اسلام آباد (ویب ڈیسک ) نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بند کر کے عدالت کو دی گئی اور عدالت نے اسے پبلک نہیں کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس رپورٹ میں کوئی حساس معلومات یا باتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے قطری شہزادے کو بلانے کی بات کی جا رہی ہے۔لیکن سپریم کورٹ قطری خط کو سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ شریف خاندان کی منی ٹریل حدیبیہ پیپر ملز میں موجود ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف کو ہمیشہ ہی سے سعودی عرب کی سپورٹ رہی ہے۔ لیکن وزیر اعظم کے اس دورے کے بعد اب ان کو کلئیر ہو گیا ہے کہ جو سپورٹ وزیر اعظم نوازشریف کو شاہ عبد اللہ کے دور میں ملی وہ سپورٹ اب نہیں رہی۔ نواز شریف کے جیسے معاملات اور اچھے تعلقات ماضی میں سعودی عرب کے ساتھ رہے ہیں، وہ تعلقات اب ویسے باکل بھی نہیں رہے۔





































