Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایلون مسک دنیا کا پہلا کھرب پتی بننے کے قریب
    • موٹر وے حادثہ سابق سینیٹر تاج آفریدی انتقال کر گئے
    •  بجٹ اجلاس:  18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش
    • لاہور: ایکسپائر سیرپ برآمد، فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے سویٹ کریم سیل کر دیا
    • ایک لاکھ بھارتیوں نے جعلی ڈگریوں سے امریکی H-1B ویزا حاصل کیا
    • ماس ٹرانزٹ سسٹم، ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کی سہولت ختم
    • کین ولیمسن نے بین انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
    • سعودی عرب میں حضرت عمرؓ کے نام کی تحریروں والے پتھر دریافت
    • شمالی کوریا میں نبی کریم ﷺ اور قرآن کی توہین پر پابندی کا قانون منظور
    • بھارت ، فرانس کے درمیان دفاعی اور صنعتی تعاون میں مزید پیش رفت کے اشارے
    • ٹرمپ: ایران کے ساتھ معاہدہ منظور، نئے حملے منسوخ
    • لکھنؤ سے دہلی جانے والے انڈیگو کے طیارے میں بم کی افواہ
    • معیشت پر سخت دباؤ ، پھر بھی میدان میں ڈٹا ہوا ہے ایران، کیا ہے راز؟
    • لاہور میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت تیل کے استعمال پر ٹسکنی کورٹ یارڈ سیل کر دیا
    • برطانیہ مٹی سے بجلی پیدا کرنیوالا آلہ تیار
    • امریکی ایران مذاکرات کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملے
    • ہر مز میں امریکی فوج نے ایران کے دوڈرون مار گرائے
    • غربت کا وار: پاکستان، گندم، دودھ اور گوشت کا کم استعمال
    • پینٹاگون میں اچانک وارننگ الارم بج گیا، ملازمین خوفزدہ، جزوی لاک ڈاؤن نافذ
    • پارلیمنٹیرینز کی ترقیاتی اسکیموں کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نبوت کا جھوٹا دعویدار …. اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم نامہ جاری کر دیا

