اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں ملک کے مختلف شہروں میں گردوں کی غیر قانونی خریداری کوروکنے کیلئے ارکان کمیٹی وزارت صحت کے حکام پر برس پڑے۔ سنیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ گردوں کی خریداری کا مکروہ دھندہ کرنے والے افراد اور ڈاکٹروں کو ایف آئی اے پکڑ رہی ہے جبکہ وزارت صحت کے حکام سوئے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر نے انکشاف کیا کہ اب تک100 ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں جو گردوں کی غیر قانونی خریدوفروخت میں ملوث تھے۔ قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس چیئرمین سجاد طوری کی صدارت میں ہوا۔ صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ لاہور میں دو نمبر کلینکس بندکیے گئے ہیں، گردوں کی خریدوفروخت کے کاروبار کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ اجلاس میں قومی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر مختار ادارے میں جعلی ٹیسٹوں کی رپورٹ کی روک تھام کیلئے کمیٹی کے ارکان کے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہدے سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمول کی بات ہے کہ ایک لیبارٹری سے ٹیسٹ کی رپورٹ اور آتی ہے جبکہ دوسری سے اور۔ اجلاس میں ہومیو پیتھک کونسل کے انتخابات کرانے کا مسئلہ بھی حل نہ ہوسکا۔وزارت صحت کے ایڈیشنل سیکرٹری نے بتایا کہ اگست میں ہومیو پیتھی کونسل کے انتخابات کرادیں گے۔





































