راولپنڈی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ ، کراچی ، فیصل آباد ، قصور (نمائندگان خبریں ) نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں جاری ¾ متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ¾زیرحراست افراد میں 9 افغان باشندے بھی شامل ¾ مشتبہ افراد کے قبضے سے اسلحہ برآمد ¾ تفتیش کےلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا ¾ سرگودھا میں 80 سے زائد افراد کے بائیومیٹرک کوائف چیک کئے گئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت پولیس نے پنڈی بھٹیاں میں سرچ آپریشن کے دوران 36 افراد کو حراست میں لیا جن میں 9افغان باشندے شامل ہیں جنہیں شناختی کارڈز کی معیاد ختم ہونے پر گرفتار کر کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، سرچ آپریشن کے دوران ملزمان سے ایک کلو گرام منشیات بھی برآمد کی گئی۔ راولپنڈی میں بھی ڈھوک حسو، گلی لوہاراں، ڈھوک منگٹال میں کومبنگ آپریشن کے دوران 3 افغان باشندوں سمیت 30 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔سرگودھا میں بھی سلانوالی اور جھال چکیاں میں پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران 200سے زائد گھروں کی تلاشی لی گئی اور 80سے زائد افراد کے بائیو میٹرک کوائف چیک کیے گئے جن میں سے 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ پشاور کے علاقوں بڈھ بیر، متنی اور ادیزئی میں بھی سرچ آپریشن کے دوران 95 افراد کو حراست میں لیا گیا، پولیس کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران کلاشنکوف، 4 پستول، رائفل، 3 ریپیٹر اور درجنوں کارتوس برآمد ہوئے۔ ادھر آپریشن ردالفساد کا آغاز ہوتے ہی راولپنڈی میں بھی سرچ آپریشن شروع کردیا گیا سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 5 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ۔ آپریشن میں پاک فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد شریک تھی جس نے ویسٹریج ، ڈھوک حسو اور بیکری چوک کے علاقوں میں تلاشی لی ۔ اس دوران 5 مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ۔بلوچستان میں ایف سی اور انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ کارروائی کر کے دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لور ا لائی کے علاقے کلی شاہ کاریز میں ایف سی اور خفیہ اداروں نے کارروائی کر کے 23خود ساختہ بارودی سرنگیں برآمد کرلیں اور انہیں ناکارہ بنا دیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور لورا لائی یونیورسٹی طلبہ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے ۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سینٹرل جیل کے اطراف کومبنگ آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 30 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ کراچی پولیس کی جانب سے سینٹرل جیل کے اطراف غوثیہ کالونی میں کومبنگ آپریشن کیا گیا جس میں 6 تھانوں کے 200 اہلکاروں نے حصہ لیا۔یف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے سہراب گوٹھ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقیم 11افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افغان باشندے بغیر سفری دستاویزات کے پاکستان میں داخل ہوئے ۔گرفتار ہونے والوں میں حبیب اللہ ،نعمت اللہ ،نجیب اللہ ،نصیر الدین ،عبدالنبی ،عبداللہ ،عبدالبصیر ،امان اللہ ،تازہ گل اور عبدالبصیر شامل ہیں ۔شہر قائد کے علاقے گلشن حدید میں حساس ادارے نے چھاپہ مارتے ہوئے ایک سکول ٹیچر سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گلشن حدید میں ادارے نے چھاپہ مارا اور 3 افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق حراست میں لئے گئے افراد میں سے ایک سکول ٹیچر ہے اور تینوں افراد شہر میں بڑی دہشتگردی کی پلاننگ کررہے تھے جبکہ حراست میں لئے گئے افراد کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور دیگر حساس سامان برآمد کرلیا گیا ہے۔راولپنڈی شہر میںپاک فوج اور رینجرز نے آپریشن ”رد الفساد“ کا آغاز کرتے ہوئے 11 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقوں،ڈھوک حسو سے 6مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور ڈھوک رتہ ،پیر ودھائی اور کینٹ میں پاک فوج اور رینجرز کے دستوں نے کومبنگ آپریشن میں کیا اور مجموعی طور پر 11مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشن میں پاک فوج،رینجرز اور پولیس نے بھی حصہ لیا اور اس کے دوران پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ڈھوک حسو سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ملک میں بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے واقعات کے بعد حساس اداروں نے جرائم میں ملوث غیرملکی باشندوں کی تفصیلات جمع کرناشروع کردیں ہیں، بھارتی، افغانی، برمی، بنگالی سمیت دیگر کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کے بعد دہشتگردوں اور سہولت کاروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اس ضمن میں حساس ادارے متحرک ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے جرائم میں ملوث غیرملکی باشندوں کی تفصیلات جمع کرناشروع کردی ہیں۔ ایکشن پلان کے تحت ضلع قصورمیں گزشتہ ہفتہ کے دوران 160سرچ آپریشن ہوئے‘300سے زائد مشکوک افرادکو حراست میں لیکر تفتیش کی گئی جبکہ 118افرادکیخلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ ان خیالات کا اظہار ڈی پی اوقصور سیدعلی ناصررضوی نے اپنی گفتگومےں کیا۔ ڈی پی اوقصورنے کہاکہ قصورپولیس شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کانذرانہ پیش کردیگی لیکن کسی شہری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیگی‘مال روڈلاہوربم دھماکے میں شہیدہونیوالے پنجاب پولیس کے سپوتوں نے ہمیں درس دیا کہ اگرپولیس اور عوام اکٹھے ہونگے تو کسی میں جرات نہیں کہ وہ ہمیں جھکا سکے اورشرپسندوں کی ان بزدلانہ کاروائیوں سے ہمارے حوصلے مزیدبلند ہوئے ہیں اورہم مزیدشدت سے دہشتگردوں کوکیفرکردار تک پہنچائینگے۔ رینجرز کے چاک و چوبند دستوں کے فیصل آباد کے پہنچنے گئے ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے رات گئے کئی علاقوں میں آپریشن ،تھانہ غلام محمد آباد کے علاقہ میں سدھو پورہ میںمشکوک افراد کی تلاش کے سلسلہ میں گھر گھر کی تلاشی کے 7مشکوک افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئی، آپریشن بعد بعض سیاستدانوں کے”چہیتے“ اور ”جرائم پیشہ افراد“ کے سر پرست زیر زمین چلے گئے ۔ بعض پکڑے جانے کے ڈر سے ملک فرار گئے ۔ آن لائن کے مطابق پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح فیصل آباد میں بھی رینجرز نے اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لی ہیں اور وہ آج سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کا آغاز کر رہے ہیں اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کئی ”باخبر“ اور سیاستدانوں کے چہیتے زیر زمین چلے گئے ان افراد کے کارو باری مراکز اور گھروں پر تالے پڑ چکے ہیں ‘ اطلاعات کے مطابق ان میں سے بعض نے تو ملک کو وقتی طور پر خیر آباد کہہ دیا ہے لیکن ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سیاستدانوں کے ان چہیتوں کو ”اب“ معافی نہیں ملے گی اور انہیں زمین کی تہہ سے بھی نکال لیا جائے گا ۔





































