لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نوازشریف صاحب کو ہم نے بارہا کہا کہ شاید ان کے لیگل ایڈوائزر صحیح مشورہ نہیں دے رہے۔ ان کے بقول وہ اور ان کی فیملی اس لئے نیب ہی نہیں ہوں گے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل جمع کرا رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے تمام احکامات کو ماننا چاہئے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نظرثانی اپیل کے ساتھ انہوں نے اسٹے مانگا ہے یا نہیں۔ یا عدالت نے انہیں دیا ہی نہیں۔ اگر اسٹے نہیں ملا ہے تو انہیں نیب جانا ہی پڑے گا اور ان کے سوالوں کا جواب دینا ہو گا۔ دانیال عزیز کو خدمات کے بدلے وزارت تو دوبارہ مل ہی گئی۔ وہ شاہد خاقان کی جگہ وزیراعظم تو نہیں بن سکے۔ وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف سے بار بار کیا مانگا جا رہا ہے؟ تفتیشی یا تحقیقی ادارہ جب چاہے میاں نوازشریف کو بلا سکتا ہے۔ کورٹ کے پاس اختیارات ہیں وہ جب چاہیں بلا سکتے ہیں۔ کالے کوٹ والوں سے تو سب ڈرتے ہیں۔ جج بھی ان کا وزن لیتے ہیں۔ وکلا جلد اشتعال میں آ جاتے ہیں اور سڑکوں پر بھی آ جاتے ہیں۔ لیکن انہیں اپنے معاملات پرامن طریقے سے حل کر لینے چاہئیں۔ احتجاج وغیرہ انہیں زیب نہیں دیتے۔ آئی ایس پی آر کا ہم بہت احترام کرتے ہیں لیکن افسوس ہوا ان کی یہ بات سن کر کے چیئرمین سینٹ کی سفارشات جب ہمارے پاس آئیں گی تو اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایک جانب چیئرمین سینٹ رضا ربانی صاحب ہی دوسری جانب ترجمان آئی ایس پی آر جنرل غفور صاحب ہیں۔ اب یہ نئی دھڑا بندی شروع ہو گئی ہے۔ 1947ءسے آج تک ایسی روایات موجود نہیں تھیں جو آج پیدا کی جا رہی ہیں کہ فوج اور سول اداروں کے درمیان کچھ اختلافات ہیں اور اب چیئرمین سینٹ اِسے دور کروائے گا۔ سمجھ نہیں آئی کہ میجر جنرل غفور صاحب اس سلسلے میں کوئی کمیٹی بنائیں گے یا کوئی عدالت قائم کریں گے۔ کسی ملک میں ایسی مثال موجود نہیں کہ سول اور ملٹری تعلقات کی بحالی کے لئے کمیٹی بنائی جائے۔ دنیا میں کبھی ایسے عدالت نہیں بنائی گئی۔ لگتا ہے سیاست دان بھی اپنی حدوں سے آگے نکل گئے ہیں اور فوج بھی اپنی حدیں بہت پیچھے چھوڑ آئی۔ میرے خیال میں غفور صاحب کا یہی بیان کافی تھا کہ کوئی اختلافات نہیں ہیں اور ہم ایک پیج پر ہیں۔ جنرل غفور صاحب سے درخواست کروں گا کہ برائے مہربانی اس قسم کی نئی چیزوں کو آنے سے روکیں۔ اس طرح ایسا راستہ کھل جائے گا کہ ہر تیسرے روز سول، ملٹری لیڈران عدالتیں لگا کر ڈائیلاگ کیا کریں گے۔ ہمارے آئین میں کہیں نہیں لکھا ہوا کہ سول، ملٹری تعلقات میں خرابی آنے کے بعد چیئرمین سینٹ ثالثی کا رول ادا کریں گے۔ یہ فوج کیا کر رہی ہے اور چیئرمین سینٹ کیا مثال قائم کرنے جا رہے ہیں۔ فوج اپنے ترجمان کے ذریعے آئین میں کون سی ترامیم کرنے جا رہے ہیں۔ اگر ایسا ہونے جا رہا ہے تو خدارا یہ تو بتا دیں کہ آئین کے کس آرٹیکل کے تحت اور کس شق کی مد سے آپ یہ مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔ سول منتخب ارکان کو اپنا کام کرنے دیں۔ ملک کو آئین کے مطابق چلنے دیں۔ ملکی تاریخ میں کبھی بھی ملٹری نے سول حکومتوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات نہیں کئے ہیں۔ آرمی چیف صاحب بہادر! آپ یہ جو نئی طرح ڈالتے جا رہے ہیں وہ ملک کو بہت مہنگی پڑے گی۔ برائے کرم اس سے بچیں۔ آئی ایس پی آر کی وضاحت تو قابل قبول ہے۔ ملکی تاریخ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جب آرمی افسران ریٹائر ہونے کے بعد سیاسی پارٹیوں میں چلے گئے تھے۔ جنرل عبدالقیوم مسلم لیگ (ن) میں ہیں اور نصیراللہ بابر پی پی پی میں ہیں۔ وہ بینظیر کے معاون خصوصی تھے۔ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ مسلم لیگ (ن) میں ہیں۔ فوج سے نکلنے کے بعد کوئی شخص کیا بیان دیتا ہے کیا بات کرتا ہے اس کی ذمہ داری فوج پر عائد نہیں ہوتی۔ چوہدری نثار علی خان ہر تقریر میں ایسے ہی کہتے ہیں کہ کل شام تک جو سوچا تھا وہ آج نہیں کہوں گا۔ گویا وہ ایک دن پہلے جو سوچتے ہیں۔ میاں شہباز شریف کا ایک فون جانے کے بعد وہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ اپنا اور اخبار نویسوں کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ انہیں مشورہ ہے کہ اس سے قبل کہ لوگ آپ پر بھروسہ کرنا چھور دیں آپ جھوٹ بولنے کی یہ روش تبدیل کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ صحافی ان کی پریس کانفرنس میں جانا ہی چھوڑ دیں۔ میجر جنرل غفور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ جب ہمارے پاس سینٹ سے سفارشات آئیں گی تو ہم اپنا لائحہ عمل بتائیں گے۔ اس طرح لائحہ عمل کا اعلان کرنا دکھائی دیتا ہے کہ ان کی طرف سے فیصلہ ہے۔ نیب سپریم کورٹ کے احکامات پر کام کر رہی ہے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہو گی کہ نوازشریف صاحب کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ وہ سابق وزیراعظم ہیں ان کی عزت و احترام سب پر واجب ہے۔ میاں صاحب جس طرح جے آئی ٹی میں گئے تھے اسی طرح کسی ادارے کے سوال جواب کرنے پر انہیں وہاں جا کر جواب ضرور دینا چاہئے۔ یہ کوئی دلیل نہیں کہ مقدمہ کیا ہوا ہے اس لئے جواب دینے نہیں جاﺅں گا۔ اگر میاں صاحب کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ایک سیاسی ہمدردی انہیں حاصل ہو جائے گی۔ کراچی میں سیاسی مفاہمت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب سے ایم کیو ایم (لندن) الگ ہوئی تو ایم کیو ایم (پاکستان) بنی اور ایک جماعت پی ایس پی اس میں سے نکلی اسی طرح اُردو بولنے والوں کے نمائندے کے طور پر پرویز مشرف بھی سامنے آئے اب وہاں کی تمام پارٹیوں کو احساس ہو چلا ہے کہ مفاہمت ضروری ہے۔ ایم کیو ایم کی توڑ پھوڑ سے پی پی پی وہاں سے سیٹ جیت گئی۔ لگتا ہے کہ کراچی شہر میں بھی اب ایم کیو ایم کے سارے دھڑے بھی اکٹھے ہو کر کوئی بڑی تبدیلی واپس لائیں گے اور یہ اکثر سیٹیں ہار جائیں گے۔ اسی خوف کے تحت، مہاجر ووٹ کو اکٹھا کرنے کیلئے انہوں نے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ بنانے کا سوچا ہے تا کہ پی پی پی کو سادہ اور آسان ”واک اوور“ کا فارمولہ بنانے کا سوچا ہے تا کہ پی پی پی کو سادہ اور آسان ” واک اوور“ نہ مل سکے۔ ایم کیو ایم کی کل جماعتی کانفرنس کی کال میں پی ایس پی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ندیم فرید ملتان بار نے کہا ہے کہ وکلاءسے بڑھ کر عدالت کا احترام کوئی نہیں کرتا۔ وکلا پڑھے لکھے افراد ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے حقوق سلب ہو رہے ہیں تو وہ احتجاج کرتے ہیں لیکن یہ پرامن لوگ ہیں۔ اچھے برے افراد ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ”وکلا گردی“ کا الزام لگانا سازش ہے۔ وکلا کی خبر جلد پھیل جاتی ہے۔ اور دوسرے اداروں کی اکثر دب جاتی ہے۔ بار اور بنچ، جوڈیشری کے لازم و ملزوم ہیں۔ اور ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ بعض اوقات احتجاج میں آواز بلند ہوو جاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جوڈیشری کا احترام نہیں کرتے۔ اگر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ شروع ہی میں ہمارے نمائندوں کو بلا کر سن لیتے تو یہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ ہم لوگ سپریم کورٹ بار کے صدر کے پاس بھی گئے تھے۔ احتجاج ہمارا حق ہے لیکن مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ معاملہ یہی روک دیا جائے اور احتجاج کی جانب نہ بڑھے۔ تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد مبشر نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اپنا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ وہ چیف آف آرمی سٹاف کا ترجمان ہے۔ ان کی بریفنگ تو خیبر فور کے حوالے سے تھی۔ لیکن جب ان سے اس قسم کا سوال کر دیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب چیئرمین سینٹ کی طرف سے کوئی معاملہ آئے گا تو اسے دیکھیں گے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ غور کریں گے۔ غور کرنے کی ان کی پوزیشن نہیں ہے۔ ایک سیاسی سوال کے جواب میں انہوں نے ایسا کہہ دیا۔ اس سے قبل ایک ٹیوٹ کا معاملہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ آج تو بہت محتاط دکھائی دیئے۔ انہوں نے صاف کہا کہ فوج سول حکومت کا ایک ادارہ ہے۔ حکومت جب کہے گی اس کے مطابق عمل کریں گے، ڈی سی آج بہت محتاط تھے اور انہوں نے صرف خیبر فور کے حوالے سے اپنی رائے دی۔ باقی تمام سوال انہوں نے دائیں بائیں کر دیئے۔ وہ کوئی فیصلہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ الفاظ کا ہیرپھیر ہو سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی مثال نہیں ہے کہ فوجیوں اور سول لیڈر شپ نے بیٹھ کر مذاکرات کئے ہیں اور صلح کی ہو۔ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کے پابند ہیں۔ پی پی پی کے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف کا نیب میں پیش نہ ہونا رول آف لا کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ وارنٹ ایشو کئے جائیں۔ اگر ”اریسٹ وارنٹ“ ایشو ہو جاتے ہیں تو گرفتاری بھی عمل میں آئے گی۔ یہ رویہ قابل مذمت ہے۔ آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور تمام لوگ اگر پیش ہوتے رہے ہیں تو آپ بھی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے عدالت میں جائیں۔






































