کراچی (خصوصی رپورٹ) ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے غدار وطن الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پاکستانی نژاد برطانوی تاجرسرفراز مرچنٹ کی جانب سے دی گئی درخواست کو بانی متحدہ کیخلاف مقدمے میں تبدیل کیا۔ قبل ازیں سرفراز مرچنٹ کی جانب سے دیئے گئے شواہد کے حوالے سے تحقیقات کی گئیں۔ مقدمے کے مطابق ایم کیو ایم کی قائم کردہ تنظیم خدمت خلق فاﺅنڈیشن کے بینک کھاتوں سے کروڑوں کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ کیس میں سابق سینیٹرز بابر غوری، احمد علی، رکن اسمبلی خواجہ سہیل منصور، ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرا سمیت 22 پاکستانی وغیرہ ملکی کمپنیاں نامزد کی گئی ہیں۔ مقدمے کے مطابق پاکستانی بینکوں میں ایم کیو ایم کے اہم رہنما طارق میر کے جعلی بینک کھاتے کھولے گئے۔ فارن ایکس چینج کھاتوں سے کروڑوں کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ کے کے ایف کی رقوم اسلحہ کی خریداری (قتل) دہشت گردانہ کارروائیوں، انتخابی سرگرمیوں میں استعمال کی گئیں۔ الطاف کے زیراستعمال ماہانہ پچاس لاکھ لمٹ کا حامل پاکستانی نژاد تاجر سرفراز مرچنٹ کی درخواست کے مطابق پانچ دسمبر 2013 کو لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا اور منی لانڈرنگ کے ان فنڈز کے بارے میں تحقیقات کیں جو ایم کیو ایم کے پاس تھے اور انہی کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا کہ وہ بطور پارٹی لندن میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ میرے علم میں یہ بات آئی کہ ایم کیو ایم کبھی برطانیہ میں رجسٹرڈ تھی ہی نہیں ۔ لندن پولیس کی تحقیقات سے بھی یہی سچ سامنے آیا کہ ایم کیو ایم پاکستان لندن میں مقیم الطاف حسین کی جانب سے کنٹرول کی جاتی تھی۔ پندرہ اپریل 2015 کو ضمانت ہونے پر برطانوی پولیس نے پری انٹرویو بریفنگ میرے حوالے کی جس میں کیس کا تمام پس منظر موجود تھا۔ تاکہ میں تفتیش میں سوالات کا ٹھیک جواب دے سکوں۔ پری انٹرویو بریفنگ میں پتہ چلا کہ لندن میں موجود بینک اکاﺅنٹس میں خطیر رقم ہے اور کئی اثاثے بھی موجود ہے ، جو بھارتی حکومت نے متحدہ کو دیئے تھے۔ ان دستاویزات سے پتہ چلا کہ الطاف حسین کو دی گئی رقوم و اثاثے غیر قانونی طور پر دیئے گئے اس سلسلے میں متحدہ لندن کے دو رہنماﺅں میں طارق میرو محمد انور سے بھی تفتیش ہوئی۔ جس میں انہوں نے خود کو الطاف حسین کا کاروباری شراکت دار قراردیا۔ ان انٹرویوز سے ثابت ہوا کہ متحدہ کو بھارت سے فنڈنگ ہو رہی تھی۔ کیس میں اپنے نشانہ بننے پر افسوس ہوا اور میں نے متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کردیں۔ تفصیلات میں جانے سے پتہ لگا کہ متحدہ بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹرڈ ہے جس میں الطاف حسین کو پارٹی کا بانی ظاہر کیا گیا بطور پارٹی ایم کیو ایم پاکستان و برطانوی قوانین پر عمل کی پابندی تھی۔ قانون کے مطابق پارٹی کو پاکستان و بیرون ملک آمدنی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے جس میں فنڈز کی تمام تفصیلات الیکشن کمیشن پاکستان میں جمع کرانا ہتی ہیں۔ تمام اکاﺅنٹس کا آڈٹ کرانا ہوتا ہے۔ فنڈز کی وصولی و استعمال کی تفصیل بتانی ہوتی ہے، لیکن متحدہ نے فنڈز اور آمدنی کے ذرائع ظاہر نہیں کیے۔ ایم کیوایم غیر ملکی امداد پر چلنے والی پارٹی ہے اور غیر ملکی امداد بھارت کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے جو دشمن ملک ہے، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ کئی بھارتی ایجنٹ پاکستان میں ان مقامات پر خاص طور پر سرگرم ہیں۔ جہاں ایم کیو ایم کا اثر ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس لندن کی فراہم کردہ دستاویزات سے پتہ چلا کہ الطاف کی رہائش گاہ پر چھاپے میں کچھ ایسی دستاویز بھی ملیں جس میں اسلحہ و بارود کی تفصیلات تھیں۔ ان دستاویزات سے پتہ چلا کہ 38 لاکھ33 ہزار 110 بھاری رپوٹوں کا اسلحہ خریدا گیا تھا۔ اس اسلحہ لسٹ میں پاکستان میں استعمال ہونے والا عام اسلحہ شامل نہیں بلکہ وہ اسلحہ شامل تھا جو پاکستانی فورسز نے کئی چھاپوں میں برآمد کیے۔ چھاپے کے دوران الطاف کے گھر سے پانچ لاکھ دس ہزار برطانوی پاﺅنڈز بھی ملے۔ برطانوی پولیس نے بتایا کہ اسے تفتیش میں پتہ چلاکہ 2006ءمیں برطانیہ میں یورو پراپرٹی ڈویلپمنٹس کے نام سے ایک کمپنی قائم کی گئی تھی جس میں سب سے زیادہ شیئرز الطاف کے تھے۔ الطاف حسین طارق میر اور محمد انور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز تھے۔ طارق میر کمپنی کے سیکرٹری بنائے گئے۔ دستاویزات سے پتہ چلا کہ یورو پراپرٹی ڈویلپمنٹ کا دبئی میں ایک کمپنی جیسمین جنرل ٹریڈنگ کو برطانوی رقوم کی دبئی منتقلی کیلئے استعمال کیا۔7 لاکھ55 ہزار برطانوی پاﺅنڈ ٹرانسفر کیے گئے نومبر 2012ءسے اپریل 2013 یہ رقوم جس کھاتے میں منتقل کی گئی اس کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ نارتھ ویسٹ اکاﺅنٹ 46652930 تھا۔ رقم نومبر2012 سے اپریل 2013 تک منتقل کی گئی تھی۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے اس رقم کی منتقلی کہ مشتبہ قرار دیا۔ اسکے علاوہ ایک خطیر رقم بھارتی کمپنی فرسٹ بار گینز لمیٹڈ کو بھی منتقل ک یگئی اس سے الیکشن کمیشن پاکستان کو بھی لاعلم رکھا گیا۔ غیر ملکی فنڈز کی ٹرانزیکشنز سے ثابت ہوا کہ ایم کیو ایم پاکستان غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی پارٹی ہے اور اس سے پاکستانی سالمیت کو خطرہ ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم کے ان بے نامی کھاتوں میں موجود رقم بھتہ قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان سے حاصل ہوئی جس کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ غیرقانونی رقوم کی منی لانڈرنگ کے لیے ایم کیو ایم نے پاکستانی بینکوں میں کھاتے کھولے جن میں ایم سی بی واٹر پمپ برانچ، الائیڈ بنک لمیٹڈ دستگیر برانچ اور بینک الفلاح کی کئی برانچیں شامل ہیں۔






