    By Daily Khabrainمارچ 18, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Islamabad-High-Court
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد (کرائم رپورٹر‘بی بی سی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کی کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے نبوت کے جھوٹے دعویدار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کردیا،مارننگ شوز،ٹاک شوز، ٹی وی پروگرامز میں دکھائے جانےوالے مواد سے متعلق جائزہ کمیٹی بنانے اورایڈوکیٹ جنرل کو آئی ایس آئی کے اعلی افسران کو تفتیش کے عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ پہلے زمانے میں خبرنامہ سے پہلے قرآن و حدیث سنائی جاتی تھی آج کل شیلا کی جوانی دکھائی جاتی ہے، سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کے نوجوانوں کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان میں رہ کر ناروے کا آئین چلانے کی کوشش نہ کی جائے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی، عدالت نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے اپنے کام کو سرانجام دینے میں ناکام ہو چکی ہے کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ پر اعتماد چھوڑ کر ہم عسکری اداروں سے مدد لیں،وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں موجود ایک شخص ناصر سلطان نبوت کا دعوی کیا ہے ، اسکا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور اس سے رپورٹ طلب کی جائے، عدالت نے ناصر سلطان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے چیرمین پیمرا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر چینل دیکھ سکتے ہیں، ماضی میں آپ بھی چینل سے وابستہ رہے ہیں، آپ چینلز کا لحاظ کر رہے ہیں، آرٹیکل 19 اگر آپ اپنے پیمرا کے قوانین میں ڈالیں تو چھ سے سات چینلز کا لائسنسز کینسل ہو جائے، چیرمین پیمرا ابصارر عالم نے عدالت کو بتایا کہ میری جو ماضی میں وابستگی رہی اسکا میں جوابدہ میں اللہ کے سامنے ہوں، ہم نے ایک سال دو مہینے میں بہت محنت کی ہے انڈین چینلز بند کیے ہیں، آپ کو نا امید نہیں کریں گے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فحاشی خواہ سعودی عرب سے آئے، ترکی سے آئے یا انڈیا سے آئے ہمیں اسکی ضرورت نہیں،اس کیس میں پیسہ نہیں ہے لیکن حضور پاک کی شان تو ہے، ضروری ہے کیا آپ وہی کیس کریں جس میں کوئی مفاد ہو ، پہلے خبرنامہ شروع ہونے سے پہلے احادیث چلتی تھیں اب شیلا کی جوانی کےاشتہارات چلتے ہیں،مارننگ شوز،ٹاک شوز، ٹی وی پروگرامز میں دکھائے جانےوالے مواد سے متعلق جائزہ کمیٹی بنائی جائے،آئندہ سماعت پر علماءسے بھی مشاورت ہو گی ، اللہ ہمیں وارننگ دے رہا ہے لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہو رہے ، ہم اپنے آخری نبی کی وجہ سے اب تک بچے ہوئے ہیں ،ہم انڈیا اور امریکہ کی پیروی کیوں کریں ، چیرمین پیمرا نے جواب دیا کہ ہم نے پچھلے سال جرائم کے شو پر پابندی لگائی ، ہم جب پابندی لگاتے ہیں تو ہائی کورٹ سے کسی نہ کسی کو حکم امتناعی مل جاتا ہے ، عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ویلنٹائن ڈے کو رکوا سکتے ہیں تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں ، پاکستان میں رہتے ہوئے ناروے کا قانون نہیں چلنے دے سکتے،سماعت کے موقع پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں انہوں نے بتایا کہ متنازعہ پیجز چلانے والے ستر افراد کی نشاندہی کی گئی ہے کئی بیرون ملک مقیم ہے اس معاملے پر واشنگٹن میں ایک افسر کو بھی مقرر کردیا گیا ہے جبکہ انٹرپول کے سائبر ونگ سے بھی رابطہ کیا جاچکا ہیں متنازعہ مواد فیس بک کے زریعے اپ لوڈ ہونے پر فیس بک کی ہائی کمان سے بھی رابطہ کیا ہے اب ان کے حتمی جواب کا انتظار ہیں۔جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈائرآئی اے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہانیاں نہ سنائیں، حساس معاملہ ہے عدالت کو پیش رفت سے آگاہ کریں آپ یہ بتائیں کہ ملزمان کو پکڑنے کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی؟ جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ اس معاملے میں شامل افراد امریکہ ، ناروے اور سوئیڈن میں مقیم ہیں ان کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کے سائبر ونگ سے رابطے میں ہیں جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو ٹریس کرنے کے حوالے سے ایف آئی اے کی کارکردگی متاثر کن نہیں آپ چاہتے ہیں کہ آپ پر اعتماد چھوڑ کر عسکری اداروں سے مدد لیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈائریکٹر ایف آئی اے مظہر الحق کاکاخیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ایک افسر نے عدالت کو گمراہ کیا تھا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی اس لئے نہیں کی گئی کیونکہ ایف آئی