بونیر (نمائندہ خبریں) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شاہدخاقان عباسی کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں، ماضی میں کامیابی نہیں ملی لیکن اب بونیرپی ٹی آئی کاہوگااور2018ءمیں تبدیلی کا انقلاب پورے پاکستان میں آئے گا، شاہدخاقان کہتے ہیں کہ نوازشریف اب بھی میرا وزیراعظم ہے، ایک آدمی کرپشن چھپانے کیلئے ادارے، ملک اورقوم کوتباہ کررہاہے، قومی اسمبلی نے پارٹی صدرکے انتخاب سے متعلق ایسا قانون پاس کیاجس کے تحت نااہل شخص بھی پارٹی صدر بن سکتا ہے،بونیرکے لوگوں، لگتاہے کہ ایک بارپھرسڑکوں پر نکلناہوگا، جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قومیں کبھی بمباری یاشکست سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات ختم ہونے سے تباہ ہوتی ہیں،کیا عوام نہیں جانتے کہ نوازشریف کوکیوں نکالا؟، نوازشریف کومنی لانڈرنگ پر سزاہو گئی توتمام جائیداد ضبط، بینک اکاﺅنٹس بند ہو جائینگے، ان کی ساری کوششیں منی لانڈرنگ کی سزاسے بچنے کےلئے ہیں، نوازشریف نے صرف ادارے تباہ نہیں کئے، قوم کی اخلاقیات بھی تباہ کیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ قوم تب اٹھتی ہے جب وہ اپنا کردارٹھیک کرتی ہے، جس قوم کے لیڈرصادق اورامین ہوں وہ عظیم قوم بنتی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک سے پیساچوری کرکے باہر بھیجاجا رہاہے، قوم فیصلہ کرلے ہمیں ظلم کامقابلہ کرناہے اورکبھی کسی کرپٹ لیڈرکوحکومت میں نہیں آنے دینا، ہمیں عوام کے پیسے کی حفاظت کرنی ہے،عمران خان نے کہا کہ ہرسال ایک ہزارارب روپے منی لانڈرنگ سے باہرچلے جاتے ہیں اگر پیسہ باہرنہ جائے تویہاں فیکٹریاں، سکول اورہسپتال بن سکتے ہیں،اس وقت ہرپاکستانی پر ایک لاکھ 30ہزارروپے کاقرضہ ہوگیاہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آصف زرداری اورنوازشریف قوم کے سب سے بڑے ڈاکوہیں، چوروں اورڈاکوﺅں کی کرپشن کی قیمت عوام غربت سے اداکرتی ہے،زرداری اورنوازشریف کے آنے تک ہر پاکستانی پر35ہزارقرضہ تھا،اسحاق ڈاراوراس کے بچے بھی ارب پتی ہوچکے ہیں، جبکہ ملک میں45 فیصدبچے خوراک کی کمی کی بیماریوں کاشکارہیں،کرپٹ مافیاکوڈرہے کہ نوازشریف کے بعدانکی باری آئےگی کرپٹ مافیا کے خلاف ہرمحاذپر کھڑے رہیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام کے نام پر سیاست کرتے ہیں ،فضل الرحمان کومولاناکہنا پسند نہیں کرتا،یہ اپنے ضمیرکی قیمت ڈیزل کے پرمٹ پر لگادیتے ہیںاورڈیزل دونوں کےساتھ فٹ ہوجاتاہے، جمہوریت میں میرٹ اوربادشاہت میں خون کارشتہ ہے،میرٹ کی بنیاد پر جمہوریت نے بادشاہت کو شکست دی،ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی میں ذوالفقار بھٹو بڑے لیڈرتھے، انھوں نے جدوجہدکی، بینظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی میں جدوجہدکی اور مشکلیں برداشت کیںان کے بعد پیپلزپارٹی میں میرٹ ہوتی تو بلاول اور اعتزازاحسن میں کیا مقابلہ، ان کا کہناتھا کہ مرادسعید میرٹ پر اوپر آیا، میرٹ ہوتو بلاول بھٹو اورمرادسعید کا کوئی مقابلہ ہے، انہوں نے کہا کہ 4سال میں خیبرپختونخوا میں غربت آدھی ہوگئی،پرویزخٹک نے لوگوں کیلئے کچھ کیاہوگااسی لئے وہ تالیاں بجارہے ہیں، ماضی میں کامیابی نہیں ملی لیکن اب بونیرپی ٹی آئی کاہوگا،خیبرپختونخوانے تبدیلی کاانقلاب شروع کرنے کاموقع دیاجس پر ان کا شکرگزار ہوں۔ خیبرپختونخوامیں جرائم 70 فیصد کم ہوئے اورپنجاب کی نسبت خیبرپختونخوامیں غربت 5 گناکم ہوئی،ہیلتھ کارڈکے تحت ایک خاندان کو 5 لاکھ کاانشورنش ملتاہے امید ہے کہ خیبر پختونخوا ملک بھرکےلئے ایک مثال بن جائےگا، چیئرمین تحریک انصاف نے جمشید خان اورفاروق خان کوپارٹی میں شمولیت پر خوش آمدیدکہا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ نواز شریف اب بھی میرا وزیراعظم ہے ایک خاندان اپنی چوری بچانے کے لئے ہمارے ملک کو تباہ کررہا ہے اور سپریم کورٹ پر حملے کررہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں کبھی کسی کرپٹ لیڈر کو حکومت میں نہیں آنے دیتا۔ قوم فیصلہ کرے ہمیں ظلم کا مقابلہ کرنا ہے نواز شریف کو ابھی بھی اپنا وزیراعظم کہنے والے شاہد خاقان عباسی شرم کرو شاہد خاقان عباسی کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں۔ قومیں کبھی بمباری یا شکست سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات ختم ہونے ے تباہ ہوتی ہیں۔ ایک آدمی کرپشن چھپانے کے لئے ادارے‘ ملک اور قوم کو تباہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے پیسہ چوری کرکے باہر بھیجا جارہا ہے ہمیں عوام کے پیسے کی حفاظت کرنی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اسلام کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔ ان کو مولانا کہنا پسند نہیں کرتا آصف علی زرداری اور نواز شریف قوم کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں‘ ڈیزل دونوں کے ساتھ فٹ ہوجاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ چوروں اور ڈاکوﺅں کی کرپشن کی قیمت عوام غربت سے ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں بجلی اور گیس پورے برصغیر میں سب سے زیادہ مہنگی ہے نواز شریف اپنی کرپشن بچانے کے لئے فوج کو بدنام کررہے ہیں۔ منی لانڈرنگ سے ڈالر کی کمی ہوتی ہے اور ہمیں قرضہ لینا پڑتا ہے قرضہ ادا کرنے کے لئے عوام پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ج مہوریت اور مسلم ممالک میں بادشاہت آگئی بلاول بھٹو اردو بولتے ہیں انگریزی لہجے میں‘ حمزہ شہباز اور مریم نواز کا کیا میرٹ ہے۔ 2018 کے انتخابات میں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے شکست کھائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ 2018 میں سارے پاکستان میں انقلاب آئے گا 2002میں میانوالی کے عوام نے مجھے ایک سیٹ سے کامیاب کرایا۔ پیپلز پارٹی میں میرٹ ہو تو بلاول بھٹو اور اعتزاز احسن میں کیا مقابلہ۔ چار سال میں خیبرپختونخوا میں غربت آدھی ہوگئی۔ بینظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی میں جدوجہد کی مشکلیں برداشت کیں پیپلز پارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو بڑے لیڈر تھے انہوں نے جدوجہد کی۔





































