اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہعمران خان جس طرح دوسروں پر الزام لگانے کے لئے روزانہ سپریم کورٹ آتے تھے، آج اپنے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے کے لئے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آئیں، قوم ان کی منتظر ہے۔ عمران خان تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم پر الزام لگانے سپریم کورٹ پہنچ جاتے تھے، آج وہ کہاں ہیں۔ عمران خان نے جھوٹ بولنے میں وقت ضائع کیا اور پورے ملک کی کرپشن کا ٹھیکہ اٹھایا لیکن احتساب کمیشن کے پی کو تالا لگایا، عمران خان نے سپریم کورٹ سے بھاگنے کے لئے دوبارہ سڑکوں کا انتخاب کیا ہے اور چھوٹی چھوٹی جلسیاں کر کے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کو خاموش ہونے کے لئے نہیں بلکہ بولنے کے لئے 10 ارب روپے دینے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ میں بڑے کی سماعت ہوئی۔ عمران خان نے اداروں، لوگوں اور تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم پر الزامات لگائے اور اب جب عمران خان نے سارے سوالوں کے جواب دینے ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے ہائیکورٹ میں جا کر سٹے مانگتے ہیں۔ آج الیکشن کمیشن نے کہا کہ غیرملکی فنڈنگ کے جوابات آپ کو الیکشن کمیشن میں دینا ہوں گے۔ توہین عدالت کی تو آپ کو عادت ہو گئی ہے اور بعد میں آپ خود اور آپ کے وکلاءہر ادارے میں جا کر معافی مانگ لیتے ہیں۔ آج وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی طرف سے بھی عمران خان کو نوٹس مل گیا ہے۔ ان پر آپ نے الزام لگایا مجھے حیرانگی ہوئی آپ کو خاموش ہونے کے لئے 10 ارب روپے کیوں دے گا۔ آپ کو 10 ارب روپے بولنے کے لئے دینے چاہئیں کیونکہ آپ جتنا بولتے ہیں اس سے دوسروں کا فائدہ اور آپ کا نقصان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر میں تاخیر کی جو وجوہات ہیں اور جو کرپشن کا عنصر ہے اس کو دیکھا جا رہا ہے اور وہ تمام چیزیں پکڑی جائیں گی لیکن اس وقت اسلام آباد ایئرپورٹ کی تکمیل وزیراعظم کا مقصد ہے کہ یہ مزید تاخیر کا شکار نہ ہو کیونکہ منصوبہ میں جتنی تاخیر ہوتی ہے اس کی لاگت بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ سے بھاگنے کے لئے دوبارہ سڑکوں کا انتخاب کیا ہے اور چھوٹی چھوٹی جلسیاں کر کے وہ یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسا ممکن نہیں۔ خان صاحب بہانے بنا کر پنجاب میں جا کر پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی دیکھنے جاتے ہیں۔ خان صاحب کو سیالکوٹ جا کر پتہ تو چلا ہو گا کہ لوگوں کی خدمت کیا ہوتی ہے،کام کیا ہوتا ہے۔ کارکردگی کیا ہوتی ہے اور لوگوں سے محبت کیا ہوتی ہے۔ اب نقل مارنے کے لئے پنجاب کے دورے کرنے کا خیبرپختونخوا کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عمران خان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ عمران خان نے جھوٹ بولنے میں وقت ضائع کیا اور پورے ملک کی کرپشن کا ٹھیکہ اٹھایا لیکن احتساب کے پی کو تالا لگایا کیونکہ انہوں نے جب آپ کے بڑے ٹولے کی بڑی کرپشن پکڑنی چاہی تو آپ نے وہاں سے بھی فرار حاصل کی۔ آپ نے الیکشن کمیشن سے فرار حاصل کی۔ اب سپریم کورٹ سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پوری قوم جس کو آپ نے یہاں سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہو کر بار بار پکارا وہ آج عمران خان پر جو سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے جوابات کی منتظر ہے۔ اب جھوٹ بولنے اور بھاگنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ آپ کو تمام کیسز کے جوابات دینا پڑیں گے۔ عمران خان ہر روز اپنے جھوٹ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے چھوٹی چھوٹی جلسیاں کر رہے ہیں۔ کبھی سندھ کے پانی کے ٹھیکیدار بنتے ہیں کبھی پنجاب میں جا کر جھوٹ بولتے ہیں مگر خیبرپختونخوا کی عوام آپ کی منتظر ہے۔ اس کا جواب کون دے گا۔ عمران خان روز تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم پر الزام لگانے سپریم کورٹ پہنچ جاتے تھے۔ آج آپ کہاں ہیں۔ اپنے سوالات کا جواب دینے کیوں سپریم کورٹ نہیں آتے۔ کیوں الیکشن کمیشن نہیں آتے کیونکہ آپ کے پاس سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ میڈیا نے گذشتہ ایک سال 17 دن بہت مثبت کردار ادا کیا۔ اب میڈیا بھی سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کو اسی طرح پیش کرتے جس طرح وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کی رپورٹنگ کی مجھے امید ہے کہ عمران خان کے جتنے کیسز یہاں لگے ہیں۔ میڈیا اس کو اس کی اصل روح اور اندر بیانات اور سوالات ہو رہے ہیں اس طرح پیش کرینگے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بدتمیزی کی سیاست، رویے کی سیاست، اداروں کی تضحیک کرنے کی سیاست، لوگوں پر نعرے لگوانے کی سیاست، عمران خان نے 2013ءسے جو شروع کی آج وہ اس کا سامنا خود کر رہے ہیں۔ ان کے وزرائ، ان کے منتخب نمائندے اپنے حلقوں سے اس لئے دور ہیں کہ ان کا جو لیڈر عمران خان ہے ان کا مقصد عوام کی خدمت ہے نہ پاکستان کی ترقی اور نہ ان کا مقصد پاکستان کے اندر سے کرپشن ختم کرنا ہے۔ اگر یہ ہوتا تو جو وعدے عمران خان اور کے پی تحریک انصاف کے لوگوں نے کئے تھے ایک تھانہ میں وائی فائی لگانے سے پولیس غیرسیاسی اور پولیس کی تربیت نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے وہ تمام نعرے اور چیزیں جو انہوں نے دوسروں کے لئے پچھلے چار سال میں کیں پاکستان کی عوام اب ان سے اس کا بدلہ بھی لے گی۔ اب ان سے اس کا بدلہ بھی لے گی اور اس طرح کے نعروں کا سامنا انہیں خود کرنا پڑے کیونکہ اس چیز کا بھی فیصلہ ہو کہ کس پارٹی اور حکومت نے پاکستان کے لوگوں کی خدمت کی ہے اور کس پارٹی اور کس حکومت نے اپنے اس صوبہ سے جہاں ان کی حکومت تھی۔ وہاں سے پورے چار سال فرار حاصل کئے رکھی بغیر کسی ثبوت کے کسی پر الزام لگانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک طرف وہ سڑکوں پر کھڑے ہو کر خالی کرسیوں سے خطاب کرتے ہیں اور جے آئی ٹی کو متنازعہ بناتے ہیں اور دوسری طرف فواد چوہدری اور ایک اور صاحب سپریم کورٹ آنے کے لئے مل جاتے ہیں، میں عمران خان کو چیلنج کرتی ہوں کہ جس طرح دوسروں پر الزام لگانے کے لئے روزانہ حاضری دیتے تھے آج اپنے سوالوں کا جواب دینے کے لئے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آئیں، قوم ان کی منتظر ہے۔






































