تازہ تر ین

نواز شریف کے نااہل یا مستعفی ہونے پر 2 اہم نام سامنے آ گئے ، دیکھئے پہلا نمبر کس کا ہے

لاہور (سیاسی رپورٹر) جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس کی روشنی میں محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید ججوں کا فیصلہ بھی نواز شریف کے حق میں نہ ہو یہی وجہ ہے کہ ان کے اپنے ساتھیوں میں سے بھی کم و بیش 50 فیصد یہ مشورہ دینے لگے ہیں کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔ فیصلہ ان کے خلاف آنے کی شکل میں وزیراعظم نواز شریف نہ صرف وزارت عظمیٰ سے محروم ہو جائیں گے بلکہ بعض ماہرین قانون کی رائے میں ان پر دو سال تک سیاست میں حصہ نہ لینے کے لئے پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ لہٰذا لاہور اور اسلام آباد میں نواز شریف کے خاندان اور بااعتماد سیاسی دوستوں میں مشکل حالات میں مسلم لیگ کی قیادت کون سنبھالے گا یہ بحث زوروں پر ہے۔ مزاجاً نواز شریف چونکہ اپنے خاندان سے ہر کسی پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے اس لئے گمان غالب ہے کہ قرعہ فال بالآخر شہباز شریف کے نام نکلے گا جو اگرچہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تھے اور خاندانی حوالے سے ان پر جرح بھی کی گئی لیکن پانامہ لیکس ہو یا لندن فلیٹس ان کا نام براہ راست کسی بڑے الزام سے منسلک نہیں ہے۔ شریف خاندان کے دوسرے نمبر پر فائز شہباز شریف کی شہرت ایک منتظم کے طور پر بہت اچھی ہے اور پنجاب میں ابھی تک مسلم لیگ ن کے صوبائی ارکان ان کی کوئی مخالف لابی بھی بنتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس لئے آگے چل کر وہ ایم این اے کا ضمنی الیکشن لڑنے کے بعد وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ضمن میں ایک اور نام کلثوم نواز شریف کا لیا جا رہا ہے جن پر پانامہ لیکس کے حوالے سے کوئی الزام نہیں ہے اور نہ پوچھ گچھ کے لئے انہیں جے آئی ٹی میں بلایا گیا بطور خاتون وہ مسلم لیگی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور نواز شریف اور شہباز شریف کی سعودی عرب موجودگی میں وہ بطور اپوزیشن لیڈر پرویز مشرف دور میں اپنی سیاسی جماعت کی قیادت کر چکی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز مشکل وقت میں انہیں شہباز شریف سے بھی زیادہ پارٹی قیادت یا وزارت عظمیٰ کےلئے بہتر تصور کرتے ہیں کیونکہ خاندان کے بقیہ افراد کو جے آئی ٹی میں بلایا جا چکا ہے۔ حسن، حسین نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر، اسحاق ڈار بھی پانامہ لیکس کے حوالے سے الزامات میں ملوث ہیں جبکہ کلثوم نواز کے خلاف کوئی الزام موجود نہیں تاہم فیصلہ شہباز شریف کے حق میں ہوا تو ایم این اے کی کوئی نشست خالی کروا کے ضمنی الیکشن میں شہباز شریف کو ایم این اے بنوایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تو تین ماہ چودھری شجاعت کی وزارت عظمیٰ کی طرح عارضی وزیراعظم کے لئے اگرچہ احسن اقبال کا نام لیا جا رہا ہے لیکن نواز شریف کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ وزیرتجارت خرم دستگیر پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں جو گوجرانوالہ کے بزرگ مسلم لیگی غلام دستگیر خان کے بیٹے ہیں اور شریف خاندان سے ان کی خاندانی رشتہ داری بھی ہے تاہم عابد شیر علی کا نام بھی عارضی وزیراعظم کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کلثوم نواز اگرچہ ایم این اے نہیں لیکن مخصوص نشستوں پر ایم این اے بننے والی کسی بھی خاتون سے استعفیٰ لیکر پارٹی انہیں اس کی جگہ نامزد کر سکتی ہے اور یہ عمل تین ماہ کی نسبت بھی بہت جلد مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ موجودہ وفاقی وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو بھی کوئی عارضی ذمہ داری دی جا سکتی ہے جو سینئر خاتون مسلم لیگی لیڈر اور سابق وزیر نجمہ حمید کی بھانجی ہیں اور ان کے خاندان کو شریف فیملی سے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال نواز شریف مستعفی ہوں یا عدالت سے نااہل نئے وزیراعظم کا فوراً انتخاب لازمی ہو گا چنانچہ 3 ماہ بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہی کو ضمنی الیکشن میں کامیاب کروائے اور ایم این اے بنوا کر وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے تاہم بعض قانونی حلقوں کے مطابق شہباز شریف پر بھی شریف فیملی کے ہی مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے جا سکتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں جے آئی ٹی میں بلوایا گیا تھا اس شکل میں محفوظ ترین امیدوار کلثوم نواز ہو سکتی ہیں آنے والے ہفتہ دس دن میں مزید صورتحال واضح ہو جائے گی اور 17 تاریخ کو عمران، سراج الحق اور شیخ رشید کی دائر کردہ رٹوں کے جواب میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر جب سپریم کورٹ کے ججوں نے کارروائی شروع کی تو اگرچہ فیصلہ فوری نہیں ہو سکتا تاہم تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق پر اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ آنے والے خطرات کیسے ہونگے اور حالات کس کروٹ بیٹھیں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain