نوشیروفیروز، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے آج عوا م کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا جارہاہے ¾سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے اور نہ ہی ہونے چاہئیں ¾امید ہے سیاست کے جس معیار پر نوازشریف اور بے نظیر میں اتفاق ہوا وہی آگے چلے گا ¾صرف کھوکھلے نعروں سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے ¾ ملک میں جمہوریت ہوگی تو انصاف ہوگا ¾سندھ سمیت پورے ملک میں موٹرویز کاجال بچھ رہاہے ¾یہ نوازشریف کا وژن تھا ¾سی پیک اگلے50سال تک پاکستان کو ترقی دے گا ¾چار سال پہلے اور آج کے کراچی میں فرق ہے ¾ پوری دنیا دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکی ¾ افواج پاکستان نے اس کا مقابلہ کیا ¾ دہشت گردی کو عوام کی مدد سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ ہفتہ کو نوشہرو فیروز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاست میں جوکچھ ہورہا ہے وہ سب جانتا ہوں، بدقسمتی سے آج عوام کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا جارہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جس میثاق جمہوریت پر بے نظیر اور نوازشریف نے دستخط کیے اس کی بنیاد انتقامی سیاست کو ختم کرنا تھا، ان باتوں سے سیاستدان بدنام ہوتے ہیں اور عوام کا نقصان ہوتا ہے ¾ہمیں اسی میثاق جمہوریت کےمطابق سیاست کو آگے لے کر جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ امید کرتا ہوں سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ان باتوں پر غور کرے گی جن باتوں پر بے نظیر شہید اور نوازشریف کے درمیان اتفاق ہوا۔وزیراعظم نے کہاکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک جمہوریت کےلئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔شاہد خاقان عباسی نے پاناما کیس فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 28 جولائی کو عدالت کا ایک فیصلہ آیا جسے حکومت نے قبول کیا اور حکومت ختم ہوگئی، بہت سے لوگ یہ توقع کرتے تھے کہ ملک میں انتشار ہوگا اور جماعت ٹوٹ جائے گی، لوگ ادھر ادھر ہوجائیں گے اور ممبران کی بولی لگے گی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں وزارتِ عظمیٰ کا کوئی امیدوار نہیں تھا جس کا نام پارٹی نے دیا وہ بھاری اکثرتی سے وزیراعظم بن گیا اور یہ جمہوریت کی مضبوطی ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جو پاکستان کو ترقی دیتی ہیں، ملک میں نوکریاں نہ ہونے کی بات ہوتی ہے، نوکری اسی وقت ہوگی جب جمہوریت ہوگی، انصاف بھی جمہوریت کے ہوتے ہوئے ہی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جہاں جولائی 28 ایک بڑا امتحان تھا وہیں یہ جمہوریت کی فتح بھی تھی¾ اس بات پر فکر ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف وہ واحد لیڈر ہیں جو ملک کو اکٹھا رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی سندھ دیتا ہے، 15 سال میں سندھ میں کوئی منصوبہ نہیں لگایا گیا، اگر سندھ حکومت کی بات ہے تو وفاق 18 ویں ترمیم کے بعد وسائل صوبوں کے حوالے کردیتا ہے جو وسائل 2013 میں سندھ کو دیئے گئے جب پیپلزپارٹی حکومت تھی آج اس سے 50 فیصد سے زائد وسائل سندھ اور دیگر صوبوں کو دیئے گئے تاہم افسوس ہوتا ہے جب وہ وسائل کرپشن کی نذر ہوجائیں اور عوام کے مسائل حل نہ کریں تو پھر یہی حکومت کی ناکامی ہوتی ہے ¾یہ فیصلہ عوام اگلے الیکشن میں کرینگے کہ وہی سیاسی معیار چاہتے ہیں یا ملک میں ترقی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف کھوکھلے نعروں سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے، ہم نے صرف زبانی دعوے نہیں کیے، (ن) لیگ وہ واحد جماعت ہے جس نے ثابت کیا ہم ملک کی ترقی چاہتے ہیں، ہم کسی شخصیت کی ترقی نہیں چاہتے، ہم نے صرف باتیں نہیں کیں، 4 سال میں بجلی کے منصوبے لگائے۔ ملک میں بجلی نہیں تھی، ہم نے 10ہزارمیگاواٹ بجلی دی۔وزیراعظم نے کہا کہ صرف کھوکھلے نعروں سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے، ن لیگ کی حکومت میں ترقی 3 فیصد سے بڑھ کر6 فیصد ہوگئی ¾وہ منصوبے جو 20 20 سال سے پڑے تھے وہ ہم نے مکمل کیے، دنیا نے تسلیم کیا پاکستان جہاں کھڑا تھا آج اس کے مقابلے میں معیشت مضبوط ہورہی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دہشت گردی ہمارے لیے ایک ناسور تھی جس نے ملکی معیشت کو تباہ کی اور لوگوں کو غیر محفوظ کیا، کراچی کے حالات سب جانتے ہیں، آج اور چار سال پہلے کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے، یہ (ن) لیگ اور نوازشریف کا تحفہ ہے، شہر میں رینجرز، فوج اور پولیس سب نے مل کر کام کیا اور اس مسئلے کو حل کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ آج ہمارے 2 لاکھ فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ لرڑہے ہیں ¾ملک میں قربانیاں دی گئی ہیں ¾ہم سب نے مل کر دہشت گردی کو شکست دی ہے اور آگے بھی دینی ہے، پوری دنیا دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکی لیکن افواج پاکستان نے اس کا مقابلہ کیا، اب بھی کچھ مسئلہ ہے لیکن ہم دہشت گردی کو عوام کی مدد سے اکھاڑ پھینکیں گے۔اس موقع پر وزیراعظم نے نوشہرو فیروز میں بجلی اور گیس کے لیے ڈیڑھ ارب، سڑکوں کے لیے ایک ارب روپے اور ہیلتھ کارڈ اسکیم کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ کام کیے جن سے ووٹ توکم ملتے ہیں لیکن ملک ترقی کرتا ہے،یہ اعلانات کسی پر احسان نہیں ¾یہ تمام عوام کے ٹیکسوں سے آتے ہیں ¾ہمارا کام ان کی منصفانہ تقسیم ہے اور یہی (ن) لیگ اور نوازشریف کا طریقہ کار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 ماہ بعد الیکشن آئیں گے جو آئندہ 5 سال کا فیصلہ کرتے ہیں ¾سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے اور نہ ہی ہونے چاہئیں ¾دنیا کا اصول ہے یہ فیصلے پولنگ اسٹیشن پر کیے جاتے ہیں اور جب فیصلہ ہوتو اسے پانچ سال تک بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کے وقت پچھلے پانچ سال اور پچھلے پانچ سال کو دیکھیں اور امید ہے عوام درست فیصلہ کرینگے۔ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی نے تمام ٹوبیکو کمپنیوں اورڈیلرز کےلئے ایک کروڑ بیس لاکھ کلوگرام اضافی تمباکو مختص کرنے کی منظوری دی ہے۔ کمیٹی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کےلئے ہائی سپیڈ ڈیزل پر منافع کی شرح کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس پالیسی کے اثرات کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جائےگا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اوگرا ایک ایسا نظام وضع کرے گی جس کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کمرشل، سٹاک پوزیشن، ڈیلرز کے انونٹری سسٹم اورفیول مارکر سسٹم کو مانیٹرکیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے جامشورو میں 1320 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے توانائی کے دو منصوبوں کےلئے حکومت پاکستان کی طرف سے 39 ہزار ملین روپے کی ساورن گارنٹی جاری کرنے کی بھی عبوری منظوری دی۔ کمیٹی نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی مدت میں اس سال 31 دسمبرتک اس شرط پر توسیع کی منظوری دی کہ ان کے پچھلے بل ادا چکے ہوں۔ اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی بچت کےلئے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔ اجلاس نے پانی کے ضیاع کو روکنے کےلئے ڈرپ ایری گیشن جیسے آبپاشی کے طریقے اپنانے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے بنکوں کے ذریعے مالی لین دین پر 0.4 فیصد کی کم کی گئی شرح کو اس سال دسمبر تک توسیع دینے کی منظوری دی۔ برآمدات میں اضافے کےلئے کمیٹی نے ایکسپورٹ پیکج مراعات کا پچاس فیصد جنوری سے جون 2017ءکے عرصے پر لاگو کرنے کی بھی منظوری دی۔ پیکج کا باقی ماندہ پچاس فیصد برآمد کنندگان کو اس شرط پر مہیا کیا جائے گا کہ اگر وہ گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں دس فیصد اضافہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اجلاس میں غیر روایتی منڈیوں تک برآمدات پر اضافی دوفیصد ڈرابیک دینے کی منظوری دی گئی۔ کامرس ڈویژن اورایف بی آر نے برآمدی بل میں کمی کےلئے کئی تجاویز پیش کیں۔





































