تازہ تر ین

پاک فوج کیخلاف منفی پراپیگنڈا, بڑی جماعت کے درجنوں افراد گرفتار

اسلام آباد، لاہور (خبر نگار خصوصی + کرائم رپورٹر) پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی اے نے کارروائی شروع کردی ہے۔ حکمران جماعت کے بھی اہم افراد قانونی شکنجے میں آگئے ہیں، سوشل میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر فیصل کی گرفتاری پر وزیراعظم ہاﺅس ایک بار پھر بے چینی میں مبتلا ہوگیا ہے۔ معلومات کے مطابق ایف آئی اے نے ویسے تو درجنوں افراد کو پانی حراست میں لے رکھا ہے مگر ڈاکٹر فیصل رانجھا کی گرفتاری پر حکمران جماعت بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ، بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر فیصل رانجھا سوشل میڈیا کے ایڈوائزر تھے۔ ایف آئی اے نے پاک فوج کیخلاف سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈا کرنے والے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے گرفتار کارکنوں سے تحقیقات مکمل کر لی ہیں جبکہ مزید کئی درجن افراد کی گرفتاریاں متوقع ہیں ‘ یہ گرفتاریاں جاری انکوائری مکمل ہوتے ہی کر لی جائیں گی‘جرم ثابت ہونے کی صورت میںملزمان کیخلاف سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی‘دوسری طرف تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر جا کر پی ٹی آئی اے کے گرفتار کارکنوں سے ملاقات کر کے ہر قسم کی قانونی معاونت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اتوار کو ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والوں سے تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ 6 افراد ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں گرفتار ہیں ان میں سے 4 کا تعلق اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف ایک کا تعلق مسلم لیگ(ن) جبکہ ایک سرکاری ملازم ہے جو کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کے حوالے سے جاری انکوائری کیلئے درجنوں افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد ان کی گرفتاریوں کا فیصلہ ہو گا۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے نے پاک فوج کیخلاف سوشل میڈیا پر موجود مواد کو نہ صرف بلاک کیا ہے بلکہ جن افراد کے فیس بک اکاﺅنٹس پر یہ مواد موجود تھا ان تمام کو طلبی کے نوٹسز جاری کر کے ان کے آفیشل پیجز کا ڈیٹا بھی محفوظ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کیخلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ایف آئی اے پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی شدید دباﺅ ہے کہ ان کے کارکنان کو رہا کیا جائے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور گرفتار کارکنوں سے ملاقات کر کے انہیں ہر قسم کی قانونی معاونت کی یقین دہانی کروائی ۔ سوشل میڈیا پر فوج کیخلاف تنقید پر ایف آئی اے نے ہیڈ کوارٹرز بلا کر پی ٹی آئی کارکنوں سے پوچھ گچھ کی تو کارکنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے رہنما پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی بھی پہنچ گئے۔ بولے بچے بے قصور ہیں ،چھوڑ دیا جائے۔ یہ بھی کہا کہ عمران خان کہتے ہیں اظہار آزادی کا حق سب کو ہے۔ وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا اشارہ یہی مل رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈان لیکس ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے انکوائری ہو رہی ہے۔وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے معاملے پر زیر حراست لیے گئے کارکنان ڈاکٹر فیصل ، اویس خان اور سالارسے بھی ملاقات کی اور انہیں کچھ نصیحتیں کیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ کارکن کسی ایف آئی آر میں نامزد نہیں۔ ایف آئی اے سے گزارش ہے جو معلومات لینی ہیں لیں اور انہیں فارغ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کارروائی ضرور کرے، اگر کارکن بے قصور ہیں توچھوڑا جائے۔ ایف آئی اے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔شاہ محمو دقریشی نے پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔ شاہ محمود قریشی نےآئیی تقاضا اور اپنی قیادت کا مو¿قف بھی واضح کردیا۔ بولے کہ آئین کہتا یے کہ فوج کا احترام کرنا چاہیے، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں اظہار آزادی کا سب کو حق ہے ، ہمارا کوئی ایسا ارادہ نہیں کہ اداروں کے کام میں رکاوٹ بنیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے نام پر گرفتار کیے گئے کارکنوں کے خلاف کارروائی ہوئی تو تحریک انصاف پوری قوت کے ساتھ ملک بھر میں سڑکوں پر آئے گی۔جبکہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کارکنان کو غلط حراست میں لیا گیا ہمارے بچے کسی ایف آئی آر میں درج نہیں۔ ایف آئی اے فوری طور پر تفتیش کرکے ہمارے کارکنان کو رہا کرے ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روزتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویٹ سائٹ ٹوئیٹر پر حکومت کو دھمکی دی ہے کہ مسلم لیگ ن اوچھے ہتھگنڈے پر اتر آئی ہے۔ نیشنل سکیورٹی کے نام پر ھمارے ورکرز کو اٹھا لیا گیا ہے اگر ہمارے سوشل میڈیا کے کارکنوں کے خلاف قومی سلامتی کے نام پر کوئی کارروائی کی گئی تو تحریک انصاف پوری قوت کے ساتھ ملک بھر کی سڑکوں پر آئے گی۔ سوشل میڈیا پرپاک فوج ، عدلیہ اور توہین مذہب مواد ڈالنے کا الزام ، ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے 40افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی ، 200افراد کو پوچھ گچھ دکیلئے طلب کر لیا گیا جبکہ 21سوشل میڈیا آئی ڈیز کی بھی پڑتال شروع کردی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر پاک فوج ،عدلیہ اور توہین مذہب کا مواد ڈالنے کے الزام میں تقریباً40افراد سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے جن کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ وغیر ہ بھی قبضہ میں لے لئے گئے ہیں جن کو فرانزک لیب بھجوا دیا گیا ہے تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جاسکے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 14افراد کو پاک فوج کے خلاف ، 4افراد کو عدلیہ جبکہ 4افراد کو مذہبی توہین آمیز مواد ڈالنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایف آئی اے کی جانب سے جن سوشل آئی ڈیز کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے ان میں حاجی اعجاز احمد ، محمد وارث ، خادم عبدالقادر ، ،احتشام الدین،حسن خان،شاہ زلمے خان،احمد ندیم ،اویس خان ،صادق رضا،عطاءاللہ آرائیں،میاں عمر ،کونٹرورشل رانا ،آم اچار ،مقصود آسی،طحہ شکیل جرنلسٹ ،بہادر الدین اے شیخ ،ففٹی شیڈ ز آف مغل،سیلار سلطان زئی ،ڈاکٹر فیصل رانجھا ،آدی اور پٹوارن پکی کی آئی ڈیز شامل ہیں جن کو بنانے اور چلانے والوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ان میں سے متعدد نے ایف آئی اے کی جانب سے ایکشن لینے پر اپنی آئی ڈیز بند کر دی ہیں ۔ایف آئی اے کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایسے تقریباً200کے قریب افراد کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کر لیا ہے جن کی آئی ڈیز سے ایسا مواد اپ لوڈ کیا گیا ہے جو توہین مذہب ،پاک فوج یاعدلیہ کے خلاف تھا تاہم ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار کیئے گئے سالار خان کاکڑ کو کوئٹہ سے اُٹھا کر اسلام آباد لایا گیا تھا جسے پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ ایف آئی اے حکام نے ڈاکٹر خالد رانجھا سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain