ریاض، مدینہ منورہ(مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ تمام ممالک کو چاہیئے کہ وہ دنیا سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیئے مشترکہ جدوجہد کریں۔سعودی دارالحکومت ریاض میں عرب امریکا اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے بعد مدینہ منورہ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ریاض کانفرنس دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے سلسلے میں ایک اچھا قدم ہے اور اس کے اغراض و مقاصد مثبت ہیں جس کے باعث انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اچھے نتائج سامنے آئیں گے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کے تمام ممالک دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے لئے مشترکہ جدوجہد کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے عظیم قربانیاں دیں اور دہشت گرد حملوں کے باعث پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت مثبت رہی اور ان سے غیررسمی گفتگو کے دوران دہشت گردی سے متعلق آگاہ کردیا تھا، صرف وقت کی کمی کے باعث تقریر کا موقع نہیں ملا کیوں کہ کانفرنس سوا گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرے اور جس طرح مغربی ممالک دہشت گردوں کے خلاف متحد ہیں اسی طرح تمام مسلم ممالک کو دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف امریکا عرب اسلامک کانفرنس میں شرکت کے بعد مدینہ منورہ پہنچ گئے جہاں وہ روضہ رسول ? پر حاضری دیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی کل وطن واپسی ہو گی۔ مدینہ منورہ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعظم بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت انتہائی مثبت رہی جبکہ دہشتگردی خلاف جنگ کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کا اتحاد خوش ا?ئند ہے۔ مغربی ممالک دہشتگردی کیخلاف صف ا?را ہو رہے ہیں، مسلم ا±مہ کو بھی متحد ہونا ہوگا۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہم افغانستان سے بھی کہتے ہیں وہ بھی اپنی سر زمین پر دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرے۔صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا۔ دہشتگردی کے باعث پاکستان کو 120 ارب سے زائد کا نقصان ہوا اور ہزاروں افراد دہشتگردی کا نشانہ بنے۔





































