اعصام نے انٹالیااوپن کا تاج اپنے سرسجا لیا

انٹالیا(سپورٹس ڈیسک)قومی ٹینس سٹاراعصام الحق نے انٹالیا اوپن کا مینزڈبلزٹائٹل اپنے نام کرلیا۔فائنل میں قومی ٹینس سٹاراعصام الحق اوران کے جوڑی دارسویڈن کے روبرٹ لینڈ سٹیڈنے کروشیا کے میٹ پاﺅچ اوراولیور ماراچ کو شکست سے دوچارکیا۔انٹالیامیں کھیلے گئے فائنل میں پاک سویڈش جوڑی نے عمدہ کھیل کامظاہرہ کیا اورپہلے سیٹ میںحریف جوڑی پردھاک بٹھائے رکھی اورپہلاسیٹ 7-5سے اپنے نام کیا۔دوسرے سیٹ میں بھی اعصام اورروبرٹ کاپلڑابھاری رہا اور4-1 کی برتری حاصل کرلی۔اس موقع پر میٹ پاﺅچ اوراولیورماراچ کھیل جاری نہ رکھ سکے اورمیچ سے دستبردارہوگئے اوراعصام روبرٹ فائنل کے فاتح قرارپائے۔اس سے قبل سیمی فائنل میں پاک سویڈش جوڑی نے اسرائیل کے جوناتھن ایلرش اورکروشیا کے نکولامیک ٹچ کوشکست دی تھی۔

جے آئی ٹی کا فائنل راﺅنڈ شروع ، سوالنامہ تیار، حسن، حسین، مریم نواز سے حتمی بیان لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(کرائم رپورٹر‘ مانیٹرنگ ڈیسک‘ ایجنسیاں) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ریکارڈ میں تبدیلی کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے حکام نے متعلقہ افسران کے بیان ریکارڈ کرلئے۔ فائل میں جون 2016 ءمیں 2013 ءکی تاریخ درج کرنے کی تصدیق کی گئی۔ ذرائع کے متعلق ایس ای سی پی کے متعلقہ افسران نے ایف آئی اے ٹیم کو بتایا کہ چودھری شوگر ملزکی تحقیقات 2013 ءمیں ختم کردی گئی تھیں اسی سال برطانوی ادارے کو خط لکھا گیا تاہم فائل پر تحقیقات ختم کرنے کی تاریخ درج نہ تھی جون 2016 ءمیں 2013 ءکی پرانی تاریخ درج کرکے دستخط کئے گئے۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی متعلقہ ایس ای سی پی حکام کے صرف بیان ریکارڈ ہوئے ہیں اب بیانات کو متعلقہ ریکارڈ سے ملایا جائے گا اور رپورٹ مرتب کرکے سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی )کی پانچ رکنی ٹیم نے بطور گواہ پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈکرادیا ہے ،منی لانڈرنگ اور چوہدری شوگر ملز سے پوچھ گچھ ہونے کے ساتھ ایس ای سی پی کے شعبہ کمپنی رجسٹریشن نے تمام دستاویزات اور اہم ریکارڈ بھی جے آئی ٹی کے حوالے کر دیا ہے ۔ جمعہ کے روز جے آئی ٹی اجلاس میں ایس ای سی پی کے ریجنل آفس لاہور سے پانچ رکنی ٹیم پاناما لیکس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئی اور اس موقع پر جے آئی ٹی نے ایس ای سی پی کے ریکارڈ کو چیک کرنے کے ساتھ ایس ای سی پی ٹیم پر سوالات کیے اور جہاں پر تضاد نظر آیا انکے نوٹ لکھے ۔ذرائع کا کہنا ہے جے آئی ٹی نے ایس ای سی پی ٹیم کے جوابات اور ریکارڈ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو پیش کرنے کے لیے رپورٹ بھی مرتب کرنا شروع کر دی ہے نیز کچھ اختلافی بیانات پر ایسے نوٹ بھی بنائے جا رہے ہیں جو کہ وزیراعظم کے کزن طارق شفیع ،حسن نواز،حسین نواز اورمریم صفدر کی جے آئی ٹی پیشی پر ان سے بھی سوال کیے جائیں گے ۔معلومات کے مطابق جے آئی ٹی اجلاس میں حدیبیہ پیپرملزاور دیگر اداروں سے حاصل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے ۔دوسری جانب ریکارڈ ٹمپرنگ کے معاملہ پر رایف آئی اے کی خصوصی ٹیم نے تحقیقات مکمل کرلی ہیںذرائع کے مطابق چیئرمین ایس ای سی پی اورافسران ایف آئی اے ٹیم کو مطمئن نہ کرسکے ہیں ایف آئی اے کی ٹیم کے سامنے ایس ای سی ؛پی کے چیئر مین سمیت جن جن سے تحقیقات کی گئی ہیں انکے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے ایف آئی اے نے ایس ای سی پی کا انٹرنیٹ سرور قبضے میں لے لیا ہے اور خیال کیا جارہا ہے ایف آئی آے ٹیم انٹرنیٹ سرور کا فرانز ک معائنہ کروائے گی اورچوہدری شوگر ملز کے بارے ہونے والی کمیونیکشن کا ریکارڈ سرور کے ذریعے حاصل کیا جائے گا،معلومات کے مطابق جے آئی ٹی نے 10جولائی کو سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرنے کے حوالے شریف براداران کے متضاد بیانات پر بھی رپورٹ بنائی جارہی ہے جو کہ درجنوں صفحات پر مشتمل ہو گی۔ ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین ظفر حجازی اور افسران جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے نجی ٹی وی ذرائع، چودھری شوگر ملز کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری ثابت ہو گئی ہے۔ 2016ءمیں شوگر مل کے متعلق تحقیقات ہوئی تھیں۔ پرانی تاریخوں کے دستخط کے الزامات بھی درست نکلے۔ ایس ای سی پی کے عہدیداران کے ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کر دیئے۔ ظفرحجازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد اپنی پوزیشن واضع کروں گا۔ انہوں نے کہا کسی ادارے کے سربراہ کا اس ادارے کی ہر خامی سے آگاہ ہونا ضروری نہیں۔ ایس ای سی پی کے چیئرمین ظفر حجازی، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور دیگر افسران شریف خاندان کی کاروباری تفصیلات کے ہمراہ پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ایس ای سی پی کے 5افسران چودھری شوگرملز کے خلاف تحقیقات کا ریکارڈ بھی ساتھ لائے۔سربراہ ایس ای سی پی نے اپنے دیگر افسران کے ہمراہ جے آئی ٹی کو شریف خاندان کی ملکیتی چوہدری شوگر ملز کے خلاف سال 2011میں شروع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ اور دستاویزات پیش کیں اور بتایا کہ یہ تحقیقات سال 2013میں بند کر دی گئی تھیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایس ای سی پی کے افسران نے تفتیش کے دوران جے آئی ٹی کو بتایا کہ چوہدری شوگر ملز کے خلاف تحقیقات روک دینے کا معاملہ مین شیٹ پر نہیں لایا گیا تھا۔علاوہ ازیں چئیرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی نے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنی پوزیشن وفاقی تحقیاتی ادارے کے سامنے بیان کر دی ہے جو کہ کافی حد تک اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں بھی واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ انکوائری کی کارروائی ابھی جاری ہے اس لئے میں اس حوالے سے کوئی بھی بات عوامی سطح پر کہنا مناسب نہیں۔ تاہم جب انکوائری مکمل ہو جائے گی تو میںاپنی پوزیشن ضروری عوامی سطح پر بیان کروں گا۔ اس وقت صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کی کارروائی اور کمپنیز آرڈیننس 1984 کی دفعہ 263 کے تحت قانونی کارروائی دو الگ الگ اور مختلف چیزیں ہیں اور ان کو ملانا نہیں چاہیے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک ادارے کے سربراہ کو کسی خاص کیس میں کسی قسم کی خامیوں یا کمی بیشی کا ذاتی طور پر علم ہو اور ادارے کے سربراہ کو اس کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھیرایا جا سکتا ۔ اگر ادارے کے افسران اور ملازموں کی کوتاہیوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہو گی اور ہر ایک افسر اپنی کوتاہیوں کے لئے ادارے کے سربراہ کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔واضح رہے کہ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے لئے صر ف 9 دن رہ گئے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو 10جولائی تک رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم رواں ہفتے وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں اور صاحبزادی کو حتمی طور پر بلا کر اپنی رپورٹ مکمل کرنے جا رہی ہے جبکہ منی لانڈرنگ معاملے کے اہم گواہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو سب سے آخر میں طلب کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے دوسری طرف نیب کے سابق چیرمین جنرل (ر) امجد نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے اورانکشاف کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم اس وقت کے صدر جنرل ر پرویز مشرف نے دیا تھا کیونکہ یہ جلاوطنی معاہدے کا حصہ تھا مگر یہ کیس کسی بھی وقت کھولا جا سکتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے افراد کے بیانات کے تضادات پر سوالنامہ تیار کر لیا ہے اب وزیر اعظم کے صاحبزادوں ،صاحبزادی اور طارق شفیع سے حتمی بیانات لیے جایئں گے جے آئی ٹی ارکان شریف خاندان کے افراد سے متضاد بیانات سے متعلق سوالات پوچھے گی جے آئی ٹی میں دیے گئے بیانات شریف خاندان کے افراد کے سامنے رکھے جایئں گے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شریف خاندان منی ٹریل سے متعلق ٹھوس شواہد دینے میں تاحال ناکام ہے اور جے آئی ٹی حدیبیہ پیپر مل پر اسحاق ڈار کے ایک سو چونسٹھ کے بیان کو بنیاد بنا رہی ہے جے آئی ٹی شریف خاندان کے افراد سے حتمی بیانات لینے کے بعد رپورٹ مرتب کرئے گی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کادس جولائی تک رپورٹ مرتب کرنے کا امکان ہے کیونکہ اسے سپریم کورٹ کی جانب سے یہی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی ہے دوسری طرف حدیبیہ پیپر مل کے معاملہ پر نیب کے سابق چیرمین جنرل (ر) امجد نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے ذرائع کے مطابق جب وہ چند دن قبل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو ان سے جے آئی ٹی نے سوال کیا تھا کہ حدیبیہ پیپر مل کی انکوائری بند کرنے کے احکامات کس نے دیئے جس پر جنرل ر امجد کا جواب تھا کہ انکوائری بند کرناشریف خاندان اور پرویز مشرف کے درمیان جلا وطنی معاہدہ میں شامل تھا جنرل (ر) پرویز مشرف نے حدیبیہ پیپر مل کی انکوائری بند کرنے کا حکم دیا دوسری طرف ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سابق چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ اس وقت اسحاق ڈار نے دو ہزار میں حدیبیہ پیپر مل کے معاملے پر مرضی سے بیان حلفی دیا تھا اور اسحاق ڈار نے پرویز مشرف کے قریبی ساتھی کی مدد سے بیان دینے کی خواہش کی تھی اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم چھ یا سات جولائی کو اسحاق ڈار کو طلب کرئے گی اور اسحاق ڈار سے صرف بیان حلفی کی تصدیق یا تردید کا سوال پوچھا جائے گا۔

حدیبیہ پیپرز ملز: شریف خاندان اور پرویز مشرف میں معاہدہ اہم انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حدیبیہ ملز کی انکوائری بند کرنے کا شریف خاندان اور پرویز مشرف میں معاہدہ ہوا تھا۔ سابق چیئرمین نیب جنرل (ر) امجد نے جے آئی ٹی کے سامنے حقائق کا انکشاف کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی نے جنرل (ر) امجد سے سوال کیا کہ حدیبیہ ملز کی انکوائری بند کرنے کے احکامات کس نے دیئے تو جواب میں کہا کہ انکوائری ایک معاہدے کے تحت بند کی گئی یہ معاہدہ شریف خاندان اور پرویز مشرف کے درمیان ہوا جس کے بعد مشرف نے انکوائری بند کرنے کا حکم دیا جنرل (ر) امجد نے جے آئی ٹی کو یہ بھی بتایا کہ اسحاق ڈار نے بیان حلفی مرضی سے دیا تھا، اسحاق ڈار نے پرویز مشرف کے ایک قریبی دوست کی مدد سے بیان دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ان انکشافات کے بعد اسحاق ڈار کو 6 جولائی کو طلب کئے جانے کا امکان ہے۔

پیٹرول صرف 1.50روپے فی لیٹر سستا ،مٹی کے تیل کی قیمت برقرار

اسلام آباد (آئی این پی) حکومت نے رواں ماہ کےلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 1.50 روپے کی کمی کر دی گئی جبکہ کیروسین اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں‘ ڈیزل کی قیمت81.40 روپے سے کم ہو کر 79.90 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت 72.80 روپے سے کم ہو کر 71.30 روپے پر آ گئی ہے‘ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب رات بارہ سے ہو گیا۔ جمعہ کوپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے و زیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پچھلے سال ہم کئی مہینے تک لگاتار جتنا بوجھ تھا برداشت کرتے رہے۔ کیروسین اور لائٹ ڈیزل آئل پر سردیوں کے مہینوں میں ہمیں کیش سبسڈی بھی دینا پڑی تاکہ ان کی قیمتوں کو برقرار رکھا جا سکے کیونکہ یہ دونوں آئٹم بہت ہی کم آمدنی والے لوگوں کے استعمال میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت کو 44 روپے پر ہی برقرار رکھا جائے اور اس میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔10.95 روپے کے اضافے کی تجویز کو منظور نہیں کیا گیا۔لائٹ ڈیزل آئل کو بھی 44 روپے کی موجودہ قیمت پر ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکم جولائی سے 1.50 روپے کمی کی جا رہی ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق ڈیزل کی قیمت81.40 روپے سے کم ہو کر 79.90 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت 72.80 روپے سے کم ہو کر 71.30 روپے پر آ گئی ہے جبکہ کیروسن اورلائٹ ڈیزل کی قیمتیں 44 روپے پر برقرار رہیں گی۔ مصنوعات کی قیمتیں وزیر اعظم کی منظوری سے پیش کی گئی ہیں۔‘ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب رات بارہ سے ہو گیا۔

سندھ میں نیب بارے اہم خبر ، سیاستدانوں کیلئے خوشخبری

کراچی (سٹاف رپورٹر‘ ایجنسیاں) سندھ کابینہ نے نیب کی جگہ صوبائی سطح پراحتساب کے لیے اینٹی کرپشن قوانین میں ترامیم کے لیے قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی ہے جبکہ سندھ میں نئی شوگرملزکے قیام پرپابند ی عائد کردی ہے اس بات کا فیصلہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔سندھ کابینہ کا اجلاس جمعہ کووزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرا ، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، صوبائی مشیر، اسپیشل اسٹنٹس اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ صوبائی وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ اورصوبائی وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ میں نیا اینٹی کرپشن قانون منظوری کے بعد نافذ العمل ہوتے ہی نیب مقدمات اینٹی کرپشن کورٹس کو منتقل ہوجائینگے۔ صوبائی وزیر ناصرحسین شاہ کا کہنا تھا کہ مشرف دور کے دو قوانین ختم کرچکے نیب قانون کا سندھ میں دائرہ کار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورکابینہ نے اس کے لیے اینٹی کرپشن قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب کا قانون مشرف دور کا کالا قانون ہے ۔ ہم اپنا نیا قانونی مسودہ لارہے ہیں جسے منظوری کے لیے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ صوبائی وزیرقانون ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ تیس دن کے اندر نیا اینٹی کرپشن کا قانون لائینگے جسکا مسودہ تیارکرلیا گیا ہے۔ نیب قانون انسانی حقوق کے خلاف تھا۔عجب قانون تھا کہ نوٹس دینے اور رہا کرنیوالا ایک تھا ۔ایک سوال کے جواب میں ناصرشاہ کا کہنا تھا کہ سب نے ملکر کام کرنا ہے حکومت سندھ بارشوں سے متاثرہ افراد کی مددکررہی ہے۔سندھ کابینہ نے صوبے میں نیب کے قانون کو غیر موثر کردیا جس کے بعد نہ صرف پیپلز پارٹی کے کئی وزراءکو ریلیف ملے گا بلکہ نیب کی کارروائیاں صرف وفاقی حکومت کے محکموں تک محدود ہو جائیں گی۔نجی ٹی وی کے مطابق سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا جو کہ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ نیب کا بوریا بستر گول کرنے کا تھا۔ کابینہ کے اجلاس میں نیب کا آرڈیننس 1999ءغیر موثر قرار دے دیا گیا ہے۔ نیب آرڈیننس کو ختم کرنے کا بل سندھ اسمبلی میں پیر کو پیش کیا جائے گا۔یہ تجویز ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے حکومت سندھ کو دی گئی تھی اور یہ قائم علی شاہ کے وقت سے زیر غور تھی تاہم اس پر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مراد علی شاہ نے بطور وزیر اعلیٰ یہ اہم قدم اٹھاتے ہوئے سندھ میں نیب کو غیر موثر کرنے کی منظوری دی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی نیب آرڈیننس 1999ءختم ہونے کی تصدیق کردی ہے اور بتایا ہے کہ اس اقدام سے سندھ میں نیب کی عدالتیں ختم نہیں ہوں گی بلکہ صرف صوبائی حکومت کے کیسز ختم ہوجائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام محکموں میں کی جانے والی کرپشن کی تحقیقات جاری رہیں گی۔نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے کئی وزراءایسے ہیں جن کے خلاف نیب میں انکوائریاں چل رہی ہیں، سندھ کابینہ کے اس اقدام کے بعد بہت سے سیاستدانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔واضح رہے کہ پہلے بدعنوانی کے کیسز نیب کے حوالے کیے جاتے تھے لیکن نیب آرڈیننس 1999ءغیر موثر ہونے پر سندھ حکومت کے زیر اہتمام محکموں کے کیسز نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو جائیں گے اور آئندہ صوبائی حکومت میں جو بھی کرپشن ہو گی اس کی تحقیقات یا اس کے خلاف کارروائیاں صوبائی حکومت کا محکمہ اینٹی کرپشن کرے گا۔سندھ حکومت کی جانب سے نیب کو غیر مو¿ثر قرار دینے کے بل کے حوالے سے معروف ماہر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے اپنی کرپشن اور غلط کاموں کو چھپانے اور ان سے بچنے کے لئے یہ بل پاس کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے نیب کو غیر مو¿ثر قرار دینے کا بل حکومت نے اپنی حفاظت اور نیب کے حصار سے نکلنے کے لئے بل پاس کیا ہے۔ سندھ حکومت کے پاس نیب کو غیر مو¿ثرقرار دینے کا اختیار ہے یا نہیں ہے یہ قابل بحث نکتہ ہے اس پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ نیب کے اختیارات کے خلاف کراچی اور پشاور کی صوبائی عدالتوں میں کیس زیر سماعت موجود ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی ادارے کو کام نہیں کرنے دیا جاتا، کرپشن پر کوئی چارہ جوئی نہیں ہوتی۔ چیئرمین نیب وفاقی حکومت کے انڈر آتا ہے اس لئے نیب وفاق کے خلاف کارروائی نہیں کرتی جب کہ صوبائی حکومت اپنی حفاظت کے لئے نیب کو غیر مو¿ثر قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے، نیب کو غیر مو¿ثر قرار دینا حل نہیں بلکہ نیب کے قوانین میں اگر گنجائش نہیں ہے تو اس کے قوانین میں ترمیم ہونی چاہئے۔