مراسلہ بھی نائب افغان ناظم الامور کے حوالے کیا گیا۔





































