تازہ تر ین

پاکستانی وزراء، مشیران اور بیوروکریٹس کے سیاہ کارنامے

لاہور (خصوصی رپورٹ) سندھ حکومت کے ارکان قومی اسمبلی، وزیر و مشیر سمیت 100 سے زائد بیوروکریٹس کو اس وقت سندھ ہائیکورٹ، قومی احتساب بیورو عدالت اور اینٹی کرپشن کورٹس کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت کے من پسند لوگ اختیارات کا غلط استعمال، لینڈ گریبنگ، محکمانہ کرپشن، نوکریاں بیچنے، ترقیاتی کاموں میں کرپشن اور غیر قانونی اثاثے بنانے سمیت دیگر کیسز میں حفاظتی اور قبل از گرفتاری کی ضمانتوں پر ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی رکن قومی اسمبلی منور تالپور، ایم این اے یوسف تالپور، ایم این اے پیر نور محمد شاہ جیلانی، ایم این اے سید نوید قمر، ایم این اے رمیش لعل، سنیٹر سحر کامران، سابق وفاقی مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم، سابق صوبائی وزیر پیر مظہر، شرجیل انعام میمن، اویس مظفر ٹپی، محمدعلی ملکانی، علی نواز شاہ، دوست محمد راہموں، گیان چند ایسرانی، شرمیلا فاروقی، رکن سندھ اسمبلی عبدالرﺅف کھوسو نے قبل ازگرفتاری اور حفاظتی ضمانتوں سے متعلق سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی من پسند بیوروکریسی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے افسران سابق چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن، سیکرٹری صحت فضل اللہ پیچوہو، شاہزر شمعون، ناصر حیات، علی احمد لُنڈ، نور محمد لغاری، آفتاب میمن، غلام مصطفی پھل، محمد علی شاہ، اعجاز بلوچ، جمیل میندھرو، ثاقب سومرو، مصطفی جمال قاضی، سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو احمد بخش نارجیو، یار محمد بوزدار، حماد چاچڑ ، ذوالفقار شہلوانی، سہیل اکبر شاہ، ممتا علی شیخ ، حفیظ اللہ عباسی سمیت سابق آئی جی غلام حیدر جمالی، ڈی آئی جی علیم جعفری، ڈی آئی جی فیرزو شاہ، ایس ایس پی محمد ارب مہر، ایس ایس پی ثاقب اسماعیل میمن، ایس ایس پی اظفر مہیسر سمیت دیگر 62 سندھ پولیس افسران کے خلاف نیب میں انکوائری چل رہی ہے۔ معلومات کے مطابق جنوری 2015ءمیں نیب کی ایگزیکٹو بورڈ نے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بہنوئی رکن قومی اسمبلی میر منور تالپور کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی انکوائری اور ترقیاتی کاموں میں فنڈز کی کرپشن کی انکوائری کی منظوری دی۔ ذرائع کے مطابق نیب سندھ کی ناقص تفتیش کی وجہ سے مقدمہ حتمی مراحل میں نہیں پہنچا۔ میر منور تالپور سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر ہیں۔ نیب کی طرف سے نیب سکھر ترقیاتی کاموں کے فنڈز میں مبینہ کرپشن کے خلاف انکوائری کر رہی ہے۔ نیب کے مطابق ایم این اے رمیش لعل نے فقیر موہن داس پبلک لائبریری شہداد کوٹ میں 1600 ملین اور شاہی بازار میں ترقیاتی کاموں کے نام پر 9 ملین اور ہندو برادری کی مالی سہائتا کے نام پر ملنے والی 500 ملین بھی کرپشن کے نذر کر دیئے، تاہم نیب سکھر میں کیس سردخانے کی نظر ہوگیا، ذرائع کے مطابق سنیٹر سحر کامران کے خلاف نیب راولپنڈی پاکستان انٹرنیشنل سکول جدہ کے فنڈز میں کرپشن پر انکوائری کر رہی ہے۔ سحر کامران نے پاکستان انٹرنیشنل سکول جدہ کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی ہے۔ سنیٹر سحر کامران نے بھی سندھ ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔محکمہ تعلیم و ناخواندگی سندھ میں 13 ہزار تدریسی اور غیرتدریسی عملے کی بھرتیوں میں ملوث سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہرالحق اور شریک ملزمان سابق ڈٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) ایلیمنٹری فی میل فرناز ریاض‘ ڈائریکٹر سکول عطاءاللہ بھٹو‘ ڈی ڈی او ایلیمنٹری میاں لطیف مغل اور ڈی ای او سیکنڈری ہائر سکول بشیرعباس‘ ڈی ای او سیکنڈری فی میل سیدہ نیلوفر شاہ‘ سابق ڈائریکٹر قاسم بلوچ‘ احمد نواز نیازی‘ غلام رسول جوکھیوہ‘ عبدالجبار دایو‘ نیاز لغاری اور سجن ملاح سمیت دیگر افسران ضمانتوں پر ہیں۔ تمام افسران نے سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہرالحق سے ملی بھگت کرکے قومی خزانے کو اربوں روپےکا نقصان پہنچایا ہے۔ یب کے مطابق مذکورہ ملزمان نے سندھ ہائیکورٹ سے قبل گرفتاری کی ضمانت لے رکھی ہے۔ سابق صوبائی وزیر محمد عی ملکانی ٹھٹھہ اور سجاول بند پر تعمیر نو میں کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث نکلے۔ نیب کی گرفتاری کے ڈر سے محمد علی ملکانی نے بھی سندھ ہائیکورٹ کا سہارا لیا ہے۔ احساب عدالت میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن و دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا ہے۔ ملزمان پر پانچ ارب 76 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد کی کرپشن کا الزام ہے۔ نیب ریفرنس کے مطابق سابق صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن‘ ذوالفقار علی شلوانی سابق سیکرٹری اطلاعات انیتا بلوچ‘ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن منصور احمد راجپوت‘ محمد یوسف کابورہ‘ سارنگ لطیف چانڈیو‘ الطاف حسین میمن‘ انعام میمن سمیت دیگر ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے دوران وزارت اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سرکاری بجٹ میں جعلی کھاتے ظاہر کرتے ہوئے پانچ ارب 76 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خوردبرد کرکے خزانے کو نقصان پہنچایا۔ شرجیل میمن پر حیدرکآباد میں محکمہ جنگلات کی زمین کو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے کا بھی الزام ہے۔ نیب سندھ نے ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی تیاری مکمل کرلی ۔ نیب ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظہر ٹپی بورڈ آف ریونیو سندھ اور کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سرکاری زمین کو فروخت کرنے میں نیب کو انکوائری کے لئے مطلوب ہیں۔ وفاقی احتساب عدالت نے رکن سندھ اسمبلی و سابق صوبائی وزیر نواز شاہ کو زمینوں کی خریدوفروخت میں کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا سنا دی جبکہ مقدمہ میں نامزد دیگر ملزمان میں پیپلزپارٹی کے رہنما خادم علی شاہ کو چار اور امتیاز علی شاہ کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ملزمان نے لیفٹ بینک آﺅٹ فال ڈرینج کی سستی زمین مہنگے داموں میں فروخت کرکے کروڑوں روپے کی کرپشن کی۔ نیب کے مطابق سندھ صوبائی وزیر صنعت محمد علی ملکانی سے آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے کی انکوائری کررہا ہے۔ محمد علی ملکانی نے بھی سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی ہے۔ وزیر ایکسائز گیان چند ایسرانی کے خلاف تحقیقات مکمل کرلی گئی ہے۔ مزید کارروائی کے لئے نیب حکام منتظر ہیں۔ گیان چند ایسرانی نے محکمہ جنگلات کی زمین غیرقانونی فروخت جس سے قومی خزانے کو تین سو ملین کا نقصان ہوا۔ نیب سکھر سندھ اسمبلی کے رکن عبدالرﺅف کھوسہ کے خلاف سرکاری زمین اور سڑکوں کی تعمیر میں کی گئی کروڑوں روپے کی کرپشن کی انکوائری کررہا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق ایم پی اے عبدالرﺅف کھوسو نے جیکب آباد میں رفاہی پلاٹ‘ ڈسٹرکٹ سپورٹس کمیٹی کی 90 ملین کی سرکاری زمین فروخت کردی۔ رفاہی پلاٹ پر دکانیں بنا دی گئیں۔ حکومت سندھ کے من پسند بیوروکریٹ سابق سیکرٹری بلدیات علی احمد لنڈ کے خلاف غیرقانونی اثاثہ جات بننے‘ کرپشن اور محکمہ بلدیات میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق نیب میں تحقیقات جاری ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے کروڑوں روپے کی کرپشن اور غیرقانونی بھرتیوں میں نیب کو مطلوب سابق سیکرٹری بلدیات علی احمد لنڈ کی درخوسات ضمانت مسترد کردی ہے۔ نیب نے گزشتہ سال علی احمد لنڈ کو گرفتار کیا تھا۔ سابق چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن کے خلاف کلفٹن میں چھ ایکڑ اراضی کی غیرقانونی فروخت کا کیس کئی سال گزرنے کے بعد نیب کے چیئرمین کی زیرصدارت 8 ستمبر 2016ءکو ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ان کے خلاف انکوائری کو تفتیش میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سابق چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن نے بھی سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت لے رکھی ہے۔ نیب کی ایگزیکٹو میٹنگ میں 530 ایکڑ سرکاری زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کرنے میں ملوث لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے سابق سیکرٹری شاہزر شمون‘ محکمہ ریونیو کے اس وقت کے اے ای ڈی او مصطفی جمال قاضی‘ سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو احمد بخش ناریجو‘ یار حمد بوزدار‘ حماد چاچڑ کے خلاف انکوائری کررہی ہے۔ ملزمان کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو 53 بلین کا نقصان پہنچا۔ نیب نے سندھ میں دسمبر 2014ءمیں انکوائری شروع کی تاہم ابھی تک متعلقہ کیس حتمی مراحل میں نہیں پہنچا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید یونیورسٹی کے نام تین سو ایکڑ اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث وی سی زبیسٹ ڈاکٹر سلمان شیخ‘ آفتاب احمد میمن‘ نجم الزمان خان اور سابق ڈائریکٹر کے ایم سی راﺅف اختر فاروق بھی قبل ازد گرفتاری کی ضمانت پر ہیں۔ ملزمان کو غیرقانوین طور پر کورنگی کریک میں تین سو ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی اور یہ اراضی یونیورسٹی کو سیاسی بنیادوں پر دی گئی تھی۔ نیب زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن غلام مصطفی پھل کے خلاف سکیم 33 میں 29 ایکڑ نجی اراضی اور ضلع ملیر میں سرکاری زمین الاٹ کرنے کے خلاف انکوائری کررہی ہے۔ گرفتاری سے بچنے کے لئے غلام مصطفیٰ پھل قبل از گرفتاری کی ضمانت پر ہیں۔ نیب نے سابق سیکرٹری محکمہ اقلیتی امور ڈاکٹر بدر جمیل میندھرو کے خلاف محکمہ اقلیتی امور میں غیرقانونی بھرتیاں کرنے کے خلاف نیب کی عدالت میں ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔ تاہم بدر جمیل ضمانت پر آزاد گھوم رہے ہیں۔ سابق آئی جی غلام حیدر جمالی‘ ڈی آئی جی علیم جعفری‘ ڈی آئی جی فیروز شاہ‘ ایس ایس پی محمد ارب مہر‘ ایس ایس پی ثاقب اسماعیل میمن ایس ایس پی اظفر مہر سمیت دیگر 62 سندھ پولیس افسران کے خلاف نیب میں انکوائری چل رہی ہے۔ مذکورہ افسران پر کراچی شہر میں کلوز سرکٹ کیمرہ لگانے کی مد میں 1.41 بلین کی مبینہ کرپشن کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افسران نے پولیس کی یونیفارم‘ ہتھیاروں کی خریداری و مرمت اور دیگر فنڈز میں 8.1 بلین کی کرپشن کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم امریکی حکومت کی جانب سے شہر قائد میں 400 لوکیشنز پر 160 میگا پکسل سرور و سپورٹنگ سسٹم کے ساتھ سندھ پولیس کو دی گئی تھی۔ نیب نے سندھ پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں اور کرپشن سے متعلق ریفرنس میں ملزمان سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی‘ سابق اے آئی جی فنانس فدا حسین شاہ‘ ایاز حسین میمن‘ عبدالرزاق‘ غلام نبی کریو سمیت 8 پولیس افسران کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ ریفرنس میں نیب کی انب سے الزام ہے کہ کانسٹیبلز‘ کمپیوٹر آپریٹرز اور دیگر عہدوں پر کی گئی جعلی بھرتیوں کے ذریعے پچاس کروڑ 46 لاکھ 61 ہزار 664 روپے قومی خزانے سے لوٹ لئے گئے۔ بھرتیاں ایس آر پی حیدرآباد کے لئے کی گئیں۔ ملزمان پر 881 غیرقانونی بھرتیوں کا الزام ہے‘ ملزمان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال‘ کرپشن‘ اقرباءپروری اور دیگر دفعات کے تحت ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔ تمام ملزمان نے ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain