تازہ تر ین

دوران حمل ٹیسٹ

ڈاکٹرنوشین عمران
حمل کے دوران ماں کیلئے کچھ ٹیسٹ کرونا ضروری ہیں خاص کر پہلے حمل کے دوران ان ٹیسٹوں کا کروانا ماں اور بچے دونوں کی صحت کیلئے فائدہ مند ہے۔ ان ٹیسٹوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے اگر ضرورت کے مطابق ڈاکٹر تجویز کرے تو تمام ٹیسٹ کروانا بہتر اور لازمی ہے۔
حمل کی پہلی سہ ماہی یعنی پہلے تین ماہ میں پیشاب کے ٹیسٹ کے ذریعے حمل کی تصدیق پھر خون کا ٹیسٹ، اس کے ذریعے خون کا گروپ، ہیموگلوبن، پی پی اے پروٹین، گلوکوز ایچ سی جی ہارمون کی موجودگی کا علم ہوتا ہے۔ ان سے ماں میں خون کی کمی یا حمل اور زچگی کے دوران کسی حادثہ یا پیچیدگی سے بچا جاسکے۔
پہلی سہ ماہی میں کیا جانے والا الٹراساو¿نڈ حمل کی تصدیق کے ساتھ بچوں کی تعداد، اندرونی اعضا کی حالت اور صحت بھی بتاتا ہے۔ جدید تھری ڈی فور ڈی سکین این ٹی سکین کے ذریعے ابتداءمیں ہی بچے کے متوقع پیدائشی نقائص کا علم ہوسکتا ہے۔ اگر ابتدائی سکین میں کوئی خرابی محسوس ہو تو مزید ٹیسٹوں کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
دوسری سہ ماہی یعنی چار سے چھ ماہ کے دوران خون کے کئی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، خاص کر اگر خاندان میں وراثتی بیماریاں ہوں تو ان کی سکریننگ کیلئے سولہ سے اٹھارویں ہفتے کے دوران خون کے خاص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاو¿ن سنڈروم کی خاندان میں موجودگی ہو تو AFP کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ 24-28ہفتے کے دوران خون میں گلوز کا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہئے۔ ایسی خواتین جن میں قبل از وقت زچگی ہو جاتی ہو انہیں GBS ٹیسٹ کروانا چاہئے۔ دوسری سہ ماہی میں الٹراساﺅنڈ ایک بار کروانا چاہئے۔ تیسری سہ ماہی یعنی سات ماہ سے آخر وقت تک الٹراساﺅنڈ کم از کم ایک بار لازمی ہے۔ بہتر ہے کہ اسے زچگی کی تاریخ کے قریب قریب کروائیں۔ اس الٹراساﺅنڈ سے بچے کی پوزیشن‘ وزن‘ دل کی دھڑکن‘ حرکات کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔ ایسی خواتین جنہیں ابتداءسے خون کی کمی ہو ان کیلئے ہر ماہ ایک بار خون کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ مناسب مقدار میں آئرن کی گولیاں یا انجکشن تجویز کئے جا سکیں۔ اسی طرح حمل سے پہلے یا حمل کے دوران ذیابیطس کا شکار ہونے والی خواتین کیلئے ہر ہفتے کم از کم ایک بار بلڈشوگر کا ٹیسٹ ضروری ہے۔ اگر ماں کو یرقان ہو چکا ہو تو ہیپاٹائٹس بی سی اور جگر کے ٹیسٹ بھی کروانا چاہئے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved