تازہ تر ین

نیا آئینی پیکج 62,63میں موثرباماضی ترمیم نواز شریف کی نااہلی ختم ہوجائیگی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار و صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق نوازشریف کے حق میں بل منظور ہو گیا۔ اس لئے آج ان کی فتح کا دن ہے۔ اس میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے بھی انہیں ووٹ دے دیا ہے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے اربوں روپے لئے۔ اب ان کی تمام رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ کل وہ پارٹی کے صدر بن جائیں گے۔ اب نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ وہ یہ کہ ایک شخص کے خلاف اگر فیصلہ آ جائے تو وہ اس طرح پارلیمنٹ اور سینٹ سے اپنے حق میں بل منظور کروا لئے۔ تمام میڈیا پر نئی بحث چل نکلی ہے وہ یہ کہ ماضی میں بھی اسی قسم کے واقعات ہو چکے ہیں اگر کوئی شخصی عدالت نے نااہل ہوتا ہے تو پارلیمنٹ، سینٹ کا سہارا لے کر بحال ہو جاتے۔ آئین کی بنیادی روح، وفاقی پارلیمانی نظام کے خلاف اگر کوئی ترمیم آئے گی تو عدالتیں اس کے خلاف نوٹس لے سکتی ہیں۔ بل کی منظوری تو چھوٹی چیز ہے۔ اصل میں تبدیلی کا ایک پیکیج آ رہا ہے۔ آرٹیکل 63/62 میں بنیادی تبدیلیاں کر دی جائیں گی۔ جو ”موثر باماضی“ ہوں گی۔ یعنی نوازشریف کے خلاف آنے والا فیصلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ چیئرمین نیب کی تقرری اور فوج اور عدلیہ کے افسروں کو بھی عدالت میں پیش کیا جا سکے گا۔ اس سے پہلے فوج کی کرپشن اس کا اپنا ادارہ دیکھا کرتا تھا۔ راحیل شریف کے دور میں بڑے افسروں کی تنزلیاں ہوئی تھیں۔ کارروائی ہوئی تھی ان کی جائیدادیں ضبط ہوئی تھیں۔ لیکن سیاستدان سمجھتے ہیں کہ عدلیہ اور فوجی افسروں کو بھی نیب میں پیش ہونا چاہئے۔ بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کی تقرریاں بھی پارلیمنٹ کے پاس بھیجی جائیں گی تا کہ منظوری لی جا سکے۔ پہلے آرمی چیف کی نوکری وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار تھا۔ اب اس پیکیج میں بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کے تقرریاں بھی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد کی جا سکیں گی۔ آخری یہ کہ سینئر ترین عہدوں پر تقرری وزیراعظم کا استحقاق ہو گا گویا فائنل منظوری کیلئے یہ پارلیمنٹ میں جائے گا۔ چیف جسٹس کا تقرر کا اختیار بھی آرمی چیف کی طرح وزیراعظم کے پاس ہو گا۔ ایک معروف قانون دان حبیب وہاب الخیری، انہوں نے الجہاد ٹرسٹ کی طرف سے ایک کیس سپریم کورٹ میں کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سپریم کورٹ کا استحقاق نہیں ہے بلکہ جو بھی ”سینئر موسٹ“ ہو گا۔ وہ اپنی مدت پوری کرے گا اور بعد میں سبھی اس کے نیچے والا اسکی جگہ لے لے گا اطلاعات ہیں کہ خفیہ آئینی ترامیم پیکیج پر تمام سیاسی پارٹیاں بشمول (ق) لیگ پی پی پی، اے این پی متفق ہو چکی ہیں سوائے تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی پارٹی کے چند دنوں میں یہ معاملہ اوپن ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (فنگشنل) نے بھی اس سے اتفاق کر لیا ہے۔ سینئر وکلا کی آراءمیں سپریم کورٹ اس آئینی پیکیج کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے اس طرح پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ احسن اقبال کی بات میں وزن ہے۔ وہ وزیرداخلہ ہیں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز وزیرداخلہ کے نیچے کام کرتی ہیں۔ اگر وہ تنظیمیں اپنے انچارج وزیر کو روکیں گی تو اس کا فائدہ احسن اقبال کو مل سکتا ہے۔ اچھا ہوا کہ رینجرز کے سربراہ موقع پر موجود نہیں تھے۔ حالانکہ انہیں بلایا گیا تھا۔ اگر وہ موقع پر موجود ہوتے تو اداروں کا ٹکراﺅ وہیں سے شروع ہو جاتا عدالت نے وزرا اور میڈیا کے لوگوں کو پاس تو جاری کئے تھے۔ لیکن خیال ہے کہ یہاں شرارت ہوئی۔ وہ یہ کہ خواجہ سعد رفیق وغیرہ کو اگر اندر جانے دیا گیا تو احسن اقبال کو کیوں آﺅٹ کیا گیا۔ عدالت نے میاں نوازشریف کی پچھلی پیشی کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ اندر آنے والوں کی تعداد محدود کی جائے گی۔ اخبارات میں یہ رپورٹ چھپ چکی ہے۔ صرف احسن اقبال کو باہر رکھنا شرارت لگتی ہے۔ وہ تو وزیرداخلہ ہیں۔ احسن اقبال ذرا تحمل سے کام لیں۔ پہلے بھی رینجرز کو غیر ملکی سفارتخانوں کی حفاطت کیلئے تعینات کیا گیا تھا۔ ان کو اختیارات نہیں دیے گئے تھے کہ وہ اپنی صوابدید پر اہم فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ آرمی یا پیرا ملٹری فورس اگر ایک دفعہ آ جائیں تو انہیں بار بار اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ ”گراﺅنڈ ریلٹی“ کو دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مخصوص علاقوں میں جب فورسز کو، سول انتظامیہ بلاتی ہے تو انہیں حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کر سکی۔ں انہیں ایک دفعہ بلا لیں گے تو ان کا حکم ملے گا۔ بھٹو صاحب کی طرح ا۷یف ایس ایف بنائیں۔ وہ انہیں روکیں یا مزاحمت کریں۔ پولیس اس طرح انتظام نہیں کر سکتی جس طرح یہ فورسز کرتی ہیں۔ انہیں سفارتخانوں سے ہٹا کر دیکھیں۔ ایسا ممکن نہیں۔ جب آپ نے ایک دفعہ بلا لیا تو وہ اپنا کام کرے گی۔ وہ بار بار احکامات لینے کی پابند نہیں۔ رانا ثناءاللہ مزاحیہ جملے بولتے ہیں۔ ان کی بات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو اچھا ہے۔ احسن اقبال کو ضرور تحقیقات کرانی چاہئیں کہ صرف ان کا نام کیوں نکالا گیا اور ان کے بلانے پر بریگیڈیئر صاحب کو وہاں سے غائب ہو جانا بہتر ہوا۔ ورنہ ایک بڑا پھڈا شروع ہو جاتا۔ احسن اقبال صاحب اس کی ضرور تحقیقات کروائیں۔ وہ استعفیٰ دینے پر کیوں راضی ہو گئے ہیں۔ منتخب ارکان کا فرض ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو رکھیں، قوم نے انہیں منتخب کر کے جو ذمہ داریاں ان پر ڈالی ہیں اسے نبھائیں۔ ناراض ہو کر استعفیٰ کی بات نہ کریں۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پارلیمنٹ کو بالا سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے پورے ملک کا نظام چلایا جاتا ہے۔ ملک میں جمہوری نظام کو چلنا چاہئے۔ اس وقت ملک میں ایک ٹکراﺅ کی کیفیت ہے۔ کرائسس کے پیدا ہونے کے بعد اس کے درمیان میں تبدیلیاں اور ترامیم لانے کی کوشش کی جائیں تو ٹکراﺅ کی کیفیت بڑھتی ہے۔ اس ٹکراﺅ کا فائدہ کسی کی پارٹی کو نہیں ہوا کرتا۔ سیاسی پارٹیوں کو بڑی آئینی ترامیم اپنے الیکشن”مینی فیسٹو“ میں اٹھانا چاہئے اور پھر ووٹ لینا چاہئے۔ اگر عوام اس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں کو نئی پارلیمنٹ کو یہ ترامیم ضرور کرنا چاہئیں۔ ورنہ بریک کے بغیر گاڑی کب تک چل پائے گی تمام پارلیمنٹیرین کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے۔ ورنہ یہ خطرناک ہو گا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ سینٹ میں آپس کی انڈراسٹینڈنگ کی وجہ سے یہ بہ پاس ہوا۔ اب معاملہ پارلیمنٹ میں چلا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میں سے ختم نبوت قانون کو ختم کیا گیا ہے۔ آپ صرف شناختی کارڈ دکھائیں اور ممبر پارلیمنٹ بن جائیں۔ نوازشریف صدر بن جائیں گے۔ لیکن یہ 62 آرٹیکل کے متصادم ہے اب معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا۔ وہاں یہ چیلنج ہو جائے گا کیونکہ یہ قرارداد مقاصد کے خلاف ہے۔ پی ٹی آئی کے وزیر صاحب کینٹین میں بیٹھے رہے اور اندر نہیں آئے۔ عمران اور زرداری کو بھی نااہلی کا خطرہ تھا۔ سعد رفیق کے ذریعہ یہ پیغام ان تک پہنچایا گیا کہ ہمارا وزیراعظم تو نااہل ہو چکا اَب آپ کی باری ہے۔ ایم کیو ایم کے الطاف حسین کو بچانے کیلئے عتیق صاحب نے ووٹ ان کے حق میں دے دیا۔ رضا ربانی صاحب کا کردار بڑا اہم ہے۔ وہ چیمبر سے نہ جاتے تو کارروائی پیر تک ملتوی ہو جاتی۔ ان کی جگہ پر ڈپٹی صاحب نے رولنگ کروا دی اور بل پاس ہو گیا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain