تازہ تر ین

ضیا شاہد نے اہم مسئلہ پر قلم اٹھا یا ۔۔لارڈ نذیر احمد کا دبنگ خطاب

لندن (وجاہت علی خان سے) برطانوی ہاﺅس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ ”پاکستان کے خلاف سازش“ کی تصنیف ضیا شاہد کی طرف سے ایک بہترین کوشش ہے جس میں انہوں نے ایک حساس اور اہم مسئلہ کی نشاندہی کی ہے، ہاﺅس آف پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں ہونے والی ایک تقریب میں جہاں برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں اور دانشوروں نے ضیا شاہد کی نئی آنے والی کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ پر اظہار خیال کیا، لارڈ نذیر احمد نے تقریب کی صدارت کی اور اپنے صدرتی خطاب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضیا شاہد کو اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے
کشمیر پر بھی ایک کتاب لکھنی چاہئے، انہوں نے کہا مجھے علم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان 1974ءایکٹ کو ریفارم کر کے گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتی ہے جو میرے خیال میں درست قدم نہیں ہو گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ”روزنامہ جنگ لندن“ کے سابق ایڈیٹر ظہور نیازی نے کہا کہ ضیا شاہد ایک پیشہ ور صحافی اور پاکستانی صحافت کا ایک ممتاز نام اور بہترین لکھنے والے ہیں۔ انہوں نے ”پاکستان کے خلاف سازش“ لکھ کر ایک سنجیدہ موضوع پر روشنی ڈالی ہے جو یقینا حکومت اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا یقیناً حقوق کا مطالبہ کرنا کسی بھی ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے لیکن ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کو باغی ہی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ضیا شاہد کی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا جانا انتہائی اہم ہے کیونکہ ہماری نئی نسل جو امریکہ، یورپ اور برطانیہ جیسے ممالک میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھ رہی ہے اسے اس قسم کے حالات و حقائق سے روشناس کروانے کے لئے انگریزی زبان میں اس کتاب کا ترجمہ اشد ضروری ہے۔ ”دی لندن پوسٹ“ کے ایڈیٹر، بی بی سی ٹی وی اور ”الجزیرہ“ ٹی وی کے تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد قریشی نے کہا کہ ضیا شاہد نے یہ کتاب تصنیف کر کے پاکستان کی بہت بڑی خدمت کی ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد یونینسٹوں نے تمام حکومتی مشینری پر قبضہ کر لیا تھا بعد میں آنے والی سب ہی سیاسی جماعتیں مفاد پرستوں کا ٹولہ ثابت ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ضیا شاہد نے جن پاکستان کے باغیوں اور غداروںکے بارے میں بات کی ہے وہ کہانیاں نہیں حقائق ہیں برطانیہ میں بھی پاکستان کے کئی غدار پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے کہا بندوق اٹھانا اس وقت جائز ہوتا ہے جب آپ کی ریاست پر کوئی غیر ملکی حملہ آور ہو جائے، حکومتوں کے خلاف تو ہر کوئی بات کر سکتا ہے لیکن جب ریاست کے خلاف سازش ہوتی ہے تو پھر ریاستیں بھی متحرک ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا زیادہ تعداد میں میڈیا بھی غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بھی درجن سے زیادہ تحریکیں علیحدگی کے لئے چل رہی ہیں۔ ”92 ٹی وی“ کے برطانیہ میں بیورو چیف غلام حسین اعوان نے کہا کہ ضیا شاہد نے ”پاکستان کے خلاف سازش“ لکھ کر حقیقتاً پاکستان کے دشمنوں کو بے نقاب کیا ہے جو ریاست پاکستان کی ایک بڑی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضیا شاہد نے اس کتاب میں جن تاریخی حقائق کو کتابی شکل دی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے، ان غداروں میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو پاکستان کے وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے اور وہ اکثر برطانیہ اور یورپی ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تقاریر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو پاکستان اور اس کے عوام کا خیر خواہ ہے وہ باہر بیٹھ کر سازش کیوں کرتا ہے اپنے ملک اور اپنے عوام کے درمیان جا کر کیوں جدوجہد نہیں کرتا، ”روزنامہ اوصاف“ لندن کے ایڈیٹر مبین چودھری نے کتاب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کے خلاف سازش“ جیسی کتاب کی ہمیں اشد ضرورت ہے ضیا شاہد نے جن شخصیات کے بارے میں لکھا ان میں سے ہم چند ایک ہی کے بارے میں عام طور پر پڑھتے یا سنتے آئے ہیں لیکن ضیا شاہد نے تاریخی حوالوں سے بہت سے سچ اور حقائق اس کتاب میں آشکار کئے ہیں۔ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ جس دھرتی پر آپ رہتے ہیں اس کا قرض آپ پر واجب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا یہاں میرے دوست مشتاق لاشاری نے کہا ہے کہ جب کسی ریاست میں لوگوں کو ان کا بنیادی حق نہیں دیا جاتا تو پھر علم بغاوت بلند ہوتا ہے تو میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ حق کے مطالبہ اور علیحدگی کے مطالبہ میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا گزشتہ 70 سال میں پاکستان کو سیاست دانوں، بیورو کریسی اور دیگر نے لوٹا زیادہ اور دیا کم ہے۔ اسی لئے آج پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے تھا وہاں پہنچ نہ سکا۔ انہوں نے کہا جن سازشوں کا ذکر ضیا شاہد نے کیا ہے انہیں اس کتاب کے ذریعے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اس کتاب میں جتنے باب ہیں ان پر علیحدہ علیحدہ ایک نشست ہونی چاہئے اس سے مزید کئی حقائق سامنے آئیں گے۔ ”یو کے ٹائم“ لندن کے ایڈیٹر اے حق نے کہا کہ ضیا شاہد پاکستان کے ایک ممتاز ترین صحافی اور دانشور ہیں۔ جنہوں نے ”خبریں“ اخبار کو عام لوگوں کا اخبار بنا کر نہ صرف پاکستان بلکہ یو کے اور دنیا بھر میں متعارف کروایا۔ انہوں نے کہا ”پاکستان کے خلاف سازش“ لکھ کر انہوں نے ہم جیسے طالبعلموں کیلئے کافی آسانیاں پیدا کر دی ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان مخالفین کی تاریخ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ضیا شاہد کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انہوں نے الطاف حسین کو ’صاحب‘ لکھا ہے ورنہ وہ اس کا مستحق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہوا اور اوورسیز پاکستانیوں کو بھی اغیار سے طعنے سہنے پڑے، یہ لوگ ملک دشمن ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں اور برطانیہ و سوئٹزرلینڈ میں بیٹھ کر اپنے وطن کے خلاف سازشیں کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اُن کی کتاب میں پاکستان دشمنوں کا ذکر کر کے ضیا شاہد نے ملک و قوم پر احسان کیا ہے، ”تکبیر ٹی وی“ کے اینکر پرسن امدادحسین شہزاد نے کہا ضیا شاہد نے پاکستان کی صحافت کو نیا رنگ دیا ہے۔ انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں ”خبریں“ جیسا اخبار شروع کیا اور اسے کامیاب بنا کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا اور بیروزگار صحافیوں کو ملازمتیں فراہم کیں، ضیا جو کہ خود ورکنگ جرنلسٹ تھے انہوں نے یقینا پاکستان کی صحافت میں ایک کارنامہ انجام دیا آج انہوں نے ”پاکستان کے خلاف سازش“ کی صورت میں بھی ایک ایسا کارنامہ کیا ہے جس کیلئے پاکستان اور پاکستانیوں کو اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں جن غداروں کا ذکر کیا ہے اور ان کی تاریخ بیان کی ہے اس سے تاریخ کے طالبعلموں کو بڑی مدد ملے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست پاکستان کے لئے بھی یہ کتاب لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا اس نشست میں ایک دوست کی طرف سے دیا گیا یہ تاثر درست ہے کہ ضیا شاہد نے اپنے رپورٹرز کو کبھی کسی قسم کی لفافہ صحافت پر نہیں اکسایا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود اور اس نشست میں بیٹھے ہوئے کئی دوست اس بات کے گواہ ہیں ”ڈان ٹی وی“ کے بیورو چیف فاروق شاہ نے کہا کہ کچھ عاقبت نااندیش لوگوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے پاکستان کے خلاف یقینا سازش کی ہے اور مسلسل کر رہے ہیں، الطاف حسین ہو یا بلوچی، سندھی اور پختون علیحدگی پسند یہ تمام پاکستان کے غدار ہیں انہیں اگر پاکستان یا اپنے لوگوںکے لئے اتنی ہی ہمدردی ہے تو یہ پاکستان واپس جائیں اور وہاں جا کر اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا ضیا شاہد نے ”پاکستان کے خلاف سازش“ کی تصنیف کر کے یقینا ملک و قوم کی خدمت کی ہے ”دنیا ٹی وی“ برطانیہ کے بیوروچیف اظہر جاوید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ”خبریں“ میں پاکستان میں کام کیا ہے اور ضیا شاہد کے زیر سایہ بہت کچھ سیکھا ہے میں سمجھتا ہوں وہ نئے صحافیوں کے لئے بہترین ٹیچر کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ضیا شاہد نے بڑے اخبارات کی اجارہ داری توڑتے ہوئے صحافتی لارڈز کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضیا شاہد کی یہ کتاب پاکستان کے باغیوں پر ایک بہترین تاریخ ہے جس سے علم ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کب کب اور کس کس نے کیا کیا سازشیں کی ہیں۔ ”ایکسپریس ٹی وی“ برطانیہ کے بیورو چیف نسیم صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف تو ملک بنتے ہی سازشیں شروع ہو گئی تھیں، میں سمجھتا ہوں کہ ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ اور کسی پنجابی باغی کا ذکر بھی کتاب میں ہونا چاہئے تھا، اینکر، صحافی اور کالمسٹ مبین ارشد نے کہا ضیا شاہد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ انہوں نے پہلے سے موجود بڑے اخبارات کی موجودگی میں ”خبریں“ شائع کر کے پاکستان کی اخباری صنعت کو حیران کر دیا تھا اور ”خبریں“ کے ذریعے صحافت کا ایک عام اور سادہ اسلوب متعارف کروایا اور مختلف تجربے کئے آج کے تمام اخبارات بھی ان کی تقلید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کے خلاف سازش“ ایک مشکل موضوع تھا لیکن ضیا شاہد انتہائی آسان لیکن تاریخی حقائق کے ساتھ اسے بیان کر کے آنے والی نسلوں کے لئے بھی محفوظ کر دیا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ وہ جلد بعض اضافوں کے ساتھ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی لائیں گے اور اگر یہ شکوہ اور جواب شکوہ کی طرح ہو تو اور بھی بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا میرے خیال میں ایک کتاب پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں ہونے والی سازشوں پر بھی آنی چاہئے۔ مصنف اور سیاستدان ”تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی“ کے چیئرمین مشتاق لاشاری نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں سپورٹرز کلب ہیں انہوں نے عام لوگوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ میں سمجھتا ہوں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو غدار کہنا درست نہیں ہے اور انہیں قومی دھارے سے بالکل باہر نکال دینا بھی اچھا عمل نہیں، من حیث القوم جب ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں تو پوری قوم کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جس طرح قرارداد مقاصد میں کی گئی غلطی کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ہمیں قوم بننا اور خود کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ ”ایمزانٹرنیشنل“ میگزین کے ایڈیٹر اور المصطفیٰ ٹرسٹ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کہنہ مشق صحافی اور محب وطن دانشور محترم ضیا شاہد کی تہلکہ خیز کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ بے رحم حقائق، ناقابل تردید سچائیوں اور لرزہ خیز انکشافات پر مشتمل تحقیقی دستاویز ہے۔ آنکھیں کھول دینے والی اس تاریخی کتاب میں ضیا شاہد نے وطن عزیز پاکستان کے خلاف ہونے والی گہری سازشوں کو نہایت جرا¿ت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے اور دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے تاریخ کے سینے میں دفن رازوں کی نقاب کشائی کی ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ پاک سرزمین سے غداری کرنے والے نام نہاد قوم پرست لیڈر کب کب کیسے کیسے اور کہاں کہاں ناموس ارض وطن کا سودا کرتے رہے اور مفادات سمیٹتے رہے۔ غداران وطن کی وطن فروشی کی المناک اور دردناک کہانی بیان کرتی یہ کتاب لکھ کر ضیا شاہد نے حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے۔ اس تحقیقی معرکہ آرائی پر محترم ضیا شاہد پوری پاکستانی قوم کی طرف سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے پاکستان کے ازلی دشمنوں کی گہری چالوں، مذموم عزائم اور ناپاک ارادوں سے آگاہی ملتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور، ناکام اور بدنام کرنے کے لئے ہر وقت سرگرم رہتا ہے۔ بھارت کی پاکستان دشمنی کئی بار کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ضیا شاہد کی اس کتاب میں بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے والے قوم پرست لیڈروں کی پاکستان مخالف وارداتوں اور گھاتوں سے پردہ ہٹایا گیا ہے اور تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور کراچی کے بعض ضمیر فروش لیڈر کیسے کیسے پاک وطن کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہے اور اس غداری کے عوض بھارت سے بھاری رقوم وصول کرتے رہے۔ اس تحقیقی کتاب کا دامن حیران اور ششدر کر دینے والے سنسنی خیز حقائق سے بھرا ہوا ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے تا کہ وہ جان سکے کہ لسانیت، علاقائیت اور دوسری عصبیتوں کے نام پر پاکستان کو کیسے عدم استحکام کا شکار کیا گیا۔ ضیا شاہد نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ بھارتی ایجنٹوں اور ”را“ کے تنخواہ داروں کی خباثتوں کو کھل کر بیان کیا ہے اور یہ کتاب تحریر کر کے تاریخ کا قرض چکایا ہے۔ بھارت کے ہاتھوں بک جانے والے مفاد پرست اور زرپرست لیڈر آج بھی قوم کو تقسیم کرنے اور نفرتیں پھیلانے کے لئے لسانیت، صوبائیت اور علاقائیت کا پرچار کرنے میں دن رات مصروف ہیں۔ قوم پرست سیاست کی آڑ میں بھارتی ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے ان حالات میں پاکستانیت کا شعور پھیلانے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بہترین توڑ قومی یکجہتی کا فروغ ہے۔ قومی اتحاد کے ذریعے ہی پاکستان دشمن سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ میں حرمت لفظ کے امین ضیا شاہد کو وطن کی حرمت سے کھیلنے والوں کو بے نقاب کرنے پر سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کا یہ قلمی جہاد ایسی قومی خدمت ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس کتاب کا ایک ایک لفظ غداران وطن کے سروں پر کوڑے برساتا رہے گا۔ حکمرانوں اور قوم کو جگانے کے لئے یہ کتاب بانگ درا کا کام دے گی۔ پاکستان کے حکمرانوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کے لئے ضیا شاہد کی اس کتاب کا مطالعہ کرنا انتہائی ضروری ہے تا کہ وہ پاکستان مخالف سازشوں کی مزاحمت کے لئے تدابیر کر سکیں۔ تقریب کے آخر میں میزبان بیورو چیف ”خبریں“ یو کے وجاہت علی خان نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضیا شاہد نے بنیادی طور پر ”خبریں“ میں شائع ہونے والے اپنے کالمز کو کتابی شکل میں جمع کیا ہے۔ انہوں نے اس میں اپنے ذاتی خیالات یا تجزیے کی بجائے اُن تاریخی حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے جو موجود تو ہیں لیکن بکھرے ہوئے ہونے کی بنا پر عام قاری کی نظر سے اوجھل تھے اسلئے اس کتاب کو تاریخ کے تناظر میں سمجھا جائے نہ کہ تجزیہ، یہاں ایک دوست کی کہی ہوئی یہ بات کہ اس کتاب میں ان لوگوں کے پوائنٹ آف ویوز شامل نہیں کئے گئے جنہیں غدار کہا گیا تو عرض ہے کہ کتابوں میں تجزیے نہیں ہوتے چنانچہ یہ بات بھی مدنظر رکھنی ہو گی کہ فیڈریشن کے اندر رہتے اور اسے تسلیم کرتے ہوئے حقوق کی بات کرنا غداری نہیں ہوتی بلکہ ملک توڑنے کی بات کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain