تازہ تر ین

تماشے بند ہونے چاہئیں, نواز شریف نے سب کو خبردار کردیا

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف چار سال کےلئے مسلم لیگ (ن)کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہوگئے ¾ پاکستان مسلم لیگ (ن )کی جنرل کونسل سے توثیق کے بعد نوازشریف کی بطور پارٹی صدر کامیابی کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ۔ منگل کو مسلم لیگ (ن)کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا ¾ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیر ا علیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق ¾ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت پارٹی کے سینئر رہنماﺅں ، ارکان پارلیمان اور پارٹی کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن)کے چیف الیکشن کمشنر چودھری جعفر اقبال نے (ن )لیگ کے انتخابی نتائج کا اعلان کیا۔چوہدری جعفر اقبال نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن)کے صدر کے انتخابات کےلئے دس کاغذات نامزد جمع کرائے گئے جن پر صرف محمد نوازشریف کا نام درج تھا اور نوازشریف کے مقابلے میں کسی امیدوار نے کاغذات جمع کرائے انہوںنے اعلان کیا کہ محمد نوازشریف کو مسلم لیگ (ن)کا بلا مقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف کے کنونشن سینٹر پہنچنے پرلیگی رہنماﺅں اور کارکنوں ان کا پرجوش استقبال کیا اور کنونشن سینٹر وزیراعظم نواز شریف کے نعروں سے گونج اٹھا۔وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا ¾ شیر آیا ¾ وزیر اعظم نواز شریف ¾ نواز شریف تیرا ایک اشارہ ¾ حاضر لہو ہمارا ¾وغیرہ کے نعرے لگوائے ۔صدر منتخب ہو نے پر سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا ۔اس سے قبل طارق فضل چودھری نے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے،طارق فضل چوہدری نواز شریف کے تجویز کنندہ اور رانا افضل تائید کنندہ تھے۔پارٹی صدرکے انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی صبح ساڑھے 9 بجے تک وصول کیے جانے تھے تاہم نواز شریف کے مقابلے میں کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے متنبہ کیا ہے کہ حالات کو بدلنے کی کوشش کی نہ گئی تو پاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کریگا ¾ سقوط ڈھاکہ سانحہ سے کچھ نہیں سیکھا ¾ہمیں آگے کی طرف دیکھناچاہیے ¾ پاکستان اور عوام کی خاطر ہمیں نفرتوں ¾ الزامات اور تصادم کا کلچر ختم کر نا ہوگا ¾ ملک کو ایٹمی قوت بنانے والے کو نا اہل قرار دیدیا گیا ¾ وزرائے اعظم کو ملک بدر اور اقتدار سے نکالا گیا ¾ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے ¾ آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی رہے ¾ کاش عوام کے حق حکمرانی کےلئے بھی کوئی نظریہ ضرورت ایجاد کرلیا جاتا ¾ستر سے ملک میں کھیل تماشا ہورہا ہے ¾ اس بات کی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمیٰ کی تنخواہ لیتا ہوں یا نہیں ¾شاید کوئی اور فرد جرم بھی مل جائے ¾بار بار سیاست سے بے داخل کر نے کی کوشش کی جاتی رہی کارکن مجھے بار بار واپس لاتے رہے ¾ ان ارکان اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوںنے آمر کا قانون اس کے منہ پر دے مارا ¾حق حاکمیت زمین پر عوام کی امانت ہے اس میں خیانت کا سلسلہ بند ہو نا چاہیے ¾ اقتدار میں داخل ہونے اور باہر جانیوالے دروازوں کی کنجی عوام کے پاس ہونی چاہیے ¾نا اہلی اور اہلیت کا فیصلہ عوام 2018میں کر ینگے ۔منگل کوکنونشن سینٹر میں پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہاکہ سعد رفیق نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ نوازشریف کو سیاست سے بے دخل کر نے کی بار بار کوشش ہوتی رہی ¾ میں سوچ رہا تھا کہ میں بھی کیا چیز ہوں ¾ مجھے سیاست سے بار بار بے داخل کر نے کی کوشش کی جاتی رہی اور آپ بار بار داخل کرواتے رہے ¾ آج بھی اللہ کے فضل وکرم سے پھر مجھے داخل کررہے ہیں ۔ نوازشریف نے کہاکہ لگتا ہے آج شعروں اور شاعروں کی محفل ہے ¾شہباز شریف نے اچھے شعر سنائے اور سعد رفیق نے جواب میں شعر سنائیں مجھے بھی ایک شعر یاد آیاہے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ
دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر یہ ،نور خدا ہے اسے بے نور نہ کر
نا اہل و کمینے کی خوشامد سے اگر جنت بھی ملے تجھے تو منظور نہ کر
سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہاکہ میں منافت نہیں کرتا ¾یہ اصول صرف میرا نہیں ¾پوری مسلم لیگ (ن)کا ہونا چاہیے آج کی جنرل کونسل کا یہی اصول ہونا چاہیے ¾مسلم لیگ (ن)کے کارکن کا بھی یہی اصول ہو نا چاہیے ¾پھر انشا ءاللہ اپنی اپنی منزل حاصل کر ینگے ¾ یہ اصول اپنے دل کے اندر بٹھالیں پھر انشاءاللہ فتح حاصل ہوگی انہوںنے کہاکہ آج وہ قانون دوبارہ پرویز مشرف کو لوٹا رہے ہیں جس نے نوازشریف کا راستہ بند کر نے کےلئے اختیار کیا ¾ یہ قانون ایوب خان نے نافذ کیا تھا اور پھر مشرف نے نافذ کیا آج پھر ہم اسے واپس لو ٹا رہے ہیں آپ سب ¾قومی اسمبلی میں تمام لوگوں ¾ تمام کارکنوں ¾قومی اسمبلی کے ممبران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوںنے یہ قانون دوبارہ اس کے منہ پر مارا ہے انہوںنے کہاکہ تم بے دخل کرتے جاﺅ یہ عوام نوازشریف کو دوبارہ داخل کر تے جائیں گے ۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ آج آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ¾آپ بھرپور قوت کے ساتھ نوازشریف کو واپس لا رہے ہیں ¾اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ہم نے خلوص کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے اور کوئی لالچ نہیں ہے اور کسی قسم کا الحمد اللہ غلط کام نہیں کیا ¾ آپ جانتے ہیں مجھے نا اہل کیا گیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں آپ نے مجھے بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے ¾70برس کے نشیب و فراز اور ہر طرح کے حربوں کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن)سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے ¾لاکھوں نوجوانوں ¾بچوں ¾ بہنوں کا کس منہ سے شکریہ ادا کروں جو میرے چار دن کے سفر میں میر ے ساتھ رہے اور مجھے ملے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ¾میر ے پاس الفاظ نہیں کہ ان کا کس طرح شکریہ ادا کروں ¾ان کےلئے دعا کرتا ہوں ¾ اللہ تعالیٰ مسلم لیگ (ن)کی قوت کو پاکستان کےلئے کچھ کر نے کی توفیق عطا فرمائے ۔انہوںنے کہاکہ یہ پاکستان کے بڑے اعزاز والے شہری بنیں اس ملک کی خدمت کریں اور اپنا حصہ ڈالیں انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان ¾ آزاد کشمیر ¾ فاٹا وفاق کی مضبوط کی علامت ہیں ¾ بلوچستان ¾ سندھ ¾ پنجاب ¾ خیبر پختون سے آئے ہوئے لوگ یہاں بیٹھے ہیں یہاں بھرپور نمائندگی ہے ¾یہاں آپ نے مجھے اعزازا سے نوازاہے اللہ تعالیٰ مجھے بھاری ذمہ داری اٹھانے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے ¾ اللہ تعالیٰ مشکلات اور پریشانیوں کا جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کر نے کی توفیق عطا فرمائے میں وطن عزیز کی سلامتی اور عوام کی خوشحالی کےلئے دعا کرتا رہتا ہوں انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ نے مشکل حالات میں آزادی کی جنگ لڑی اور جیتی اسے کیسی کیسی قوتوں سے لڑنا پڑا لیکن مشن اور سچ کے سامنے کوئی قوت نہ ٹھہر سکی ¾پاکستان ایک حقیقت بن کر ابھرا ¾ابھی ڈیڑھ ماہ قبل آزادی کی 70ویں سالگر ہ منائی ہے ¾اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کی حیثیت سے ایک مضبوط اور توانا ملک کی حیثیت سے قائم ہے ۔نوازشریف نے کہاکہ جو ایٹمی قوت بناتے ہیں ملکوں میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ¾ پھانساں دی جاتی ہیں ¾ ملک بدر کیا جاتا ہے ¾ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں ¾ پاناما نہیں اقامہ پر وزیر اعظم کو نکال دیا جاتا ہے ۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ اگر پاناما میں کچھ نہیں ملاتھا تو قوم کو صاف صاف بتا دیتے ہمیں پاناما میں کچھ نہیں ملا ہم اقامے پر نا اہل کر نے لگے ہیں ¾قوم سے سچ بولنا چاہیے تھا ¾ قوم سے صاف صاف بات کر نی چاہیے کہ ہاں نوازشریف نے ایک پیسہ بھی نا جائز طریقے سے نہیں کمایا اور سر کاری رقم میں خورد برد نہیں کی ¾ رشوت ¾ خورد برد کا کیس نہیں ہے ¾ پاناما آیا تھا لیکن اس میں کچھ نہیں ہے لیکن ہمارے پاس اقامہ ہے ۔نوازشریف نے کہاکہ اقامہ ہے اور ہم اقامہ پر نوازشریف کو نکال رہے ہیں ۔نوازشریف نے کہاکہ یہ ملک کیسے چلے گا ¾ ستر سال سے یہی کچھ ہوتا رہا ہے ¾ یہ کھیل تماشا ستر سالوں سے ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہورہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ ملک کو قائم و دائم رکھے لیکن اس حقیقت کو ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی ایک قیمت مانگتی ہے ¾دنیا کی اقوام میں سر بلند ہو کر جینا ہے تو ہمیں اس کی قیمت دینے کےلئے بھی تیار رہنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ آزادی تدبر ¾ حکمت سے ملتی ہے آزادی کے تحفظ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی پر نظرڈالیں ¾ اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیا اور غور کریں وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے آدھا ملک گنوا بیٹھے ہیں ۔غور کیا جائے کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہوتا رہا ¾ وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے آس پاس کے آزاد ہونے والے ممالک سے کوسوں پیچھے رہ گئے ۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہاکہ دنیا کی ساری زندہ قومیں بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ جائزہ لیتی ہیں اور اپنا گھر ٹھیک کرتی رہتی ہیں اپنی پالیسی بدلتی اور حکمت عملی تبدیل کرتی رہتی ہیں جو قومیں بدلتے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور اپنی پرانی روش پر اڑی رہتی ہیں وقت ان کا انتظار کئے بغیر آگے نکل جاتا ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ ہمارے قومی زندگی میں بہت سے مرحلے آئے ¾ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں اور اپنے طرز کن یعنی پرانے طور طریقے پر اڑے رہنے کی بجائے نئے حالات اور نئے تقاضوں سے رہنمائی لیتے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا ¾ سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات قوموں کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں ¾ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی وہی کچھ کرتے رہیں جو سقوط ڈھاکہ سے پہلے کرتے رہے ہیں ہم نے اتنے بڑے سانحہ سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی مقبول جماعت کا سربراہ ہوتے ہوئے اور تین بار وزیر اعظم بننے کے بعد مجھے عوام کی نمائندگی سے نا اہل قرار دیدیا گیا ۔یہ کسی کرپشن یا بد عنوانی کے جرم میں نہیں اس جرم میں کہ نوازشریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی ؟لہذا نوازشریف نا اہل ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کسی ملک میں ایسا ہوتا ہوا دیکھا ہے ؟ ایسا ہوتے سنا ہے ؟انہوںنے کہاکہ وہ اس بات کی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمیٰ کی تنخواہ لیتا ہوں یا نہیں ¾شاید کوئی اور فرد جرم بھی مل جائے ¾میں نے وکلاءکے کنونشن میں بارہ سوالات کئے تھے ان میں سے ایک کا جواب بھی نہیں ملا ۔انہوںنے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ مولوی تمیز الدین کیس سے بے نظیربھٹو کیس کے حالیہ فیصلے تک کیسے کیسے فیصلے سامنے آئے ان فیصلوں میں میرا عظیم فیصلہ بھی شامل ہے کیونکہ میں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی تھی اور میں صادق اور امین نہیں رہال اور مجھے نا اہل کر دیا گیا ۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ ایسے ہی فیصلے سے وزیر اعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا ¾وزرائے اعظم کے بارے میں فیصلوں کی لمبی قطار یں ہیں ¾ وزرائے اعظم کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا، لیکن چاروں آمروں کی آئین شکنی کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے ¾ آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی، آمروں کے 33 سالہ اقتدار میں آرٹیکل (3)184 کے تحت کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، ان کے غیرآئینی کاموں کا