اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)10مئی پاکستان کی سول ملٹری تعلقات کی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا، فوج نے سویلیں حکومت کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کیلئے ایک قدم پیچھے ہٹایا اور آئین کی مکمل پاسداری کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ کسی تنازعہ میں نہ پڑنے کی پالیسی کی واضح جھلک ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس میں بھی دکھائی دے رہی تھی جب ایک خاتون صحافی نے بار بار ان سے پوچھا گیا کہ مریم نواز کا نام ذمہ داروں کی فہرست میں کیوں شامل نہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وقت لیکر اور خوب سوچ سمجھ کر جوابدیا کہ کورٹ آف انکوائری نے تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے نام اپنی رپورٹ میں دئیے جن کے خلاف کارروائی کی وزیر اعظم نے منظوری دی اور وزیر اعظم ہی فائنل اتھارٹی ہیں۔ خاتون صحافی کی تشفی نہ ہوئی تو انہوں نے زور دیکر کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مریم نواز کا نام نہیں تو ڈی جی نے پھر جواب دہرایا اور یہ نام زبان پر نہیں آنے دیا۔ وہ اس کوشش میں کامیاب رہے کہ انکے کسی لفظ ، جملے اور تاثر کو ، ٹویٹ واپس لینے کے فیصلہ کے منافی استعمال نہ کیا جا سکے۔ دوران گفتگو جہاں بھی انہیں ذمہ داروں کے نام لینے پڑے ، انہوں حفظ مراتب کا پورا لحاظ کرتے ہوئے ہر نام کے ساتھ صاحب کا لفظ استعمال کیا۔ ڈان لیکس تنازع ختم ہونے پر تبصروں کی بھرمار میں ایک بنیادی حقیقت فراموش کی جا رہی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سیاسی اور جمہوری عمل کے خلاف کوئی مہم جوئی نہیں کرنا چاہتے۔ ایک جیسی مستند اطلاعات کے مطابق اپنے پرانے کلاس فیلوز اور ریٹائرڈ ہونے والے عسکری رفقا کے ساتھ سماجی ملاقاتوں کے دوران فوجی مداخلت کی باتیں کرنے والوں کو جنرل باجوہ مزید گفتگو سے روک کر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ بتائیے پہلے کتنی بار فوج آ چکی ہے، اس کے نتیجہ میں کیا تبدیلی آئی؟ آرمی چیف رسمی اور غیر رسمی تمام روابط کے دوران سیاسی اور جمہوری عمل کے ساتھ اپنی وابستگی کا واضح انداز میں ذکر کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آرمی چیف کے اس جمہوریت نواز طرز عمل کو سراہتے ہوئے ٹویٹ واپس لینے کو کسی بھی سطح پر فتح یا شکست کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اخبارات اور ٹیلیویژن پر بزعم خود فوج کے نمائندے بن کر غلط فہمیوں کو بڑھانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی خاص ضرورت ہے۔ ٹویٹ کی افادیت تو بجا کہ یہ پیغام رسانی کا تیز ذریعہ ہے لیکن کیا ٹویٹر کو فوری نوعیت کی سرکاری پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ امید ہے کہ طرفین اس پہلو پر توجہ دیں گے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور مستحکم جمہوریت معاشرے میں اگر صدر امریکہ کے ٹویٹ طوفان برپا کر سکتے ہیں تو پاکسان کی لرزاں و پریشان جمہوریت ٹویٹس کے جھٹکے قظعی برداشت نہیں کر سکتی۔
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) وفاقی حکومت اور فوج کے درمیان نیوز لیکس کی انکوائری رپورٹ کی اشاعت پر پیدا ہونے والا تنازع ڈرامائی انداز میں ختم ہونے سے جہاں سول و جمہوری حکومت کی بالادستی کو تسلیم کر لیا گیا ہے وہاں کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی بلکہ جمہوریت مستحکم ہوئی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والا نوٹیفکیشن 29 اپریل کو وزیراعظم کے ڈائریکٹو سے زیادہ مختلف نہیں صرف وزیراعظم کے خصوصی معاون سید طارق فاطمی سے عہدہ واپس لینے کی بجائے ہٹانے کا لفظ شامل کیا گیا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہفتے کے دوران حکومت اور فوج کے درمیان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کی واپسی کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی تھی۔ بدھ کو وزیراعظم اور آرمی چیف کی ہنگامی ملاقات کے بعد فوج کے ٹویٹ واپس لینے پر آمادگی کا اظہار کر دینے سے وزارت داخلہ نے بھی دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے حکومت اور فوج کے درمیان فاصلے کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم منگل کو مسلم لیگی رہنما کے اجلاس میں ہارڈ لائن اختیار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ وفاقی حکومت کا پیرا 13 کے مطابق نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ انکوائری رپورٹ میں کہیں مریم نواز کا ذکر ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی سفارش کی گئی۔ انکوائری رپورٹ میں خبر کی اشاعت کا کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی حلقوں میں فوج کے ترجمان کی طرف سے کی گئی پریس کانفرنس ٹویٹ واپس لینے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑا ہونے کے عزم کے اظہار پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور نیوز لیکس پر مکمل انکوائری رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اسے فوج کی شکست قرار دے کر حکومت اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی وزرا کو اپوزیشن کی جانب سے حکومت اور فوج کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا ٹاسک دیدیا ہے۔






































