لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی جس کے ارکان کا چناﺅ بھی بنچ نے خود کیا ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل پر بعض جماعتوں اور حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ تنقید کی گئی جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور خود اچھی شہرت کے حامل افسران کا چناﺅ کیا اس لئے اب کسی کو جے آئی ٹی پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ جے آئی ٹی کو متعین سوالات دیئے گئے ہیں کہ ان کے جوابات تحقیق کے ساتھ پیش کریں جو ہر 15 دن بعد بنچ کو پیش کئے جائیں گے، پوری قوم، وکلا، ججز حضرات سب کی نظریں اس کیس پر ہیں اس لئے گڑ بڑ کا امکان نہیں ہے۔ جے آئی ٹی کے حاصل کردہ جوابات کا ایک ایک لفظ پبلک ہو گا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پیمرا سمیت تمام ریگولیٹری باڈیز کو دباﺅ کا نشانہ بنانا مہذب معاشروں کا وطیرہ نہیں ہے۔ آزادی صحافت ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے بحث جاری ہے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جس میں حمایتی اور اختلاف کرنے والے اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں اس بارے کون صحیح ہے کون غلط، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ دو فریقوں میں کسی معاملے پر جھگڑا ہو تو مہذب طریقہ یہی ہے کہ خود ڈانگ سوٹے چلانے کے بجائے عدالت سے رجوع کیا جائے۔ پیمرا کے ساتھ مختلف اوقات میں کئی چینلز کے مسائل چلتے رہے ہیں جو بالآخر عدالت میں جا کر حل ہوتے ہیں۔ میں خود اس بات کی مکمل حمایت کرتا ہوں کہ ہمیں عدالت سے رجوع کرنا چاہئے اور فیصلہ آنے پر اسے من و عن تسلیم کرنا چاہئے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات بہت پرانے ہیں۔ بھٹو دور میں ایک سیاسی جماعت نیپ پر اعلیٰ عدالت نے ملک توڑنے کی سازش کے تحت پابندی بھی لگا دی تھی اس وقت سے آج تک دونوں ملکوں میں اختلافات کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے ہیں۔ چمن میں جو حملہ کیا وہ دہشتگردوں نے نہیں بلکہ افغان فوج نے کیا۔معمول کی دہشتگردی کا واقعہ نہیں تھا، اس میں افغان فوج شامل تھی جسے افغان حکومت کی تائید حاصل ہے، افغان فوج کے ایسے حملے بھی معمول بن رہے ہیں جبکہ پاکستان معمول سے ہٹ کر بھی ان پر قابو پانے کی بڑی کوشش کرتا ہے۔ پاک آرمی کے سب سے بڑے عہدیدار جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر محمودحیات کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد کابل گیا افغان حکومت اور فوج سے مذاکرات کئے اور طے پایا کہ دونوں ملک سرحد کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، اس وفد کو واپس آئے 24 گھنٹے نہ گزرے تھے کہ چمن پر حملہ کر دیا گیا۔ یہ صرف چمن پر حملہ نہ تھا بلکہ افغان حکومت کی حمایت سے افغان فوج نے کیا اس لئے یہ پاکستان پر حملہ تھا۔ اس واقعہ پر صرف رسمی احتجاج کافی نہیں ۔سینئر صحافی نے کہا کہ افغان حکومت ایک منتخب حکومت نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ نے مک مکا کے تحت تشکیل دی، امریکہ کی لے پالک افغان حکومت ہر تیسرے دن پاکستان کی سالمیت پر حملے کر رہی ہے اس لئے پاک فوج نے جو دندان شکن جواب دیا وہ بالکل صحیح ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ سب سے بڑی جہالت یہ ہوتی ہے کہ آپ بغیر کسی چیز کو سنے ہی اس پر اظہار خیال شروع کر دیں۔ پانامہ کیس میں اب ججز حضرات ہر 15 دن بعد رپورٹ لینگے، ان کے ریمارکس سے بھی پتہ چلے گا کہ وہ جے آئی ٹی کے حاصل کردہ جوابات سے مطمئن ہیں یا نہیں۔ سب کو جے آئی ٹی کی پہلی قسط کا انتظار کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ بنچ کا حتمی فیصلہ سامنے آئے تبھی اس پر بات ہو سکتی ہے۔ آئین، قانون، اخلاق اور ضابطہ کار کا تقاضہ ہے کہ اس سے قبل بالکل خاموش رہا جائے، صحافت کے شعبہ میں آیا تو استاد نے سب سے پہلی بات یہ سکھائی کہ آپ کے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو اس سے پہلا سوال یہ کریں کہ کیا یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تو نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس بارے ایک جملہ بھی شائع نہیں کیا جاسکتا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ فوجداری کا کوئی معاملہ ہو تو اخبارات اور میڈیا پر شور مچ جاتا ہے تاہم کیس جونہی عدالت میں پیش ہو تو تمام قیاس آرائیاں اور الزامات ختم ہو جاتے ہیں، اگر کوئی اخبار یا چینل اس بارے حمایت یا خلاف کوئی بات کرے تو شکایت پر توہین عدالت کے تحت طلبی ہو جاتی ہے اس لئے ہمیشہ یہی بات کی ہے کہ عدالت کے فیصلے سے قبل ہم کسی کو قطعی طور پر قصوروار یا بے گناہ قرار نہیں دے سکتے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد نے کہا کہ جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے تشکیل دیا ہے، بنچ نے خود ارکان کا چناﺅ کیا جسے دونوں فریقوں نے تسلیم کیا ہے جے آئی ٹی اس کیس میں عدالت کے سامنے پیش کردہ ریکارڈ کی تشکیل اور دیگر شواہد ریکارڈ کرنے کی مجاز ہو گی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں عدالت کے فیصلے کو پڑھے بغیر ہی اس میں لمبی بحثیں ہوتی ہیں حتی کہ بعض اوقات خود ججز حضرات کو کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات ہم نے نہیں کہی۔ پوری امید ہے کہ جے آئی ٹی میرٹ پر کام کرے گی اور کسی قسم کا دباﺅ نہیں لے گی۔ مجرموں کےلئے جے آئی ٹی حکومت بناتی ہے جبکہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے شق 184 کے تحت کیس کی سماعت کی روشنی میں بنائی ہے، تمام جماعتوں کو اس پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔ سیاسی رہنماﺅں کے ایک دوسرے پر ذاتی حملے افسوسناک ہیں ہماری کوئی تو اخلاقی حدود ہونی چاہیے۔ ایک سماعت عدالت میں ہوتی ہے تو دوسری عدالت کے باہر ہوتی ہے جس پر ججز نے ناراضی کا بھی کئی بار اظہار کیا۔ پاکستان بار کونسل کے سیمینار میں وکلاءکی اکثریت نے طے کیا کہ جب تک پانامہ پر جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی انتظار کرنا چاہیے۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ جے آئی ٹی فلاں فلاں معاملے پر انکوائری کرے گی۔ اس فیصلے سے قبل آج تک سپریم کورٹ نے جتنے بھی کیسز پر احکامات جاری کئے کسی جگہ بھی کورٹ نے انکوائری کا سپروائزری رول نہیں لیا۔ یہ نکتہ بارہا سپریم کورٹ کے سامنے پیش بھی کیا گیا۔ قانون آئین کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سپروائزری رول نہیں لے سکتی تاہم اعلیٰ عدلیہ کے طویل تجربے اور دانائی کو دیکھتے ہوئے قانون پر یقین رکھنے والے ہر شہری کا اس پر سرنگوں ہونا بنتا ہے۔ ہر کسی کو اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔






































