تازہ تر ین

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

ڈاکٹرنوشین عمران
ہیپا ٹائٹس جگر میں انفکشن کا باعث ہونے والی سوزش اور ورم کا نام ہے۔ انفکشن کی زیادہ تر وجہ وائرس ہے جبکہ بعض اوقات شراب، کچھ ادویات کا بے جا استعمال یا انسان کے اپنے مدافعاتی نظام کی خرابی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی سائنس جگر کو انسانی جسم کا سب سے برا عضو اور گلینڈ تصور کرتی ہے جو جسم کے سب سے اہم کام سرانجام دیتا ہے۔ جس کاکام جسم کے فاسد زہریلے مادے نکالنا، وٹامنز اور کئی ضروری غذائی اجزا کو ذخیرہ کرنا، خوراک ہضم کرنا اور جسم کی ضرورت کے مطابق اس خوراک سے توانائی حاصل کرنا (میٹابولزم کا عمل) جسمانی ضرورت کے مطابق پروٹین تیار کرنا، خوراک ہضم کرنے کے لئے کیمیکل بنانا، شوگر اور کولیسٹرول کی مقدار کو توازن میں رکھنا، گلوکوز ذخیرہ کرنا اور ضرورت پڑنے پر اس سے توانائی حاصل کرناہے۔ جسم کے یہ سب سے اہم کام جگر کے خراب ہونے پر متاثر ہو جاتے ہیں۔ آج کل جگر خرابی کی سب سے بڑی وجہ وائرس سے ہونے والی انفکشن ہے۔ اگر انفکشن چھ ماہ سے کم ہے تو Acute کہلائے گی اور اگر اس کا دورانیہ چھ ماہ سے بڑھ جائے تو Chronic کہلائے گی۔ وائرس سے ہونے والے انفکشن عموماً وائرس A,B,C,D,E سے ہوتے ہیں۔
وائرس سی ‘C’ سے ہونے والا ہیپاٹائٹس بڑی خاموشی سے جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس وائرس کے کرانک ہونے یا دائمی ہونے کا رسک سب سے زیادہ ہے۔ جگر کو جتنا زیادہ نقصان ہو گا، جگر کے سرطان کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ البتہ یہ عمل سالوں پر محیط ہے۔ سی وائرس خون کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کی استعمال کردہ سرنج، سوئی، بلیڈ، ناک کان چھدوانے والا آلہ، جسم پر ٹیٹو بنوانے کا آلہ، دانت کا علاج کرنے والے آلات یا ایسے کوئی بھی آلات جو جسم میں داخل ہو کر جلد کے اندر یا خون میں شامل ہوں، وائرس کو منتقل کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ سی وائرس سے زیادہ علامات نہیں ہوتی اگر ہوں تو بھوک کی کمی، وزن میں کمی، متلی قے، جسم پر خارج، پیلی رنگت ہو سکتے ہیں۔ 2012ءتک اس کے علاج کے لئے صرف انٹرفیرون شیکے استعمال کہے جاتے تھے لیکن اب گولیوں کی صورت قدرے سستی ادویات دستیاب ہیں جیسا کہ رائیبادین، پروٹینیز، ڈی اے اے وی۔ علاج کا دورانیہ چوبیس سے چالیس ہفتے ہو سکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس بی کے پھیلاﺅ کے طریقے بھی وائرس سی جیسے ہی ہیں۔ حاملہ ماں سے بچے کو اور ازدواجی تعلقات سے بھی وائرس پھیلتا ہے۔ ماں سے بچے کو منتقل ہونے والے 95 فیصد بچوں میں مرض دائمی کرانک بن جاتا ہے۔ ایسے مریض جن میں یرقان ہو جائے ان میں کرانک سٹیج کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کی علامات فلو، نزلہ، زکام، ہلکا بخار، تھکن، جسم درد، سردرد، متلی، بھوک کی کمی، پیٹ درد، دست یا قبض، جلد پر دھبے، یرقان، جوڑوں میں درد ہو سکتی ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دستیاب ہے جس کا کورس مکمل کروانے سے مرض سے بچاﺅ ممکن ہے۔
ہیپاٹائٹس اے A کا وائرس فضلے سے خارج ہوتا ہے اور آلودہ پانی اور خوراک سے صحت مند شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ کچھ عرصہ میں جسم سے ختم ہو جاتا ہے لیکن اس کی علامات میں یرقان، قے متلی، دست، بخار سرفہرست ہیں۔
دنیا بھر میں ہونے والی زیادہ تر ہلاکتیں وائرل ہیپاٹائٹس اور اس کی پیچیدگی کے باعث ہوتی ہیں۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved