لاہور (خصوصی رپورٹ) پاکستانی خواتین میں چھاتی کا سرطان برق رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔ ہر سال اس موذی مرض سے چالیس ہزار خواتین کو موت نگل جاتی ہے مگر حکومت کی طرف سے روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ ہر سال 12 سے 15 فیصد مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے جن میں زیادہ کی تعداد کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون اس مرض میں مبتلا ہورہی ہی۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ مرض میں مبتلا ہونے والی خواتین میں زیادہ تر نوجوان لڑکیوں کی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ برائلر مرغی‘ چینی‘ کیمیکل زادہ پھل اور سبزیوں کا استعمال ہے۔ موذی مرض میں مبتلا خواتین کی پاکستان میں تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ تازہ ترین تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر کے مریضوں کی تعداد ایشیاءکے دیگر ممالک میں سب سے زیادہ ہے اور بچانے جانے والے مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ دریں اثنا ین ربن فاﺅنڈیشن کی اسسٹنٹ منیجر سونیا قیصر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے حوالے سے ہر سال ایک ہفتہ منایا جات ہے اور سکول ‘ خواتین کے اداروں‘ کالجز میں آگاہی سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کینسر جینز میں پرورش پاتا ہے۔ صحت عامہ کی سہولیات کا فقدان اور بیماریوں سے متعلق عدم آگاہی ہمارے ملک میںاموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کینسر کے بارے میں عورتوں میں شعور پیدا کرنے کیلئے کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں اعدادوشمار کے مطابق ہمارے ملک میں ہر سال نوے ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے چالیس ہزار خواتین زندگی کی بازی ہار دیتی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج معالجے کی سہولیات عام کرنے کے علاوہ چھاتی کے کینسر متعلق آگاہی دیکر اس مرض کو کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مرض کی بروقت تشخیص کی جائے تاکہ فوری علاج کرنے سے مریض کی جان بچ سکے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پہلے مرحلے پر مریض کے تندرست ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ بیماری اگر آخری مرحلے میں داخل ہو جائے تو پھر جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بریسٹ کینسر سے بچنے کیلئے خواتین کو چاہیے کہ اپنے اندر کسی معمولی جسمانی تبدیلی محسوس کرتے ہیں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر معالج ضروری سمجھے تو میموگرافی اوراسکریننگ بھی کروانی چاہیے۔ ہمارے ملک میں اس وقت تقریباً گیارہ لاکھ خواتین چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ اس مرض کی علامت ظاہر نہیں ہوتیں۔ عام طور پر اس کی وجہ سے درد بھی نہیں ہوتا۔ یہ بھی وجہ ہے کہ اکثر خواتین کسی قسم کی تبدیلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ اور کینسر اپنی جڑیں مضبوط کرلیتا ہے۔ اگر چھاتی میں تکلیف محسوس ہو یا کوئی ایسا زخم ہو جس میں سے رسنے والا خون یا مواد بند نہ ہو رہا ہو، چھاتی میں گلٹی محسوس ہو، سوجن ہو، اگر چھاتی کا رنگ اور اس کی ساخت بدل جائے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ چھاتی میں بننے وای اکثر گلٹیاں درد نہیں کرتیں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر گلٹی کینسر کی ابتدا ہو۔ مگر طبی ٹیسٹ اور رپورٹس کے بغیر اس بارے میں کچھ نہیںکہا جاسکتا۔ طبی ماہرین زور دیتے ہیں کہ تیس سال کی عمر کے بعد ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ میموگرافی ضرور کروائیں۔ جبکہ چالیس کی عمر کے بعد عورتوں کو ہر دو سال بعد میموگرافی کرانا چاہیے۔ محققین کہتے ہیں کہ سہل پسندی، موٹاپہ، تمباکو نوشی اور شراب نوشی بھی اس مرض کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین بریسٹ کینسر کی دو اقسام بتاتے ہیں ان میں سے ایک بریسٹ میں موجود ڈیکٹس میں بنتا ہے۔ اور بریسٹ سے باہر جسم کے دیگر حصوں تک نہیں پھیلتا جبکہ دوسرے قسم کا بریسٹ کینسر پھیل کر دوسرے حصوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مرض کی دو صورتوں کی تشخیص کیلئے معالج میموگرافی، الٹراساﺅنڈ، ایم آر آئی کروانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ علاج کا مرحلہ آتا ہے تو سرجری، بائیوپسی، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بریسٹ کینسر سے محفوظ رہنے کیلئے طرز زندگی میں بدلاﺅ لانے کی بھی ضرورت ہے۔ کیونکہ سہل پسندی، غیر متوازن خوراک، وزن میں اضافہ، چھاتی کی کسی تکلیف یا تبدیلی کو نظرانداز کرنا اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ اگر کوئی عورت وزن کو کنٹرول میں رکھے اگر تمابکو نوشی، شراب نوشی کی عادت ہے تو اس سے دور رہے اور غیر ضروری چکنائی سے پرہیز کرے۔ تو بریسٹ کینسر کے علاوہ بھی متعدد دوسری بمیاریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کی اکثریت کو چھاتی کے سرطان کی علامت اور اس کے علاج سے متعلق معلومات نہیں ہیں اور یہ یہی وجہ ہے کہ بیماری کی تشخیص اس مرحلے میں ہوتی ہے جب علاج ممکن نہیں ہوتا۔ اس قسم کی کسی بیماری کے علاج میں یہ بات مددگار ہوتی ہے کہ مریض بیماری کو تسلیم کرے۔ اور اس کا مقابلہ کرنے کو بھی تیار ہو۔ بریسٹ کینسر کی وجوہات میں ایک وجہ ہارمونز میں بے اعتدالی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ جب ایک یا دونوں چھاتیوں میں درد محسوس ہو، تھکاوٹ، پیٹ میں گیس، سرمیں درد، افسردگی اور چڑچڑاپن محسوس ہو تو اسے سنجیدگی سے لیں، یہ علامتیں دراصل خواتین کے جسم میں ہارمنز کے عدم توازن کی نشانی ہوتی ہیں۔ بریسٹ کینسر دس فیصد جنیاتی نقائص کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کینسر کی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ عوامل بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ فضائی آلودگی کینسر ہونے کا ایک بڑا سبب ہے جو خواتین ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جہاں کارخانوں سے کیمیائی اجزاءکا اخراج ہوتا ہے انہیں بھی چھاتی کے کینسر کا خدشہ ہوتا ہے جبکہ فصلوں میں کیڑے مار ادویات کا استعمال اور گھروں میں بہت زیادہ استعمال کی جانے والی کیڑے مار ادویات بھی کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر متوازن غذا کا استعمال یا بہتر خوراک نہ لینا ہماری خواتین کا اہم مسئلہ ہوتی ہے۔ جس سے وہ نہ صرف دوسری کئی بیماریوں یا طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوتی ہیں بلکہ کینسر کا شکار بھی ہوسکتی ہیں۔ ڈیپریشن کا شکار عورتوں میں چھاتی کا کینسر زیادہ عام ہے ۔ اس طرح کاسمیٹکس کا مسلسل استعمال اور خاص طور پر غیر معیاری اجزاءپر مشتمل کاسمیٹکس چھاتی کا سرطان پیدا کرنے کا اہم سبب ہے۔






































