کراچی (خصوصی رپورٹ) اورنگی ٹاﺅن میں بھتہ نہ دینے پر الیکٹرونکس کی دکان پر دستی بم سے حملے کی تحقیقات کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے مضبوط نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ویسٹ کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے افراد کی نقل و حرکت اور موجودگی کی اطلاعات مل رہی ہیں اور کراچی میں کالعدم تنظیموں کے مضبوط نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ کالعدم تنظیموں کا نیٹ ورک شہر کے متعدد علاقوں میں قائم ہے جن میں اورنگی ٹاﺅن‘ منگوپیر‘ بلدیہ اتحاد ٹاﺅن اور لانڈھی مجید کالونی شامل ہیں۔ سندھ میں لشکر جھنگوی جنداللہ اور حرکت الاحرار مشترکہ طور پر کارروائی کرتی ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک کا سربراہ علی سفیان عرف صفدر ہے جبکہ پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنا سابق پولیس اہلکار داﺅد محسود کے ذمہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی سفیان بلوچستان کے علاقے وڈھ سے اپنا نیٹ ورک چلاتا ہے جبکہ داﺅد محسود لانڈھی کے علاقے قائدآباد میں نیٹ ورک چلا رہا ہ۔ دہشت گرد اور خودکش حملہ آور افغانستان سے بلوچستان کے راستے سندھ میں داخل ہوتے ہیں۔ کراچی میں دہشت گرد کچی آبادیوں او افغان بستوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ہر گروپ میں پچاس دہشت گرد شامل ہیں جس میں 10 ٹارگٹ کلر اور پانچ سہولت کار خودکش جیکٹ‘ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیاں اور موٹرسائیکل بنانے کے ماہر بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عی سفیان وڈھ کے ایک مدرسے میں رہائش پذیر ہے جہاں سے فون کے ذریعے ہدایت جاری کرتا ہے۔ شہر میں ہونے والی بھتہ خوری اور کریکر حملوں میں بھی یہی گروپ ملوث ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز اورنگی ٹاﺅن میں کئے گئے دستی بم حملے میں یہی گروپ ملوث ہے۔ دوسری جانب کالعدم تنظیموں کے اراکین نے اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے ایک بار پھر علاقے کی بڑی مارکیٹوں سے بھتہ کی وصولی شروع کردی ہے اور بھتہ نہ دین والوں پر فائرنگ اوردستی بم سے حملوں کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایس ایچ او اورنگی ٹاﺅن یاسین گجر نے بتایا کہ علاقے میں کالعدم جہادی تنظیموں کے نیٹ ورک نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے علاقے میں مخبروں کا جال پھیلا دیا اور جلد ہی ملزمان کا قلع قمع کردیاجائے گا۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے جس میں بم دھماکے میں ملوث ملزمان کے چہرے بھی واضح ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس ملزمان تک نہیں پہنچ سکی ہے۔






































