تازہ تر ین

ختم نبوت پر ایمان کی شِق بارے تشویشناک خبر, قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنیوالوں کو کھُلی چھٹی

لاہور‘ اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی میں عقیدہ ختم نبوت پر قسم کے الفاظ کی شق ختم کر کے اقرارنامے میں بدلنے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ قسم اور اقرارنامے میں واضح فرق۔ ”میں صدق دل سے قسم اٹھاتا ہوں“ کے الفاظ بدل کر شامل کیا گیا کہ ”میں اقرار کرتا ہوں۔“ حلف نامے کے الفاظ کی تبدیلی سے واضح ہوتا ہے کہ حکمران ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ختم نبوت کے معاملہ پر پاکستان کے مسلمان ماضی میں گراں قدر قربانیاں پیش کر چکے ہیں جو ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ ق لیگ کے مرکزی رہنماﺅں چودھری شجاعت حسین‘ پرویزالٰہی نے کہا اس سلسلہ میں تمام کلمہ گو ایک پیج پر ہوں گے اور مسلم لیگ ق معاملہ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد تفصیلی اور بھرپور ردعمل دے گی۔
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سینٹ سے مورخہ 22 ستمبر 2017ءکو ترامیم کے ساتھ منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات بل 2017ءمیں جمع کرائی گئی پانچ ترامیم کی تفصیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی ترمیم بل کی دفعہ 9 میں خواتین کیلئے دس فیصد لازمی ووٹ ڈالنے کی پابندی مذکورہ سیکشن کے اندر عورتوں کے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ اگر کسی حلقے میں کل پول شدہ ووٹوں میں سے خواتین کے ووٹوں کا تناسب دس فیصد سے کم ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن یہ فرض کرے گا کہ عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے کسی معاہدے کے نتیجے میں روکا گیا ہے اور الیکشن کمیشن ایک پولنگ سٹیشن یا ایک سے زیادہ پولنگ سٹیشنز یا پورے حلقے میں الیکشن کو کالعدم قرار دے دیگا۔ ہم نے مذکورہ بالا ترمیم کے ذریعے دس فیصد والی شرط کی بجائے یہ ترمیم دی ہے کہ جس طرح عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا قانون کی خلاف ورزی ہو، اسی طرح عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا قانون کی خلاف ورزی ہو، اسی طرح عورتوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کرنا بھی خلاف قانون ہے، اس لیے کہ اس قانون میں کہیں بھی مردوں اور عورتوں کو زبردستی ووٹ ڈالنے کی پابندی نہیں ہے، لیکن دس فیصد کی شرط کا مطلب ہر حلقے میں دس فیصد خواتین کو ووٹ ڈالنے کا پابند کرنا ہے۔ (2) دوسری ترمیم دفعہ 27(ذیلی شق (4) کے آخر میں جملہ شرطیہ کو حذف کرنے سے متعلق ہے۔ یہ شق بنیادی طور پر ان افراد سے متعلق ہے جنہوں نے اپنے ووٹ کو مستقل یا عارضی ایڈریس کے علاوہ کسی دیگر ایڈریس پر درج کرایا ہوا ہے اس قانون کے مطابق 31 دسمبر 2018ءکے بعد اس کے ووٹ کا اندراج ہے اس کو نئے سرے سے اپنا ووٹ اندراج کرانا پڑے گا۔ اس طرح پورے پاکستان میں لاکھوں افراد کا اندراج ختم ہو جائے گا۔ 3,4 تیسری ترمیم دفعہ 60 ذیلی دفعہ (2) میں ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں ختم کیا گیا، حلفیہ اقرار نامہ کو برقرار رکھا جائے۔ کاغذات نامزدگی سے حلف نامہ ختم کرنے سے ممبران کو انکے ڈیکلریشن کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کا اطلاق کرتے ہوئے نااہل نہیں کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے اقرار نامہ کے شروع میں صدق دل سے قسم اٹھانے کو ختم کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحبزادہ طارق ایم این اے صاحبزادہ محمد یعقوب ایم این اے شیراکبر ایم این اے محترمہ عائشہ سید ایم این اے نے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ ترامیم کے مطابق بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے پانچویں ترمیم سیکشن 203 میں ذیلی شق (الف) کے بعد حسب ذیل جملہ شرطیہ کا اضافہ کرنے کی دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں بن سکے گا جوبطور رکن پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) سے نااہل قرار دیدیا جائے یا جو قانون ہذا کے نفاذ سے پہلے کسی دیگر نافذ العمل قانون کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain