اسلام آباد (آن لائن‘اے این این) سپریم کورٹ نے پانامہ کیس سے متعلق جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹس منظر عام پر لانے سے انکار کرتے ہوئے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کر دی، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس فوجداری نوعیت کا ہے فواد چوہدری کوئی ایسی مثال دیں جس میں ایسے کیس کی تفتیش سے فریقین کو آگاہ کیا گیا ہو ہم ،قانون کو شہرت کے کھیل کے لیے فروخت نہیں کرسکتے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ فواد چوہدری دوسرے فریق کو فائدہ پہچانے کے لیے سمجھوتہ نہ کریں ،سمجھا کریں ،مناسب وقت پر حتمی رپورٹ کو پبلک کردیا جائے گا ، پیر کو جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت ، پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جے آئی ٹی کے سربراہ سمیت تمام اراکین عدالت میں پیش ہوئی اور جے آئی ٹی کے سربراہی واجد ضاءنے دو حصوں پر مشتمل سربمہر رپورٹ بنچ کے سامنے پیش کی ، جس پر ججز نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مشاورت کی اور جسٹس اعجاز فضل نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں ساٹھ دن میں کام ہو جا نا چاہیے ،کیس سے متعلق ہر قسم کے مواد کا جائزہ لیا جائے اور یہ تحقیقات شفاف طریقے سے مکمل ہونی چاہیے ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ سے غیر مطمئن نہیں آپ درست سمت پر جا رہے ہیں لیکن خیال رہے کہ آپ کے پاس صرف ساٹھ دن ہیں ،جسٹس عظمت سعید نے واجد ضیاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ اور جے آئی ٹی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے ،جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ جے آئی ٹی کو دوسرے اداروں کا تعاون بھی درکار ہوگا ،اگر کوئی ادارہ یا شخص جے آئی ٹی سے تعاون نہیں کرتا تو عدالت کو آگاہ کیا جائے ہم حکم جاری کریں گے ،اگر کوئی آپ کے ہاتھ پاﺅں کھینچنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر بھی بتایا جائے دیا جائے گا ،عدالت نے رپورٹ دوبارہ سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے جے آئی ٹی کے سربراہ کو رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کردی جبکہ دوران سماعت تحریک انصاف کی جانب سے فواد چوہدری پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم پانامہ کیس میں اہم فریق ہیں پانامہ جے آئی ٹی کی اب تک کی پیشرفت رپورٹ ہمیں بھی دی جائے ،یہ ہمارا ذاتی کیس نہیں بیس کروڑ عوام کا کیس ہے ،اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ مقدمہ فوجداری نوعیت کا ہے فواد چوہدری صاحب کوئی ایسی مثال بتا دیں جس میں تفتیش میں پیشرفت سے فریقین کو آگاہ کیا گیا ہے جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ رپورٹ وقت آنے پر شیئر کردی جائے گی فواد چوہدری دوسرے فریق کو فائدہ پہنچانے کے لیے سمجھوتہ نہ کریں، سمجھا کریں، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم قانون کو شہرت کے کھیل کے لیے فروخت نہیں کرتے بعد ازاں عدالت نے پانامہ عملدرآمد کیس کی مزید سماعت سات جون تک ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران خصوصی بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید شیخ نے جے آئی ٹی کو واضح طور پر کہا کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی صورت اضافی وقت نہیں دیا جائےگا ¾ تحقیقات 60 روز میں لازمی مکمل کریں۔جسٹس عظمت نے جے آئی ٹی ارکان سے کہا کہ اگر کسی ادارے سے کوئی مسئلہ ہے یا کوئی ادارہ تعاون نہیں کررہا تو بتایا جائے ¾عدالت اپنے حکم پر عمل درآمد کرانا جانتی ہے۔بعد ازاں سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کےلئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائےگی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرےگی ¾ جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی ¾اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاءکو مقرر کیا گیاتھا۔
اسلام آباد (این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پانا ما کیس میں اپنے جن حقوق سے دستبر دار ہوئے تھے جے آئی ٹی کے سامنے سارے حقوق استعمال کرینگے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاناما کیس میں اپنے جن حقوق سے دستبردار ہوئے تھے ¾ جے آئی ٹی کے سامنے وہ سارے حقوق استعمال کریں گے۔طلال چوہدری نے کہا کہ شریف خاندان نے پاناما کیس میں کئی قانونی حقوق چھوڑے مگر جے آئی ٹی میں قانونی حقوق لینے کا اختیار رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے جے آئی ٹی وزیراعظم کو کسی اور قانون سے نہیں جانچے گی¾ یہ نہیں ہوسکتا کہ حسن اور حسین نواز کے لیے بیرون ملک مقیم دیگر پاکستانیوں سے مختلف قانون ہو ۔عمران خان کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب کی معلومات ہمیشہ ناکافی ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو قومی امور کا نہیں پتا، بین الاقوامی امور تو دور کی بات ہے،سعودی عرب میں چند ملکوں کو بلایا گیا تھا جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان ان لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں جو فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچارہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پر پاکستان اور فوج کا امیج خراب کرنے کی کوشش کی گئی، ان لوگوں کو آزادی اظہارِ رائے کی تمیز سکھائی جا رہی ہے۔ میاں فیملی نے قانونی سہاروں اور استثنیٰ کا سہارا لینا ہوتا تو پانامہ کیس پر184کے تحت چل ہی نہیں سکتا تھا، پانامہ کیس میں حسین نواز40 سالہ پرانے کاغذات بھی جمع کرواچکے ہیں ایسے کاغذات جو اگر حسین نواز نہ چاہتے تو کسی بھی طاقتور جے آئی ٹی کیلئے ممکن نہیں تھا کہ وہ حاصل کرپاتی، مسلم لیگ(ن) کے طلال چوہدری نے جی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہم نے اگر قانونی سہاروں اور استثنیٰ پر بھروسہ کرنا ہوتا تو184 کے تحت پانامہ کا مقدمہ چلتا ہی نا، نہ کیس چلتا نہ جے آئی ٹی بنتی، نہ ہی کوئی تحقیقات شروع ہوتیں، ہم نے تمام معاملات عوام کے سامنے لانے کیلئے اور شفاف تحقیقات کیلئے معاملات عدالت پر چھوڑ دیئے، اب معاملات مختلف ہیں، جے آئی ٹی کے معاملے میں اب5 دیگر ممالک کی جو اسڈ کشن آتی ہیں، آنے والے وقت میں کہیں ان ممالک سے اگر قانوناً ریکارڈ حاصل کرنا ناممکن ہو تو وہ معاملہ ہم پر نہ ڈال دیا جائے، قانونی سہارا لینا ہمارا حق ہے ایسا نہ ہوکہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد تمام تر ذمہ داری حسین نواز پر یا حسن نواز پر ڈال دی جائے، پانامہ کیس میں حسین نواز نے خود سے متعلق تمام ثبوت اور کاغذات عدالت میں جمع کروا دیئے ہیں، یہ کاغذات اگر وہ چاہتے تو عدالت کو میسر نہ ہوئے ماضی کی طرح آج بھی حسین نواز اور میاں فیملی کا ہر فرد عدالت سے تعاون جاری رکھے گا، لیکن اب ممکن نہیں کہ میاں فیملی کو پاکستانی قانون سے ہٹ کر پرکھا جائے، قانون جو سب کیلئے استعمال ہوتا ہے، اسی قانون کے تحت میاں فیملی کو بھی ٹرائل کیا جانا چاہئے۔





































