اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قطر میں پاکستانی سفارتخانے نے قطری شہزادے حماد بن جاسم کو سیل شدہ خط پہنچا دیا ہے جس میں ممکنہ طور پر پاناما کیس جے آئی ٹی کے حوالے سے سوالنامہ موجود ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے دفتر خارجہ کے ذریعے قطری شہزادے کو خط بھجوایا ہے ۔پاناما لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کی لیگل ٹیم نے لندن جائیداد کے حوالے سے منی ٹریل ثابت کرنے کے لیے قطری شہزادے کی جانب سے بھیجے گئے دو خط سپریم کورٹ میں پیش کیے تھے ۔ذرائع کے مطابق سابق نیب چیئر مین سیف الرحما ن کی جانب سے مداخلت کیے بغیر یہ خط قطری شہزادے کو پہنچا یا گیا ۔نواز شریف کے قریبی ساتھی کی جانب سے سفارتخانے کے حکام پر دبا ڈالا گیا خط کو کھولا جائے اور بعد میں خواہش کا اظہار کیا گیا کہ یہ خط قطری شہزادے تک نہیں پہنچنا چاہیے ۔تاہم پاکستانی سفارتکار شہزاد احمد نے سیف الرحمان کی خواہش کو مسترد کرتے ہوئے قطری شہزادے کو سیل شدہ خط پہنچا دیا ۔ رپورٹ کے مطابق قطر میں موجود سیف الرحمان کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ پاناما کیس پر بننے والی جے آئی ٹی کی تحقیقات کے حوالے سے شریف خاندان کی مدد کی جائے ۔شریف خاندان نے ایک اور قریبی ساتھی اور سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان سلمان اسلم بٹ سے بھی پاناما کیس میں قطری شہزادے کے کردار کے حوالے سے مدد مانگی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے پہلی پیش رفت رپورٹ تیار کرلی ہے جسے (آج)پیر کو عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اپنی پہلی پیش رفت رپورٹ پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی اور عدالت عظمیٰ کو تحقیقات میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں سے تحقیقات کے لئے 250 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ تیار کر لیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جے آئی ٹی نے یہ تمام سوال وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں تقاریر اور ان کے صاحبزادوں کے بیانات اور ان 13 سوالوں کی روشنی میں تیار کئے ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو 60 دن کا وقت دیا ہے ۔ جے آئی ٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جسے آج (پیر) کو سپریم کورٹ میں جمع کروا دی جائے گی تاہم ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو ان تمام ثبوتوں کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جن کی مدد سے وزیر اعظم نواز شریف کا تعلق پانامہ پیپرز سکینڈل سے جوڑا جا سکے کیونکہ ان میں سے بیشتر دستاویزات کا تعلق چار ممالک سے ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کو دستیاب ثبوتوں کی جانچ پڑتال کرنے اور بعدازاں وزیر اعظم سے تحقیقات کرنے سے متعلق آگاہ کرے گی ۔ جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں اب تک ریکارڈ کئے گئے بیانات شامل ہوں گے اور اس میں جے آئی ٹی کی آگے کی حکمت عملی بھی شامل ہو گی ۔ جس کے تحت وزیر اعظم ان کے بیٹوں اور قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کو سوالنامے بھیجے جائیں گے جبکہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر اور برطانیہ سے ثبوت اکٹھے کرنے کا لائحہ عمل بھی شامل ہو گا ۔ پہلی پیشرفت رپورٹ کا جائزہ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ دن ڈیڑھ بجے لے گا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو ان سوالات کی بنیاد پر تحقیقات کی ذمہ داریاں سونپی ہیں جن کے مطابق گلف سٹیل مل کیسے وجود میں آئی اور کس طرح فروخت ہوئی اور وہ کیسے جدہ ، قطر اور برطانیہ پہنچے ۔ 90ءکی دہائی کے اوائل میں حسن اور حسین کم عمری میں کسی طرح فلیٹس کی خرید و فروخت کر پائے اور قطری شہزادے کی جانب سے خط کہانی ہے یا حقیقت اور میسرز نیلسن انٹرپرائزز لمٹیڈ اور نیسکول لمٹیڈ کی اصل مالک کون ہے جیسے سوالات شامل ہیں اس حوالے سے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو وزیر اعظم اور ان کے خاندان سمیت کسی بھی فرد سے تحقیقات کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔





