اے کے قانون میں توہین رسالت کے خلاف دفعات موجود نہیں ، جس بندے نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی اسے آپ نے تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا ہوا ہے، جس نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اس پر کسی بھی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا ، ایسے شخص کو کسی بھی تحقیقاتی عمل میں شریک نہیں کیا جانا چاہیئے، یہ بہت حساس معاملہ ہے، برائے مہربانی اس کی حساسیت کو سمجھیں، یہ پاکستان ہے اور پاکستان میں پاکستان کا آئین ہی چلے گا ، ناروے، ڈنمارک یا ہالینڈ کا آئین یہاں نہ چلایا جائے، اس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں،ایک فیس بک کے متعلق ہے،فیس بک کے جواب کا ہمیں انتظار ہے، دوسرا یہ کہ ہم نے فیس بک کے جواب کا انتظار کئے بغیر ملزمان کے تعین کے لئے اپنی تحقیقات شروع کردی ہیں، اب تک 75افراد کی نشاندہی ہوئی ہے جو ان گستاخانہ پیجز تک رسائی کرتے تھے،ان کے انٹرویوز کیئے جارہے ہیں،اس کے علاوہ ہمارے اسلام آباد کے ایک وکیل فرخ کریم قریشی ہیں جنہیں ہم نے فیس بک کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے لئے کہا ہے، وہ لندن میں اس حوالے سے مشاورت کررہے ہیں، اس کے علاوہ جو لوگ پاکستان سے باہر جاچکے ہیں ان کے متعلق ہم نے انٹرپول سے رابطہ کرلیا ہے اور انٹرپول سے ہم نے کہا ہے کہ ان افراد کی نقل و حرکت سے ہمیں آگاہ رکھا جائے، واشنگٹن میں اپنے سفارت خانے میں ہم نے ایک افسر تعینات کردیا ہے جو فیس بک سے اس حوالے سے رابطے میں رہے گا۔ فاضل جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر کیا کیا ہے ابھی تک آپ نے؟ڈائریکٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کوئی شواہد نہیں ہیں،جب تک فیس بک ہمیں معلومات نہیں دے گا اس وقت تک ہم کچھ نہیں کرسکتے،کوئی بھی ویب سائٹ پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے، ہمیں صرف فیس بک ہی بتا سکتا ہے۔فاضل جسٹس نے چیئرمین پیمرا کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ٹی وی چینلز پر ہونے والے ٹاک شوز کو بھی ذرہ دیکھئے،جو کچھ ٹاک شوز میں ہورہا ہے وہ ثابت شدہ توہین عدالت ہے،عدالت کو گالیاں دے رہے ہیں ، اگر ہم توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں تو وہ لوگ یہاں سے سیدھے اڈیالہ جیل جائیں گے، مگر چونکہ یہ معاملہ بہت مقدس ہے اس لئے ہم اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں کرنا چاہتے،اس لئے ایسے اینکرز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی عدالت آپ کو یہ کہتی ہے کہ آپ ان کے خلاف کاروائی کریں۔اس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ہمیں آپ نے حکم نہیں دیا اور نہ ہی آپ حکم دے رہے ہیں مگر ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے، اگر کوئی ٹی وی چینل توہین عدالت کا مرتکب ہوا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اس موقع حافظ مظہر جاوید ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایک ناصر سلطان نامی شخص نے نعوذباللہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنا کلمہ بھی بنایا ہے جواسلام آباد میں ہی موجود ہے،اسے پکڑنا کوئی مشکل نہیں، میری درخواست ہے کہ اس کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالنے اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس پرفاضل جسٹس نے ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو حکم دیا کہ ناصر سلطان نامی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالتے ہوئے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ دوران سماعت ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات نے عدالت میں عدالتی حکم پر پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں آئین کے آرٹیکل 19کی تشہیر کے متعلق رپورٹ بھی پیش کی۔بعدازاں فاضل جسٹس نے مذکورہ بالا حکم سناتے ہوئے سماعت 22مارچ تک ملتوی کر دی ۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    موٹر وے حادثہ سابق سینیٹر تاج آفریدی انتقال کر گئے

     بجٹ اجلاس:  18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش

    لاہور: ایکسپائر سیرپ برآمد، فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے سویٹ کریم سیل کر دیا

    تازہ ترین

     بجٹ اجلاس:  18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش

    ماس ٹرانزٹ سسٹم، ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کی سہولت ختم

    بھارت ، فرانس کے درمیان دفاعی اور صنعتی تعاون میں مزید پیش رفت کے اشارے

    لکھنؤ سے دہلی جانے والے انڈیگو کے طیارے میں بم کی افواہ

    معیشت پر سخت دباؤ ، پھر بھی میدان میں ڈٹا ہوا ہے ایران، کیا ہے راز؟

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.