کوئی جواز نہ ملا تو نظریہ ضرورت کو ایجاد کیا گیا، کاش کوئی نظریہ ضروریات عوام کے حق حکمرانی کے لیے بھی ایجاد کرلیا جاتا ¾کاش کوئی نظریہ ضرورت عوام کے حق حکمرانی ¾ پاکستان اور عوام کےلئے ایجاد کر لیا جاتا ہے یہ ستر سالہ تاریخ ہے جو خود بتا رہی ہے ہمارا مسئلہ کیا ہے ¾ اس مسئلے نے ہمیں کس حال سے دو چار کر دیا ہے ¾ آج بھی ہم نے اپنے آپ کو سنبھالنے اور حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان کبھی معاف نہیں کریگا انہوںنے کہاکہ میں تنبیہ کررہا ہوں کہ ہم نے حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان بھی ہمیں معاف نہیں کریگا ؟ کیا ان حالات کو بدلنے کی کوشش کرینگے اللہ تعالیٰ انہی قوموں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتی رہیں ۔ اس موقع سابق وزیر اعظم نوازشریف نے شعر پڑھا کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اس مقصد کےلئے قومی مکالمے کی پیش کی ہے¾ عوام کا حق حکمرانی بحال کیا جائے ¾ حق حاکمیت زمین پر عوام کی امانت ہے اس میں خیانت کا سلسلہ بند ہو نا چاہیے ¾حکومتی وہی کرے جسے عوام ووٹ دیں ¾ اقتدار میں داخل ہونے اور باہر جانیوالے دروازوں کی کنجی عوام کے پاس ہونی چاہیے وہی فیصلہ کریں ¾ منتخب نمائندے صرف عوام کے سامنے جوابدہ ہوں ¾ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں اقتدار نہیں اقدار کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں ¾ قانون کی حکمرانی ¾ جمہوری نظام کے ا ستحکام کےلئے ہم سب ایک ہو جائیں اور اسی جذبے کے تحت میں نے اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے ¾ اسی جذبے کے تحت 2008کے بعد پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام کیا ¾ عدلیہ کی بحالی کےلئے حکومت چھوڑی ¾ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف قرار داد رو ک دی ¾ پہلی مرتبہ صدر زر داری کو عشائیہ دیا ¾ ہم نے کسی کے مینڈیٹ میںکوئی رخنہ نہیں ڈالا ¾کے پی کے میں مخلوط بنانے کی بجائے پی ٹی آئی کو مکمل آزادی دی اور حکومت کر نے کا موقع فراہم کیا ۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ جمہوریت کی مضبوطی یہی راستہ ہے ¾ سیاستدانوں سے بھی غلطی ہوتی ہے ¾ سیاسی جماعتیں بھی ٹھوکریں کھاتی ہیں لیکن ان غلطیوں کو نظیر بنا لینے سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے ¾ہمیں آگے کی طرف دیکھناچاہیے ¾ پاکستان اور عوام کی خاطر ہمیں نفرتوں ¾ الزامات اور تصادم کا کلچر ختم کر نا ہوگا ¾ ہم نے وطن عزیز کی ہر ممکن خدمت کر نے کی کوشش کی اللہ کے فضل وکرم سے آج کا پاکستان 2013کے پاکستان سے بہتر ہے ¾ کہیں زیادہ روشن ¾ مضبوط اور توانا ہے ¾ لوڈشیڈنگ آخری ہچکیاں لے رہی ہے ¾ سی پیک ملک کی تقدیر بدلنے جارہا ہے پاکستان زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا تھا ¾ غیر ملکی ادارے بھی تعریف کررہے تھے لیکن حالیہ فیصلہ اور ان کے نتیجے میں ہونے والی کارروائیوں نے منفی نتائج مرتب کئے ہیں ¾یہ دکھ اور افسوس کی بات ہے ¾ ایسے فیصلوں اور منفی کارروائیوں کی کتنی بھاری قیمت ادا کر نا پڑتی ہے ¾ہمارے لئے تسکین اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام ہمارے ساتھ ہیں ¾مئی 2013سے لیکر لاہور کے حلقہ 120میں انتخاب تک ہر مرحلے میں عوام نے ہمارا انتخاب کیا ہے انشاءاللہ 2018ءمیں 2013کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن)بڑی کامیابی حاصل کریگی اور ہم اس عزم کو جاری رکھیں گے ۔2018 میں عوام ووٹ کے ذریعے فیصلہ سنائیں گے اہل کون ہے اور نا اہل کون ہے ؟خدا کرے یہ ملک پھلتا پھولتا رہے ¾ بجلی کے منصوبے مکمل ہوتے رہیں ¾ ملک کے اندھیرے دور ہوتے رہیں ¾ موٹر وے مکمل ہوتی رہے ¾ ہزارہ موٹر وے مکمل ہوتی رہے ¾ بلوچستان میں ہائی ویز بنتی رہیں ¾ کراچی امن کا گہوارہ بنتا رہے ¾ دہشتگردی دم توڑ تی رہے ¾ کچی کینال زمینوں کو آباد کرتی رہے ¾ فاٹا ترقی کرتا رہے ¾ لواری ٹنل بھی کامیاب رہے اور خدا کرے آپ کا سی پیک بھی آباد رہے ¾ خدا کرے آزاد کشمیر میں ترقی کی رفتار اور تیز ہو جائے، کراچی موٹر وے بھی مکمل ہو جائے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain