تازہ تر ین

سعودیہ میں سلوک شرمندگی کا باعث, اہم شخصیت کا حیران کُن انکشاف

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ سعودی عرب میں جس طرح سلوک کیا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے ‘ نواز شریف نے بڑی نیٹ پریکٹس کی لیکن بارہویں کھلاڑی بنا دئیے گئے ‘ ٹرمپ کے باتوںپر نواز شریف کو کوئی تو بیان دینا چاہیے تھا ‘ ٹرمپ نے بھارت کا نام لیا اور کشمیر کی بات نہیں کی ‘ ٹرمپ کو پاکستان یاد ہی نہیں آیا ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس ملک کے 70 ہزار افراد شہید ہوئے اس کا نام تک نہیں لیا گیا ‘ نواز شریف کو بولنا چاہیے تھا کہ ہم ایران کو تنہاءنہیں کرنا چاہتے ‘ دوسروں کی جنگوں میں شرکت پاکستان کے مفاد میں نہیں ‘ پاکستان کا کام آگ بجھانا ہونا چاہیے تھا ‘ وزیر اعظم کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم فریق نہیں ثالث بنیں گے ‘ جس طرح پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے نواز شریف کو اس پر استعفیٰ دینا چاہیے ‘ سوشل میڈیا ایک انقلاب ہے ‘ آزادی اظہار پر پابندی غیر جمہوری ہے ‘ انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئیں گے۔ پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خوش آئند ہے کہ عدالت نے کہا کہ تحقیقات 60 دن میں ہی ہو گی‘ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کریمنل انوسٹی گیشن ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ جس شخص کے خلاف کرمنل انوسٹی گیشن ہو وہ ملک کا وزیر اعظم ہے۔ امریکہ کے صدر کو پاکستانی وزیر اعظم سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ جس طرح پاکستانی وزیر اعظم کو ٹریٹ کیا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے۔ ٹرمپ کی باتوں پر نواز شریف کو کوئی تو بیان دینا چاہیے تھا۔ نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ۔ پاکستان کے لوگوں کی ہی بات کر لیتے۔ ٹرمپ کو تو پاکستان یاد ہی نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس ملک کے 70 ہزار افراد شہید ہوئے اس کا نام تک نہیں لیا گیا۔ ٹرمپ نے بھارت کا نام لیا اور کشمیر کی بات نہیں کی۔ ٹرمپ نے فلسطین کے عوامی نمائندوں کو دہشت گرد کہہ دیا۔ نواز شریف پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے تو انہیں بولنا چاہیے تھا کہ ہم ایران کو تنہا نہیں کرنا چاہتے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں مسلمان دنیا کو اکٹھا کرنا چاہیے ہمیں فریق نہیں ثالث بننا چاہیے۔ دوسروں کی جنگ میں شرکت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ پاکستان کا کام آگ بجھانا ہونا چاہیے۔ یہ سب باتیں نہیں کرنی تو سعود عرب جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ وزیر اعظم کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم فریق نہیں ثالث بنیں گے۔ عمران خان نے کہاکہ نواز شریف کو کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرنی چاہیے تھی۔کیونکہ ان کی کوئی عزت نہیں ہے ، عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب میں 55ملکوں کی سمٹ میں وزیراعظم محمد نوازشریف کو تقریر کرنے کا موقع ہی نہیں دیاگیا، جن لوگوں کی اپنی کوئی عزت نہیں ہوتی انکی کوئی دوسرا بھی عزت نہیں کرتا ، جے آئی ٹی کی رپورٹ عام کرنے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنی چاہئے یا نہیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ دور حکومت میں سب سے کم سرمایہ کاری آئی ، وزیر اعظم کے بیرون دورے پر یومیہ 47لاکھ روپے خرچ آیا جو غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے ۔حسن روحانی نے ایران کو دنیا کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی مگر ٹرمپ نے اسرائیل کے ہر دشمن کو دہشتگرد بنا دیا ۔ٹرمپ نے جو باتیں کی وہاں نوازشریف کو اس پر بیان تو دینا چاہئیے تھا ، ٹرمپ نے حماس اور حزب اللہ کو دہشتگرد بنا دیا ۔ آرمی چیف سے ملاقات میں جنرل (ر) راحیل شریف کے سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت پر بات ہوئی جس پر انہوں نے کہا کہ راحیل شریف کا رول یہ ہو گا کہ مسلم دنیا میں انتشار نہ ہو اور انہیں اکٹھا کیا جائے ۔ایک سوال پر انکا کہنا تھاکہ امریکی جنگ میں پاکستان کا سو ارب کا نقصان ہو۔پاکستان نائن الیون واقعے میں ملوث نہیں ۔ٹرمپ نے فلسطین کے منتخب نمائندے کو دہشتگرد کہہ دیا ۔دہشگردی کیخلا ف پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں ۔نوازشریف کو ریاض میں پاکستان کی بات کرنی چاہئیے تھی اور ہمیں مسلم امہ کو متحد کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔سوشل میڈیا کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اظہار رائے کرنے والوں کو پکڑا جا رہا ہے ۔ اس بار الیکشن نیوٹرل ایمپائر کے ذریعے کرانے کی کوشش کریں گے اور ساری پارٹیوں کو ملانے کی کوشش کریں گے اور کہیں گے میچ سے پہلے رولز سیٹ کر لیں ۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain